Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
153 - 190
مسئلہ ۳۰۲ :ازبنارس محلہ مدنپورہ اونچی مسجد مرسلہ مولوی محمدعبدالرحمن صاحب جشانی شافعی ۱۲رمضان ۱۳۱۳ھ

ہمارے علمائے اہلسنت رحمہم اﷲ تعالٰی اس میں کیافرماتے ہیں کہ جیسا کہ حنفی کو (بموجب اس کے جو کہ درمختار میں ہے اس بات سے کہ ضرورت کے وقت کسی مسئلہ میں اپنے امام کے سوا دوسرے امام کی تقلید کرنے کا کچھ خوف نہیں ہے لیکن بشرط اس کے کہ اس مسئلہ میں اسی امام کے سب شروط کاالتزام کرے اور نیز بموجب اس کے جو کہ شامی میں ہے اس بات سے کہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ میں ذکرکیا ہے کہ اگر ضرورت کے وقت امام مالک کے قول پر فتوٰی دیاجائے تو جائزہے اور نیز بموجب اس کے جو کہ جامع الرموز میں ہے اس بات سے کہ مفقود کی مدت انتظار کی تعیین میں امام مالک اور امام اوزاعی چاربرس تک کے قائل ہیں پھر بعد چاربرس  اس کی بیوی کونکاح کرنے کی اجازت ہے تو اگر ضرورت کے وقت ہمارے یہاں بھی اس قول کے ساتھ فتوٰی دیاجائے تو کچھ خوف نہیں) ضرورت کے وقت دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائز ہے ایساہی ضرورت کے وقت مثلاً مسئلہ انتقاض الوضوء باکل مامستہ النار میں شافعی کو بھی اس کے مذہب کی کس کتاب کے بموجب دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : تقلید امام دیگروقت ضرورت صحیحہ بشرط مذکورہ فی السوال کا جواز متفق علیہ ہے ولہٰذا حنفی شافعی ہرمذہب کے محتسب کو لکھتے ہیں کہ اپنے ہم مذہب کو جو بات خلاف مذہب کرتے دیکھیں اگر وہ اس میں عذرتقلید غیرپیش کرے احتساب سے ہاتھ اٹھائیں۔
شرع عین العلم میں ہے:
لورأی الشافعی شافعا یشرب النبیذ او ینکح بلا ولی ویطوء زوجتہ اورأی الحنفی حنفیا یلعب بالشطرنج اولبس الثوب الاحمر فھذا فی محل النظر کما فی الاحیاء والاظھران لہ الحسبۃ والانکار اذلم یذھب احد من المحصلین الی ان لہ ان یاخذ بمذھب غیرہ بل علی مقلد اتباع مقلدہ فی کل تفصیل فمخالفۃ المقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین وھو عاص بالمخالفۃ الا انہ جوز لہ تقلید غیرہ من الائمۃ فی بعض المسائل فاذاا اعتذروا قال انا مقلد للشافعی او الحنفی فی ھذاالباب، یرتفع عنہ الاحتساب۱؎ اھ مختصراً۔
اگر کوئی شافعی کسی دوسرے شافعی کو دیکھے کہ وہ نبیذ(جوس) پیتا ہے اور بغیر ولی کے نکاح کرتا ہے اور اس بیوی سے ہمبستری کرتاہے یا کوئی حنفی کسی دوسرے حنفی کو دیکھے کہ وہ شطرنج کھیلتاہے یا سرخ لباس پہنتاہے تو یہ قابل اعتراض ہے جیساکہ امام غزالی کی الاحیاء میں ہے، اور زیادہ ظاہریہ ہے کہ اس کے لئے احتساب اور انکار ہے کیونکہ محصلین میں سے کوئی ادھر نہیں گیا کہ اس کے لئے کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرنا جائزہے بلکہ مقلد پر ہر تفصیل میں اپنے امام کا اتباع فی المذہب ضروری ہے لہٰذا امام کی مخالفت کے گناہ ہونے پر محصلین کا اتفاق ہے اور مخالفت امام کا مرتکب گناہ گار ہے ہاں البتہ اس کے لئے دوسرے ائمہ میں سے کسی امام کی بعض مسائل میں تقلید جائزہے پھر اگرمعذرت کرے اور کہے میں اس باب میں امام شافعی یا امام ابوحنیفہ کا مقلد ہوں تو اس سے احتساب اٹھ جائے گااھ مختصراً۔(ت)
(۱؎ شرح عین العلم)
اور اس کے اجل شواہد سے خود امام مذہب سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا فعل ہے کہ جب نمازصبح مزاراکرم حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس پڑھی اس میں دعائے قنوت نہ پڑھی نہ بسم اﷲ شریف کا جہرکیا، اور اس کا سبب حضرت امام الائمہ کا ادب بیان فرمایا۔
کما ذکرہ الامام ابن حجرالمکی الشافعی فی الفصل الخامس والثلثین من الخیرات الحسان۱؎ من مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان''۔
جیسا کہ امام ابن حجرمکی شافعی نے اس کو ''الخیرات الحسان من مناقب الامام اعظم ابی حنیفۃ النعمان'' کی ۳۵ویں فصل میں بیان فرمایا۔(ت)
(۱؎ الخیرات الحسان     الفصل الخامس والثلاثون   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ص ۱۴۹)
اور مروی ہوا کہ تکبیرات انتقال میں رفع یدین بھی نہ کیا اور فرمایا:
ادبنا مع ھذا الامام اکثرمن ان نظھر خلافہ بحضرتہ۔
اس امام کے ساتھ ہمارا ادب اس سے زائدہے کہ ہم ان کے حضور ان کاخلاف ظاہرکریں۔
ذکرہ القاری فی المرقاۃ۔۲؎
اس کو ملاعلی قاری نے مرقاۃ (شرح مشکوٰۃ) میں ذکرفرمایا۔(ت)
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح )
یہاں مخالفت مذہب کی ضرورت کو امام ابن حجر مکی شافعی نے خیرات الحسان میں مفصل ذکر فرمایا ہے من شاء فلیطالعھا (جوکوئی چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت) اتنا امر اور ملحوظ خاطر رہے کہ زن مفقود کو چارسال کے بعد اجازت نکاح کہ مذہب امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ جب اس کی خبر منقطع ہونے کو چاربرس گزرجائیں یہ بطور خود نکاح کرلے بلکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ زن مفقود قاضی شرع کی طرف رجوع لائے وہ اپنے حکم سے چار سال کی مہلت آج سے دے اس سے پہلے اگر چہ بیس سال گزرگئے ہوں ان کا کچھ اعتبار نہیں جب یہ چار برس گزرجائیں اور پتا نہ چلے قاضی اپنے حکم سے تفریق کرے اس کے بعد عورت عدت بیٹھ کر نکاح کی مختارہوسکتی ہے،
کما بینہ العلامۃ الزرقانی المالکی فی شرح المؤطا واوضحناہ فی کتاب النکاح وکتاب المفقود من فتاوٰنا۔
جیسا کہ علامہ زرقانی مالکی نے اس کو شرح مؤطا میں بیان فرمایا، اور ہم نے اپنے فتاوٰی کی بحث نکاح اور بحث مفقود میں اس کی وضاحت کی۔(ت)
یہ بہت غلطی ولغزش کامحل ہے اسے خوب سمجھ لیناچاہئے۔ اسی طرح انتقاض وضو''باکل مامستہ النار(آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا ٹوٹ جانا۔ت) ائمہ اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں کسی کا مذہب نہیں بلکہ بعدصدرِاول اس کے خلاف پر اجماع علماء منعقد ہولیاہے، امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
ذھب جماھیر العلماء من السلف والخلف الی انہ لاینتقض الوضوء باکل مامستہ النار ممن ذھب الیہ ابوبکر الصدیق وعمروعثمان وعلی رضی اﷲ تعالٰی عنھم وھو مذھب مالک وابی حنیفۃ والشافعی واحمد رحمھم اﷲ تعالٰی وذھبت طائفۃ الٰی وجوب الوضوء الشرعی باکل مامستہ النار وھو مروی عن عمربن عبدالعزیز والحسن البصری والزھری ثم ان ھذا الخلاف الذی حکیناہ کان فی الصدر الاول ثم اجمع العلماء بعد ذٰلک علی انہ لایجب الوضؤ باکل مامستہ النار۱؎اھ باختصار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
سلف وخلف(اگلے پچھلے لوگوں) میں سے جمہور علماء کرام کے نزدیک آگ پرپکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جن بزرگوں نے یہ مؤقف و مذہب اختیار کیا ان میں خلفائے راشدین حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمرفاروق، حضرت عثمان غنی اور سیدنا حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم شامل ہیں۔ امام مالک، امام ابوحنیفہ، شافعی اور امام احمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کا تو یہی مذہب ہے، اور ایک گروہ کامؤقف یہ ہے کہ ہرپکی ہوئی چیز کھائے سے وضوشرعی واجب ہے، حضرت عمربن عبدالعزیز، حسن بصری اور زہری سے یہ مروی ہے۔ جس اختلاف کی ہم نے حکایت کی ہے وہ صدراول میں تھا۔ اس کے بعد علماء کرام کا اس پر اجماع منعقد ہوگیاکہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضوکرنا واجب نہیں اھ باختصار۔ اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
 (۱؎ شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم         کتاب الحیض     باب الوضوء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۵۶)
Flag Counter