Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
171 - 190
اور اس کا فن تاثیر باطل ہے تدبیر عالم سے کواکب کے متعلق کچھ نہیں کہاگیا نہ ان کے لئے کوئی تاثیر ہے غایت درجہ حرکات فلکیہ مثل حرکات نبض علامات ہیں
کماقال اﷲ تعالٰی: وعلٰمت وبالنجم ھم یھتدون۷؎۔
اور کچھ نشانیاں ہیں اور وہ لوگ ستاروں سے راہ پاتے ہیں۔(ت)
(۷؎القرآن الکریم   ۱۶/ ۱۶ )
نبص کا اختلاف اعتدال سے طبیعت کے انحراف پردلیل ہوتا ہے مگر وہ انحراف اس کے اثرنہیں بلکہ یہ اختلاف اس کے سبب سے ہے اس علامت ہی کی وجہ سے کبھی اس کی طرف اکابر نے نظرفرمائی ہے
فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقیم۱؎
 (پھر ایک نگاہ ستاروں پر ڈالی تو ارشاد فرمایا میں توبلاشبہ بیمارہوں۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم   ۳۷/ ۸۸ و ۸۹)
زمانہ قحط میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حکم دیاکہ بار ان کے لئے دعا کرو اور منزل قمر کالحاظ کرلو۔ امیرالمومنین مولاناعلی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے منقول ہے:
لاتسافروا والقمر فی العقرب۔
سفر نہ کرو جبکہ چاند برج عقرب میں ہو۔(ت)
اگرچہ علماء نے اس کی یہ تاویل فرمائی ہے کہ عقرب ایک منزل تھی اور قمر ایک راہزن کانام تھا کہ اس منزل میں تھا۔ علم تکسیر علم جفر سے جدادوسرافن ہے اگرچہ جفرمیں تکسیر کاکام پڑتا ہے یہ بھی اکابر سے منقول ہے امام حجۃ الاسلام غزالی وامام فخرالدین رازی و شیخ اکبرمحی الدین ابن عربی وشیخ ابوالعباس یونی وشاہ محمد غوث گوالیاری وغیرہم رحمہم اﷲ تعالٰی اس فن کے مصنف و مجتہد گزرے ہیں اس میں شرف قمر وغیرہ ساعات کا لحاظ اگر اسی علامت کے طورپر ہو جس کی طرف ارشاد فاروقی نے اشارہ فرمایا تو لاباس بہ ہے اورپابندی اوہام منجمین کے طور پر ہو تو ناجائز،
من دونہ الااسماء سمیتموھا انتم و اٰباؤکم ماانزل اﷲ بھا من سلطان ان الحکم الاَّ ﷲ امر ان لاتعبدواالا ایاہ ذٰلک الدین القیم ولکن اکثرالناس لایعلمون۲؎۔
وہ تو نہیں مگرکچھ نام ہیں جوتم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ورنہ اﷲ تعالٰی نے ان کی کوئی سند (دلیل) نہیں اتاری۔ حکم اﷲ تعالٰی کے سوا کسی کو نہیں، پس اس نے یہ حکم فرمایا کہ اس کے بغیر کسی کی عبادت نہ کرو یہی ٹھیک دین ہے، لیکن زیادہ تر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں مانتے۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم          ۱۲/ ۴۰)
طلسم ونیرنجات سراسر ناجائزہیں نیرنج توشعبدہ ہے اور شعبدہ حرام کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار (جیسا کہ درمختاروغیرہ بڑی بڑی کتابوں میں مذکور ہے۔ت) اور طلسم تصاویر سے خالی نہیں اور تصویرحرام، (حدیث میں ہے:)
اشدالناس عذابا یوم القٰیمۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی والمصورون۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
روزقیامت سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب اس کو ہوگا کہ جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا اسے کسی نبی نے مارڈالا، اور تصویریں بنانے والوں کو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۰۴۹۷ و ۱۰۵۱۵     المکتبۃ الفیصلیہ بیروت     ۱۰ /۲۶۰ و ۲۶۶)
مسئلہ ۳۳۸: مرسلہ مولوی محمدبہاؤالدین صاحب موضع سکندرپورڈاکخانہ کرنڈہ ضلع غازی پور ۲۷ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ 

یہاں پر ایک وہابی رہتا ہے وہ شخص پیرو ہے علمائے دیوبند کا، خاص کر مولوی اشرف علی و مولوی رشید احمد کا۔ وہ شخص کہتاہے کہ پیرواستاد دینی سے مرتبہ زیادہ ہے ماں باپ کا کیونکہ ماں باپ کا مرتبہ قرآن مجید سے زیادہ ثابت ہوتاہے فقیر نے حدیث پیش کی کہ فضیلت پیرواستاد کی ماں باپ سے زیادہ ہے، اس شخص نے کہا کہ ہم قرآن مجید کے مقابلہ میں حدیث کو نہ مانیں گے، تو سوال یہ کہ حدیث شریف کا انکار کرنے والا کیاہوا، اور ماں باپ سے مرتبہ زیادہ پیرواستاد کا ہے یانہیں؟ بادلیل دوبات قلم سے تحریر کردیجئے وہ تحریر سندسمجھوں گا۔والسلام
الجواب  : پیرواستاد علم دین کا مرتبہ ماں باپ سے زیادہ وہ مربی بدن ہیں یہ مربی روح، جو نسبت روح سے  بدن کو ہے وہی نسبت استادوپیر سے ماں باپ کوہے،
کما نص علیہ العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام وقال فیہ ذاابوالروح لاابوالنطف۲؎۔
جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی صراحت فرمائی چنانچہ اس میں ارشاد فرمایا یہ استاد انسان کے روح کاباپ ہے اس کے مادہ تولید(نطفہ) سے بنے ہوئے جسم کاباپ نہیں۔ لہٰذا جو فرق جسم اور روح میں ہے وہی فرق استاد اور والدین میں ہے۔(ت)
 (۲؎ غنیہ ذوی الاحکام )
قرآن عظیم میں ماں باپ کا ذکرفرمایا یہ نہیں فرمایا کہ ان کے برابر کسی کاحق نہیں بلکہ وہ آیہ کریمہ جس میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکرکوفرمایا، مربّیان دین کامرتبہ ماں باپ سے بہت زائد ہونے کی طرف اشارہ فرماتی ہے ظاہرہے کہ تربیت دین نعمت عظمی ہے اور اس کا شکر قطعاً فرض، مگر ان کا شکربعینہٖ شکرالٰہی عزوجل ہے اسی واسطے انہیں لِی میں داخل فرمایا ان کے بعد والدین کا ذکر ارشاد ہوا، ورنہ والدین کاحق نبی سے بڑھ جائے گا کہ یہاں جس طرح استاد وپیر کا ذکرنہیں ویسے ہی نبی کابھی ذکرنہیں۔ دیوبندیوں سے انکارحدیث کی شکایت کیا معنی رکھتی ہے۔ علمائے حرمین شریفین کا فتوٰی حسام الحرمین دیکھئے کہ یہ لوگ خود حضوررسالت علیہ الصلوٰۃ والتحیۃ کے مخالف ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۹: مرسلہ شیخ محمداکرام الدین طالب علم درجہ حفظ (د) چوک لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ ۱۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کاباپ علوم دینیہ پڑھنے سے زید کو روکتا ہے کیا زید بلارضامندی اپنے باپ کے طلب علم دین کے واسطے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے شہرمیں جاکر علم دین پڑھے درحالیکہ اس کے وطن میں کوئی مولوی حافظ موجود نہیں ہے۔، جواب بحوالہ کتب مسطورفرمایا جائے۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : طلبِ علم دین اپنی حاجت کے قدرفرض عین اور اس سے زائد فرض کفایہ ہے اس کے باپ کا اس سے روکنا خلاف حکم خداہے اور خلاف حکم خدامیں کسی کی اطاعت نہیں۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالٰی۱؎۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت (اور فرمانبرداری) نہیں۔(ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۳۱۵۰    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۳/ ۰۹۔۲۰۸)
فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
لو خرج فی طلب العلم بغیر اذن والدیہ فلابأس بہ ولم یکن ھذا عقوقا۲؎۔
اگرحصول علم کے لئے بغیراجازتِ والدین باہرجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور یہ ان کی نافرمانی نہیں۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی التسلیم الخ     نولکشور لکھنؤ    ۴/ ۷۹۴)
ہاں اگرباپ محتاج ہے اور اگر یہ باہرجائے تو وہ ضائع رہ جائے کوئی ذریعہ قوت نہ اس کے پاس ہو نہ یہ بھیج سکے تو اس کا روکنا بجاہے،
Flag Counter