| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اما الحدیث الاول ففیہ شعیب ومن فوقہ ائمۃ اجلاَّء لایسأل عنھم وانما النظر فی محمد بن ابراھیم۔ اقول: ادخلہ ابونُعَیم فی حلیۃ الاولیاء وقد وصفہ المزنی والذھبی والعسقلانی بالزاھد وھم یصفون بہ الاولیاء کما عرف من محاورتھم حتی اقتصر علیہ الذھبی فی وصف سیّدالاقطاب الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، فھذا توثیق لہ وای توثیق وماللولی والکذب حاشاھم ولیس فیہ بعد ذٰلک جرح مفسر، حتی قول الدار قطنی کذاب، وتحامل القوم علی الصوفیۃ الکرام و الحنفیۃ العظام معروف، و قال الامام النووی فی التقریب لایقبل الجرح الا مبین السبب۱؎،
جہاں تک پہلی حدیث کا تعلق ہے تو اس میں شعیب اور اس سے اوپرجلیل القدرائمہ ہیں جن کے متعلق کوئی شبہ یا اعتراض نہیں کیاجاسکتا۔ البتہ محمد بن ابراہیم کے بارے میں کچھ توقف پایاجاتاہے۔ اقول (میں کہتاہوں کہ محدث ابونعیم نے اسے حلیۃ الاولیاء میں شمارکیاہے۔ مزنی، ذہبی اور عسقلانی نے لقب ''زاہد'' سے اس کی توصیف کی ہے جبکہ اس لفظ کو وہ اولیاء اﷲ کی تعریف وتوصیف ہی کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ان کے محاوروں سے معلوم ہوتاہے حتی کہ علامہ ذہبی نے سیدالاقطاب حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے متعلق بھی یہی الفاظ استعمال کرنے پر اکتفاکیا ہے لہٰذا اس کی توثیق ہوئی پس اس سے بڑھ کر اور کون سی توثیق ہوسکتی ہے، ولی اور جھوٹ کا باہم کیاجوڑ اور رابطہ ہے اور اﷲ تعالٰی نے تو انہیں اس سے محفوظ رکھا اور اس کے بعد اس بارے میں کوئی مفصل جرح نہیں حتی کہ امام دارقطنی کاکذاب کہنا بھی اور صوفیائے کرام اور حنفیہ عظام پرلوگوں کا حملہ آورہونا تومشہور ومعروف ہے امام نووی نے التقریب میں فرمایاواضح سبب کے بغیر، جرح مقبول نہیں۔
(۱؎ تقریب النواوی مع تدریب الراوی النوع الثالث والعشرون قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۸)
قال الامام السیوطی فی التدریب لان الناس مختلفون فی اسباب الجرح فیطلق احدھم الجرح بناء علی ماعتقدہ جرحا ولیس بجرح فی نفس الامر، قال ابن الصلاح وھذا ظاھر مقرر فی الفقہ واصولہ وذکرالخطیب انہ مذھب الائمۃ من حفاظ الحدیث کالشیخین وغیرھما ثم ذکر امثلتہ الی ان قال قال الصیر فی وکذا اذا قالوا فلان کذاب لابد من بیانہ لان الکذب یحتمل الغلط کقولہ کذب ابومحمد۱؎اھ وکتبت علیہ وکذٰلک قول ابن مسعود وحذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنھما فی دوران السماء کذب کعب، وقد شبہ ھشام بن عروۃ ومالک واجلۃ علی محمد بن اسحٰق انہ کذاب، وحافوا علیہ ثم لم یذکروا الامالایثبت بہ کذب ولاالمرام بہ اصلا، ویرد لابن اسحٰق الوثاقۃ لاجرم ان لم یعرج علیہ الحافظ فی التقریب۔ وانضر فی محمد بن ابراھیم علٰی قولہ، منکر الحدیث وکذٰلک لم یزد البیھقی فی حدیثہ علی استنکارہ بھذا السند،
امام سیوطی نے التہذیب میں فرمایا لوگ اسباب جرح میں مختلف ہیں چنانچہ ایک شخص اپنے اعتقاد کے مطابق کسی شے پر جرح کااطلاق کرتاہے حالانکہ فی الواقع وہ جرح نہیں ہوتی۔ ابن الصلاح نے کہا کہ یہی فقہ اور اصول فقہ میں ظاہرومقررہے،اور خطیب نے ذکرکیا ہے کہ یہی مذہب ائمہ حفاظ حدیث جیسے بخاری، مسلم اور ان کے علاوہ دیگرائمہ کا ہے پھر اس کے بعد مثالیں ذکرفرمائیں یہاں تک کہ فرمایا امام صیرفی نے کہا۔ اس طرح جب محدثین کہیں کہ فلان کذاب (فلاں جھوٹا ہے) تو اس کا بیان کرنا ضروری ہے کیونکہ کذب (جھوٹ) غلطی کا بھی احتمال رکھتاہے (یعنی شاید اس کی مراد کذاب اور کذب سے غلطی ہو یعنی وہ بہت غلط گوہے) جیساکہ قائل کا کہنا کہ ابومحمد نے جھوٹ کہا اھ اور میں نے اس پرلکھاہے یونہی ابن مسعود اور حذیفہ یمان رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا دورانِ آسمان کے متعلق کعب کے بارے میں فرمانا کذب کعب یعنی کعب نے غلط کہا اور یہ مطلب نہیں کہ اس نے جھوٹ کہا، چنانچہ ہشام بن عروہ، مالک اور دوسرے جلیل القدر لوگوں نے محمد بن اسحق کے کذاب ہونے پر شبہ کا اظہار فرمایا لیکن انہوں نے اس پر زیادتی کی۔ پھر انہوں نے ایسے امور ذکرکئے جن سے اس کا کذب ثابت نہیں ہوتا اور نہ اس سے کلیۃً مقصد حاصل ہوتاہے۔ اور ابن اسحق کے لئے بلاشبہ توثیق وارد ہوئی ہے اگرچہ حافظ نے التقریب میں اس کی موافقت نہیں کی۔ اور محمد بن ابراہیم کے بارے میں توقف اس کے اس قول سے کہ وہ منکرالحدیث ہے اور اسی طرح امام بیہقی نے اس سند سے اس کی حدیث میں صرف استنکار کااضافہ کیاہے۔
(۱؎ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی النوع الثالث والعشرون قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۹ ۔ ۲۵۸)
اقول : والرجل اعنی محمد بن ابراھیم من المشائخین کما فی المیزان وغیرہ، الجمع السائح من شتّات العلوم مالیس عندالاٰخرین، ومن عادتھم استنکار مالایعرفون فیذکرون عندھم ان مدار حدیث علٰی فلان ثم سمعوامن یرویہ عن غیرہ انکروہ فاذا تکرر ذٰلک منہ قالوا مثل الحدیث و ربما تعدوا الٰی الحکم بالکذب وماھو الا القضاء بالنفی علی الاثبات والصواب علیہ واﷲ تعالٰی اعلم، لم یجتمع کل العلم فی احد بعد نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھذا جھل الحفظ البخاری ھو وغیرہ من الحفاظ کان عندھم ان حدیث المؤمن یاکل فی معا واحدلم یروہ عن ابی اسامۃ غیر ابی کریب ورواہ الترمذی من اربعۃ فقال حدثنا بہ ابی کریب وابوھشام وابوالسائب وحسین بن الاسود عن ابی اسامۃ قال ثم سألتہ محمود ابن غیلان عنہ فقال ھذا احدیث ابی کریب فسألت البخاری فقال لم نعرفہ الا من حدیث ابی کریب فقلت حدیث ابی کریب، ومن قبل ھذا اتی الامام الثقۃ الواقدی فانہ روی حدیث ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا افعمیا وان انتما، عن معمر عن الزھری وماکان الحدیث عندھم الاعن یونس عن الزھری فقامت علیہ القیامۃ من کل جانب حتی قال ذٰلک الجبل الشامخ امام السنۃ احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ، لم یزل یدافع اﷲ الواقدی حتی روی عن معمر عن الزھری عن نبھان عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا افعمیاوان انتما، فجاء بشیئ لاحیلہ فیہ الحدیث حدیث یونس لم یروہ غیرہ ۱؎ اھ وجعلہ ھوالمفسد لامرالواقدی وفعلہ داء لادوالہ ، ولما اراد علی بن المدینی ان یسمع من الواقدی کتب الیہ احمد کیف تستحل ان تکتب عن رجل روی عن معمر حدیث نبھان و ھذا حدیث یونس تفرد بہ۱؎ اھ، مع ان الحدیث رواہ عن ابن شھاب ثلٰثۃ، یونس کما عرفوا ومعمر کما روی الواقدی وثالثھم عقیل قال احمد بن منصور الرمادی (وھو ثقۃ حافظ حجۃ) لما قدمت مصر حدثنا ابن ابی مریم ثقۃ ثبت فقیہ) انا نافع بن یزید (ثقۃ عابد) عن عقیل عن ابن شہاب فذکر حدیث بنھان قال فلما فرغ منہ ضحکت فقال لم تضحک فاخبرتہ بقصۃ علی واحمد، قال وقال ابن ابی مریم ان شیوخنا المصریین لھم عنایۃ بحدیث الزھری قال الرمادی وھذا الحدیث فیما ظُلِم فیہ الواقدی، بلی ذکر محمد بن ابراھیم، ابن حبان الذی قال فیہ الذھبی فی ترجمۃ عثمان الطرائفی اما ابن حبان فانہ یقعقع کعادتہ۲؎۔
میں کہتاہوں محمد بن ابراہیم مشائخ میں سے ہے جیسا کہ المیزان وغیرہ میں ہے، وہ اس قدر جامع ہے کہ جو علوم دوسروں کے پاس نہیں وہ ان مختلف علوم میں سیاحت کرنے والا ہے اور ان کی عادت یہ ہے کہ جس چیز کو وہ نہ جانیں یا نہ پہچانیں تو اس کا انکارکردیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے ہاں ذکرکرتے ہیں کہ حدیث کا مدار ''فلاں'' پرہے پھر جیسے ہی یہ سنیں کہ راوی کسی دوسرے سے روایت کررہاہے تو اس کا انکار کردیتے ہیں اور پھر جب اس سے یہ مکرر ہوتو کہتے ہیں مثل الحدیث (یعنی یہ اس حدیث کی مثل ہے) اور بعض اوقات جھوٹ اور قضا نفی علی الاثبات کی طرف تجاوز کرتے ہیں اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے کہ اس بارے میں ثواب یہ ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد تمام علوم کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوسکتے یہی وہ بات ہے جس کو امام بخاری وغیرہ حفاظ حدیث نہیں سمجھ پائے، ان کے نزدیک یہ حدیث کہ ''مومن ایک آنت میں کھاتاہے'' کو ابوکریب کے بغیر ابواسامہ سے کسی اور نے روایت نہیں کیا حالانکہ امام ترمذی نے اسے چار اشخاص سے روایت کیاہے چنانچہ امام ترمذی فرماتے ہیں ہم سے ابوکریب، ابوہشام، ابوالسائب اور حسین ابن اسود سے ابواسامہ کے حوالے سے بیان کیا۔ ترمذی کہتے ہیں پھر میں نے اس کے متعلق محمود ابن غیلان سے پوچھا تو اس نے کہا یہ ابوکریب کی حدیث ہے پھر میں نے امام بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کو حدیث ابوکریب کے سوا نہیں پہچانتے۔ میں نے کہا حدیث ابوکریب؟ اوریونہی امام ثقہ واقدی پر یہی کچھ ہوا کیونکہ واقدی نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی ہے جس کے بعض الفاظ یہ ہیں: ''کیا تم دونوں اندھی ہوگئی ہو'' انہوں نے یہ حدیث معمر سے بواسطہ زہری روایت کی ہے جبکہ ان کے نزدیک یہ حدیث یونس سے بواسطہ زہری مروی ہے، پھر اس لئے اس (یعنی واقدی) پر ہرطرف سے قیامت قائم کی گئی یہاں تک کہ علم وعمل کے کوہِ گراں امام السنۃ احمد بن حنبل جیسی شخصیت نے فرمایا کہ ہمیشہ اﷲ تعالٰی واقدی کا دفاع کرتارہایہاں تک کہ اس نے معمر بواسطہ زھری اور نبہان کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے یہ حدیث روایت کی کہ ''کیا تم دونوں اندھی ہوگئی ہو'' گویا وہ ایسی شے لایا جس کے حل کی کوئی تدبیر نہیں کیونکہ صرف یونس کی حدیث ہے اس کے سوا کسی اور نے روایت نہیں کی اھ پھر یہی چیز واقدی کے بگاڑ کا ذریعہ بن گئی۔ اور یہ بیماری ہے جس کے لئے کوئی دوانہیں۔ جب علی بن مدینی نے واقدی سے کچھ سننے کاارادہ کیا تو امام احمد نے انہیں لکھا کہ یہ کیسے جائز ہوسکتاہے کہ آپ ایسے شخص سے حدیث لکھیں جو معمر سے ''حدیث نبہان'' روایت کرتاہے حالانکہ یہ حدیث یونس ہے جس میں وہ متفرد ہےاھ حالانکہ اس حدیث کو ابن شہاب زہری سے تین افراد نے روایت کیاہے (۱) یونس جیسا کہ معروف ہے(۲) معمر جیسا کہ واقدی نے روایت کی(۳) عقیل۔ چنانچہ احمدبن منصور رمادی نے کہا وہ یعنی عقیل ثقہ حافظ اور حجت ہے۔ جب میں مصر میں آیا تو ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا (یہ ثقہ، ثبت اور فقیہ ہے) ہمیں نافع بن یزید نے بتایا(یہ بھی ثقہ اور عابد ہے) اس نے عقیل، اس نے ابن شہاب زہری کے حوالے سے روایت کی پھر اس نے حدیث نبہان بیان کی۔ راوی یعنی احمد منصور رمادی نے کہا جب وہ اس کے ذکر کرنے سے فارغ ہواتو میں ہنس پڑا تو اس نے کہا ہنستے کیوں ہو؟ تومیں نے اسے علی بن مدینی اور امام احمد کاواقعہ بتایا تو ابن ابی مریم نے کہا ہمارے مصری شیوخ کے لئے حدیث زہری عنایت ہے، رمادی نے کہا اس حدیث میں واقدی پر ظلم کیاگیا، ہاں ابن حبان نے محمد بن ابراہیم کا ذکرکیاہے ابن حبان وہی ہے جس کے بارے میں عثمان طرائفی کے ترجمہ میں علامہ ذہبی نے فرمایا لیکن ابن حبان تو وہ ویسے ہی کھٹ کھٹ کرتاہے جیسا کہ اس کی عادت ہے۔
(۱؎ ) (۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۵۵۳۲ عثمان بن ابراہیم دارالمعرفۃ ۳/ ۴۵)