| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
یہیں سے ظاہرہوگیا کہ اگلے زمانے کی دوچاربیبیوں کے حال فعل سے استناد کا یہاں کوئی محل نہیں پہلے تو عموماً عورات کو حکم تھا کہ پنجگانہ مسجدوں میں حاضرہوں، پردہ نشینیں اگرچہ حالت حیض میں ہوں کہ نمازپڑھ بھی نہیں سکتیں محض شرکت برکت دعا کے لئے عیدگاہوں کو ضرور جائیں۔ اب یہ احکام کیوں نہ رہے، حضرت ام المومنین حفصہ تو ام المومنین ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہا آج حضرت فقیہ فاطمہ سمرقندیہ بنت امام علاؤالدین رحمہما اﷲ تعالٰی کے مثل کون سی بی بی ہے بلکہ بعد تلاش وتفحص صرف معدود نساء کی کتابت کا پتاچلنا ہی بتادیتاہے کہ سلفاً خلفاً علماء وعامہ مومنین کا عمل اس کے ترک ہی پررہاہے۔ مرد ہرزمانے میں لاکھوں کاتب ہوئے اور عورتیں تیرہ سوبرس میں معدود۔ پُرظاہر کتابت ایک عظیم نافع چیزہے اگرکتابتِ نساء میں حرج نہ ہوتا جمہور امت سلف سے آج تک اس کے ترک پر کیوں اتفاق کرتی، بالجملہ سبیل سلامت اسی میں ہے، لہٰذا ان اجلہ علماء کرام امام حافظ الحدیث ابوموسٰی وامام علامہ تورپشتی وامام ابن الاثیر جزری وعلامہ طیبی و امام جلال الدین سیوطی وعلامہ طاہرفتنی وشیخ محقق مولنا عبدالحق محدّث دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم نے اسی طرف میل فرمایا، وہ ہرطرح ہم سے اعلم تھے اب جو اجازت کی طرف جائے یا حال زمانہ سے غافل ہے یاامت مرحومہ کی خیرخواہی سے عاطل۔
ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل۱؎، نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ثم رأیت بعد ذٰلک کلام الشیخ ابن حجر فی الفتاوی الحدیثیۃ ذکر فیہ حدیث ام المؤمنین وحدیث ابن مسعود ایضا رضی اﷲ تعالٰی عنھما وزاد فقال واخراج الترمذی الحکیم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال مر لقمان علٰی جاریۃ فی الکتاب فقال لمن یصقل ھذا السیف ای حتی یذبح بہ وحینئذ فیکون فیہ اشارۃ الی علۃ النھی عن الکتابۃ وھی ان المرأۃ اذا تعلمتھا توصلت بھا الٰی اغراض فاسدۃ وامکن توصل الفسقۃ الیھا علی وجہ اسرع وابلغ واخدع من توصلھم الیھا بدون ذٰلک، لان الانسان یبلغ بکتابتہ فی اغراضہ الی غیرہ مالم یبلغہ برسول ولان الکتابۃ اخفی من الرسول فکانت ابلغ فی الحیلۃ واسرع فی الخداع والمکر، فلاجل ذٰلک صارت المرأۃ بعد الکتابۃ کالسیف الصیقل الذی لایمرعلی شیئ الاقطعہ بسرعۃ فکذلک ھی بعد الکتابۃ تصیر لایطلب منہ شیئ الاکان فیھا قابلیۃ الی اجابتہ الیہ علی ابلغ وجہ اسرعہ ۱؎اھ۔
(جواپنے زمانے والوں کے حالات سے آگاہ نہ ہو وہ جاہل اور نادان ہے۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافنی اور نادان ہے۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورعافیت کا سوال کرتے ہیں، پھر اس کے بعد میں نے شیخ ابن حجر کافتاوٰی حدیثیہ میں کلام دیکھا جس میںا نہوں ے ام المومین کی روایت اور حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیث ذکر فرمائی اور کچھ اضافہ کرتے ہوئے فرمایا۔ت) یعنی نیز امام ترمذی الحکیم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لقمان نے ایک لڑکی کو دیکھا کہ مکتب میں سکھائی جارہی ہے فرمایا یہ تلوار کس کے لئے صیقل کی جاتی ہے۔ امام ابن حجر فرماتے ہیں اس حدیث میں علت نہی کتابت کی طرف اشارہ ہے کہ عورت لکھناسیکھ کرخود بھی فاسد غرضوں کی طرف راہ پائے گی اور فاسقوں کو بھی اس تک رسائی کابڑا موقع مل جائے گا جولکھنا نہ جاننے کی حالت میں نہ ملتا کہ آدمی وہ بات لکھ سکتا ہے جو کسی کی زبانی نہ کہلابھیجے گا نیز خط ایلچی سے زیادہ پوشیدہ ہے تو اس میں حیلہ ومکر کی بہت جلد راہ ملے گی لہٰذا عورت لکھنا سیکھ کر صیقل کی ہوئی تلوار ہوجاتی ہے (وہ کسی چیز پرنہیں گزرتی مگرجلدی سے اسے کاٹ کر رکھ دیتی ہے پس عورت لکھائی سیکھنے کے بعد اسی طرح ہوجاتی ہے لہٰذا اس سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیاجاتا کہ وہ بڑی جلدی میں بروجہ بلیغ اس دعوے ومطالبے کے قبول کرنے پرآمادہ ہوجاتی ہےاھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۵۹) (۱؎ الفتاوی الحدیثیہ مطلب یکرہ تعلیم النساء الکتابۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۳)
ہندی مثل نے بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا ''اے بوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار''۔
وھذا کما تری کلام متین مبین، اعلاہ مورق واسفلہ مغدق وقول سیدنا لقمان الذی جاء فی الحدیث ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رواہ سیف بالیقین والقطع لیس بعدہ لعنق الشبھۃ الا الجزّوالقطع اما ماذکرالشیخ بعدہ جوابا عن حدیث الشفاء بقولہ، قلت لیس فیہ دلالۃ علی طلب تعلیمھن الکتابۃ وانما فیہ دلیل علی جوازہ الکتابۃ ونحن نقول بہ وانما غایۃ ان النھی عنہ تنزیھا لما تقرر فی المفاسد المرتبۃ علیہاھ فاقول؛ مبنی علی مذھبہ فان الامام الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایقول بسد الذرائع فلایکون حجۃ علینا لاسیما مع مانرٰی عن فساد الزمان وماتصم بسماعہ الآذان ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ نسأل اﷲ العفو والعافیۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ یہ کلام نہایت پختہ اور واضح ہے جس کا اوپر والا حصہ ہرے بھرے خوبصورت پتوں والا ہے (اعلاہ مورق) اور نچلاحصہ جائے سیرابی ہے (اسفلہ مغدق) اور ہمارے آقالقمان حکیم کاارشاد ہے جو حدیث پاک میں وارد ہوا کہ جس کو آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے روایت فرمایا وہ عورت یقینی اور حتمی طور پر تلوارہے کہ جس کے بعد گردن کٹنے اور الگ ہونے کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں، رہی یہ بات کہ شیخ نے حدیث شفاء کا جواب اپنے اس قول سے ذکرفرمایا۔ میں کہتاہوں کہ عورتوں کی تعلیم کتابت کے مطالبے پر حدیث پاک میں کوئی دلالت نہیں بلکہ اس میں دلیل جواز ہے اور ہم اسی کے قائل ہیں، منکر نہیں، البتہ انتہائی بات یہ ہے کہ اس میں نہی تنزیہہ ہے اس لئے کہ اس پربہت سے مفاسد کا ترتّب ثابت ہوچکاہےاھ میں کہتاہوں (صاحب فتاوٰی) کہ یہ ان کے مذہب پرمبنی ہے اس لئے کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ذرائع کی روک تھام کے قائل نہیں لہٰذا یہ ہمارے خلاف حجت(دلیل) نہیں خصوصاً جبکہ ہم فسادِزمانہ بھی دیکھ رہے ہیں اور وہ خطرناک حالات کہ جن کی سماعت سے کان بہرے ہوں۔ پس گناہوں سے محفوظ رہنے اور نیکی کرنے کی (کسی میں) ہمت وقوت نہیں سوائے خدائے عظیم وکبیر کے فضل وکرم کے۔ اﷲ تعالٰی سے ہم مغفرت وعافیت چاہتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)