Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
151 - 190
جامع الرموز میں ہے:
انھم قالوالومات زید وقت الطلوع من اول رمضان مثلاً بالصین کان ترکتہ لاخیہ عمرو قدمات فیہ بسمرقند مع انھما لوماتا معالم یرث احدھما عن الاٰخرکماتقرر۱؎۔
فقہاء کرام فرماتے ہیں مثلاً زید یکم رمضان کو عین طلوع آفتاب کے وقت چین میں فوت ہوگیا تو اس کا ترکہ اس کے بھائی عمرو کو ملے گا جبکہ وہ بھی اسی وقت سمرقند میں فوت ہوگیا حالانکہ وہ اگردونوں اکٹھے یکجامرتے تو ان میں سے کوئی ایک دوسرے کاوارث نہ ہوتا جیسا کہ (اپنی جگہ) یہ ثابت ہوچکا ہے۔(ت)
 (۱؎ جامع الرموز)
یوہیں بعض مسائل حیض ونفاس وعدت وغیرہا میں بھی ان علوم کی حاجت مثلاً عورت ٹھیک وقت غروب شمس حائضہ ہوئی پھر سفرکیا دسویں دن وہاں ٹھیک وقت غروب دم منقطع ہوا، ناواقف مطلقاً اسے عشرہ کاملہ حیض جان کرانقطاع للاکثرکے احکام جاری کرے گا اور واقف بلحاظ امور معلومہ کبھی انقطاع للاقل کہے گا کبھی زیادہ علی العشرہ پرآگاہ ہوکر عادت سے جو دن زائد ہوئے انہیں استحاضہ مانے گا، یوہیں اگر شہردیگر میں تیسرے دن وقت غروب انقطاع ہوا، ناواقف مطلقاً حیض اور واقف کبھی استحاضہ جانے گا کہ تقادیر حیض میں ایسی ہی تدقیق معتبرہے۔
شرح نقایہ میں ہے:
ردالمحتارمیں ہے: ای سدس القرص۲؎
 (یعنی آفتاب کی ٹکیہ کا چھٹاحصہ۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ    باب الحیض        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۸۹)
غورکیجئے کتنا تفاوت احکام ہوگیا اور تعلیقات میں توہزارہا صورتیں نکلیں گی جن کا حکم بے ان علوم کے ہرگز نہ کھلے گا اورفقیہ کو ان کی طرف رجوع سے چارہ نہ ملے گا کمالایخفی علی من اوتی حظامنھا (جیسا کہ اس پرپوشیدہ نہیں جو ان علوم میں سے معمولی حصہ بھی رکھتا ہے۔ت) تو مطلقاً علوم عقلیہ کے تعلیم وتعلم کوناجائز بتانا یہاں تک کہ بعض مسائل صحیحہ مفیدہ عقلیہ پر اشتمال کے باعث توضیح وتلویح جیسے کتب جلیلہ عظیمہ دینیہ کے پڑھانے سے منع کرنا سخت جہالت شدیدہ وسفاہت بعیدہ ہے ہاں اکثرطبعیات وعامہ الٰہیات فلاسفہ مخذولین صدہا کفرصریح وشرک جلی پر مشتمل مثلاً زمان وحرکت وافلاک وہیولی وصورت جرمیہ ونوعیہ وسفسطات وانواع موالید ونفوس کاقدم اور خالقیت عقول مفارقہ وانکار فاعل مختار وعلم جزئیات وحشراجساد وجنت ونارواحالہ خرق افلاک واعادہ معدوم وصدورکثیر عن الواحد وغیرہا اور ان کے سوا اور اجزأ وفروع فلسفہ بھی کفریات صریحہ ومحرمات قبیحہ سے مملو ہیں مثلاً علم طلسمات ونیرنجات جزء التاثیر من علم النجوم واحکام زائچہ عالم وزائچہ موالید وتسییرات وفردارات وسیمیا وغیرہا یہ تو درس میں داخل نہیں طبعیات والٰہیات پڑھائے جاتے ہیں۔

فاقول: وباﷲ التوفیق(پھر میں کہتاہوں توفیق اﷲ تعالٰی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ت)

انصافاً ان کی تعلیم وتعلم زہرمہلک ونارمحرق ہے مگر بچند شروط: اوّلاً انہماک فلسفیات وتوغل مزخرفات نے معلم کے نورقلب کو منطقی اور سلامت عقل کو منتفی نہ کردیا ہو کہ ایسے شخص پرخود ان علوم ملعونہ سے یک لخت دامن کشی فرض اور اس کی تعلیم سے ضرراشد کی توقع۔

ثانیاً وہ عقائد حقہ اسلامیہ سنیہ سے بروجہ کمال واقف وماہر اور اثباتِ حق وازہاق باطل پربعونہٖ تعالٰی قادر ہو ورنہ قلوب طلبہ کا تحفظ نہ کرسکے گا۔

ثالثاً وہ اپنی اس قدر کو بالتزام تام ہرسبق کے ایسے محل ومقام پراستعمال بھی کرتا ہے ہرگز کسی مسئلہ باطلہ پر آگے نہ چلنے دے جب تک اس کا بطلان متعلم کے ذہن نشین نہ کردے غرض اس کی تعلیم کا رنگ وہ ہو جو حضرت بحرالعلوم قدس سرہ الشریف کی تصانیف شریفہ کا۔

رابعاً متعلم کو قبل تعلیم خوب جانچ لے کہ پوراسنی صحیح العقیدہ ہے اور اس کے قلب میں فلسفہ ملعونہ کی عظمت ووقعت متمکن نہیں۔

خامساً اس کا ذہن بھی سلیم اور طبع مستقیم دیکھ لے بعض طبائع خواہی نخواہی زیغ کی طرف جاتے ہیں حق بات اُن کے دلوں پر کم اثرکرتی اور جھوٹی جلد پیرجاتی ہے،
قال اﷲ تعالٰی وان یرواسبیل الرشد لایتخذوہ سبیلاo وان یرواسبیل الغیّ یتخذوہ سبیلا۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اگردرستی اور ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس پر نہیں چلتے اور اگرگمراہی کی راہ دیکھ لیں تو اس پرچلنے لگتے ہیں۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۷/ ۱۴۶)
بالجملہ گمراہ ضال یا مستعد ضلال کو اس کی تعلیم حرام قطعی ہے ع

اے لوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار

سادساً معلم ومتعلم کی نیت صالحہ ہو نہ اغراض فاسدہ۔

سابعاً تنہا اسی پرقانع نہ ہو بلکہ دینیات کے ساتھ ان کا سبق ہو کہ اس کی ظلمت اس کے نور سے متجلی ہوتی رہے ان شراط کے لحاظ کے ساتھ بعونہ تعالٰی اس کے ضرر سے تحفظ رہ گا اور اس تعلیم وتعلم سے انتفاع متوقع ہوگاکہ
علمت الشرلاللشرلکن لتوقیہ     فمن لم یعرف الشر فیوما یقع فیہ
 (میں نے شرکو اس سے بچنے کے لئے معلوم کیانہ کہ شر کے لئے، پھر جوکچھ شر کونہیں پہچانتا تو کسی نہ کسی دن اس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ت)

تشحیذاذہان ہوگی ضلالات فلسفہ کے رَد پر قدرت ملے گی بہت بدمذہب کے مناظرات میں کفار فلاسفہ کا دامن پکڑتے ہیں ان کی دنداں شکنی ہوسکے گی انہیں اغراض سے درس نظامی میں یہ کتب رکھی گئی تھیں کہ اب شدہ شدہ ازکجاتا کجا نوبت پہنچی یہاں تک کہ بہت حمقاء کے نزدیک یہی جہالات باطلہ علوم مقصودہ قرارپاگئیں جس کی شناعت کا قدرے بیان فقیر نے اپنے رسالے مقامع الحدید علٰی خدالمنطق الجدید (۱۳۰۴ھ) میں کیا وبا ﷲ التوفیق، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم (اﷲ تعالٰی ہی سے توفیق کی طلب اورآرزو ہے، اور اﷲ پاک، برتر اور خوب جاننے والاہے، اور اس کا علم نہایت درجہ کامل اوربڑاپختہ ہے۔ت)

(۲) کلام قدماء واصول فقہ کی سمجھ میں طبعیات والٰہیات فلسفہ کی اصلاً حاجت نہیں،
Flag Counter