Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
160 - 190
والکلام فی الرجال لایجوز الابعد تمام المعرفۃ وتام الورع، وقال فی ترجمۃ عبدالعزیز بما ابی وقال ابن حبان روی عن نافع عن ابن عمر نسخۃ موضوعۃ، ھکذا قال ابن حبان ۱؎ بغیر بینۃ، وقال فی ترجمۃ محمد بن الفضل شیخ البخاری، ابن حبان الخساف المتھور۲؎ وقال فی ترجمۃ حجاج بن ارطاۃ کذا قال ابن حبان ھذا القول مجازفۃ۳؎ فھذا قال فیہ لاتحل الروایۃ عنہ الاباعتبار کان یضع الحدیث،
اور اسماء الرجال میں کلام کرنا جائزنہیں سوائے اس شخص کے جو مکمل معرفت اور تام ورع رکھتاہو عبدالعزیز بن ابی کے ترجمہ میں کہا ابن حبان نے کہا نافع سے بواسطہ ابن عمر ایک موضوع نسخہ روایت کیاگیاہے، ابن حبان نے یہ بغیر دلیل کے بیان کردیا۔ علامہ ذہبی نے محمد بن فضل شیخ بخاری کے ترجمہ میں کہا ابن حبان مشہور فضول گوہے اور ذہبی نے حجاج بن ارطاۃ کے ترجمہ میں کہا یوں ابن حبان نے کہا، یہ قول تخمینی ہے۔ تو یہ ابن حبان، محمد بن ابراہیم کے متعلق کہتاہے کہ اس سے روایت کرنا سوائے فہم واعتبار کے حلال نہیں کیونکہ وہ حدیثیں وضع کرتاہے۔
 (۱؎ میزان الاعتدال     ترجمۃ  ۵۱۰۱    عبدالعزیز بن ابی         دارالمعرفۃ بیروت     ۲/ ۶۲۸)

(۲؎میزان الاعتدال     ترجمۃ  ۸۰۵۷    محمدبن الفضل شیخ البخاری     دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۸)

(۳؎میزان الاعتدال     ترجمۃ ۱۷۲۶     حجاج بن ارطاۃ     دارالمعرفۃ بیروت     ۱/ ۴۶۰)
اقول: مااظھر الاکرامۃ من اﷲ تعالٰی لمحمد بن ابراھیم، حیث ناقض ابن حبان نفسہ فی نفس واح فجعلہ وضّاعا و جعلہ ممن یکتب حدیثہ و یعتبر بہ وسبحٰن اﷲ من وضّاع یعتبر بحدیثہ وقدا فحش القول ھکذا فی محمد بن علاقۃ فقال کان یروی الموضوعات عن الثقات لایحل ذکرہ الا علی جھۃ القدح فیہ فاولہ وان کان اھون مما قال فی محمد فاٰخرہ وھ الحکم اشد وقال وقال الحاکم یروی احادیچ موضوعۃ ذاھب الحدیث وقال الدار قطنی متروک و قال البخاری فی حدیثہ نظروھو لایقول ھذا الا فیمن یتھمہ غالبا، کما قال الازدی فی عبداﷲ بن داؤد التمار، و قال الازدی حدیثہ یدل علی کذبہ وکل ذلک لم یؤثر فیہ، فاقتصر الحافظ فی التقریب علی قولہ صدوق یخطی وذٰلک لان ابن معین وثقہ فکیف تؤثر فی رجل معدود من اولیاء اﷲ تعالٰی فالحدیث حسن ان شاء اﷲ تعالٰی ھذا وجہ وانعم بہ من وجہ ،
اقول: (میں کہتاہوں) اس نے اس کا اظہار نہیں کیامگریہ کہ اﷲ تعالٰی کی طرف سے محمد بن ابراہیم کی کرامت ہے کہ ابن حبان نے نفس واحد میں اپنے آپ سے مناقضہ اور مقابلہ کیاکہ اسے وضّاع (حدیثیں گھڑنے والا) بھی قراردیا اور اسے ان لوگوں میں بھی شامل کیا کہ جن کی حدیثیں لکھی جاتی ہیں اور ان پر اعتماد کیاجاتاہے۔ پاک ہے اﷲ تعالٰی۔ کون ایسا وضّاع ہوگا جس کی حدیثوں پراعتماد کیاجائے اور اسی طرح ابن حبان نے فحش گوئی سے کام لیا کہ محمد بن علاقہ کے بارے میں کہا کہ وہ مستند راویوں سے موضوعات روایت کرتاہے لہٰذا بغیر جرح وقدح کے اس کاتذکرہ کرناجائزنہیں۔ اس کا اول اگرچہ اس کے آخر سے آسان ہے جوکچھ اس نے ''محمد'' کے بارے میں کہاتاہم آخر جوکہ حکم ہے زیادہ سخت ہے۔ اس نے کہا حاکم نے کہا کہ وہ موضوع حدیثیں روایت کرتاہے (ذاھب الحدیث) ہے امام دارقطنی نے کہامتروک ہے۔ امام بخاری نے کہا اس کی حدیث میں نظرہے اور وہ یہ بات اسی کے متعلق کہتاہے جو غالباً متہم ہو، جیسا کہ ازدی نے عبداﷲ بن داؤدتمار کے بارے میں کہا ہے ازدی نے کہا اس کی حدیث اس کے جھوٹ پردلالت کرتی ہے او ر ان تمام باتوں نے اس پرکوئی اثرنہیں کیا۔ لہٰذا حافظ نے التقریب میں اپنے اس قول ''صدوق یخطی (سچاہے، غلطی کرتاہے) پر اکتفاکیاہے کیونکہ ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے  پھر یہ باتیں کیسے اثرانداز ہوسکتی ہیں اس شخص پر جو اولیاء اﷲ میں شمارہوتاہو لہٰذا حدیث انشاء اﷲ حسن ہے اور یہ ایک وجہ ہے اور کتنی اچھی وجہ ہے۔
والثانی ان الحدیث جاء عن ثلٰثۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم بطرق متنوعۃ فنیجبر ضعف بعضھا ببعض اذلیس فیھا وضّاع ولاکذاب اعنی من تحقق فی ذٰلک، وقد بیّناہ فی کتابنا ''منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین'' من الفائدۃ۱۲ الٰی فائدۃ ۱۴ وقال الامام الجلیل السیوطی فی التعقبات علی الموضوعات المتروک والمنکر اذا تعددت طرقہ ارتقی الی درجۃ الضعیف الغریب بل ربما یرتقی الی الحسن۱؎ اھ وقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر الضعیف یصیر حجۃ بذٰلک لان تعددہ قرینۃ علٰی ثبوتہ فی نفس الامر۲؎ اھ۔
دوسری بات حدیث تین صحابہ سے مختلف طریقوں سے مروی ہے (اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) لہٰذا بعض کا ضعف بعض سے دورہوجاتاہے کیونکہ اس میں وضّاع کوئی نہیں اور نہ ہی کذاب ہے اور ہم نے اس کو اپنی کتاب منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین انگوٹھے چومنے سے آنکھوں کاروشن ہوتا) کے فائدہ ۱۲ سے ۱۴ تک بیان کیاہے چنانچہ جلیل القدر امام علامہ سیوطی نے التعقبات علی الموضوعات میں فرمایا حدیث متروک اور منکر اس صورت میں ضعیف اور غریب کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ اس کے طرق یعنی سندیں متعدد ہوں، بلکہ بعض اوقات درجہ حسن تک اس کا ارتفاع ہوجاتاہے یاارتقاء ہوجاتاہےاھ محقق علی الاطلاق کمال ابن ہمام نے فتح القدیر میں فرمایا حدیث ضعیف تعدّدِطرق کی وجہ سے حجت ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے طرق کا تعدّد اس کے نفس الامری ثبوت پرقرینہ ہےاھ۔
 (۱؎ التعقبات علی الموضوعات     باب المناقب     المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل     ص۵۷)

(۲؎ فتح القدیر    کتاب الصلٰوۃ     باب النوافل     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱/ ۳۸۹)
Flag Counter