مسئلہ ۳۱۰: ۶ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کاترجمہ اس طرح پرکرناکہ نیچے ترجمہ میں مخذوفات اور مطالب وغیرہ خطوط ہلالی بناکر لکھ دئیے جائیں جائزہے یاناجائز؟
الجواب: الحمدﷲ قرآن عظیم بحفظ الٰہی عزوجل ابدالآباد تک محفوظ ہے تحریف محرفین وانتحال منتحلین کو اس کے سراپردئہ عزت کے گردبار ممکن نہیں
لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولامن خلفہ۱؎
(باطل اس کے آگے اور پیچھے
سے نہیں آسکتا۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۱/ ۴۲)
حمد اس کے وجہ کریم کو جس نے قرآن اتارا اور اس کا حفظ اپنے ذمہ قدرت پررکھا
انا نحن نزلنا الذکر وانّا لہ لحٰفظون۱؎
(ہم ہی نے قرآن پاک کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۵/ ۹)
توریت وانجیل کچھ تو ملعون احباروں نے اپنے اغراض ملعونہ سے روپے لے کر اپنے مذہب ناپاک کے تعصب سے قصداً بدلیں اور کچھد ایسے ہی ترجمہ کرنے والوں نے اس خلط وخبط کی بنیادیں ڈالیں مرورزماں کے بعد وہ اصل وزیادت مل ملاکر سب ایک ہوگئیں، کلام الٰہی وکلام بشرمختلط ہوکر تمیزنہ رہی۔ الحمد ﷲنفس قرآن میں اگرچہ یہ امرمحال ہے تمام جہان اگراکٹھاہوکر اس کاایک نقطہ کم بیش کرناچاہے ہرگزقدرت نہ پائے مگرترجمہ سے مقصود ان عوام کومعانی قرآن سمجھانا ہے جوفہم عربی سے عاجز ہیں خطوط بلالی نقول ودرنقول خصوصاً مطابع مطابع میں ضرور مخلوط ونامضبوط ہوکرنتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے والے عوام اصل ارشاد قرآن کو اس مترجم کی زیادت سمجھیں گے اور مترجم کی زیادات کو رب العزۃ کاارشاد یہ باعث ضلال ہوگا اور جو امرمنجربہ ضلال ہو اس کی اجازت نہیں ہوسکتی اسی لئے علماء مترجمین نے ترجمہ کایہی دستور رکھا کہ بین السطور میں صرف ترجمہ اور جو فائدہ زائدہ ایفاح مطلب کے لئے ہو ا وہ حاشیہ پرلکھا انہیں کی چال چلنی چاہئے۔ وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۱: ۵جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایک شخص وعظ کہتاہے اور ان صفتوں سے موصوف ہے: اوّلاً مقولہ اس کا الصلوۃ علیک یارسول اﷲ کہنا نہ چاہئے حاضر کے واسطے ہے۔
دوسرے بیان کیاروزہ دار کو چاہئے وقت استنجی کے اوپرکوسانس نہ لے اور آپ کو خوب سنبھالے پانی اوپرنہ جائے ورنہ روزہ اس کا تباہ ہوگا روزہ دار اور غیرروزہ دار کے استنجی میں بہت فرق ہے۔
تیسرے آمین کہنے آواز بلند سے شیطان کے برچھے لگتاہے اگربہت بلندآواز سے آدمی کہیں توبہت برچھی لگتی ہیں، او ر اس آدمی نے تقویۃ الایمان اور تنبیہ الغافلین اور کچھ آیات وحکایات و حدیث شریف کاترجمہ بغیراستاد کے مطبوعہ دیکھ کر یادکرلیاہے بیان کرتاہے اوع علم ناسخ اور منسوخ آیات اوراقسام حدیث شریف اور صرف ونحو بھی نہ جانے بحدیکہ من وعن وواحد وتثنیہ میں فرق نہیں کرسکتا ہے ایسے آدمی کا وعظ سننے کو اجازت شریعت محمدیہ اہل شرع کے ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا( بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب : شخص مذکور نراجاہل اجہل وگمراہ بدمذہب ہے اسے وعظ کہناحرام اور اس کا وعظ سنناحرام، الصلٰوۃ علیک یارسول اﷲ کہناباجماع مسلمین جائزومستحب ہے جس کی ایک دلیل ظاہروباہر التحیات میں السلام علیک ایھاالنبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ہے اور اس کے سواصحاح کی حدیث میں یامحمد انی اتوجہ بک الٰی ربی فی حاجتی ھٰذہ۱؎ (اے محمد(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) میں اپنی اس حاجت (ضرورت) میں آپ کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرتاہوں اور آپ کو وسیلہ بناتاہوں۔ت) موجود جس میں بعد وفات اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حضورپکارنا اور حضور سے مدد لینا ثابت ہے مگرایسے جاہل اجہل کو احادیث سے کیاخبر، جب اسے التحیات ہی یادنہیں جو مسلمانوں کاہربچہ جانتاہے ۔ تقویۃ الایمان سخت بددینی وضلالت کی کتاب ہے اس کااور اس کے مصنف کاحال فتاوٰی ورسائل علماء عرب وعجم سے ظاہر، سردست فقیر کا رسالہ مسمی بہ الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ(عہ) جدید الطبع حاضرمن شاء فلیطالعھا حاضرہے جو چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت)
عہ: رسالہ ہذا (الکوکبۃ الشہابیہ) فتاوٰی فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلدنمبر۱۵ میں مرقوم ہے۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۹۷)
( مسند احمدبن حنبل حدیث عثمان بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳۸)
(سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ ماجاء صلٰوۃ الحاجۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۰۰)
(المستدرک للحاکم کتاب الصلٰوۃ التطوع ۱/ ۳۱۳ کتاب الدعا، ۱/ ۵۱۹ و ۵۲۶ دارالفکر بیروت )
آمین آواز سے کہنے میں شیطان کے برچھالگنا اور جس قدر زیادہ بلندآواز سے ہو اسی قدرزیادہ زخم پہنچنا یہ بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
روزہ دار کو یہ بہتر توہے کہ استنجا کرنے میں اوپرسانس بقوت نہ لے مگر اس قدر سے روزہ نہ جائے گا، نہ مطلقاً پانی چڑھنے سے جب تک پانی موضع حقنہ تک نہ پہنچے، اور ایساہوگا تودردشدید پیداہوگا۔
درمختارمیں ہے :
لوبالغ فی الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنۃ فسدالصوم وھذا فلما یکون ولوکان فیورث داءً عظیما۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
استنجا کرنے میں اگر اس تک مبالغہ کیا کہ پانی حقنہ (محل دوا) تک پہنچ گیا توروزہ فاسد ہوجائے گا اور ایسا بہت کم ہوتاہے، اگرہوتو بڑی بیماری پیداہوجائے گی واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۹)
مسئلہ ۳۱۲ :ازپیلی بھیت بازار ڈرمنڈ گنج دکان خلیل الرحمن عطرفروش مرسلہ محمدمظہرالاسلام صاحب ۲۴رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں : اگرکوئی عالم یہ دعوٰی کرتاہو کہ میں یہاں کے اہم اسلام کاحاکم ہوں اور منہیات شرعی پرزجروتوبیخ نہ کرتا ہوبلکہ ایسے اشخاص سے کہ جو منہیات شرعی میں مبتلا ہوں ان کے یہاں دعوتیں کھاتاہو نذرانہ لیتاہو یعنی شراب خوار،علی الاعلان ہوئے فروش ہو ،مسکرات کا ٹھیکیدار ہو رشوت علی الاعلان لیتاہو ،ڈاڑھی منڈاتاہو ،علی الاعلان زناکرتاہو، وغیرہ وغیرہ۔ پس ایسے شخصوں سے ملنے کو فخرجانتاہو ایسے عالم کے واسطے شریعت عالی کاکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : عالم دین سنی المذہب جو اپنے اہل علم شہر میں اعلم ہو ضرور ان کا حاکم شرعی ہے کما فی الحدیقۃ الندیۃ۲؎ عن الفتاوی العتابیۃ (جیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوٰی عتابیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت)
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث مکتبہ نوریہ فیصل آباد ۱/ ۳۵۱)
نہی عن المنکر اپنی شرائط کے ساتھ ضرور فرض ہے مگر وہ زجروتوبیخ میں منحصرنہیں ایسے مرتکبان کبائر کے ساتھ اختلاط میں نظر علماء مختلف رہی ہے اور قول فیصل یہ کہ اس کا فیصلہ عالم ماہر کی نظرپرہے جو اصلح سمجھے اس پر عمل کرے کما بیّنہ الامام حجّۃ الاسلام فی الاحیاء (جیسا کہ حجۃ الاسلام (امام غزالی) نے اس کو احیاء العلوم میں بیان فرمایا ہے۔ت) دعوت کھانا فی نفسہ حلال ہے جب تک معلوم ومتحقق نہ ہو کہ یہ کھانا جو ہمارے سامنے آیا بعینہٖ حرام مال ہے کما فی الھندیۃ۳؎ عن الذخیرۃ عن الامام محمد (جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت) بہرحال عوام کو علمائے دین سنیان مہتین کی شان میں حسن ظن وحسن عقیدت لازم ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(۳؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲)
مسئلہ ۳۱۳: مسئولہ مولوی حامد علی صاحب طالب علم مدرسہ اہلسنت باشندہ الہ آباد ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھاناکیساہے اور جو ان کے پاس اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے بھیجے اس کے واسطے کیاحکم ہے؟
الجواب : حرام حرام حرام، اور جو ایساکرے بدخواہ اطفال ومبتلائے آثام۔
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶۶/ ۶ )
مسئلہ ۳۱۴ : مرسلہ ڈاکٹر محمدواعظ الحق سعداﷲ لودی ڈاکخانہ خسروپور ضلع پٹنہ بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
غیرمقلدوں سے مسئلہ دریافت کرناجائزہے یاناجائز؟
الجواب : غیرمقلدوں سے مسئلہ دریافت کرناحماقت ہے۔
مسئلہ ۳۱۵ : ازاوجین علاقہ گوالیار مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
براہ سخن پروری عبارت کتب میں اپنی طرف سے چندالفاظ داخل کرکے علماء کرام اور حتی کہ استاد عظام خود کو دھوکا دینا کیاحکم رکھتاہے جوحکم محقق اس مسئلہ میں ہو بیان فرمائیں وبحث مسئلہ عبارت کتب ہو۔
الجواب : سخن پروری یعنی دانستہ باطل پراصرار ومکابرہ ایک کبیرہ۔ کلمات علماء میں کچھ الفاظ اپنی طرف سے الحاق کرکے ان پرافتراء دوسراکبیرہ۔ علماء کرام اور خود اپنے اساتذ کو دھوکادینا خصوصاً امردین میں تیسرا کبیرہ۔ یہ سب خصلتیں یہود لعنہم اﷲ تعالٰی کی ہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتلبسوا الحق بالباطل وتکتمواالحق وانتم تعلمون۲؎o
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: (لوگو) حق کے ساتھ باطل نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپانے والے بنو جبکہ تم (حق کو خوب) جانتے ہو۔(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۴۲)
وقال اﷲ تعالٰی فویل لھم مماکتبت ایدیھم وویل لھم ممایکسبون۱؎o
اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: خرابی اور بربادی ہے ان لوگوں کے لئے بوجہ ان کے ہاتھوں کی لکھائی کے، اور خرابی ہے ان کے لئے بوجہ ان کی کمائی کے جو وہ کمارہے ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۷۹)
وقال تعالٰی یحرفونہ من بعد ماعقلوہ وھم یعلمون۲؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا: وہ لوگ اﷲ کے کلام کو سمجھنے اور جاننے کے باوجود بدل ڈالتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم ۲/ ۷۵)
مسئلہ ۳۱۶ :ازقاضی ٹولہ شہرکہنہ ۱۷ذی القدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگرکوئی شخص جس نے سوائے کتب فارسی اور اردو کے جوکہ معمولی درس میں پڑھی ہوں اور اس نے کسی مدرسہ اسلامیہ یاعلماء گرامی سے کوئی سند تحصیل علم نہ حاصل کی ہو اگر وہ شخص مفتی بنے یا بننے کا دعوٰی کرے اور آیات قرآنی اور احادیث کو پڑھ کر اس کاترجمہ بیان کرے اور لوگوں کو باور کرائے کہ وہ مولوی ہے تو ایسے شخص کاحکم یافتوٰی اور اقوال قابل تعمیل ہیں یانہیں اور ایسے شخص کاکوئی دوسرا شخص حکم نہ مانے توا س کے لئے شریعت میں کیاحکم ہے؟
الجواب : سندکوئی چیز نہیں، بہتیرے سندیافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اُن کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سندیافتوں میں نہیں ہوتی، علم ہوناچاہئے اور علم الفتوٰی پڑھنے سے نہیں آتا جب تک مدتہا کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیاہو مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے مگرخدمت علماء کرام میں اکثر حاضررہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا فقیر نے دیکھاہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صدہا فارغ التحصیلوں بلکہ مدرسوں بلکہ نام کے مفتیوں سے بدرجہا زائد تھے، پس اگر شخص مذکور فی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کاملین علم کافی رکھتاہے جو بیان کرتاہے غالباً صحیح ہوتاہے اس کی خطا سے اس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں اور اگردونوں وجوہِ علم سے عاری ہے صرف بطور خوداردوفارسی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب بیان کرنے پر جرأت کرتاہے تو یہ سخت اشدکبیر ہ ہے اور اس کے فتوٰی پرعمل جائزنہیں اور نہ اس کا بیان حدیث وقرآن سننے کی اجازت۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجرأکم علی الفتیا اجرأکم علی النار۱؎۔
جوشخص فتوٰی دینے میں زیادہ جرأت رکھتاہے وہ آتشِ دوزخ پرزیادہ دلیرہے۔