| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
والثالث درجت الامۃ المرحومۃ علی العمل بہ من لدن السلف وھلم جراوفی ھذا من تقویۃ الحدیث مافیہ کما بیّناہ فی الافادۃ فی ''الھاد الکاف فی حکم الضعاف'' وقال الامام خاتم الحفاظ فی التعقبات قدصرح غیر واحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العم بہ وان لم یکن لہ سندا یعتمد علی مثلہ۳؎اھ۔
تیسری بات امت مرحومہ اس حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے اور یہ زمانہ سلف سے قرناً فقرناً ہمیشہ سے چلاآرہاہے۔ اس میں حدیث کے اندر جو کچھ ہے اس کی تقویت ہے جیسا کہ ہم نے الھاد الکاف فی حکم الضعاف کے افادہ میں بیان کیاہے، چنانچہ امام خاتم الحفاظ نے التعقبات میں فرمایا۔ بہت سے ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اہل علم اس کو نقل کریں اگرچہ اس کی کوئی ایسی سند نہ ہو جس کی مثل پراعتماد کیاجائےاھ۔
(۳؎ التعقبات علی الموضوعات باب الصلٰوۃ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص۱۲)
وستأتیک اقوال العلماء ، وجہ اللکھنوی ان یستخرج نساء کاتبات فلم یأت فی ھذہ الالف وثلثمائۃ سنین، الاتسع نسوۃ، منھن السیدۃ اسماء بنت الفقیہ کمال الدین موسٰی بمدینۃ زبیہ فوفیت سنہ ۹۰۴ قال فی ''النورالسافر فی اخبار القرن العاشر'' کان لقولھا وقع فی القلوب وربما کتبت الشفاعات الی السطان والقاضی و الامیر فتقبل شفاعتھا۱؎ اھ ولیس فیہ مایغنی بمقصودہ فمثل الکتابۃ لایلزم ان تکون بید نفسھا، وقدوردفی الاحادیث کتب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الملوک وغیرھم، و قد شاع وذاع ان السلطان کتب لفلان کذا مع انہ لایعرف ان یضع سوادافی بیاض ومنھم من لم یعرف الا وضع اسمہ فی الامضاء ولم یذکر نص ''نزھۃ الجلساء'' فی ترجمۃ المستکفی باﷲ، ومریم بنت ابی یعقوب انما قال ذکر الکتابۃ فی ترجمتھا فلعلہ ذکر کما فی اسماء الزبیدیۃ فلم تسلم لہ الاست ولوشاء ان یُحصی الکاتبین من الرجال فی قرن بل یوم واحد مااستطاع فھذا دلیل ای دلیل علی تحرز الامۃ من تعلیمھن الکتابۃ مع مافیھا من جلیل الانتفاع۔
عنقریب اقوالِ علماء تیرے ہاں پیش ہوں گے، لکھنوی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لکھنے والی عورتوں کا استخراج کیا توتیرہ سوسال کی مدت میں نوعورتیں بھی منظرعام پر نہ آئیں، ان میں سیّدہ اسماء دخترکمال الدین موسٰی مدینہ زبید میں ہوئیں ان کی وفات ۹۰۴ھ میں ہوئی۔ النور السافر فی اخبر القرن العاشر میں کہاگیا کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے قول کی وقعت تھی بعض دفعہ وہ بادشاہ، امیر یاقاضی کے دربار میں کئی سفارشیں بصورت درخواست پیش کرتیں تو اس کی سفارشیں قبول کی جاتی تھیں اھ اس میں مقصود تک رسائی والی کوئی شے نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ کتابت انہی کے ہاتھ سے ہو اس لئے کہ بہت سی حدیثوں میں وارد ہواہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بادشاہوں وغیرہ کو خطوط لکھے، اور مشہور ہے کہ بادشاہ نے فلاں کے لئے اس قدرانعام لکھ دیا جبکہ بادشاہ کچھ وہ ہیں جو لکھنا بالکل نہیں جانتے اور کچھ وہ جو صرف اپنا دستخط کرسکتے ہیں یعنی صرف اپنانام لکھ سکتے ہیں اور نزہۃ الجلساء کی تصریح مستکفی باﷲ کے ترجمہ میں ذکر نہ کی، اور مریم بنت یعقوب، اس نے کہا اس کے ترجمہ میں کتابت ذکر کی گئی ہے، شاید اسی طرح مذکور ہوجیسا کہ اسماء زبیدیہ کے ترجمہ میں مذکورہے پھر اس کے لئے صرف چھ عورتیں ہی بچیں۔ اور اگر وہ لکھنے والے مردوں کا ایک صدی بلکہ ایک دن کاشمارکرنا چاہے تو نہ کرسکے۔ اور یہ دلیل ہے اور مزید کونسی دلیل ہو اس پر کہ امت مسلمہ میں عورتوں کی تعلیم کتابت سے احتراز اور پرہیز کیاجاتاتھا باوجودیکہ تحرز میں بڑافائدہ ہے۔
(۱؎ النورالسافرفی اخبار القرن العاشر )
والرابع ان الحدیث الضعیف یعمل بہ فی مقام الاحتیاط ویشھد لہ الحدیث الصحیح ''کیف وقدقیل'' وغیرذٰلک، مما بسطناہ فی رسالتنا ''الھاد الکاف فی حکم الضعاف'' وقال الامام الجلیل الجلال السیوطی فی ''التدریب'' یعمل بالضعیف ایضا فی الاحکام اذا کان فیہ احتیاط۱؎ اھ
چوتھی بات حدیث ضعیف پرمقام احتیاط میں عمل کیاجاسکتاہے جبکہ کوئی حدیث صحیح اس کی شہادت دے ''کیسے، حالانکہ یہ بھی کہاگیا'' اور اس کے علاوہ بھی متعدد باتیں کہی گئیں جن کو ہم اپنے رسالہ ''الہاد الکاف فی حکم الضعاف'' میں کھول کر شرح وبسط سے بیان کیاہے امام جلیل القدر جلال الدین سیوطی نے التدریب میں فرمایا حدیث ضعیف پراحکام میں بھی عمل کیاجاسکتاہے جبکہ اس میں احتیاط ہو اھ۔
(۱؎ تدریب الراوی شرح تقریب النووی النوع الثالث والعشرون الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۳)
فی اذکار الامام النووی و فتح المغیث وسیم الریاض، الاحکام لایعمل فیھا الابالحدیث الصحیح و الحسن الا ان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذٰلک ۲؎ اھ باختصار، وقال العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیہ، الوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلوات لماروی الترمذی عن جابررضی اﷲ تعالٰی عنہ وھو وان کان ضعیفا لکن یجوز العمل بہ فی مثل ھذا الحکم۱؎ اھ مختصرا،
امام نووی کی الاذکار اور فتح المغیث اور نسیم الریاض میں ہے کہ احکام میں حدیث صحیح او حسن کے بغیر عمل نہیں کیاجاسکتا الاّ یہ کہ اس کے عمل کے سلسلہ میں مقام احتیاط ملحوظ ہو، اھ باختصار، چنانچہ علامہ ابراہیم حلبی نے الغنیہ میں فرمایا ہرنماز میں اذان او راقامت کے درمیان وصل مکروہ ہے، اس کی وجہ جامع ترمذی کی وہ حدیث ہے جو حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے مروی ہے اگرچہ وہ حدیث ضعیف ہے تاہم اس قسم کے حکم میں اس پرعمل کرناجائزہے اھ مختصراً،
(۲؎ الاذکار للنووی فصل فی الامر الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷ ، ۸) (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی سنن الصلٰوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۷۔۳۷۶)