| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
وقداخرج ابوالفرج فی الموضوعات حدیثا من ولدلہ ثلٰثۃ اولاد فلم یسم احدھم محمدا فقد جہل، بطریق اللیث عن مجاھد عن ابن عباس قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎، وعللہ بان لیث ترکہ احمد وغیرہ فتعقبہ خاتم الحفاظ فی اللاٰلی بان الحارث رواہ عن النضر بن شنقی مرسلا والنضر قال ابن القطان، مجھول قال وھذا المرسل یعضد حدیث ابن عباس ویدخلہ فی قسم المقبول۳؎ اھ ولہ نظائر جمۃ اوردنا جملۃ منھا فی ''الھاد الکاف'' ۔
ابوالفرج نے الموضوعات میں یہ حدیث تخریج کی، جس کسی کے ہاں تین بچے پیداہوئے پھر اس نے ان میں سے کسی کانام محمد نہ رکھا تو اس نے جہالت کی۔ یہ حدیث بواسطہ لیث، مجاہد اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے فرمایا حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا، اس نے حدیث مذکورمیں تعلیل ذکر کی(یعنی اسے معلل قراردیا) کہ لیث کو امام احمد وغیرہ نے چھوڑدیا ہے اور خاتم الحفاظ نے اللآلی میں اس کا تعاقب کیا ہے کہ حارث نے اس کو نضربن شنقی سے مرسل (یعنی بلاقیدسند) روایت کیاہے، اور ابن قحطان نے کہا کہ نضرمجہول ہے۔ امام سیوطی نے فرمایا یہ مرسل، حدیث ابن عباس کو تقویت پہنچاتی ہے اور اسے قسم مقبول میں داخل کرتی ہےاھ اس کے لئے بہت سے نظائرہیں ان سب کو ہم ''الہاد الکاف'' میں لائے ہیں۔
(۲؎ الموضوعات لابن الجوزی کتاب المبتداء باب التسمیۃ لمحمد دارالفکر بیروت ۱/ ۱۵۴) (۳؎ اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ کتاب المبتداء دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۲)
اما حدیث الشفاء بنت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت دخل علیّ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وانا عند حفصۃ فقال لی الا تعلیمین ھذہ رقیۃ النملۃ کما علمتیھا الکتابۃ رواہ ابوداؤد۱؎ فقال (حدثنا ابراھیم بن مھدی المصیصی) وثقہ ابوحاتم وقال العقیلی حدث بمناکیر واسند عن یحٰیی بن معین قال ابراھیم بن مھدی جاء بمناکیز قال فی التقریب مقبول وھی درجۃ قاصرۃ عمن یقال فیہ صدوق سیئ الحفظ اویھم اویخطی اوتغیر بآخرہ (ناعلی بن مسھر) ثقۃ لہ غرائب بعد مااضر (عن عبدالعزیز بن عمربن عبدالعزیز) صدوق یخطی ضعفہ ابومسھر وحدہ (عن صالح بن کیسان) ثقۃ ثت فقیہ (عن ابی بکر بن سلیمٰن بن ابی حثمۃ ثقۃ (عن الشفاء) رضی اﷲ تعالٰی عنھا فالحدیث لاینزل عن الصالح وھو قضیۃ سکوت فھذا قدیقال انہ یفھم من ظاھرہ الجواز لکنارأینا العلماء لایمشون علیہ، فمنھم من یقول انما ھو تعریض من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بحفصۃ قررہ الذکی المغربی واستحسنہ الحافظ ابوموسٰی جدا وقال التاویل ماذھب الیہ الامام التورپشتی الحنفی فی شرح المصابیح ونقلہ عنہ العلامۃ الطیبی الشافعی فی شرح المشکٰوۃ مقرا علیہ وعنہ الفتی فی مجمع البحار ونقل مثلہ الامام السیوطی فی مرقاۃ الصعود عن النھایۃ مقتصرا علیہ،
رہی حدیث شفاء دختر عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہا، اس نے کہا میرے پاس حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میں سیّدہ حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا بیٹھی ہوئی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تو اسے لکھناسکھانے کی طرح پھنسی کا دم نہیں سکھاتی۔ امام ابوداؤد نے اس کو روایت کیاہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا ہم سے ابراہیم بن مہدی مصیصی نے بیان کیا، ابوحاتم نے اس کی توثیق کی۔ عقیلی نے کہایہ منکرروایات بیان کرتاہے اور یحیٰی بن معین سے سندلایا اس نے کہا ابراہیم بن مہدی منکر حدیثیں لایا۔ تقریب میں کہاگیا وہ مقبول ہے او ریہ کم درجہ ہے اس سے کہ جس کے بارے میں کہاجائے صدوق سییئ الحفظ الخ یعنی وہ سچاہے البتہ اس کا حافظہ خراب ہے یا و وہم کرتاہے یا غلطیاں کرتاہے یا آخر عمرمیں اس میں تبدیلی آگئی تھی۔ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا کہ وہ ثقہ ہے البتہ اس کے لئے کچھ غرائب ہیں اس کے بعد کہ وہ نابینا ہوگیاتھا اس نے عبدالعزیز بن عمربن عبدالعزیز سے روایت کی، وہ سچاہے البتہ غلطی کرجاتاہے صرف ابومسہر نے اسے ضعیف قراردیاہے، اس نے صالح بن کیسہان سے روایت کی وہ ثقہ ثبت اور فقیہ ہے اس نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کی۔ وہ ثقہ ہے اس نے سیدہ شفاء رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی۔ پس حدیث صالح سے نیچے نہیں اترتی اور وہ قضیہ سکوت ہے کبھی کہاجاتاہے کہ اس سے بظاہر جوازسمجھاجاتاہے لیکن ہم نے علماء کرام کودیکھا کہ وہ اس روش پر نہیں چلتے لہٰذا ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سیدہ حفصہ پرتعریض ہے، چنانچہ ذکی مغربی نے اس کو برقرار رکھاہے اور حافظ ابوموسٰی نے یقینا اس کو مستحسن سمجھا اور کہا کہ اس کی تاویل وہ ہے جس کی طرف امام تورپشتی حنفی شرح مصابیح میں گئے ہیں اور اس کو ان سے علامہ طیبی شافعی نے شرح مشکوٰۃمیں نقل کرکے ثابت رکھاہے اور ان سے فتنی نے مجمع البحار میں نقل کیاہے اور امام سیوطی نے اسی کی مثل ''مرقاۃ الصعود'' میں نہایہ سے نقل کرکے اسی پراکتفاکیاہے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الطب باب فی الرقٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۸۶)
قال الطیبی ویحتمل الحدیث وجھین آخرین احدھما التحضیض علی تعلیم الرقیۃ وانکار الکتابۃ ای ھلا علمتھا ماینفعھا من الاجتناب عن عصیان الزوج کما علمتھا مایضرھا من الکتابۃ وثانیھما ان یتوجہ الانکار الی الجملتین جمیعا والمراد بالنملۃ المتعارف بینھم لانھا منافیۃ لحال المتوکلین۱؎ اھ وتارۃ یقولون لعل ھذا قبل النھی، ذکرہ الشیخ المحقق فی الاشعۃ واخری خصت بہ حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا لان نسائہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خصصن باشیاء قال اﷲ تعالٰی ٰینساء النبی لستن کاحد من النساء۱؎ وخبر لایعلمن الکتابۃ، یحمل علی عامۃ النساء خوف الافتتان علیھن نقل القاری فی المرقاۃ عن بعضھم وکذا الشیخ المحقق واقر علیہ و قال القاری یحتمل ان یکون جائزاللسلف دون الخلف لفساد النسوان فی ھذا الزمان۲؎اھ فدلت کلماتھم ھذہ علی انھم یکرھون الکتابۃ لھن ،
علامہ طیبی نے فرمایا حدیث مذکور دو اوروجوہات کااحتمال رکھتی ہے ان میں سے ایک رقیہ (دم کرنا) پرابھارنا اور اکسانا ہے جبکہ تعلیم کتابت کاانکارکرنا ہے یعنی کیون نہ تونے اسے وہ چیز سکھائی جو اسے فائدہ دیتی کہ وہ شوھر کی نافرمانی سے بچنے کا ذریعہ ہے، اور کتابت کیوں سکھائی جوموجب دکھ اور ضرر۔ (دوسری وجہ) یہ ہے کہ انکاردونوں جملوں کی طرف متوجہ ہے اور اس سے مراد وہ ہے جو ان کے درمیان متعارف ہے کیونکہ رقیہ وغیرہ توکل کرنے والوں کے حال کے منافی ہے اھ کبھی یہ کہتے ہیں کہ شاید (یہ اجازت) نہی سے پہلے ہو۔ چنانچہ شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں اس کا ذکرفرمایا، اور کبھی کہتے ہیں کہ (یہ اجازت) سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی خصوصیت ہے اور یہ ان کے ساتھ مختص ہے کیونکہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بعض اشیاء سے مخصوص ہیں، چنانچہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے: ''اے نبی مکرم کی بیبیو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو''۔ اور حدیث کہ ''عورتوں کولکھنا نہ سکھاؤ'' عام عورتوں پرمحمول ہوگی ان کے حق میں فتنہ کے اندیشہ سے۔ اس کو ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں بعض سے نقل کیاہے اور اسی طرح شیخ محقق نے اس کو برقرار رکھاہے۔ ملاعلی قاری نے کہا کہ یہ بھی احتمال ہے کہ سلف کیلئے جائز ہو لیکن پچھلے لوگوں کے لئے جائز نہ ہو اس لئے کہ اس زمانے میں عورتوں میں فساد پایاجاتاہے اھ پھر ان کے یہ کلمات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ عورتوں کے لئے کتابت(یعنی لکھائی کاعمل) مکروہ سمجھتے ہیں۔
(۱؎ شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۰۶) (۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۳۲) (۲؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۲۶)
والاعتراض بان کل ذٰلک خلاف الظاھر فان تحققت الامر فانہ ادخل فی المقصود فما کانوا لیغفلوا عن ذٰلک فھل تراھم عدلوا الیہ الالدعاع ماالیہ عظیم ورأیتنی کتبت علی ھامش الاشعۃ عند ذکر انھا خصوصیۃ لحفصۃ مانصہ ھذا الجواب قدابدتہ من قبل ان اراہ اقول: ومع ذٰلک لقاء ان یقول ان نفس التشبیہ لیس بنص صریح فی الجواز بخلاف، لاتعلموھن، فانہ نص فی المنع، علی انھا واقعۃ عین لاعموم لہا بخلاف النھی، علی ان حدیث الشفاء ان تقدم فمنسوخ او تاخرفلانسلم الا تخصیص حفصۃ کمارخص النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لزبیر وعبدالرحمٰن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنھما فی لبس الحریر ولنا دبۃ سعد رضی اللہ تعالٰی عنھما فی النیاحۃ بعہد مانھی عن ذٰلک فلم یکن الاتخصیص بعض بالترخیص لانسخ الحکم علی الاطلاق، علی ان المقام مقام الحتیاط فیقدم الحاظر علی انہ لوفرض عدم ورود نھی اصلالکان حال الزمان حاکما بالمنع وکم من حکم یختلف باختلاف الزمان الاتری ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذن للنساء ان یخرجن الی المساجد وقد کن یخرجن علی عھد الرسالۃ بل امر فی العیدین باخراج العواتق وذوات الخدور کما فی الصحیحین۱؎ بل قال لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ، اخرجہ احمد۲؎ ومسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما ومع ذٰلک اذا فسد الزمان نص الائمۃ بالمنع وقالت ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنھا لورای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من النساء مارأینا لمنعھن المساجدکما منعت نساء بنی اسرائیل۳؎۔
اور یہ اعتراض کہ یہ سب باتیں خلاف ظاہرہیں، اگر یہ امرثابت ہوجائے تو س کامقصود میں زیادہ دخل ہے کیونکہ وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ ان باتوں سے بے خبر ہوں، کیا تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ کیوں اس طرح مڑگئے مگر اس لئے کہ اس پر کوئی نہ کوئی بڑاداعی اور باعث ہے مجھ یاد ہے کہ میں نے اشعۃ اللمعات کے حاشیہ پر جوکچھ اس کی تصریح تھی لکھ دی اس ذکر کے ساتھ کہ کتا بت سیدہ حفصہ کی خصوصیت ہے پس جواب دیکھنے سے پہلے ہی میں نے اس کا اظہار کردیاتھا اقول: (میں کہتاہوں) اس کے باوجود کوئی کہنے والا یہ کہہ دے کہ محض تشبیہ، جواز میں کوئی صریح نص نہیں بخلاف لاتعلموھن یعنی عورتوں کوکتابت نہ سکھاؤ۔ یہ ممانعت میں واضح نص ہے۔ علاوہ اس کے یہ ایک معین واقعہ ہے جس میں کوئی عموم نہیں بخلاف حدیث نہی کے۔ علاوہ ازیں حدیث شفاء اگرمقدم ہو تومنسوخ ہے اور اگرمؤخر ہوتو پھر ہم اسے تسلیم ہی نہیں کرتے مگریہ کہ سیدہ حفصہ کی خصوصیت قراردی جائے جیسا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت زبیر اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو ریشم پہننے کی رخصت او راجازت دی تھی۔ اور حضرت سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر نوحہ اور رونے کی اجازت دی۔ اس کے بعد ان کاموں سے منع فرمادیاتا، تو پھر یہ رخصت دینے کی صورت میں بعض کی تخصیص ہوئی لہٰذا علی الاطلاق نسخ حکم نہیں علاوہ ازیں یہ مقام مقام احتیاط ہے لہٰذا مانع کو مقدم کیاجائے گا، اس کے علاوہ اگریہ فرض کرلیاجائے کہ نہی بالکل وارد نہیں ہوئی توپھر بھی حال زمانہ منع کے لئے حاکم، (یعنی حالات زمانہ میں ممانعت کے لئے کافی ہیں) بارہااختلاف زمانہ سے حکم بدل جاتاہے کیاتم نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عورتوں کومساجد میں جانے کی اجازت دی تھی اور وہ زمانہ رسالتمآب میں مساجد میں جایاکرتی تھیں بلہ عیدین (چھوٹی، بڑی عید) میں پردہ نشین خوادین کو بھی آپ نے عیدگاہ میں جانے کاحکم صادرفرمارکھاتھا جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایات میں موجود ہے بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ باندیوں کو اﷲ تعالٰی کے گھروں (مساجد) میں جانے سے مت روکو۔ امام احمد اور امام مسلم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کی تخریج فرمائی۔ پس اس کے باوجود جونہی حالت زمانہ خراب وفاسد ہوگئے تو ائمہ کرام نے صراحتاً عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے روک دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے ارشاد فرمایا اگرآنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عورتوں کے آج کے حالات دیکھتے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں تو انہیں مسجدوں میں جانے سے روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب العیدین باب اذلم یکن لہا جلباب فی العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۴) (صحیح مسلم کتاب العیدین فصل فی اخراج العواتق وذوات الحدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۰) (۲؎ صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳) (مسند احمدبن حنبل عن ابن عمر الکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۶ و ۱۵۱) (۳؎ صحیح البخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰) (صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳)