Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
154 - 190
مسئلہ ۳۰۳  :    (سوال ندارد)
الجواب : حفظ قرآن فرض کفایہ ہے اور سنت صحابہ وتابعین وعلمائے دین متین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین اور منجملہ افاضل مستحبات عمدہ قربات منافع وفضائل اس کے حصروشمار سے باہر۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
یجیئ صاحب القراٰن یوم القٰیمۃ فیقول یارب حلہ۱؎ الحدیث۔
یعنی قرآن والاقیامت کے روز آئے گا پس قرآن عرض کرے گا اے رب میرے اسے خلعت عطافرما تو اس شخص کو تاج کرامت عطافرمائیں گے، پھر عرض کرے گا اے رب میرے اور زیادہ کر، تو اسے حلہ بزرگی پہنائیں گے، پھر عرض کرے گا اے رب میرے اس سے راضی ہوجا، تو اﷲ جل جلالہ اس سے راضی ہوجائے گا۔ پھر اس سے کہاجائے گا پڑھ اور چڑھ، اور ہرآیت پرایک نیک زائد کی جائے گی۔
(۱؎ جامع الترمذی     ابواب فضائل القرآن     امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵)
اورفرماتے ہیں:
یقال یعنی لصاحب القراٰن اقرء وارق ورتل الحدیث رواہ الترمذی۲؎ و ابن ماجہ واللفظ للترمذی۔
یعنی صاحب قرآن کو حکم ہوگا کہ پڑھ اور چڑھ اور ٹھہرٹھہر کر پڑھ جیسے تو اسے دنیا میں ٹھہرٹھہر کر پڑھتاتھا کہ تیرامقام اس پچھلی آیت کے نزدیک ہے جسے تو پڑھے گا (ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کو روایت کیا اور الفاظ جامع ترمذی کے ہیں۔ت)
(۲؎جامع الترمذی     ابواب فضائل القرآن         امین کمپنی دہلی    ۲/ ۱۱۵)
حاصل یہ کہ ہرآیت پرایک ایک درجہ اس کا جنت میں بلند کرتے جائیں گے جس کے پاس جس قدرآیتیں ہوں گی اسی قدردرجے اسے ملیں گے۔ اورفرماتے ہیں : مثل القراٰن ومن تعلمہ، الحدیث رواہ ابن ماجہ ۳؎ والنسائی۔

یعنی حافظ قرآن اگرشب کو تلاوت کرے تو اس کی مثال اس توشہ دان کی ہے جس میں مشک بھراہواہو اور اس کی خوشبو تمام مکانوں میں مہکے اور جو شب کو سورہے اور قرآن اس کے سینے میں ہو تو اس کی کہاوت مانند اس توشہ دان کے ہے جس میں مشک ہے اور اس کا منہ باندھ دیاجائے الحدیث(ابن ماجہ اورنسائی نے اسے روایت کیا۔ت)
 (۳؎جامع الترمذی     ابواب فضائل القرآن    امین کمپنی دہلی       ۲/ ۱۱۱)

(سنن ابن ماجہ    باب فضل من تعلم القرآن   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۹)
اور فرماتے ہیں:
خیرکم من تعلم القراٰن و علمہ، رواہ البخاری۱؎ والترمذی وابن ماجہ۔
یعنی تم میں بہتروہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے (بخاری، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب فضائل القرآن     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۵۲)

(جامع الترمذی    ابواب فضائل القرآن     امین کمپنی دہلی     ۲/ ۱۱۴)

(سنن ابن ماجہ    باب فضل من تعلم القرآن       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۹)
اور فرماتے ہیں:
لما سمعت الملٰئکۃ القراٰن، الحدیث رواہ الدارمی۲؎۔
جب فرشتوں نے قرآن سنا بولے خوشی ہو اس امت کے لئے جس پر یہ نازل ہوا، اور خوشی ہو ان سینوں کے لئے جو اسے اٹھائیں گے اور یاد کریں گے، اور خوشی ہو ان زبانوں کے لئے جو اسے پڑھیں گے اور تلاوت کریں گے(اس کو دارمی نے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ سنن الدارمی     کتاب فضائل القرآن     حدیث ۳۴۱۷    نشرالسنۃ ملتان     ۲/ ۳۲۷)
جابجا اﷲ جل جلالہ، اور اس کے رسول کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے قرآن کی ترغیب وتحریص فرمائی۔ رب تبارک وتعالٰی فرماتاہے :
ولقد یسرنا القراٰن فھل من مدکر۳؎۔
اور بیشک ہم نے آسان کردیا قرآن کو یاد کرنے کے لئے سو ہے کوئی یادکرنے والا۔
(۳؎ القرآن الکریم     ۵۴/ ۱۷)
اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
تعاھدوالقراٰن فوالذی نفسی بیدہ لھواشد تفصیا من الابل فی عقلھا رواہ البخار۴؎ ومسلم۔
Flag Counter