Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
152 - 190
وقال اﷲ تعالٰی واوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا۱؎
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: لوگو! وعدہ پورا کیاکرو بے شک وعدہ کے بارے میں پوچھ ہوگی۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۱۷/ ۳۴)
ہاں منطق بلاشبہہ مفید وکارآمد اور اکثر جگہ محتاج الیہ ہے، میبذی وصدراوشمس بازغہ و امثالہا کے استثناء سے درس عامہ میں جو عقلیات خالصہ یانقلیات ممترزجہ صغری وکبری وایسا غوجی وقال اقول ومیرایساغوجی وقطبی ومیرقطبی وشرح تہذیب ومیبذی وجلالی وحاشیہ سید زاہد وحاشیۃ الحاشیہ مولانا بحرالعلوم وسلم وملاحسن وحمداﷲ وقاضی ورسالہ قطبیہ وشرح سیدزاہد وحاشیہ غلام یحٰیی وشرح عقائد نسفی وجلالی وخیالی وتحریر اقلیدس وتصریح شرح تشریح وشرح چغمینی ومسلم الثبوت وشرح مواقف ومیر زاہد امور عامہ پڑھائی جاتی ہیں فہم کلام واصول ونیز تشحیذاذہان وتمرین عقول کے لئے بس ہیں اخذ عہد میں مراد استاد اگر وہی کتب محرمہ تھیں جب تو ظاہر کہ ان میں حرج نہیں ورنہ بشرط حاجت بنظرحاجت ورعایت شرائط وصحت نیت تعلیم کرسکتاہے اگرعہد مؤکد بقسم تھا توکفارہ یمین ہے ورنہ نہیں،
اخرج الائمۃ احمد والشیخان عن عبدالرحمٰن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرھا خیرامنھا فاٰت الذی ھو خیر وکفر عن یمینک۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ائمہ کرام مثلاً امام احمد اوربخاری ومسلم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی سند سے تخریج فرمائی، انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تو کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر دیکھے کہ اس کام کا کرنا بنسبت دوسرے کام کے بہترہے توبہترکام ہی کرو البتہ اپنی قسم کاکفارہ اداکرو۔ اورا ﷲ تعالٰی پاک، برتر اور خوب جاننے والا ہے اور اس بزرگی والے کا علم بڑاکامل اور نہایت پختہ ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاحکام     باب من سأل الامارۃ وکل الیہا     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۹۸۰ و۱۰۵۸)

(صحیح مسلم         کتاب الایمان     باب ندب بین یمیناً الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۴۸)
مسئلہ ۳۰۱ :ازموضع ٹاہ ضلع بریلی معرفت نیازمحمدخاں صاحب ۱۲رجب ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاگرد کے ذمہ استاد معلم کے حقوق کس قدر ہیں اور اس کے ادانہ ہونے میں کیامواخذہ ہوگا اور استاد کے احکام کی نافرمانی میں شاگرد کی نسبت کیا حکم ہے اور اس مسئلہ میں کہ شاگرد نات کاپردہ استاد سے بعد بلوغ ہوناچاہئے یاقبل بلوغ بھی؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : عالمگیری میں وجیزامام حافظ الدین کردری سے ہے:
قال الزندویستی ، حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السوأ وھو ان لایفتح بالکلام قبلہ ولایجلس مکانہ وان غاب ولایرد علٰی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ۲؎۔
یعنی فرمایا امام زندویستی نے عالم کاجاہل اور استاذ کا شاگرد پرایک ساحق ہے برابر اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور اس کی بات کو رد نہ کرے۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراہیۃ     الباب الثلاثون         نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۳۷۳)
اس میں غرائب سے ہے:
ینبغی للرجل ان یراعی حقوق استاذہ وآدابہ لاببخل بشیئ من حالہ۱؎۔
آدمی کو چاہئے کہ اپنے استاذ کے حقوق واجبہ کالحاظ رکھے اپنے مال میں کسی چیز سے اس کے ساتھ بخل نہ کرے۔
 (۱؎ فتاوٰی عالمگیری         کتاب الکراہیۃ     الباب الثلاثون     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۳۷۸)
یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضر کرے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اوراپنی سعادت جانے۔ 

اسی میں تاتارخانیہ سے ہے:
یقدم حق معلمہ علی حق ابویہ وسائر المسلمین ویتواضع لمن علمہ خیرا ولوحرفا ولاینبغی ان یخذلہ ولایتاثر علیہ احدا فان فعل ذٰلک فقد فصم عروۃ من عری الاسلام ومن اجلالہ ان لایقرع بابہ بل ینتظر خروجہ ۲؎ اھ۔
یعنی استاذ کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھا علم سکھایا اگرچہ ایک ہی حرف پڑھایا ہو اس کے لئے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے اپنے استاذ پرکسی کو ترجیح نہ دے اگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام سے رشتوں سے ایک رسی کھول دی، اور استاذ کی تعظیم سے ہے کہ وہ اندرہو اور یہ حاضرہوا تو اس کے دروازہ پر ہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرےاھ۔
(۲؎فتاوٰی عالمگیری         کتاب الکراہیۃ     الباب الثلاثون     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۷۹۔۳۷۸)
قال اﷲ تعالٰی ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لایعقلون ولوانھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم واﷲ غفوررحیم۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: یقینا جو لوگ آپ کے حجروں کے باہر سے پکارتے اورآوازیں دیتے ہیں ان میں زیادہ تربے عقل اور ناسمجھ ہیں، اگر وہ آپ کے باہر تشریف لانے (کاانتطار کرتے ہوئے) صبرکرتے تو یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا، اور اﷲ تعالٰی بخشنے والا بے حد مہربان ہے۔(ت)
 (۳؎ القرآن الکریم     ۴۹/ ۴)
عالم دین ہرمسلمان کے حق میں عموماً اور استاد علم دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصاً نائب حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے، ہاں اگر وہ کسی خلاف شرع بات کاحکم کرے ہرگز نہ مانے کہ
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی ۴؎
(اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔ت)
 (۴؎ مسندامام احمد بن حنبل         مرویات الحکم بن عمر            المکتب الاسلامی بیروت     ۵/ ۶۷)
مگر اس نہ ماننے میں گستاخی و بے ادبی سے پیش نہ آئے فان المنکرلایزال بمنکر (گناہ کا ازالہ گناہ سے نہیں ہوتا۔ت) نافرمانی احکام کا جواب اسی تقریر سے واضح ہوگیا اس کا وہ حکم کہ خلافِ شرع ہو مستثنٰی کیاجائے گا بکمال عاجزی وزاری معذرت کرے اور بچے اورا گر اس کا حکم مباحات میں ہے تو حتی الوسع اس کی بجاآوری میں اپنی سعادت جانے اور نافرمانی کا حکم معلوم ہوچکا، اس نے اسلام کی گرہوں سے ایک گرہ کھول دی۔ علماء فرماتے ہیں جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذا پہنچی وہ علم کی برکت سے محروم رہے گااور اگر اُس کے احکامات واجبات شرعیہ ہیں جب تو ظاہر ہے کہ اُن کا لزوم دوبارہ ہوگیا ان میں اس کی نافرمانی صریح راہ جہنم ہے، والعیاذباﷲ تعالٰی۔ رہا پردہ اس میں استاذ وغیراستاذ، عالم وغیرعالم، پیرسب برابرہیں۔ نوبرس سے کم کی لڑکی کو پردہ کی حاجت نہیں اور جب پندرہ برس کی ہو سب غیرمحارم سے پردہ واجب، اور نو سے پندرہ تک اگرآثار بلوغ ظاہرہوں توواجب، اور نہ ظاہرہوں تو مستحب خصوصاً بارہ برس کے بعد بہت مؤکد کہ یہ زمانہ قرب بلوغ وکمال اشتہاکا ہے ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل۱؎، نسأل اﷲ العفووالعافیۃ (جو اپنے زمانے والوں کو نہ پہچانے تو وہ جاہل ہے، ہم اﷲ تعالٰی سے عفواورعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الایمان     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳/ ۵۹)
Flag Counter