| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اگر بے وجود ہوتا اور ضلالت کی بات تھی تومولانا نے اس پرکیوں واقفیت حاصل کی اور مزیدبرآں دوسرے مسلمانان کے واقفیت عامہ کے لئے کیوں رقم فرمایا۔ علم نجوم اوراحکام نجوم جو منجمین پیشینگوئیاں کہہ کرکماتے پھرتے یہ دونوں دوچیز ہے یہ البتہ ضرورہے اور بیشک ہم اس پرمعمل ہیں کہ احکام نجوم پر ہم ایمان نہیں رکھتے کہ بالیقین یہی ہوکے رہے گا ستاروں کوفاعل حقیقی ہم ہرگز نہیں سمجھتے، مصدرخیروشر ستاروں کو ہم کبھی نہیں جانتے مگرہاں تاثیرات ان کے بیشک مانتے، افعال اثرخوب یاخراب جو اﷲ پاک نے ان میں دے کر متعین بکارعالم کیاہے وہ بیشک بمرضی اﷲ پاک یوماً ولیلاً جاری ہواکرتا،،
وسخرلکم الّیل والنہار والشمس والقمر ط والنجوم مسخرات بامرہ ط ان فی ذٰلک لاٰیت لقوم یعقلون۲؎o
اﷲ تعالٰی نے رات، دن، سورج اور چاند تمہارے تابع کردئیے یعنی تمہاری خدمت میں لگادئے، اور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیں، یقینا ان باتوں میں عقلمند افراد کے لئے قدرت کی بے شمارنشانیاں ہیں۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۲)
تفسیرمولانا عبدالحق حقانی میں بہ تفسیر سورہ فاتحہ آیۃ اھدنا الصراط المستقیم دربیان وتشریح افراط وتفریط فی العبادات وافراط وتفریط فی العلوم، کے آخر عبارت میں صاف درج ومستنبط ہے کہ علم نجوم وطلسم ونیرنجات وکیمیا وغیرہ علوم ودیگر فنون کاافراط منع ویکدم تفریط بھی ناجائزحالت درمیانی بہتراور اسی کو حکمت کہتے اور حکمت وجہ کمال انسان اور مصداق صراط مستقیم۳؎۔
(۳؎ تفسیرحقانی تحت آیہ اھدناالصراط المستقیم دارالاشاعت تفسیرحقانی حقانی منزل دہلی حصہ دوم ص۳۲ )
جلد اول فتاوٰی میں مولانا مفسردہلوی شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے درج ہے سوالات عشرہ جو شاہ بخارا نے ان کو لکھاتھا اس کے جواب سوال ہفتم میں علم منطق وعلم انگریزی وعلم فارسی وعلم فقہ وعلم نجوم و رمل وعلم قیافہ وسحر کے بارہ میں یہ تحریر کہ جو حکم صاحب آلہ کا وہی حکم آلہ کا اور تحصیل علم کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوسکتا الخ۔ اور اسی دفتر اول فتاوٰی میں بحصہ آخر مرقوم کہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ایک شخص کو حفظ حرمت وعزت کے لئے انگشتری نقرئی پر اسم عزیز بقاعدہ تکسیر علم جفر کندہ کرانے کو بوقت شرف قمرفرمایا اور تحقیق ساعت شرف اہل نجوم سے کرنے کو فرمایا۔ پس علم جفر اگر بحکم کفریہ تھا تو اس علم کے قاعدہ میں اسم الٰہی کا کیوں نقش بنایا اور علم نجوم بحکم کفریہ تھا تو اس کی ساعت اور اہل نجوم سے تحقیق کرلینے کو کیوں اجازت دیا اور بقول منکران سعدونحس ستارگان کوئی چیز نہیں تو تخصیص شرف قمر کیا چیز ٹھہری اور مولانا محدث ہوکر خود ان دونوں علم کفریہ کو سیکھا وجانا اوردوسرے اہل اسلام کو کیوں بتایا۔ اب آپ کی خدمت عالی میں بینواتوجروا کی عرض وتصدیع ہے کہ دربارہ امرمتذکرہ جوکچھ بحکم آیات وحدیث ثابت ومستنبط ہوتا ہو وہ بدستخط ومہراپنے زیب قلم فرمائیں تامعترضان عامل بالحدیثان کودکھلایا جائے اور بسااکابرانِ دین وعاملان شرع مبین جو ان دونوں علم مذکورہ کو جانتے تھے انہوں پرالزام بدیہ جو عائد ہورہا ہے بطریق احسن دفع کردیاجائے وتوثیق وتصدیق کے لئے زیب قلم فرمودہ آنجناب چوں حرزجاں بحفاظت رکھاجائے۔
الجواب: حضرات علمائے کرام حرمین شریفین زادہمااﷲ شرفاً وتکریماً نے بالاتفاق رشیداحمدگنگوہی و اشرفعلی تھانوی واحزابہما کی نسبت نام بنام فتوائے کفروارتداددیاہے اور صاف ارشاد فرمایاہے من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۱؎۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شک کیا وہ بلاشک وشبہہ کافرہوگیا۔(ت)
(۱؎ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین مطبع اہلسنت بریلی ص۹۲ )
یہاں سے ان کی بیعت کی حالت بھی ظاہرکہ مرتد ہوکر بیعت کیونکر قائم رہ سکتی ہے اس کے لئے حسام الحرمین کاملاحظہ کافی ہے۔ جفربیشک نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم کاعلم ہے امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے اپنے خواص پر اس کا اظہارفرمایا اور سیدنا امام جعفرصادق رضی اﷲ تعالٰی عنہ اسے معرض کتابت میں لائے۔ کتاب مستطاب جفرجامع تصنیف فرمائی۔ علامہ سیدشریف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں: امام جعفرصادق نے جامع میں ماکان ومایکون تحریرفرمادیا۱؎۔
(۱؎ شرح المواقف المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۶/ ۲۲)
سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے الدرالمکنون والجوھر المصؤن میں اس علم شریف کا سلسلہ سیدناآدم وسیدنا شیث وغیرہما انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے قائم کیا اور اس کے طرق واوضاع اور ان میں بہت غیوب کی خبریں دیں۲؎۔
(۲؎ الدرالمکنون والجوھر المصؤن )
عارف باﷲ سیدی امام عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے ایک رسالہ اس کے جواب میں لکھا اس کا انکارنہ کرے گا مگرناواقف یاگمراہ متعسف۔ نجوم کے دوٹکڑے ہیں علم وفن تاثیر۔ اول کی طرف تو قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
الشمس والقمر بحسبان۳؎o والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم o والقمر قدرنٰہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیمo لاالشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولاالّیل سابق النھار وکل فی فلک یسبحونo ۴؎ وجعلنا اللیل والنھار اٰیتین فمحونا اٰیۃ اللیل وجعلنا اٰیۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل شیئ فصّلنٰہ تفصیلا۱؎o والسماء ذات البروج۲؎o تبارک الذی جعل فی السماء بروجاo۳؎ فلااقسم بالخنس الجوار الکنس۴o ویتفکرون فی خلق السمٰوٰت والارض ربنا ماخلقت ھذا باطلا سبحٰنک فقنا عذاب النار۵؎o الم تر الی ربک کیف مدالظل ولوشاء لجعلہ ساکنا ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا ثم قبضنٰہ الینا قبضا یسیرا۶؎o الی غیرذٰلک من اٰیات کثیرۃ۔
سورج اور چاندایک حساب سے چل رہے ہیں، یہ سورج ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف چلتارہتاہے، یہ اس (اﷲ تعالٰی) کااندازہ مقررکیاہوا ہے جو زبردست اور سب کچھ اچھی طرح جاننے والاہے، ہم نے چاند کے لئے مختلف منازل کا ایک اندازہ کرلیا ہے یہاں تک کہ وہ آخرکار کھجور کی پرانی (اوربوسیدہ) ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے، اور نہ سورج کی یہ طاقت ہے کہ وہ پیچھے سے چاند کو آپکڑے، اور نہ رات میں یہ قوت ہے کہ وہ دن سے آگے نکل جائے، یہ سب کے سب اپنے مرکز (مدار) میں تیررہے ہیں ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی)دونشانیاں بنایا لیکن ہم نے رات کی نشانی مٹادی (یعنی اسے مدھم کردیا) اور دن کی نشانی کو روشن کردیاتاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو(یعنی دن کورزق حلال کی تلاش کرو) تاکہ تم لوگ سالوں کی گنتی اور حساب کو جان سکو، اور ہم نے ہرچیز کو خوب اچھی طرح تفصیل سے بیان کردیا۔ برجوں والے آسمان کی قسم۔ بڑابابرکت ہے (اﷲ تعالٰی) جس نے آسمان میں بُرج رکھے۔ پھر میں قسم کھاتاہوں پیچھے ہٹ جانے والے تاروں کی۔ اور (قسم کھاتاہوں) سیدھی رفتار والے رکے رہنے والے تاروں کی۔ اور وہ (خدا کے مقبول بندے) آسمان وزمین کی پیدائش (بناوٹ) میں گہرا غوروفکر کرتے ہیں۔ (پھرعرض کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ بیکار اور بے فائدہ نہیں بنایا۔ لہٰذا تمام عیوب ونقائص سے تیری ذات پاک ہے لہٰذا ہمیں آتش دوزخ کے عذاب سے بچا اور محفوظ فرمادے۔ کیا آپ نے اپنے پروردگار کے (بے شمار نشانات قدرت میں سے اس نشانی کو) نہیں دیکھا کہ کس طرح سایہ کوپھیلادیتاہے، اوراگر وہ چاہتا تو ٹھہرا ہوا بنادیتا۔ پھر ہم نے اس کے وجود پر سورج کو دلیل ٹھہرادیا، پھر ہم آہستہ آہستہ اسے (سایہ کو) اپنی طرف سمیٹتے رہتے ہیں۔ پس آیات مذکورہ کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات قرآنیہ ہیں (جو علم نجوم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں)(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۵۵/ ۵ ) ( ۴؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۳۸ تا ۴۰)(۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۱۲ ) (۲؎ القرآن الکریم ۸۵/ ۱) (۳؎القرآن الکریم ۲۵/ ۶۱ )(۴؎القرآن الکریم ۸۱/ ۱۵ و۱۶)(۵؎القرآن الکریم ۳/ ۱۹۱ ) ( ۶؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۴۵ و ۴۶)