اخرج ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان والبیھقی عن ابی درداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال سعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول فذکر الحدیث فی فضل العلم وفی اٰخرہ ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولادرھما ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر۱؎۔
ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور بیہقی نے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ ارشاد فرماتے سنا، پھر انہوں نے فضیلت علم میں حدیث بیان فرمائی اور اس کے آخر میں فرمایا کہ بلاشبہہ علماء انبیا کے وارث ہیں اور انبیاء کرام نے درھم ودینار ورثہ میں نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے وراثت میں علم چھوڑا ہے پھر جس نے اس کو حاصل کیا تو اس نے وافر حصہ حاصل کیا۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فضل العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷)
بس ہر علم میں اسی قدر دیکھ لینا کافی کہ آیا یہ وہی عظیم دولت نفیس مال ہے جو انبیاعلیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ترکہ میں چھوڑا جب تک تو بیشک محمود اور فضائل جلیلہ موعود کا مصداق، اور اس کے جاننے والے کو لقب عالم ومولوی کا استحقاق ورنہ مذموم وبد ہے جیسے فلسفہ ونجوم یا لغو وفضول جیسے قافیہ وعروض یا کوئی دنیا کاکام جیسے نقشہ ومساحت، بہرحال اُن فضائل کا مورد نہیں، نہ اس کے صاحب کو عالم کہہ سکیں۔ ائمہ دین فرماتے ہیں جو علم کلام میں مشغول رہے اس کانام دفترِ علماء سے محوہوجائے،
فی الطریقۃ المحمدیۃ عن التاتارخانیۃ عن ابی اللیث الحافظ وھو کان بسمرقند متقدما فی الزمان علی الفقیہ ابی اللیث قال من اشتغل بالکلام محی اسمہ من العلماء۲؎۔
طریقہ محمدیہ میں تاتارخانیہ کے حوالے سے ابواللیث حافظ سے منقول ہے یہ بزرگ سمرقند کے رہنے والے تھے اور مشہور فقیہ ابواللیث سے زمانے میں پہلے ہوئے ہیں، انہوں نے فرمایا جوعلمِ کلام میں مشغول ہوگیا اس کا نام زمرہ علماء سے مٹ گیا۔
(۲؎ الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی فی منہی عنہا مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۹۳ و ۹۴)
سبحان اﷲ! جب متاخرین کا علم کلام جس کے اصل اصول عقائد سنت واسلام ہیں بوجہ اختلاط فلسفہ وزیادات مزخرفہ مذموم ٹھہرا اور اس کا مشتغل لقب عالم کا مستحق نہ ہوا تو خاص فلسفہ و منطق فلاسفہ ودیگر خرافات کا کیا ذکرہے، ولہٰذا حکم شرعی ہے کہ اگر کوئی شخص علمائے شہر کے لئے کچھ وصیت کرجائے تو ان فنون کا جاننے والا ہرگز اس میں داخل نہ ہوگا،
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی لاھل العلم ببلدۃ کذا فانہ یدخل فیہ اھل الفقہ واھل الحدیث ولایدخل من یتکلم بالحکمۃ۱؎ الخ ونقل مثلہ فی شرح الفقہ الاکبر للمتکلمین عن کتب الفتاوٰی لاصحابنا وسمی منھا الظھیریۃ ۔
فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے روایت ہے اگر کوئی شخص شہر کے اہل علم کے لئے کسی چیز کی وصیت کرجائے تو یقینا اس میں اہل فقہ اور اہل حدیث داخل ہوں گے لیکن جو علم حکمت میں کلام کرے وہ اس وصیت میں داخل نہیں الخ اور اسی جیسا کلام ہمارے اصحاب کے فتاووں کے حوالے سے ''شرح فقہ اکبر'' میں متکلمین کے متعلق ذکر کیاگیا ہے ان فتاووں میں سے فتاوٰی ظہیریہ کا خاص نام لیاگیا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوصایا الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۲۱)
فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ قرآن وحدیث سے صدہادلائل اس معنی پر قائم کرسکتاہے کہ مصداق فضائل صرف علوم دینیہ ہیں وبس۔ ان کے سوا کوئی علم شرع کے نزدیک علم، نہ آیات واحادیث میں مراد، اگرچہ عرف ناس میں باعتبار لغت اسے علم کہاکریں ہاں آلات ووسائل کے لئے حکم مقصود کا ہوتاہے مگر اسی وقت تک کہ وہ بقدر توسل وتقصد توسل سیکھے جائیں اس طور پر وہ بھی موردِفضائل ہیں جیسے نماز کے لئے گھر سے جانے والوں کو حدیث میں فرمایا کہ وہ نماز میں ہے جب تک نماز کا انتظار کرتا ہے، نہ یہ کہ انہیں مقصود قراردے لیں اور ان کے توغل میں عمر گزاردیں نحوی لغوی ادیب منطقی کہ انہیں علوم کا ہو رہے اور مقصود اصلی سے کام نہ رکھے زنہار عالم نہیں کہ جس حیثیت کے صدقہ میں انہیں نام ومقام علم حاصل ہوتا جب وہی نہیں تو یہ اپنی حد ذات میں نہ اُن خوبیوں کے مصداق تھے نہ قیامت تک ہوں، ہاں اسے یہ کہیں گے کہ ایک صنعت جانتا ہے جیسے آہنگرونجار، اور فلسفی کے لئے یہ مثال بھی ٹھیک نہیں کہ لوہار بڑھئی کو ان کا فن دین میں ضرر نہیں پہنچاتا، اور فلسفہ تو حرام و مضراسلام ہے، اس میں منہمک رہنے والا اجہل جاہل، اجہل بلکہ اس سے زائد کا مستحق ہے، لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم، ہیہات ہیہات اسے علم سے کیامناسبت، علم وہ ہے جو مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ترکہ ہے، نہ وہ جو کفارِ یونان کا پس خوردہ۔
سیّدی عارف باﷲ فاضل ناصح عبدالغنی بن اسمٰعیل نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں: الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم لم یکونوا یشغلوا انفسھم بھٰذا الفشار الذی اخترعہ الحکماء الفلاسفۃ بل من اعتقد فی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یعلم ھٰذہ الشقاشق والھذیانات المنطقیۃ فھو کافر لتحقیرہ علم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎ الخ قلت فاذا کان ھذا قولہ فی المنطق فماظنک بالتفلسف الموبق نسأل اﷲ العافیۃ۔
صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم ایسے نہ تھے کہ وہ اپنے آپ کو اس خلفشار میں مشغول رکھتے کہ جس کو حکماء فلاسفہ نے ایجاد کیا بلکہ جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد رکھا کہ وہ منطقی یا وہ گوئی اور غیرمعقول باتیں جانتے تھے تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علم کی تحقیر کی الخ۔ میں کہتاہوں جب منطق کے بارے ان کا یہ قول ہے تو پھر تباہ کن فلسفہ کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔ ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت چاہتے ہیں۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ النوع الثانی من الانواع الثلاثۃ فی العلوم المنتہی عنہا مکتبہ نوری رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۳۸)
اسی طرح وہ ہیئت جس میں انکار وجود آسمان وتکذیب گردش سیارات وغیرہ کفریات وامور مخالفہ شرع تعلیم کئے جائیں وہ بھی مثل نجوم حرام وملوم اور ضرورت سے زائد حساب یاجغرافیہ وغیرہما داخل فضولیات ہیں۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: علم تین ہیں قرآن یا حدیث یا وہ چیز جو وجوب عمل میں ان کی ہمسر ہے (گویا اجماع وقیاس کی طرف اشارہ فرماتے ہیں) اور ان کے سوا جو کچھ ہے سب فضول۔
اخرج ابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم العلم ثلثۃ اٰیۃ محکمۃ او سنّۃ قائمۃ اوفریضۃ عادلۃ وماکان سواذٰلک فھو فضل۲؎۔
ابوداؤد، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عبداﷲ بن عمروبن عاص(اﷲ تعالٰی دونوں سے راضی ہو) کے حوالے سے تخریج کی، انہوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا علم تین ہیں: (۱) پختہ آیت (۲) سنت قائمہ (۳) فریضہ عادلہ (یعنی وہ ضروری چیز جو وجوب عمل میں کتاب وسنت کے برابرہو) اور جو کچھ ان کے علاوہ ہے وہ زائد ہے۔(ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الفرائض باب ماجاء فی تعلیم الفرائض آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۴۳)
اشعہ میں ہے:
فریضۃ عادلۃ فریضہ کہ مثل وعدیل کتاب وسنت ست اشارت ست باجماع وقیاس کہ مستند ومستنبط انداز ان وبایں اعتبار آنرامساوی ومعادل کتاب وسنت داشتہ اند وتعبیر ازاں بفریضہ کردند تنبیہ برآنکہ عمل بآنہا واجب ست چنانکہ بہ کتاب وسنت وماکان سوی ذٰلک فھوفضل وہرچہ کہ ہست از مواد علوم جزیں پس آں فضل ست ولایعنی ؎
ہرچہ قال اﷲ نے قال الرسول
فضلہ باشد فضلہ من خواہ اے فضول۲؎ ملخصاً
''فریضۃ عادلۃ'' جوکتاب وسنت کے مماثل اور ان کے برابر ہو، یہ اجماع اور قیاس کی طرف اشارہ ہے، جو ان سے منسوب اور ماخوذ ہو، اسی اعتبار سے اس کو کتاب وسنت کے مساوی اور برابر ٹھہراتے ہیں، اور اس کی تعبیر فریضہ کے ساتھ کرکے اس بات پر آگاہ کیا کہ اس پر کتاب وسنت کی طرح عمل کرناواجب ہے اور جوکچھ ان تین کے علاوہ ہے وہ فالتو ہے یعنی ان کے علاوہ جو مواد علوم ہے وہ فضول اور لایعنی ہے ؎ جو کچھ اﷲ تعالٰی اور رسول کا ارشاد نہیں، وہ زائد ہے اسے فضول اسے زائد سمجھو۔ ملخصاً(ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب العلم الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۶۷)
(۲؎ دیوان امام الشافعی قافیۃ النون (افضل العلوم) دارالفکر بیروت ص۳۸۸)