| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۳۲۴: مستفسرہ محمدمیاں طالب علم بہاری بریلی محلہ سوداگران کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علم دین حاصل کرنا واجب ہے، فرض ہے یاسنت؟ فقط۔
الجواب: فرض عین کاعلم حاصل کرنافرض عین، فرض کفایہ کافرض کفایہ، واجب کاواجب، مستحب کا مستحب، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۵، ۳۲۶: مرسلہ فیض الحق ابوالاسد مدرس مدرسہ اسلامیہ ضلع ایٹہ ڈاک خانہ گنج ڈونڈ وارہ موضع حرولہ۔ کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین ان مسئلوں میں: (۱) ایک شخص نے قاعدہ بغدادی نہ قرآن مجید فرقان حمید کسی سے پڑھا او رنہ استعداد وملکہ استخراج صحت الفاظ قرآن، اور پھر وہ مسلمانوں کے بچوں کو قرآن شریف پڑھاتاہے اور طرفہ تماشایہ کہ خود ودیگردوست یاروں کو چارپائی وکرسی پربٹھاتاہے اور قرآن شریف نیچے رکھاہوتا ہے، ایسے معلم اور پڑھانے والے کا اور متعلمین و پڑھنے والوں کا کیا حکم شرع شریف سے ہے؟ بیّنوا بالکتاب وتوجروا الٰی یوم الحساب (کتاب کے حوالہ سے بیان کرو اور روزحساب اجروثواب پاؤ۔ت) (۲) غیرمقلدین نے آج کل قصبوں اور دیہاتوں میں مترجم فی السطور خطبے تقسیم کئے ہی ہیں جو کہ اکثر جاہل حنفی پیش امام بھی عید میں ان کو پڑھاکرتے ہیں مع ترجمے کے۔ آیا یہ مذہب حنفی میں جائزہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب : (۱) قرآن مجید بے پڑھے کوئی شخص صحیح نہیں پڑھ سکتا، جس نے قرآن مجید نہ پڑھا اور استادوں سے صحیح نہ کیا اسے جائز نہیں کہ اوروں کو پڑھائے، نہ لوگوں کو جائزہے کہ ا س سے پڑھیں یا اپنی اولاد کو اس سے پڑھوائیں وہ سب گنہگار ہوتے ہیں۔ جو معلم ایسا ہو کہ آپ اور اس کے یاردوست چارپائیوں اور کرسیوں پربیٹھیں اور قرآن مجید نیچے زمین پررکھاہو اگر اس سے مراد حقیقۃً زمین پررکھنا ہے اور وہ لوگ ایساکرتے ہیں تو ان کے اسلام میں کلام ہے مسلمان ہرگز ایسانہ کرے گا یہ وہی کرسکتاہے جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلاً نہ ہو اور جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلاً نہ ہو وہ مسلمان نہیں، اور اگریہ مراد ہے کہ پڑھنے والے لڑکے زمین پربیٹھتے ہیں قرآن مجید رحل پر یا ان کے ہاتھوں یاگود میں ہے اور یہ معلم وغیرہ ان سے اونچے بیٹھتے ہیں تو جب بھی سخت بدکار، ناہنجار، فساق، فجار، مستحق عذاب نار وغضب جبّار ہیں۔ اور اگرقصداً بوجہ توہین استخفاف شان قرآن مجید ایساکرتے ہیں تو آپ ہی کفار ہیں۔ بہرحال ایسے معلم سے پڑھنا پڑھوانا حرام ہے اور اس کے پاس بیٹھناجائزنہیں۔ المولٰی تعالٰی اعلم۔ (۲) جمعہ وعیدین کے خطبوں میں ساتھ ساتھ اُن کا ترجمہ پڑھنا خلاف سنت ہے اس سے احتراز چاہئے والمولٰی تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۲۷: مرسلہ عبدالعزیز تاجرچرم مقام قصبہ ٹنکاری محلہ شاہ گنج ضلع گیا بروز دوشنبہ تاریخ ۱۶ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ ایک شخص جوعالم ہے اس نے جمعہ کے روز وعظ کے اندریہ بیان کیا کہ جن لوگوں نے جمعہ کے روز روزہ افطارکیا اور نمازعید پڑھی وہ ناجائزہے ہم نے فتوٰی غیرعالم سے منگوایا ہے جن کو ضرورت ہو ہمارے مکان پر آکردیکھ لیں اور عام جمعہ میں فتوٰی نہیں دکھلایا اور جب مکان پرلوگوں نے طلب کیا تو فتوٰی دکھلانے سے انکارکیا ایسافتوٰی کہ جس سے ہرایک مسلمان کو تعلق دینی ہے اس کا چھپارکھنا عالم کے حق میں کیساہے؟
الجواب: اگرکوئی عذرشرعی نہ ہو تو فتوٰی چھپانا بہت بیجاتھا اگرچہ اعلان کے ساتھ وعظ میں حکم شرعی بیان کردینے کے بعد کتمان علم واخفائے حق کی حد میں نہیں آسکتا کہ عالم پرزبانی بیان حکم فرض ہے خود لکھ کردینا ضروری نہیں کما فی غمزالعیون وغیرہ (جیسا کہ غمزالعیون وغیرہ میں ہے۔ت) نہ کہ اور کالکھا پیش کرنا مگرجبکہ اس کے پیش کرنے میں عوام کی ہدایت کاظن غالب ہو اور اسے بلاوجہ شرعی چھپائے تو اب البتہ جرم کی حد میں آجائے گا کہ اس نے مسلمانوں کا خلاف ہدایت پررہنا پسند کیا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(لوگو!) تم میں سے کوئی شخص اس و قت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنی ذات کیلئے پسند کرتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷ )
مسئلہ ۳۲۸ :ازکرانچی بندرشاپ کیپرصدربازار بردکان سیٹھ حاجی نورمحمد عبدالقادر مسئولہ عبداﷲ حاجی روزچہارشنبہ بتاریخ ۸ محرم ۱۳۳۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین کہ یہاں ایک مدرسہ مسلمان لڑکیوں کے لئے کھولاگیاہے جس میں اس مدرسہ کی معلمہ مروجہ تعلیم جو فی زمانہ اسکولوں میں لڑکوں کو دی جاتی ہے بعینہ وہ ہی تعلیم لڑکیوں کو دی جاتی ہے یعنی لکھانا وپڑھانا اور حساب ونظمیں یاد کراتی اور سکھاتی ہے، یہ فعل فی زمانہ لڑکیوں کے لئے روا اور جائزہے یاممنوع اور ناجائز ہے؟ علاوہ اس کے لڑکیاں بارہ چودہ سال کی بے پردہ آیا کرتی ہیں اور اس مدرسہ کے خادم نوجوان لڑکے ہیں ان کے سامنے اور وقت امتحان کے غیرمردوں کے آگے الحان سے نظمیں پڑھتی ہیں، کیایہ فعل شرعاً حرام ہے یانہیں؟ اور لڑکی مشتہاۃ ہونے کے لئے شرعاً کتنی عمر ہونی چاہئے اور ایسے مدرسہ کی تائید کرنے والوں اور ان کے والدین کے لئے جو اپنی لڑکیاں ایسے مدرسہ میں بھیجاکرتے ہیں اور تعلیم مروجہ دلاتے ہیں شرعاً کیاحکم ہے؟ فقط
الجواب:لڑکیوں کا غیرمردوں کے سامنے خوش الحانی سے نظم پڑھنا حرام ہے، اور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام، اور لڑکیوں کو لکھنا سکھانا مکروہ، یونہیں عاشقانہ نظمیں پڑھانا ممنوع، اور ایسے مدرسہ کو مدد دینی شیطان کو اس کے مقاصد میں مدد دینی ہے، اور جو اپنی لڑکیوں کو ایسی جگہ بھیجتے ہیں بے حیابے غیرت ہیں ان پر اطلاق دیّوث ہوسکتاہے، نوبرس کی عمر کی لڑکی مشتہاۃ ہوتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔