یعنی نگاہ رکھو قرآن کو اور اسے یاد کرتے رہوسو قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ قرآن زیادہ چھوٹنے پرآمادہ ان اونٹوں سے جو اپنی رسیوں سے بندھے ہوں (اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔ت)
(۴؎ صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۳)
(صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۸)
یعنی جس طرح بندھے ہوئے اونٹ چھوٹنا چاہتے ہیں اور اگر ان کی محافظت واحتیاط نہ کی جائے تو رہاہوجائیں اس سے زیادہ قرآن کی کیفیت ہے اگر اسے یاد نہ کرتے رہو گے تو وہ تمہارے سینوں سے نکل جائے گا پس تمہیں چاہئے کہ ہروقت اس کا خیال رکھو اور یاد کرتے رہو اس دولت بے نہایت کوہاتھ سے نہ جانے دو۔
اورفرماتے ہیں :
ان الذی لیس فی جوفہ شیئ من القراٰن کالبیت الخرب۔ رواہ الترمذی۱؎۔
حاصل یہ کہ جسے کچھ قرآن یاد نہیں وہ ویرانے گھر کے مانند ہے یعنی جیسے گھروں کی زینت ان کے رہنے والوں اور عمدہ آرائشوں سے ہوتی ہے اسی طرح خانہ دل کی زینت قرآن مجید سے ہے جسے قرآن یاد ہے اس کا دل آباد ہے ورنہ ویرانہ وبرباد۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵)
اور فرماتے ہیں:
یا اھل القراٰن لاتوسدواالقراٰن واتلوہ حق تلاوتہ من اٰناء اللیل والنھار وافشوہ، الحدیث رواہ البیہقی۲؎ والطبرانی۔
یعنی اے قرآن والو! قرآن کو تکیہ نہ بنالو کہ پڑھ کے یاد کرکے رکھ چھوڑا پھر نگاہ اٹھاکر نہ دیکھا بلکہ اسے پڑھتے رہو دن رات کی گھڑیوں میں جیسے اس کے پڑھنے کاحق ہے اور اسے افشا کرو کہ خود پڑھو لوگوں کو پڑھاؤ ، یادکراؤ اس کے پڑھنے یاد کرنے کی ترغیب دونہ یہ کہ جو پڑے اور خدا اسے حفظ کی توفیق دے اس کو روکو اور منع کرو۔ (بیہقی اور طبرانی سے اس کو روایت کیا۔ت)
اس سے زیادہ نادان کون ہے جسے خدا ایسی ہمت بخشے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے اگرقدر اس کی جانتا اور جو ثواب اور درجات اس پرموعود ہیں ان سے واقف ہوتا تو اسے جان و دل سے زیادہ عزیزرکھتا زید نادان کو اپنے سوءِ حافظہ یا کسی اور سبب سے حفظ قرآن میں دقت ہو یا متشابہ زیادہ واقع ہوں تو اسے قرآن کا تصورسمجھتاہے اور اس کے حفظ کو معاذاﷲ بیکار وبے ثمرٹھہراتا ہے یہ وسوسہ شیطان کا ہے کہ اس کے دل میں ڈرلاتا تاکہ سے ایسی نعمت عظمٰی سے محروم رکھے اور راہ راست سے پھیر کر گمراہوں کے گروہ میں داخل کرے، وہ یہ نہیں جانتا کہ جسے قرآن مجید میں زیادہ دقت ومشقت پڑتی ہے اس کا اجر اﷲ کے نزدیک دوناہے،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الماھر بالقراٰن مع السفرۃ الکرام البررۃ رواہ البخاری۱؎ ومسلم۔
یعنی جو شخص قرآن مجید میں مہارت رکھتاہے وہ نیکوں اور بزرگوں اور وحی وکتابت یالوح محفوظ کے لکھنے والوں یعنی انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ ہے، اور جو قرآن کو بزورپڑھتاہے اور وہ اس پرشاق ہے اس کے لئے دو اجرہیں۔(بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول النبی صلی علیہ وسلم الماھربالقرآن ۲/ ۲۶ ۔ ۱۱۲۵)
(صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب فضیلۃ حافظ قرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۹)
انجام اس وسوسہ ابلیس وفساد باطنی کا یہ ہے کہ وہ قرآن مجید بھول جائے اور ان وعیدوں کا مستحق ہو جو اس باب میں وارد ہوئیں، اﷲ جل جلالہ فرماتاہے :
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ ۲؎ الآیۃ۔
جومیرے ذکر یعنی قرآن سے منہ پھیرے گا سو اس کے لئے تنگ عیش ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا اور میں توتھاانکھیارا، اﷲ تعالٰی فرمائے گا یوہیں آئی تھیں تیرے پاس ہماری آیتیں سو تونے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تو بھلادیاجائے گا کہ کوئی تیری خبرنہ لے گا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۰/ ۱۲۴)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
مامن امرء یقرء القراٰن ثم ینسٰھا الحدیث، رواہ ابوداؤد۳؎ والدارمی۔
یعنی جو شخص قرآن پڑھ کر بھول جائے گا قیامت کو خدا کے پاس کوڑھی ہوکررہے گا۔ (ابوداؤد اوردارمی نے اس کو روایت کیا۔ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب التشدید فی من حفظ القرآن آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۰۷)
(سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن حدیث ۳۳۴۳ نشرالسنّۃ ملتان ۲/ ۳۱۵)
اور فرماتے ہیں :
عرضت علیّ ذنوب امتی، الحدیث رواہ الترمذی۴؎۔
حاصل یہ کہ میری امت کے گناہ میرے حضور پیش کئے گئے تو میں نے گناہ اس سے بڑا نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی ایک سورۃ یا ایک آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلادے۔ (اس کوترمذی نے روایت کیا۔ت)
(۴؎ جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن باب من فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵)
زید پرلازم کہ اس قسم کی خرافات اور گستاخیوں سے بازآئے اور خلاف حکم اﷲ اوراﷲ کے رسول کے لوگوں کو حفظ کلام اﷲ سے نہ روکے بلکہ ترغیب دے اور جہاں تک ہوسکے اس کے پڑھانے اور حفظ کرانے اور خود یادرکھنے میں کوشش کرے تاکہ وہ ثواب جو اس پر موعود ہیں حاصل ہوں اور روزقیامت اندھا کوڑھی ہوکر اُٹھنے سے نجات پائے، واﷲ الھادی الٰی سبیل الرشاد ومن یضلل اﷲ فمالہ من ھاد۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔ اﷲ تعالٰی سیدھاراستہ دکھانے والا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے اسے کوئی راہ دکھلانے والانہیں۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھتاہے اس کا علم بڑاکامل اور اس کافیصلہ بڑامحکم ہوتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۴ : ازموضع اٹنگہ چاندپور پرگنہ نواب گنج مرسلہ سیدحافظ وحیدالدین صاحب ۱۴شعبان ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں، ایک موضع میں دوقسم کے فریق ہیں، ایک کی اولاد دین کے مدرسے میں علم دین مثل حفظ قرآن شریف وناظرہ وضروریات دین ودنیوی جوکہ ضروری ہیں بہت زمانہ سے سیکھتے ہیں اور تعلیم پاتے ہیں اور ان کے والدین کوشش ان کے میں مصروف ہیں، اور دوسرے فریق نے عرضی دے کر مدرسہ سرکاری کروایا ہے وہ اس کی تائید اور کاروائی میں مصروف ہیں، ہردو مدرسین کاکیاحکم ہے اور ہردوفریقین اور طالب علموں کے لئے کیاحکم شرع ہے؟ اور کون سے علوم ہیں کہ ان کی فرضیت کاحکم ہے یا اس میں مسلمانوں کو اپنی طبیعت کااختیار ہے جو علم چاہیں پڑھیں پڑھائیں، ثواب وعقاب سےا س کے لئے آگاہ فرمائیے گا۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :علم دین سیکھنا اس قدرہے کہ مذہب حق سے آگاہ ہو، وضو غسل، نماز، روزے وغیرہا ضروریات کے احکام سے مطلع ہو۔ تاجر تجارت، مزارع زراعت، اجیر اجارے، غرض ہرشخص جس حالت میں ہے اس کے متعلق احکام شریعت سے واقف ہو، فرض عین ہے جب تک یہ حاصل کرے، جغرافیہ، تاریخ، وغیرہ میں وقت ضائع کرناجائزنہیں۔
حدیث میں ہے:
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ۱؎۔
ہرمسلمان مردعورت پرعلم کی تلاش فرض ہے ۔ (ت)
(۱؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفی المقالۃ الثانیہ الباب الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۶۳)
جوفرض چھوڑ کر نفل میں مشغول ہو حدیثوں میں اس کی سخت برائی آئی اور اس کا وہ نیک کام مردود قرارپایا، کمابیّناہ فی الزکٰوۃ من فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی کی بحث زکوٰۃ میں تفصیلاً بیان کردیا ہے۔ت) نہ کہ فرض چھوڑ کر فضولیات میں وقت گنوانا، غرض یہ علوم ضروریہ توضرورمقدم ہیں اور ان سے غافل ہوکر ریاضی، ہندسہ، طبعیات ، فلسفہ یادیگر خرافات وفلسفہ پڑھنے پڑھانے میں مشغولی بلاشبہہ متعلم ومدرس دونوں کے لئے حرام ہے اور ان ضروریات سے فراغ کے بعد پوراعلم دین فقہ حدیث تفسیرعربی زبان اس کی صرف، نحو، معانی، بیان، لغت، ادب وغیرہا آلات علوم دینیہ بطور آلات سیکھنا سکھانا فرض کفایہ ہے،
اﷲ تعالٰی فرماتاہے :
فلولا نفرمن کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقّھوا فی الدین۱؎۔
پھر ایسانہ ہوا کہ ان کے گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۱۲۲)
یہی علوم علم دین ہیں اور انہیں کے پڑھنے پڑھانے میں ثواب، اور ان کے سوا کوئی فن یا زبان کچھ کارِثواب نہیں، ہاں جوشخص ضروریات دین مذکورہ سے فراغت پاکر اقلیدس، حساب، مساحت، جغرافیہ وغیرہا وہ فنون پڑھے جن میں کوئی امر مخالف شرعی نہیں تو ایک مباح کام ہوگا جب کہ اس کے سبب کسی واجب شرعی میں خلل نہ پڑھے ورنہ
مبادا دل آں فرومایہ شاد ازبہردنیا دہد دین بباد
(اﷲ کرے اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہو جس نے دنیا کے لئے دین برباد کردیا۔ت)
واﷲ تعالٰی اعلم۔