| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۳۱۷ تا ۳۲۰: مرسلہ محمداسحاق سکریٹری انجمن محمدیہ کوچین ملک ملیبار (۱) آج کل مسلمان جو تکمیل یونیورسٹی کی کوشش کرتے ہیں اور چندہ فراہم کرتے ہیں وہ ثواب ہے یانہیں؟ (۲) آیا تکمیل یونیورسٹی دینی ضروریات سے ہے یانہیں؟ (۳) اس مد میں جوروپیہ دیاجائے وہ صدقہ جاریہ میں محسوب ہوگا یانہیں؟ (۴) اس یونیورسٹی میں اہلسنّت شامل ہوسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب : اگریہ بات قرارپائے اور اس کے افسر عہدہ داران اس کا پورا ذمہ قابل اطمینان کریں کہ اس کا حصہ دینیات صرف اہلسنت وجماعت کے متعلق رہے گا جن کے عقائد مطابق علمائے حرمین طیبین ہیں انہیں کی کتب نصاب میں ہوں گی، انہیں کے علماء مدرسین ہوں گے، انہیں کی تربیت میں طلباء رہیں گے، غیروں کی صحبت سے ان کو بچایاجائے گا، روپیہ جو اہلسنت سے لیاجائے گا صرف اسی کام میں صرف کیاجائے گا، اس وقت اہلسنت کو اس میں داخل ہوناجائزاور باعث ثواب ہوگا، اور جوکچھ اس میں دیاجائے گا صدقہ جاریہ ہوگا۔ رہا اس کی تکمیل میں کوشش اور چندہ فراہم کرنا، وہ صرف اتنی بات پربھی ثواب نہیں ہوسکتاجب تک کہ اس میں ہرمذہب کی تعلیم باقی ہے وہ روپیہ اس لئے جمع نہیں کرتے کہ دین حق کی تعلیم ہو بلکہ حق وناحق دونوں کی تعلیم کو سنیوں کے بچوں کو تعلیم ہوگی کہ قرآن مجید بعینہ محفوظ ہے اس میں کسی قسم دخل بشری سے ایک نقطہ کی کمی بیشی ہوئی نہ ہوسکتی ہے، کوئی غیرنبی کسی نبی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، تقدیر کی بھلائی برائی سب اﷲ عزوجل کی طرف سے ہے اور اس پر کچھ واجب نہیں وہ جوچاہے کرے، ہمارا اور ہمارے افعال نیک وبد کا وہی ایک اکیلاخالق ہے اس کادیدار روزقیامت حق ہے، خلفائے اربعہ کی امامت برحق ہے ان میں اﷲ عزوجل کے یہاں سب سے زیادہ عزت وقربت والے صدیق اکبر ہیں پھرفاروق اعظم پھر عثمان غنی پھر علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم، انہیں بلکہ صحابہ میں سے کسی کو براکہنے والا جہنمی مردودوملعون ہے اور شیعہ کے بچوں کو تعلیم ہوگی کہ یہ قرآن بیاض عثمانی ہے اس میں سے کچھ آیتیں سورتیں صحابہ نے گھٹادیں بعض الفاظ کچھ کے کم کردئیے جیسے ائمۃ ھی ازکی من ائمۃ کی جگہ امۃ ھی اربی من امۃ بتادیا، مولاعلی وائمہ اطہار اگلے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل ہیں، تقدیر کی برائی خدا کی طرف سے نہیں، بندہ کے لئے اصلح کرنا لطف سے پیش آنا خدا پر واجب ہے خدا اس کے خلاف نہیں کرسکتا، اپنے اعمال کے ہم خود خالق ہیں، خدا کا دیدار حق نہیں، خلفائے اربعہ میں تین معاذاﷲ ظالم غاصب ہیں، اُن کو سخت سے سخت برائی سے یاد کرنا گالیاں دینا بڑے ثواب کاکام ہے۔ پھر وہ خود اعلان کرتے ہیں کہ سب سے زائد اہتمام سائنس کی تعلیم کاہوگا۔ سائنس میں وہ باتیں ہیں جو عقائد اسلام کے قطعاً خلاف ہیں بچوں کی تربیت دینے تہذیب وانسانیت سکھانے کے لئے دنیابھر میں کوئی مسلمان نہ رہا عرب مصرروم شام حتی کہ حرمین شریفین کے علماء ومشائخ میں کوئی اس قابل نہیں ہاں کمال مہذب وشیخ تربیت وپیرافادت بننے کے لائق یورپ کے عیسائی ہیں ان کو اس قدر بیش قرارتنخواہیں ان روپوں سے دی جائیں گی کہ وہ یہاں رہنے پرمجبور ہوں ان کی صحبت وتربیت میں مسلمانوں کے بچے رکھے جائیں گے ان کے اخلاق وعادات سکھائے جائیں گے، ایسی صورت میں حال ظاہر ہے ابتداء میں کہ مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے کو بہت سنبھل سنبھل کربنابناکرمقاصد دکھائے گئے ہیں ان میں تو یہ حالت ہے آئندہ جو کارروائی ہوگی رویش ببیں حالش مپرس(اس کا چہرہ دیکھ لیکن اس کاحال نہ پوچھ۔ت) سالہاسال سے جو علی گڑھ کالج انہیں مقاصد کے لئے قائم ہے اس کے ثمرات ظاہرہیں کہ مسلمانوں کو نیم عیسائی کرچھوڑا اس کے اکثرتعلیم یافتہ اسلام وعقائد اسلام پرٹھٹھے اُڑاتے ہیں ائمہ وعلماء کو مسخرہ بتاتے ہیں خود غرضی وخودپسندی دنیا طلبی دین فراموشی یہاں تک کہ داڑھی وغیرہ اسلامی وضع سے تنفر ان کا شعار ہے جب ادھورے کے یہ آثار ہیں تکمیل کے بعد جو ثمرات ہوں گے آشکار ہیں ع
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(اس کے باغ سے اس کی بہار کااندازہ کرلیجئے۔ت)
وباﷲ العصمۃ (اور اﷲ تعالٰی ہی کی مدد سے بچاؤ ہوسکتاہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔