Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
168 - 190
مسئلہ ۳۲۹ تا ۳۳۱ :ازبرٹس گائنا ڈمراراپترس حال ویچ ایسٹ بنگ مسئولہ عبدالغفور روزشنبہ ۲۴ صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ 

(۱) اگرایک شخص نے کہا کہ درمختار کو حدیث کے سامنے نہیں مانتا تو اس کا جواب کیا ہوا؟ 

(۲) جاہل کو عالم مان لیناکیسا ہے؟

(۳) ایک شخص نے اپنے کو مولانا قراردیا اور وہ شخص زید کوجانتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور زید کہتا ہے کہ میں سنت جماعت ہوں اور دراصل میں زید کے اعتقاد میں کچھ فتور پایاجاتا ہے اور زید مناظرہ کے لئے سنی مولانا کو طلب کرتاہے تومولانا کو زید سے مناظرہ کرنالازم آتاہے یاکہ نہیں اور سنی مولانا کا زید سے کہ دراصل وہ وہابی ہو مناظرہ نہ کرنا باعث ننگ مذہب سنّت جماعت کے ہے یاکہ نہیں؟
الجواب

(۱) اس کا جواب وہی مناسب ہے جو قرآن عظیم نے تعلیم کیاہے کہ:
سلامٌ علیکم لانبتغی الجٰھلین۱؎۔
تم پر (الوداعی) سلام ہو، ہم جاہلوں کونہیں چاہتے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲۸/ ۵۵)
 (۲) جہل ہے اور اس کا انجام ضلالت۔ حدیث میں ہے:
حتی اذا لم یبق عالم اتخذ الناس رؤسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیرعلم فضلوا واضلوا۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے) یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ (بامرمجبوری) رئیس جاہلوں کو (دینی مقتدا) بنائیں گے، پھر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے تو وہ بغیرعلم فتوے دیں گے تو خود بھی گمراہ ہوجائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
  (۲؎ صحیح البخار ی     کتاب العلم     باب کیف یقبض العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۰)
(۳) وجوب مناظرہ کے لئے شرائط ہیں، اگر وہ سب پائے جاتے ہیں تو مناظرہ لازم ہے اور اس کا ترک مضر مذہب۔ اور اگر ان میں سے ایک بھی منتفی ہے مثلاً طرف مقابل جاہل ہے یامتعصب معاند ہے جس سے قبول حق کی امید نہیں یامناظرہ میں فتنہ ہوتو کچھ ضرور نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: مسئولہ معین الدین احمد ڈاکخانہ بنگلا ضلع میمن سنگھ چہارشنبہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ 

کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص بغیرعلم حدیث وتفسیر واصول و فقہ کے فتوے دے یالکھے تو کیساہے یعنی شرعاً وہ شخص مجرم وماخوذ ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب  : ضرور مجرم ہے، حدیث میں ہے:
افتوا بغیر علم فضّلوا واضلوا ۱؎
بے علم کے فتوٰی دیا تو آپ بھی گمراہ ہوا اور ان کو بھی گمراہ کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب العلم         باب کیف یقبض العلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۰)
مسئلہ ۳۳۳: مسئولہ سیٹھ حاجی اتّوصاحب ازپوربندرکاٹھیاواڑ شنبہ ۶رمضان شریف ۱۳۳۴ھ 

کیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ گجراتی زبان لڑکیوں کو غیرمذہب والی عورتوں سے سیکھوانا یعنی پڑھوانا اور نیز لکھنے کی تعلیم دلوانا جیسے ہندوانی وآریہ مذہب والی عورتوں سے قبل واقفیت ضروری علم دینی کے جائزہے یانہیں یعنی اپنے دین حقہ کے مسائل اور دیگرمسائل روزمرہ مثل نماز وروزہ وغیرہ کے پہلے اور نیز اردو کی دنیوی کتابیں پڑھوانے کے واسطے کیاحکم ہے یعنی ہم لوگوں نے مدرسہ قائم کیا ہے اس مدرسہ میں عربی اردو گجراتی علم پڑھایاجاتا ہے، اب ہم علمائے دین سے دریافت کرناچاہتے ہیں کہ گجراتی علم درست ہو توہندوعورتوں سے پڑھوانا جائزہے یانہیں؟ اور لڑکیوں کو لکھنا اور پڑھانا سکھاناجائزہے یانہیں؟ اور یہی علوم مسلمان عورتوں سے سیکھنا درست ہے یانہیں؟ فقط
الجواب : عورتوں لڑکیوں کو لکھنا سکھانا منع ہے۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتعلموھن الکتابۃ۲؎
(عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ)
  (۲؎ الکامل لابن عدی     ترجمہ جعفر بن نصر             دارالفکر بیروت     ۲/ ۵۷۵)
اس میں فتنہ کادروازہ کھولنا ہے، اور اﷲ عزوجل فرماتاہے :
والفتنۃ اشد من القتل۱؎۔
فتنہ قتل سے بھی سخت ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۹۱)
حضرت لقمان علی الانبیاء الکرام وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک لڑکی مکتب میں ایسی تعلیم ہوتے ہوئے دیکھی، فرمایا:
لمن یصقل ھٰذا السیف۲؎۔
یہ تلوار کس کے لئے صیقل کی جارہی ہے۔
 (۲؎ الفتاوی الحدیثیۃ         مطلب یکرہ تعلیم النساء             المطبعۃ الجمالیۃ مصر     ص۶۳)
یہ انہوں نے اپنے زمانے کی نسبت فرمایا اب توجیسے فتنہ کازمانہ ہے ظاہرا س لئے درمختار وغیرہ میں فرمایا:
من لم یعرف اھل زمانہ فہو جاھل۳؎۔
جوکوئی اپنے زمانے کے لوگوں کے حالات سے ناواقف ہے وہ نادان ہے(ت)
(۳؎ درمختار             کتاب الصلوٰۃ     باب الوتروالنوافل     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۹)
غیرمذہب والیوں کی صحبت آگ ہے ذی علم عاقل بالغ مردوں کے مذہب اس میں بگڑگئے ہیں، عمران بن حطان رقاشی کاقصہ مشہورہے یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑامحدث تھا خارجی مذہب کی عورت کی صحبت میں معاذاﷲ خود خارجی ہوگیا اور یہ دعوٰی کیاتھا کہ اسے سنّی کرناچاہتاہے، جب صحبت کی یہ حالت تو استاد بنانا کس درجہ بدترہے کہ استاد کا اثربہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے، اور پھر کمسن لڑکیاں کچی لکڑی جدھر کو پھیری گئی پھر جائیں گی، توغیرمذہب عورت کی سپردگی یاشاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا جو آپ دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہوجانے کی پرواہ نہیں رکھتا، شریعت کا تویہ حکم ہے کہ کافرہ عورت سے مسلمان عورت کو ایساپردہ واجب ہے جیسا انہیں مرد سے، یعنی سرکے بالوں کاکوئی حصہ یابازو یاکلائی یاگلے سے پاؤں کے گٹوں کے نیچے تک جسم کاکوئی حصہ مسلمان عورت کاکافرہ عورت کے ساتھ کھلاہونا جائزنہیں۔
درمختار وتنویرالابصار میں ہے:
والذمیۃ کالرجل الاجنبی فی الاصح فلاتنظر الی بدن المسلمۃ۴؎۔
ذمیہ زیادہ صحیح قول میں غیرمحرم مرد کی طرح ہے لہٰذا وہ کسی مسلمان عورت کے جسم کو نہ دیکھے(ت)
 (۴؎ درمختار شرح تنویرالابصار        کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی النظروالمس    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۲)
یہ حکم اس کافرہ کی نسبت فرمایا جو سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہوکررہتی ہے پھر اس کا کیاذکر جو مطیع الاسلام بھی نہیں، اہلسنت وجماعت کے عقیدے اور طہارت ونمازوروزہ کے مسئلے سیکھنا سب پرفرض ہے اور ان کی معتبر کتابیں جیسے عقائد میں مختصررسالہ عرفان ایمان وغیرہ (نہ وہ کتابیں کہ بے دینوں یابدمذہبوں نے لکھیں جیسے بہشتی زیور وغیرہ کہ ایسی کتابیں پڑھناپڑھانا حرام ہے) غرض سنی عالم کی اردو تصنیف صحیح العقیدہ نیک خصلت سے پڑھواناضروری ہے ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو نہ بے شرمی کی، نہ اخلاق وعادات پر برااثر ڈالنے کی، اور پڑھانے والی عورت سنی مسلمان پارسا حیادار ہوتو کوئی حرج نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter