Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
169 - 190
مسئلہ ۳۳۴ تا ۳۳۶ : ازملک گجرات علاقہ احمدآباد مقام برمگام جامع مسجد غلام محی الدین ۴شوال المعظم ۱۳۳۴ھ 

علمائے شرع متین کی خدمت میں چند سوالات عرض کئے جاتے ہیں:

(۱) ایک شخص نے مدرسہ فخراً وحسداً قائم کیاہے کہ سابق اس کے سے ایک مدرسہ جاری تھا جو حسبۃً ﷲ عموماً استفادہ عباداﷲ کے لئے قائم کیاگیاتھا تو اس کے شکست ونیست ونابود کرنے کی غرض سے یہ ثانی مدرسہ بنایاکہ اس مدرسہ قدیمہ میں کوئی نہ پڑھے اور بند ہوجائے حالانکہ مدرسہ ثانیہ کی ضرورت نہ تھی، آیا اس طور سے اور اپنی اغراض نفسانی اور حطام دنیوی سے مدرسہ قائم کرناجائزہے؟

(۲) ایک شخص منکرقیامت اور تارک الجماعت اور منکرجمعہ ہے باوجود ان اعتقادات کے تعلیم وتعلم گجراتی اور انگریزی میں ترقی اور دینی علوم میں تنزل پسند کرنے والا شخص ہے تو اگر ایساشخص مدرسہ قائم کرے تو اس میں دینی تعلیم وتعلم جائزہے یانہیں، اور اخلاق بگڑنے کے خوف سے احتراز لازم ہے یانہیں؟

(۳) ایک شخص شریر اور فتنہ انگیز اور فقہائے کرام کی کتابوں کامنکراورفعل لواطت کاقائل بلکہ زانی بھی ہے تو ایسے مدرس کے پاس اپنی اولاد کوپڑھانادرست ہے یانہ؟ اور اس شخص کاکیاحکم ہے؟ اجیبوا بماھوصواب۔
الجواب

(۱) اگرواقع یہی ہے کہ پہلامدرسہ تعلیم دین مطابق مذہب اہلسنت وجماعت کے لئے کافی ووافی تھا اور اس پرعقداً وعملاً کوئی اعتراض شرعی نہ تھا تو اس کے قرب میں دوسرا مدرسہ محض بلاحاجت  قائم کرنا عبث بلکہ تفریق قوت ہے لیکن اگرحالت یہ ہے جوسوال میں لکھی تویہ مدرسہ اس مدرسہ کے توڑنے اور ضررپہنچانے کے لئے قائم کیاگیا اور پہلا مدرسہ واقعی خالص مدرسہ اہلسنت وجماعت مطابق شریعت ہے، تو اس نیت نامحمود کے ساتھ یہ جدید مدرسہ مسجد ضرار کے حکم میں ہوگا اور اس کے اہل پر اس کا بند کردیناواجب۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاضررولاضرار فی الاسلام۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں ضرر اور ضرار دونوں نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ نصب الرایہ     کتاب الدیات     باب مایحدث الرجل فی الطریق     المکتبۃ الاسلامیہ ریاض     ۴/ ۳۸۴)
 (۲) جوشخص قیامت کامنکر اور دین کامعاذاﷲ تنزل چاہنے والا ہے وہ کسی طرح مسلمان نہیں ہوسکتا اور مرتد کی صحبت آگ ہے نہ کہ اس کے زیرتربیت ہو،
قال اﷲ تعالٰی واماینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۲؎۔
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) اگرتمہیں کبھی شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ہرگزظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۶/ ۶۸ )
اور جب وہ دین کا تنزل چاہنے والا ہے تو تعلیم دین کی ترقی اس سے کیونکر متوقع ہے، اس مدرسہ کے پاس نہ جانا چاہئے اور چھوڑدیاجائے کہ اسی کے خیال والے اس میں پڑھیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۳) کتب فقہائے کرام کامنکرگمراہ بددین ہے اور حل لواطت کاقائل کافر، ایسے شخص کے پاس بیٹھنا حرام ہے نہ کہ اس سے پڑھنا۔
قال اﷲ تعالٰی ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمہیں (دوزخ کی) آگ پہنچے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎القرآن الکریم    ۱۱/ ۱۱۳ )
مسئلہ ۳۳۷: مرسلہ حکیم وجیہ الدین احمدصاحب از چھپرہ ضلع سارن محلہ بارہ دری ۳صفر۱۳۳۵ھ 

زبدۃ المحققین قبلہ نمائے آیات اولین، عمدۃ الفواضل، تسلیم بپائے تعظیم پذیر فتہ خدمت فیضدرجت ہو۔ مزاج شریف، کچھ عرض ہے نظرفیض اثراگر اس طرف متوجہ فرمائی جائے تو حکم العلماء ورثۃ الانبیاء سے مجھ عقیدت آور کو افادہ وامداد کامل پہنچے۔ اس علاقہ ملک شرقیہ کے شہرچھپرہ میں بہت لوگ مولوی وارث حسن بنارسی کے مریدان ہیں اور خود وہ مولوی رشیداحمدگنگوہی کے مرید وخلیفہ ہیں جواپنا سلسلہ مولانا امداداﷲ مہاجرمکی کے ساتھ درست کرتے وصادق بتاتے اور مولوی اشرف علی دیوبندی جو فہومنہم (انہیں میں سے ہے۔ت) ان کی تصانیف سندوشیوع میں لاتے، ہم لوگ صوفیان مستند وصادقان واکابران بے جرم وداغ رہِ سلوک وعرفان کے مقتدٰی وہدایت یافتہ اور وہ لوگ تصوف غیرمقلدانہ آمیز سے علم افراشتہ، رموزقرآنیہ کا فہم ان کو آسان ہے مطالب حدیث غوامض ان کے کم علم کے برنوک زبان ہے غرض عجب عنوان عمل وایقان ہے یہ بات معلوم ہوئی کہ کوئی کتاب حسام الحرمین ہے جس میں مولوی رشیداحمدگنگوہی کی ارتداد بیعت ازجانب مولانا امداداﷲ مہاجرمکی بمہروسنددرج ہے، آپ جناب اقدس نے اسے چھپوا دیا ہے پس یہ التماس خدمت شریف ہے کہ ایک جلد اس کی اس بندہ ناچیز کوبھی ارسال فرماکر مرہون منت فرمائیں اور اس کے علاوہ اور بھی کوئی رسالہ وغیرہ ان لوگوں کے عقائد یاانفساخ ونادرستی بیعت وغیرہ کے بارہ میں ہو وہ بھی مرحمت ہو۔ دوسری بات یہ کہ اس ہیچمدان کو شوق حصول علم جفرہوا نقوش وادعیات مرتبہ قاعدہ جفرزیادہ تراثراتِ بروج وکواکب کے ساتھ مبنی ومحتوی ہیں لہٰذا تھوڑا حصہ علم نجوم کابھی معلوم کرنالازم ہوا، اوقات وساعات سبعہ سیارہ ومنازل وبروج سے واقفیت حاصل کرناضروری ٹھہرا، پس سلسلہ بندان گنگوہی نے یک دم سرے سے علم نجوم ہی کو کل کفر ٹھہرایا اور بوجوہ ایں کہ احوال مغیبات نجوم وجفرسے دریافت ہوتے لہٰذا علم جفر کو اس کا چھوٹابھائی بتایا اورایک حدیث مشکوٰۃ کی ثبوت کفرمیں پیش کی کہ کاہن وساحر ومنجم یک حکم رکھتے اور علم نجوم سیکھنا اور سکھانا دونوں ہی کفر۔ یہ کہاگیا کہ علم نجوم کل کفرہونہیں سکتا کیونکہ علماء وفضلاء وحکماء ومفسرین ومحدثین کو تھوڑی واقفیت حقیقت اشیاء وجزئیات امورعلم نجوم کی بھی ضرور ہے تااستدلال وتردیدمذاہب باطلہ کی وہ بخوبی کرسکیں اور اس کی حقیقت وماہیت وافعال وخواص سمجھیں اور بتائیں چنانچہ تمثیل وتطبیق میں مولاناروم علیہ الرحمۃ دفتراول مثنوی معنوی میں فرماتے ہیں:         ؎
 (۱) ہرکرابااخترے پیوستگی ست         مردرابااخترے خودہمتگی ست

(۲) طالعش گرزہرہ باشد باطرب         میل کلی دارد آں عشق وطلب

(۳) دربود مریخی وخُونریزخُو         جنگ وبہتان وخصومت جویداد۱؎
 (ترجمہ: (۱) جس شخص کو ستاروں سے وابستگی ہے مرد کو ستاروں سے خود ہی ہمت لڑانی چاہئے۔

(۲) عیش وعشرت رکھتے ہوئے، جس کاطالع زہرہ ستارہ ہے وہ مکمل رجحان عشق کی جستجو کی طرف رکھتا ہے۔

(۳) اگر اس کا طالع ستارہ مریخ ہے تو وہ خونریزی کی عادت اور لڑائی جھگڑا اور بہتان تراشی ڈھوندتارہتاہے
(۱؎ مثنوی معنوی     دفتراول     باب حکایت بادشاہ جہود الخ         نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/ ۲۳)
Flag Counter