Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
158 - 190
حدیث دوم :  امام ترمذی، محمدبن علی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتسکنوا نساء کم الغرف ولاتعلمون الکتاب۴؎۔
اپنی عورتوں کو بالاخانوں پر نہ بساؤ اور انہیں لکھنانہ سکھاؤ۔ یہ حدیث امام ابن حجرمکی نے فتاوٰی حدیثیہ میں استناداً ذکرکی۔
 (۴؎ نوادر الاصول للترمذی    لاصل الخامس والعشرون والمائتان فی النہی الخ         دارصادربیروت ص۷۱۔۲۷۰)
حدیث سوم :  ابن عدی کامل میں اور ابن حبان، سند معتمد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال حدثنا جعفر بن سھل ثنا جعفر بن نصرثنا حفص بن غیاث عن لیث عن مجاھد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتعلموا نسائکم الکتابۃ ولاتسکنوھن العلالی۔۱؎
 (دونوں (یعنی ابن عدی اور ابن حبان) نے جعفر بن سہل سے (اس نے کہا) جعفر بن نصرنے ہم سے بیان کیا(اس نے کہا) حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا اس نے لیث، اس نے مجاہد، اس نے عبداﷲ ابن عباس سے اور انہوں نے حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی ہے۔ت) یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ اور بالائی منزلوں پرنہ بساؤ۔
 (۱؎ الکامل لابن عدی   ترجمہ جعفربن نصر     دارالفکر بیروت     ۳/ ۵۷۵)

(اللآلی المصنوعۃ     بحوالہ ابن حبان     کتاب النکاح     دارالمعرفۃبیروت     ۲/ ۱۶۸)
یہ حدیث بتخریج ابن عدی امام حافظ سیوطی نے الاجرالجزل فی الغزل میں ذکرکی :
وقال ابن الجوزی لایصح، جعفر بن نصر حدث عن الثقات بالبواطیل۲؎ اھ وقال الحافظ ابن حجر فی الاطراف بعد ذکرالحدیث الاول وقدروی من طریق حفص القاری عن لیث عن مجاھد من ابن عباس رضی اﷲ عنہما۳؎ اھ اقول: الظاھر ان ھذہ متابعۃ لحفص بن غیاث فان حفصا القاری امام القراءۃ حفص بن سلیمٰن ابی داؤد و ھذا مصرح بہ عند مخرجیہ، حفص بن غیاث، وھو امام فی الحدیث ثقۃ فقیہ من رجال الستۃ،
حافظ ابن جوزی نے کہا حدیث مذکورصحیح نہیں اس لئے کہ جعفربن نصرثقہ راویوں سے باطل روایات نقل کرتاہےاھ۔ حافظ ابن حجر نے ''الاطراف'' میں پہلی حدیث ذکرکرنے کے بعد فرمایا : حفص قاری، لیث ، مجاہد اور ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے حدیث روایت کی گئی اھ۔ اقول (میں کہتاہوں) ظاہر ہے کہ یہ حفص بن غیاث کی متابعت ہے کیونکہ حفص قاری، حفص بن سلیمان ابوداؤد قرأت کے امام ہیں، تخریج کرنے والوں کے نزدیک اس کی تصریح پائی گئی۔ حفص بن غیاث حدیث کے امام، ثقہ، فقیہ اور حدیث کی چھ کتابوں کے رواۃ میں سے ہیں۔
 (۲؎اللآلی المصنوعۃ     بحوالہ ابن حبان     کتاب النکاح     دارالمعرفۃبیروت     ۲/ ۱۶۸)

(۳؎اللآلی المصنوعۃ      بحوالہ ابن حجر    کتاب النکاح     دارالمعرفۃبیروت     ۲/ ۱۶۸)
ولیث صدوق من رجال مسلم و الاربعۃ والبخاری فی التعلیقات، غیرانہ اختلط باٰخرہ لکن لم یسقط بہ حدیثہ فقد قال الجمہور ھو ممن یکتب حدیثہ ذکرہ النووی ۱؎فی شرح صحیح مسلم، وقال مسلم فی مقدمۃ صحیحۃ اسم الستروالصدق و تعاطی العلم یشملہ۲؎
لیث صدوق (سچا) ہے مسلم اور چاردیگرکتابوں (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) کے رجال میں سے ہیں اور تعلیقات بخاری کے رواۃ میں سے ہیں البتہ زندگی کے آخری حصے میں انہیں اختلاط ہوگیاتھا لیکن اس وجہ سے ان کی حدیث ساقط نہیں قرارپائی۔ جمہور کا کہنا یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں شمار ہے جن کی حدیث کو لکھاجاتاہے، امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں یہ بیان فرمایا امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں فرمایا : ستر، صدق اور اخذ علم کانام اس کو شامل ہے۔
 (۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی     مقدمۃ الکتاب     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴)

(۲؎ صحیح مسلم        مقدمۃ الکتاب     قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱/ ۴)
وقد حسن لہ الترمذی حدیثہ فی الحمام، ونقل عن البخاری انہ صدوق وربمایھم فی الشیئ فاذا روی عنہ حفص القاری خرج جعفر بن نصر، والصواب عندنا فی الامام الجلیل حفص القاری تشیّبہ، فقد قال وکیع انہ ثقۃ، و قال الذھبی، ھو فی نفسہ صادق، اختلف فیہ عن احمد فروی حنبل بن اسحٰق عنہ، مابہ بأس، وروی عنہ اخری متروک الحدیث ھکذا روی ابن ابی حاتم عن عبداﷲ احمد عن ابیہ وروی ابو علی بن الصواف عن عبداﷲ عن ابیہ، صالح، ولیس فیہ لامام معتمد جرح مفسر قادح یسقط حدیثہ، وابن خراش لیس ھناک، قال ابوزرعۃ کان رافضیا خرّج مثالب الشیخین اقول: قال عبد ان، وحمل ابن خراش الی بندار عندنا عبدان وضع جزأین صنفھما فی مثالب الشیخین فاجازہ بالفی درھم۱؎، قال الذھبی ھذا واﷲ الشیخ المعثر الذی ضل سعیہ فما انتفع بعلمہ فلاعتب علی حمیرالرافضۃ، قال ابوبکر بن حمدان المروزی سمعت ابن خراش یقول شربت بولی فی ھذاالشاند خمس مرات۲؎ اھ وکان جرئیا علی تکذیب الثقات، وھذا احمد بن الفرات الامام الحافظ الثقۃ الفقیہ الحجۃ الذی اطبقوا علی توثیقہ و لم یأت فیہ عن احد من الائمۃ تلیین ولابعض تلیین ذکرہ ابن خراش فقال یکذب عمدا قال الذھبی علی ما فی تہذیب التھذیب اٰذی ابن خراش نفسہ۱؎، وقال فی المیزان بطل قول ابن خراش۲؎، ولاغروقد اتھم مالک بن اوس الصحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بالکذب بروایتہ حدیث ماترکناہ صدقۃ، لاجرم ان ذکرہ الذھبی فی طبقات الحفاظ ثم اخذ یوجھہ الٰی ان خاطبہ بقولہ انت زندیق معاند للحق فلارضی اﷲ عنک، ثم قال مات ابن خراش الی غیر رحمۃ اﷲ تعالٰی ۲۸۳ھ  ۳؎،
امام ترمذی نے ''حدیث حمام'' میں اس کی تحسین فرمائی، اور امام بخاری سے نقل کیاگیا کہ وہ صدوق ہے البتہ کبھی کبھار بعض چیزوں میں وہ وہم کا شکارہوجاتاہے جب اس سے حفص قاری نے روایت کیا تو جعفر بن نصردرمیان سے خارج ہوگیا، اور ہمارے نزدیک جلیل القدرامام حفص قاری کی توثیق صواب (درست) ہے۔ چنانچہ وکیع بن جراح نے فرمایا  کہ وہ ثقہ ہے اور علامہ ذھبی نے فرمایا وہ فی نفسہٖ صادق ہے، امام احمد سے اس کے بارے میں اختلاف نقل کیاگیاہے چنانچہ حنبل بن اسحق نے امام احمد سے یہ روایت کی کہ مابہ بأس یعنی اس میں کوئی حرج نہیں، اور ان سے دوسری روایت نقل کی گئی کہ وہ متروک الحدیث ہے، ابن ابی حاتم نے بواسطہ عبداﷲ بن احمد اپنے والد کے حوالہ سے اسی طرح روایت کی۔ ابو علی بن صواف نے عبداﷲ عن ابیہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ صالح ہے اس کے حق میں کسی مستند امام کی قادح، جرح نہیں جو اس کی حدیث کو ساقط کردے۔رہا ابن خراش کا معاملہ تو وہ اس طرح کانہیں چنانچہ ابوزرعہ نے فرمایا کہ وہ رافضی تھا، اس نے مطاعن وعیوب شیخین (حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما) کی تخریج کی۔ اقول (میں کہتاہوں) عبدان نے کہا ابن خراش بندار کے پاس ہمارے نزدیک دو ایسے اجزاء اٹھالائے جو کہ مطاعن شیخ میں اس نے تصنیف کئے اور دوہزار درہم انعام پایا۔ علامہ ذہبی نے فرمایا خدا کی قسم یہ بوڑھا کذاب عیب لگانے والا ہے جس کی سعی فضول ولاحاصل کاموں میں ضائع ہوئی اس نے اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھایا لہٰذا رافضی گدھوں پر کوئی عتاب نہیں۔ ابوبکر بن حمدان مروزی نے کہا میں نے ابن خراش کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے پانچ مرتبہ اس شان میں اپناپیشاب پیااھ وہ مستندومعتمد راویوں کوجھٹلانے پر دلیرتھا۔یہ احمد بن فرات امام، حافظ، ثقّہ، فقیہ اور حجت تھا کہ جس کی توثیق پر ائمہ کرام کا اتفاق ہے۔ ائمہ میں سے کسی امام سے اس کی مکمل یا بعض نرمی (ڈھیلاپن) مروی نہیں لیکن ابن خراش نے اس کا ذکرکیا کہ وہ دانستہ جھوٹ بولتاتھا چنانچہ امام ذہبی نے تہذیب التہذیب میں فرمایا ابن خراش نےان کو دکھ پہنچایا، اور المیزان میں فرمایا کہ ابن خراش کا قول باطل ہے۔ اور کوئی تعجب کی بات نہیں اس لئے کہ اس نے ماترکناہ صدقۃ کی حدیث روایت کرنے پرمالک بن اوس صحابی رسول پر کذاب ہونے کی تہمت لگائی ہے۔ بلاشبہ علامہ ذہبی نے اسے ''طبقات الحفاظ'' میں ذکرکیاہے پھر رَد کرتے ہوئے اس قول سے مخاطب فرمایا کہ تو زندیق ہے یعنی بے دین ہے، حق سے عناد رکھنے والاہے، اﷲ تعالٰی تجھ سے کبھی راضی نہ ہو۔ ابن خراش اﷲ تعالٰی کی رحمت سے محروم ۲۸۳ھ میں رحلت کرگیا۔
 (۱  و ۲؎ میزان الاعتدال     ترجمہ ۵۰۰۹    عبدالرحمن بن یوسف     دارالمعرفۃ بیروت     ۲/ ۶۰۰) 

(۱؎ تہذیب التہذیب     ترجمہ ۱۱۷    احمد بن الفرات     دائرۃ المعاف النظامیہ حیدرآباد دکن     ۱ /۶۷)

(۲؎ میزان الاعتدال     ترجمہ احمد بن فرات ۵۱۴        دارالمعرفۃ بیروت         ۱/ ۱۲۸)

(۳؎ تذکرۃ الحفاظ     ترجمہ ابن خراش عبدالرحمن بن یوسف     دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن     ۲/ ۲۳۰)
Flag Counter