Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
157 - 190
مسئلہ ۳۰۷ : ازکلکۃ دھرم تلہ اسٹریٹ     مسجدٹیپو سلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص عالم اور حافظ ہوکر اپنے لڑکے کو علم انگریزی تعلیم دلوائے اور دینی علم سے محروم رکھے اور اپنی لڑکیوں کے عقد غیرشرع سے کرے آیا حشر کے دن اس سے باز پرس ہوگی یانہیں؟
الجواب : ضرور بازپرس کامحل ہے، اﷲ عزوجل فرماتاہے :
  یٰایھا الذین اٰمنوا قُوا انفسکم واھلیکم نارا ۱؎۔
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھروالوں کو آتشِ دوزخ سے بچاؤ۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶۶/ ۶)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کلکم راع وکلم مسئول عن رعیتہ۲؎۔
تم میں سے ہرایک چرواہا (نگہبان) ہے اور تم میں سے ہرایک سے اس کی رعیت (زیردست) کے بارے میں بازپرس ہوگی(ت)
 (۲؎ کنزالعمال     حدیث ۱۴۷۱۰       موسسۃ الرسالہ بیروت     ۶/ ۳۰)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
الدین النصح لکل مسلم۳؎
 (دین اسلام ہرمسلمان کے لئے خیرخواہی کرناہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب الایمان  باب قول النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الدین النصیحۃ     قدیمی کتب خانہ     ۱/ ۱۳)

(صحیح مسلم         باب بیان ان الدین النصیحۃ     قدیمی کتب خانہ  ۱/ ۵۴)
مسئلہ ۳۰۸ :  مسئولہ مولوی خلیل احمدخاں  پشاوری ۱۹شوال المکرم ۱۳۱۵ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ایں مسئلہ کہ معلم کودکاں رازدن علی الاطلاق مباح ست یا اجرت وغیراجرت شرط ست۔ بیّنواتوجروا۔

علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قیدوشرط کے بدنی سزادے سکتاہے یانہیں؟ کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلااجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے۔ بیان فرمائیے اجرت پائیے)
الجواب : زدن معلم کو دکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ واصلاح ونصیحت بے تفرقہ اجرت وعدم اجرت رواست اماباید کہ بدست زنند نہ بچوب ودرکرتے برسہ بار نیفزایند فی ردالمحتار، لایجوز ضرب ولدالحر بامرابیہ اما المعلم فلہ ضربہ لمصلحۃ التعلیم وقیدہ الطرسوسی بان یکون بغیر آلۃ جارحۃ وبان لایزید علی ثلث ضربات، وردہ الناظم بانہ لاوجہ لہ ویحتاج الی نقل و اقرہ الشارح قال الشرنبلالی والنقل فی کتاب الصلٰوۃ یضرب الصغیر بالید لابالخشبۃ ولایزید علی ثلث ضربات۱؎ اھ بتلخیص ۔
ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہ، اصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزادینا اور سرزنش سے کام لیناجائزہے مگریہ سزالکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے، چنانچہ فتاوٰی شامی میں ہے کہ کسی آزاد بچے کو اس کے والد کے حکم سے مارناجائزنہیں لیکن استاد تعلیمی مصلحت کے تحت پٹائی کرسکتاہے۔ امام طرسوسی نے یہ قید لگائی ہے کہ مارپیٹ زخمی کردینے والی نہ ہو اور تین ضربوں سے زائد بھی نہ ہو، لیکن ناظم نے اس قید کو رَد کردیاکہ اس کی کوئی وجہ نہیں لہٰذا نقل کی ضرورت ہے اور شارح نے اس کو برقراررکھا۔ علامہ شرنبلالی نے فرمایا نقل کتاب الصلٰوۃ میں ہے کہ چھوٹے بچے کو ہاتھ سے سزادی جائے نہ کہ لاٹھی سے اور تین ضربوں سے تجاوز بھی نہ ہونے پائےاھ بتلخیص
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ   فصل فی البیع     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۶)
درجامع الصغار استروشنی است ذکر والدی رحمہ اﷲ تعالٰی من صلٰوۃ الملتقط اذا بلغ الصبی عشر سنین یضرب لاجل الصلٰوۃ بالید لابالخشب ولایجاوز الثلث وکذا المعلم لیس لہ ان یجاوز الثلث قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لمرداس المعلم ایاک ان تضرب فوق الثلث فانک اذا ضربت فوق الثلث اقتص اﷲ منک۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جامع صغار استروشنی میں ہے : میرے والد رحمہ اﷲ تعالٰی نے بحث صلٰوۃ ملتقط میں ذکر فرمایا کہ جب بچے کی عمردس سال ہوجائے تو نمازی بنانے کے لئے اسے ہاتھ سے سزادی جائے لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیاجائے۔ یونہی استاد کے لئے روانہیں کہ تین مرتبہ سے تجاوز کرے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے استاذ کی بچوں کو مارنے کے بارے میں فرمایا :  تین مرتبہ سے زائد ضربیں لگانے سے پرہیزکرو کیونکہ اگر تم تین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو اﷲ تعالٰی قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ احکام الصغار   مسائل الصلٰوۃ   دارالکتب العلمیہ بیروت     ص۱۶)
مسئلہ ۳۰۹ :  ازمارہرہ ضلع ایٹہ سرکارکلاں مرسلہ حضرت شاہ سید مہدی حسن میاں صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ

عالی جناب مولٰینا صاحب زید مجدکم! اپنا شرعی خیال عورات کے لکھنے کی نسبت ظاہرفرمائیے یہاں عرصہ سے یہ امرمعرض بحث میں ہے۔
الجواب : حضور، عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعاً ممنوع وسنت نصارٰی وفتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے جس کے مفاسد شدیدہ پر تجارب حدیدہ شاہد عدل ہیں، متعدد حدیثیں اس کے ممانعت میں وارد ہیں جن کی بعض کی سند عندالتحقیق خود قوی ہے اور اصل متن حدیث کے معروف و محفوظ ہونے کا امام بیہقی نے اعادہ فرمایا اور پھر تعدِّد طرق دوسری قوت ہے اور عمل امت وقبول علماء، تیسری قوت اور محل احتیاط وسدِّفتنہ، چوتھی قوت تو حدیث لااقل حسن ہے اور ممانعت میں اس کا نص صریح ہونا خود روشن ہے بخلاف حدیث شفاء بنت عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کہ حفصہ نے فرمایا کیاحفصہ کو غلّہ کا منۃ نہ سکھائے گی جیسے اسے لکھناسکھایا، اجازت میں اصلاً کوئی حدیث صریح نہیں۔

احادیث ممانعت :  یہ ہیں۔
حدیث اوّل: ابن حبان بطریق یحیٰی بن زکریا بن یزید دقاق، اور بیہقی شعب الایمان میں بطریق مطیر حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی : قالا حدثنا محمد بن ابراھیم ابوعبداﷲ الشامی حدثنا شعیب بن اسحٰق الدمشقی عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتسکنوھن الغرف ولاتعلموھن الکتابۃ وعلموھن المغزل وسورۃ النور۱؎۔
 (دونوں(محدث ابن حبان اور امام بیہقی) نے فرمایا ہم سے محمد بن ابراہیم ابوعبداﷲ شامی نے بیان کیا( انہوں نے کہا) ہم سے شعیب ابن اسحٰق دمشقی نے بیان کیا اس نے ہشام بن عروہ سے، اس نے اپنے باپ عروہ سے، اس نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت فرمائی، مائی صاحبہ نے فرمایا۔ت) یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : عورتوں کو بالاخانوں پر نہ رکھو اور انہیں لکھنا نہ سکھاؤ اور کاتنا اور سورہ نور تعلیم کرو۔
 (۱؎ اللآلی المصنوعۃ     بحوالہ ابن حبان     کتاب النکاح    دارالمعرفۃ بیروت     ۲/ ۱۶۸)
یہی حدیث حاکم نے صحیح مستدرک میں اسی طریق سے اور بیہقی نے شعب میں بطریق محمدبن محمدبن سلیمان  روایت کی :
قال حدثنا عبدالوھاب الضحاک ثنا شعیب بن اسحٰق الحدیث۲؎ سندا ومتنا۔
اس (محمدبن محمدبن سلیمان) نے کہا ہم سے عبدالوہاب ضحاک نے بیان کیا(اس نے کہا) ہم سے شعیب بن اسحق نے بیان کیا یعنی حدیث سند اور متن کے لحاظ سے بیان فرمائی۔(ت)
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب التفسیر    النہی عن تعلیم الکتابۃ للنساء         دارالفکر بیروت     ۲/ ۳۹۶)
حاکم نے کہا صحیح الاسناد۳؎ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
 (۳؎المستدرک للحاکم     کتاب التفسیر    النہی عن تعلیم الکتابۃ للنساء         دارالفکر بیروت     ۲/ ۳۹۶)
اس پر حافظ ابن حجر نے اطراف میں کہا :
بل عبدالوھاب متروک۱؎ اھ اقول: لان القول فیہ ابن عدی فقال بعض حدیثہ لایتابع علیہ وھذا صادق علی کثیر من رجال الصحیحین۔
بلکہ عبدالوہاب (روای حدیث) متروک ہےاھ (یعنی محدثین نے اسے نظرانداز کیاہے۔ مترجم) میں کہتاہوں کہ محدث ابن عدی نے اس کے متعلق کمزوربات کی ہے کہ اس کی بعض حدیثوں کی متابعت نہیں کی جاتی، یہ قول توبخاری ومسلم کے بہت سے رجال (رواۃ) پربھی صادق آتاہے۔(ت)
 (۱؎ اللآلی المصنوعۃ    بحوالہ حافظ ابن حجر    کتاب النکاح     دارالمعرفۃ بیروت     ۲/ ۱۶۸)
بیہقی نے بطریق اول روایت کرکے کہا ھذا بھذا الاسناد منکر۲؎ یہ حدیث اس سند سے منکر وغیرمعروف ہے۔
 (۲؎اللآلی المصنوعۃ        البیہقی فی شعب الایمان     کتاب النکاح     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۶۸)
خاتم الحفاظ سیوطی نے لآلی میں فرمایا :
افاد انہ بغیر ھٰذا الاسناد لیس بمنکر۳؎
یعنی بیہقی نے افادہ کیاکہ حدیث اور سند سے منکر نہیں، معروف ومحفوظ ہے
اقول:  وستسمع انہ بنفس السند غیرمنکر
(میں کہتاہوں عنقریب توسن لے گاکہ حدیث نفس سند کے اعتبار سے منکرنہیں۔ت)
 (۳؎اللآلی المصنوعۃ        البیہقی فی شعب الایمان     کتاب النکاح     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۶۸)
Flag Counter