| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی السیر الکبیر اذا اراد الرجل ان یسافر الی غیرالجہاد لتجارۃ اوحج اوعمرۃ وکرہ ذٰلک ابواہ فان کان یخاف الضیعۃ علیھا بان کانا معسرین و نفقتھما علیہ ومالہ لایفی بالزاد و الراحلۃ ونفقتھما فانہ لایخرج بغیر اذنھما سواء کان سفرا یخاف علی الولد الہلاک فیہ کرکوب السفینۃ فی البحر اودخول البادیۃ ماشیافی البرد الشدید اولاوان کان لایخاف الضیعۃ علیھما بان کانا موسرین ولم تکن نفقتھما علیہ، ان کان سفرا لایخاف علی الولد الھلاک فیہ کان لہ ان یخرج بغیر اذنہ ان کان یخاف علی الولد لایخرج الا باذنھا کذا فی الذخیرۃ وکذاالجواب فیما اذا خرج للنفقۃ الٰی بلدۃ اخری ان کان لایخاف علیہ الھلاک بسبب ھذا الخروج کان بمنزلۃ السفر للتجارۃ وان کان یخاف علیہ الھلاک کان بمنزلۃ الجھاد کذا فی المحیط۱؎ اھ باختصار، ورأیتنی کتبت علی قولہ، لایخرج بغیر اذنھما مانصہ اقول: ای حقیقۃ فانہ لایکون الا اذا کانت عندھما کفایۃ ولومن قبل غیرھما اما اذا استأذن وھو یعلم ان لاکفاف لھما دونہ فقالاغضباسرعلی برکۃ اﷲ تعالٰی فھذا لیس من الاذن فی شیئ وان فرض فلامعتبر بہ لان اضاعتھما حرام والحرام لایحل باذن احد۔
امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے سیرکبیر میں فرمایا جب کوئی شخص جہاد کے بغیر کسی اور کام کے لئے سفرکرنے کاارادہ کرے مثلاً کاروبار کرنے یاحج یاعمرہ کرنے کا ارادہ کرے، لیکن والدین اس کے سفرکرنے کوناپسند کریں، اگر اسے (اپنے باہر جانے کی وجہ سے) والدین کی ہلاکت(اور تلف ہونے) کاخطرہ ہو مثلاً اس طرح کہ وہ دونوں تنگدست اور نادار ہوں اور دونوں کے اخراجات کایہ ذمہ دارہو، اور حالت یہ ہو کہ اس کاسرمایہ زادراہ، سواری اور ان دونوں کے اخراجات کے لئے ناکافی نہ ہو تو پھر اس صورت میں یہ شخص والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائے، خواہ ایساسفرہو جس میں بیٹے کی ہلاکت کاخطرہ ہو جیسے سمندرمیں کسی کشتی پر سوار ہونا یاکسی جنگل بیابان کو شدید سردی کے دنوں میں پیدل طے کرنا، یا ایسانہ ہو، اگر اسے والدین کی ہلاکت کاخطرہ نہ ہو مثلاً وہ دونوں (والدین) مالدار ہوں اور ان کے اخراجات اس کے ذمے نہ ہوں۔ اگرسفرمیں انہیں بیٹے کی ہلاکت کاکوئی خطرہ نہ ہو پس اس صورت میں یہ والدین کی اجازت کے بغیر باہر جاسکتا ہے۔ اور اگر انہیں اسکی جان کا اندیشہ ہو توپھربغیراجازت لئے سفرنہ کرے۔ ذخیرہ میں یہی مذکورہے اور یہ جواب ہے، جب یہ حصول فقہ کے لئے کسی دوسرے شہرمیں جائے، اگراس سفرمیں ہلاکت کاخطرہ نہ ہو تو پھر یہ سفر سفرتجارت کی طرح ہے۔ اور اگرہلاکت کاخوف ہو توپھر بمنزلہ سفرجہاد ہے۔ محیط میں اسی طرح مذکور ہےاھ باختصار۔ تونے دیکھا کہ میں نے اس کے قول ''لایخرج بغیر اذنھما'' وہی کچھ لکھاکہ جس کی اس نے تصریح کی اقول: (میں کہتاہوں) یہاں ''اذن'' سے مراد حقیقتاً اذن ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتاہے جبکہ ان دونوں (والدین) کے پاس بقدرکفایت مال ہو اگرچہ کسی دوسرے کی طرف سے مہیا ہو۔ لیکن اگریہ اُن سے اجازت مانگے جبکہ یہ جانتاہے کہ اس کے بغیر ان کے بقدرضرورت (کفاف) مال نہیں اور وہ غضبناک لہجے میں کہہ دیں اﷲ تعالٰی کی برکت کے پیش نظرروانہ ہوجا تو یہ کسی حالت میں ''اذن'' نہیں اگرچہ فرض کرلیاجائے لہٰذا اس کا کوئی اعتبارنہیں اس لئے انہیں ضائع کردینا حرام ہے، اور حرام کسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الخ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۵)
اسی طرح اگرلڑکا امردخوبصورت محل فتنہ ہے اور تنہاجاتاہے تو کہاگیا کہ اس صورت میں بھی باپ روک سکتاہے۔ خانیہ میں بعد عبارت سابقہ ہے:
قیل ھذا اذا کان ملتحیا فان کان امرد صبیح الوجہ فلابیہ ان یمنعہ من الخروج۲؎ ۱ھ
یہ حکم اس وقت ہے جبکہ وہ باریش ہو لیکن اگر وہ لڑکا بے ریش، خوبصورت ہو تو پھر دریں صورت والد اس کے باہرجانے سے یعنی سفرکرنے سے روک سکتاہے اھ(ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴)
اقول: (میں کہتاہوں) تحقیق مقام یہ ہے کہ اگروہاں جانے میں اندیشہ فتنہ یقینی ہے یعنی ایساظن غالب کہ فقہیات میں ملتحق بہ یقین ہے توبلاشبہہ باپ روک سکتاہے بلکہ روکنالازم ہے فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح (کیونکہ مفاسد کادفاع مصالح کے حصول سے زیادہ ضرور کرے۔ت) اور اگر محض وہم ہے تومعتبرنہیں ہے اور اگرمتوسط حالت ہے تو علم ضروری سے نہیں روک سکتا اور زائد میں نظر مختلف ہے اور معیارموازنہ مفسدہ ومصلحت ہے کماھو قانون الشرع والعقل فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق (جیسا کہ شرعی اور عقلی قانون کاتقاضا ہے پس توفیق حاصل ہونی چاہئے اور اﷲ تعالٰی کے کرم سے ہی حصول توفیق ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۰: ازبریلی محلہ سوداگری مسئولہ محمدحسین طالبعلم مدرسہ منظراسلام ۷شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید نے عمروکو علم طب سکھایا اور عمرو نے زید کو علم حساب سکھایا مرتبہ استاد اورشاگرد ہونے میں دونوں برابرہیں یاکسی کو ایک دوسرے پرافضلیت ہے؟
الجواب : جمع تفریق ضرب تقسیم جس قدر پرعلم فرائض کاتوقف ہے طب سے افضل ہے باقی حساب میں توغل سے طب افضل ہے جس نے افضل سکھایا وہ افضل استاد ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۴۱ :ازبریلی مدرسہ اہلسنت مولوی شفیع احمدصاحب طالب علم مدرسہ ساکن بیلپور کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے ماں باپ اگرتحصیل علم فرض سے منع کریں تو اس میں ان کی تعمیل حکم ہرگزنہیں چاہئے اور اگر ان کی قربت میں تحصیل نہ ہوسکے توسفرکرناضرور ہے اگرچہ ماں باپ کو اس کی خدمت کی طرف احتیاج ہو تو یہ قول زید صحیح ہے یانہیں؟ بیّنوابالتفصیل ولوکان القلیل توجروامن رب الجلیل (کسی قدر تفصیل سے بیان فرماؤ اگرچہ تھوڑی ہو، اور جلیل القدر پروردگار سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب : قول زید صحیح ہے مطلقاً جبکہ اس علم کی تحصیل چاہتا ہو جو فرض عین ہے یونہی صحیح ہے اگربقدر فرض عین جانتاہو اور فرض کفایہ کی تحصیل چاہے اور وہاں میسرنہ ہو اور اس کے سفر کرنے میں والدین کاضائع چھوڑنا نہ ہو اور اگر ان کی اضاعت لازم آئے تو فرض عین کے بعد کفایہ کے لئے اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ ان کا ضائع نہ چھوڑنا اس پرفرض عین ہے ضائع چھوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پرقادر ہیں یہی کماتاہے اور انہیں کھلاتاہے اور اگر تحصیل کفایہ میں مشغول ہوگا تو ان کے نفقہ سے عاجز ہوگا اور وہ نان شبینہ کو محتاج رہ جائیں گے یا وہ سخت مریض یا اپاہج یامفلوج ہیں کہ حرکت سے عاجز ہں اور ان کی خدمت اسی کے متعلق ہے اور وہ اجیرنہیں رکھ سکتے تو تحصیل کفایہ کو سفرممنوع۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۲: ازسوائی مادھوپورقصبہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ تعلیم انگریزی وہندی کی مسلمان کوجائزہے یانہیں؟
الجواب : غیردین کی ایسی تعلیم کہ تعلیم ضروری دین کو روکے مطلقاً حرام ہے، فارسی ہو یاانگریزی یاہندی، نیزان باتوں کی تعلیم جو عقائد اسلام کے خلاف ہیں جیسے وجود آسمان کاانکاریاوجود جن وشیطان کا انکار یازمین کی گردش سے لیل ونہاریاآسمانوں کاخرق والتیام محال ہونا یااعادہ معدوم ناممکن ہونا وغیرذلک عقائد باطلہ کہ فلسفہ قدیمہ جدیدہ میں ہیں ان کا پڑھنا پڑھانا حرام ہے کسی زبان میں ہو نیز ایسی تعلیم جس میں نیچریوں دہریوں کی صحبت رہے ان کا اثرپڑے دین کی گرہ سست ہو یاکھل جائے، اور اگرجملہ مفاسد سے پاک ہو تو علوم آلیہ مثل ریاضی وہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وجغرافیہ وامثال ذلک ضروریات دینیہ سیکھنے کے بعد سیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں کسی زبان میں ہو اور نفس زبان کا سیکھنا کوئی حرج رکھتاہی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم