Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
150 - 190
اسی حدیث کا پورا خلاصہ ہے کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:    ؎
کل العلوم سوی القراٰن مشغلۃ     الا الحدیث وعلم الفقہ فی الدین۱؎
 (قرآن وحدیث اور فقہ دینی کے علاوہ تمام علوم ایک مشغلہ ہیں۔ت)

یہ مجمل کلام ہے باقی تفصیل مقام کے لئے دفتر طویل درکار، جسے منظور ہو احیاء العلوم وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ ودرمختار وردالمحتار وغیرہا اسفار علماء کی طرف رجوع کرے،
وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جو کچھ ہم نے بیان کیاہے وہ اہل دانش کے لئے کافی ہے اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اور اس جلیل القدر کا علم نہایت کامل اور بڑاپختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۹۹ تا۳۰۰: ازصاحب گنج گیا      مرسلہ مولوی کریم رضاصاحب ۳۰/شوال ۱۳۱۲ھ 

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعلیم وتعلم فنون عقلیہ مثل منطق وحکمت و ریاضی وغیرہ جائزہے یانہیں؟ اگرجائز نہیں ہے تو ملانظام الدین صاحب کے آج تک ہزاروں علماء دینداردیدہ ودانستہ برضاورغبت کیوں اس امر کے پابند رہے اور ہمیشہ درس دیتے رہے، زید کہتا ہے کہ ہرگز اس علم کاپڑھنا پڑھانا جائزنہیں یہاں تک کہ بسبب اشتمال بعض مقامات توضیح وتلویح کے سائل معقول پر اس کتاب کے پڑھانے سے منع کرتاہے زید کی تقریر سے ترک بعض علوم دینیہ مثل عقائد اوراصول کالازم آتاہے۔

(۲) زید عمروکااستاد ہے اور بوقت درس حدیث کے زید نے عمرو سے عہد لیاتھا کہ تم کبھی فن معقول نہ پڑھانااب عمرو اکثر کتابیں دینیات کی طلبہ کو پڑھاتا ہے اور چونکہ مسائل عقائد اور اصول فقہ کے بسبب عدم مہارت معقولات کے طلبہ کی سمجھ میں بخوبی نہیں آتے ہیں اور طلبہ عمرو کو تقاضا معقولات کے پڑھانے کا کرتے ہیں، اس صورت میں اگر عمروبخیال اس کے کہ طلبہ اگرمعقولات پڑھیں گے تو فن اصول وغیرہ خوب سمجھیں گے معقولات پڑھائے تو عمروبسبب نقض عہد استاد کے آثم ہوگایانہیں، اگر آثم ہوگا تو اس کا کچھ کفارہ ہوسکتاہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب

(۱) نفس منطق ایک عالم آلی وخادم علم اعلی الاعالی ہے اس کے اصل مسائل یعنی مباحث کلیات خمسہ وقول شارح وتقاسیم قضایا وتناقض وعکوس وضاعات خمس کے تعلم میں اصلاً حرج شرعی نہیں، نہ یہ مسائل شرع مطہر سے کچھ مخالفت رکھیں، بیان کرنے والے وائمہ کی مثال میں کل شیئ معلوم ﷲ دائماً (بے شک اﷲتعالٰی کو ہمیشہ ہرچیز کا علم ہے۔ت) کی جگہ کل فلک متحرک دائمًا (ہرآسمان ہمیشہ سے حرکت کرنے والا ہے۔ت) لکھیں تویہ اُن کی تقصیر ہے منطق کا قصور نہیں، ائمہ مؤیدین بنوراﷲ المبین اپنی سلامت فطرت عالیہ کے باعث اس کی عبارات واصطلاحات سے مستغنی تھے تو ان کے غیر بیشک ان قواعد کی حاجت رکھتے ہیں جیسے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو نحووصرف ومعانی بیان وغیرہا علوم کی احتیاج نہ تھی کہ یہ اُن کے اصل سلیقہ میں مرتکز تھے اس سے ان کے غیر کا افتقار منتفی نہیں ہوتا ولہٰذا امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی نے فرمایا:
من لم یعرف المنطق فلاثقۃ لہ فی العلوم اصلا۱؎
جو کوئی علم منطق سے نا آشنا ہے اس کے علوم 

ناقابل اعتبار وناقابل اعتماد ہیں۔(ت) (۱؎ )
بہت ائمہ کرام نے اس سے اشتغال رکھا بلکہ اس میں تصانیف فرمائیں بلکہ اسفاردینیہ مثل کتب اصول فقہ واصول دین کا مقدمہ بنایا، ردالمحتار میں ہے:
اما منطق الاسلامیین الذی مقدماتہ قواعد اسلامیۃ فلاوجہ للقول بحرمتہ بل سماہ الغزالی معیار العلوم وقدالف فیہ علماء الاسلام ومنھم المحقق ابن الھمام فانہ اتی منہ ببیان معظم مطالبہ فی مقدمۃ کتابہ التحریر الاصولی۲؎۔
اہل اسلام کی منطق کو حرام کہنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس کے مقدمات قواعد اسلامیہ ہیں، بلکہ امام غزالی نے تو معیار العلوم(علوم کے پرکھنے کی کسوٹی) قراردیا ہے اور اس میں علمائے اسلام نے سیکڑوں تصنیفات کی ہیں، انہی میں سے محقق ابن ہمام بھی ہیں انہوں نے اپنی کتاب ''التحریر الاصولی'' کے مقدمہ میں اس کا ایسا بیان فرمایا جس کے مطالب عظیم ہیں۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         مقدمہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۳۱)
ہاں علم آلی سے بقدر آلیت اشتغال چاہئے اس میں منہمک ہوجانے والا سفیہ جاہل اور مقاصد اصلیہ سے محروم وغافل ہے، اسی طرح بہت اجزائے حکمت مثل ریاضی ہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وارثماطیقی وسیاحت ومرایاومناظر وجرثقیل وعلم مثلث کروی ومثلث مسطح وسیاست مدن وتدبیر منزل ومکائد حروب وفراست وطب وتشریح وبیطرہ بیزرہ وعلم زیجات واسطرلاب و آلات رصدیہ ومواقیت ومعادن ونباتات وحیوانات وکائنات الجو وجغرافیہ وغیرہا بھی شریعت مطہرہ سے مضادت نہیں رکھتے بلکہ ان میں بعض بلاواسطہ بعض بالواسطہ اموردینیہ میں نافع ومعین اوربعض دیگر دنیا میں بکارآمد ہیں اگرچہ مقاصد اصلیہ کے سوا حاجت سے زیادہ کسی شے میں تو غُل فضولی و بیہودگی ہے
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ۳؎۔
کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ لایعنی امور کو ترک کردے۔(ت)
 (۳؎ مسند امام احمدبن حنبل     حدیث حسین بن علی رضی اﷲ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت         ۱/ ۳۰۱)
خصوصاً علم طب کا مفید ومحمود ومحتاج الیہ ہونا توظاہر یونہی فرائض کے لئے ضروری حساب اور ہمیں معرفت صحیحہ اوقات طلوع فجر کاذب وصادق وشمس وضحوہ کبرٰی واستواء وظل ثانی غایۃ الارتفاع و مثل اول وثانی وغروب شمس وشفق احمروابیض کہ نمازوسحری وافطار وغیرہا اموردینیہ ومسائل شرعیہ میں ان کی سخت حاجت عامہ کو بروجہ تحقیق قدرت بشری بے علم زیجات یاآلات رصدیہ نامتصور ان کی ناواقفی سے بہت لوگ سخت غلطیوں میں مبتلا رہتے ہیں مثلاً اذہان عامہ میں جماہواہے کہ جس وقت توپ چلی اور جس گھڑی میں بارہ بجے استواء ہوگیا جب تک وقت ظہرنہ آیاتھا اور اس کے بعد شروع ہوگیا حالانکہ دونوں غلط، بعض موسموں میں ہنوز توپ چلنے، بارہ بجنے میں پاؤ گھنٹہ یازائد باقی ہوتاہے کہ وقت ظہرہوگیا اور بعض میں سوا بارہ بجے بھی وقت ظہر نہیں ہوتا اوقات سحری وافطار میں عوام جہال کی جنتریوں یاناواقف پڑھے لکھوں کی فہرستوں پر عمل کرتے اور بلاوجہ بزعم احتیاط دونوں جانب تعجیل سحور وتاخیر افطار سے ترک سنت مؤکدہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرمصررہتے ہیں، بعض حضرات بنام حفظ سنت تاخیر سحوروتعجیل افطار میں حد سے متجاوز ہوکر صحت وبطلان صوم کو حالت شک میں ڈال دیتے ہیں، یہ سب علم زیجات سے ناواقفی پرمبنی ہے، ابھی چند سال ہوئے گنگوہ سے آئے ہوئے کچھ مسائل فقیر کے پاس بغرض استصواب آئے جن میں تین سوال متعلق ضحوہ کبرٰی ونیت صوم وصلوٰۃ تھے بعض بے علم مفتیوں نے کہا کہ آج کل بہت عامیوں کے معتمد ٹھہرے ہیں ان میں دوکاجواب تو قطعاً قلم انداز کیاایک کا جواب جودیانہ دینا اس سے ہزاردرجہ بہترتھا وہ فاحش غلطیاں کیں جن سے احکام شرعیہ یکسرمنقلب ہوگئے یہ وہی ناواقفی علم زیجات ومیقات تھی زید وعمر وپدروپسر نے ایک تاریخ معین میں دومختلف شہروں میں ٹھیک طلوع شمس کے ساتھ انتقال کیاناواقف فرائض دان بخیال اتحادوقت موت مطلقاً حکم عدم توریث کرے گا اور و اقف اطوال وعروض بلاد ودقائق مرئیہ قطرشمس ومطالع بلدیہ بروج مستخرجہ عندتقارب الامر خصوصاً وقت وقوع کہ دربدرجات عروض ودرج سواجمیعا کماھوالغالب بموامرہ زیج نہ بمجرد تعدیل بین السطرین کے لحاظ سے حکم صحیح دے گا۔
Flag Counter