Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
156 - 190
مسئلہ ۳۰۵ : ازمحمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲/صفرمظفر ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی عالم یامولوی یاحافظ کوبلاوجہ اور بلاقصور بدنام کرے اور آپ لوگوں کے روبرو ناخواندہ آدمی اچھابنے اور اپنی عقل کے روبرو عالم کوجاہل اور ذلیل سمجھنا اور عالم کی حقارت کرنالوگوں کی جماعت میں بیٹھ کر اور اپنے آپ کو بہت ذی مرتبہ خیال کرنا اور عالم وغیرہ سب کو براکلمہ کہنا غرضکہ ہرشخص کو براکہنا اور ہرشخص پراعتراض کرناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب :  سخت حرام سخت گناہ اشد کبیرہ، عالم دین سنی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب ہے اس کی تحقیر معاذاﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین ہے اور محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی موجبِ لعنت الٰہی وعذاب الیم ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلٰثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم والامام المقسط۔ رواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ و الطبرانی۱؎ فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلامنافق، ایک وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا، دوسرا علم والا، تیسرابادشاہ اسلام عادل (اس کو ابوالشیخ نے کتاب التوبیخ میں جابر بن عبداﷲ سے اور طبرانی نے کبیر میں ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ ابی الشیخ فی التوبیخ     حدیث ۴۳۸۱۱    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۶/ ۳۲)

(المعجم الکبیر    حدیث ۷۸۱۹    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۸/ ۲۳۸)
اور بلاوجہ شرعی کسی سنی المذہب کو براکہنا یا اس کی تحقیرکرنائزنہیں کہ اس میں مسلمان کی ناحق ایذا ہے اور مسلمان کی ناحق ایذا خداورسول کی ایذاہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی ۲؎ فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسندحسن۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی(امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس کے حوالے سے بسند حسن روایت کیاہے۔ت)
(۲؎ المعجم الاوسط     حدیث ۳۶۳۲    مکتبہ المعارف ریاض     ۴/ ۳۷۳)
ہرایک کوبراوہی کہے گا جو خودنہایت برا اور بدترہوگا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس المومن بالطعان ولااللعان و لاالفاحش ولاالبذی، رواہ الائمۃ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی۱؎ وابن حبان والحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال الترمذی حسن۔
مسلمان نہیں ہے ہرایک پرمنہ آنے والا اور نہ بکثرت لوگوں پر لعنت کرنے والا او رنہ بےحیائی کے کام کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا۔ (ائمہ کرام مثلاً امام احمد، امام بخاری نے الادب المفرد میں، ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اس کو حضرت عبداﷲ بن مسعود سے روایت کیا(اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) امام ترمذی نے فرمایا: حدیث حسن ہے۔ت)
 (۱؎ المستدرک      کتاب الایمان     دارالفکربیروت    ۱/ ۱۲)

(جامع الترمذی    ابواب البروالصلۃ     باب ماجاء فی اللعنۃ     امین کمپنی دہلی         ۲/ ۱۹)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایبغی علی الناس الا ولدبغی والامن فیہ عرق منہ۲؎۔ رواہ الطبرانی عن ابی موسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
لوگوں پرظلم وتعدی نہ کرے گا مگرحرامی یا وہ جس میں کوئی رگ ولادت زنا کی ہے (امام طبرانی نے اس کو المعجم الکبیر میں حضرت ابوموسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندحسن روایت کیاہے۔ت)
 (۲؎ مجمع الزوائد باب فی عمال السوء    ۵/ ۲۳۳    وباب فی اولاد الزنا    ۶/ ۲۵۸)

(کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی حدیث ۱۳۰۹۳    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۵/ ۳۳۳)
رہا اپنے آپ کو بہترسمجھنا یہ تکبرہے اس کے لئے یہی آیت کافی ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے :
الیس فی جہنم مثوی لِّلمتکبرین۳؎۔
کیانہیں ہے دوزخ میں ٹھکانہ تکبرکرنے والوں کا، یعنی ضرور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ القرآن الکریم   ۳۹/ ۶۰)
مسئلہ ۳۰۶ :  ازدرہ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲/رجب ۱۳۱۵ھ

جس عبارت میں کہ صرف لفظ مکروہ ہو تو اس سے کیا ارادہ لیاجائے گا تحریم یاتنزیہہ؟ بیّنواتوجوا۔
الجواب : ہمارے علمائے کرام کے کلام میں غالباً کراہت مطلقہ سے مراد کراہت تحریم ہوتی ہے مگر کلیۃً نہیں بہت جگہ عام مراد لیتے ہیں کما فی مکروھات الصلٰوۃ (جیسا کہ نماز کی بحث مکروہات میں مذکورہے۔ت) بہت جگہ خاص کراہت تنزیہی،
کمالایخفی علی من تتبع کلامھم و وقدبیّنہ فی البحرالرائق وردالمحتار وذکرناہ فی کتاب الصلٰوۃ من فتاوٰنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter