Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
147 - 190
لان اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات ولذا قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا امرتکم بشیئ فأتوا منہ مااستطعتم واذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ۱؎ وروی فی الکشف حدیثا لترک ذرۃ مما نھی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلین، قالہ فی الاشباہ۲؎ ولنا فی المقام تحقیقات نفائس الممنا بکثیر منھا فی ماعلقنا علی کتاب ''اذاقۃالاثام لمانعی عمل المولد والقیام من تصانیف خاتمۃ المحققین الاماجد سیّدنا الوالد قدس سرّہ الماجدـ
کیونکہ ممنوعات سے متعلق شرح کا حکم مہتم ہوتا ہے جبکہ مامورات کا اہتمام اس قدر نہیں ہوتا، اسی لئے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت پربجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اجتناب کرو۔ کشف میں مروی ہے کہ اﷲ تعالٰی کے منع کردہ سے ذرّہ بھربھی بازرہنا جِن وانسان کی عبادت سے افضل ہے، انہوں نے اشباہ میں بیان کیا ہے، ہمارا یہاں کلام نفیس ہے جس کو ہم نے اپنے والدگرامی قدر کی کتاب ''اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام'' کے حاشیہ میں ذکرکیاہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الاعتصام    باب الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۸۲)

(صحیح مسلم         کتاب الفضائل    باب توقیرہ صلی اﷲ علیہ وسلم الخ            قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲/ ۲۶۲)

(۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول         القاعدۃ الخامسہ                 ادارۃ القرآن کراچی     ۱ /۱۲۵)
دونوں کی قوت کم وبیش ہو اس صورت میں اقوی کا اتباع ہوگا، سبب ہو خواہ غرض۔ مثلاً مالِ غیر بے اذن لینا حرام ہے اور خوک وخمر کی حرمت اس سے بھی زائد اور سدرمق اور دفع جوع قاتل وعطش مہلک کی فرضیت ان سب سے اقوی ہے لہٰذا حالت مخمصہ میں ان اشیاء کا تناول اسی قدر جس سے ہلاک دفع ہو لازم ہو ا اور جانب غرض کو ترجیح دی گئی اور اگر مضطر کچھ نہیں پاتا مگر یہ کہ کسی انسان کاہاتھ کاٹ کرکھائے تو حلال نہیں اگرچہ اس شخص نے اجازت بھی دی ہو کہ حرمت انسان اس فرض سے اقوی ہے لہٰذا جانب سبب کو ترجیح رہی۔
فی الدر الاکل للغذاء والشرب للعطش ولو من حرام اومیتۃ او مال غیرہ وان ضمنہ فرض، یثاب علیہ بحکم الحدیث ولکن مقدار مایدفع الانسان الھلاک عن نفسہ۱؎ اھ وفی الشامیۃ عن وجیز الکردری ان قال لہ اٰخر اقطع یدی وکلھا لایحل لان لحم الانسان لایباح فی الاضطرار لکرامتہ۲؎۔
درمختار میں ہے: غذا کے لئے کھانا اور پیاس کی وجہ سے پینا اگرچہ حرام، مردار یا غیرکامال ہو توجب اس کے ضمن میں فرض ہے تو ثواب پائے گا حدیث کے مطابق۔ لیکن یہ اس مقدار کے لئے جس قدر سے انسان اپنے کو ہلاکت سے بچاسکے،اھ، اور شامی کے فتاوٰی میں وجیز کردری سے منقول ہے اگر کسی نے دوسرے شخص کو کہا میراہاتھ کاٹ کر کھالو، تو یہ حلال نہیں کیونکہ انسان کا گوشت اضطراری حالت میں بھی مباح نہیں انسانی کرامت کی وجہ سے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الحظروالاباحۃ         مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۳۶)

(۲؎ ردالمحتار      کتاب الحظروالاباحۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۵)
یہ تقریر منیر حفظ رکھنے کی ہے کہ اوّل تا آخر اس تحقیق جمیل وضبط جلیل کے ساتھ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی وباﷲ التوفیق انہیں ضوابط سے دوسرے سوال اعنی مسئلہ سوال کا حکم منکشف ہوسکتاہے جب غرض ضروری نہ ہو تو سوال حرام، مثلاً آج کا کھانے کو موجود ہے توکل کے لئے سوال حلال نہیں کہ کل تک کی زندگی بھی معلوم نہیں کھانے کی ضرورت درکنار۔ یوہیں رسومِ شادی کے لئے سوال حرام کہ نکاح شرع میں ایجاب وقبول کانام ہے جس کے لئے ایک پیسہ کی بھی ضرورت شرعاً نہیں، اور اگر غرض ضروری اور بے سوال کسی طریقہ حلال سے دفع ہوسکتی ہے جب بھی سوال حرام، مثلاً کھانے کو کچھ پاس نہیں مگر ہاتھ میں ہنر ہے یا آدمی قوی تندرست قابل مزدوری ہے کہ اپنی صنعت یا اُجرت سے بقدرِ حاجت پیداکرسکتاہے قبل اس کے کہ احتیاج تابحد مخمصہ پہنچے تو اسے سوال حلال نہیں، نہ اسے دینا جائز کہ ایسوں کو دینا انہیں کسبِ حرام کا مؤید ہوتا ہے اگر کوئی نہ دے تو جھَک مار کر آپ ہی محنت مزدوری کریں اور اگر دوسرا طریقہ حلال میسرنہیں حرفت وصنعت کچھ نہیں جانتا نہ محنت ومزدوری پرقادر ہے خواہ بوجہ مرض یا ضعف خلقی یا نازپروردگی یا کسب کرتو سکتا ہے مگرحاجت فوری ہے کسب پرمحول کرنا تاتریاق ازعراق کامضمون ہواجاتا ہے تو سوال حلال ہوگا کہ ہران صورتوں میں کارروائی یوہیں ہوسکتی ہے کہ مانگ کرلے یا چھین کر یا چُرا کر یا کوئی حرام یا مردار کھائے اور سرقہ وغصب کی حرمت سوال سے اشد ہے اور حرام ومردار کی غصب وقہر سے بھی سخت تر، یہ صورتیں تو ظاہر ہیں اور علماء نے بوجہ اشتغال جہاد ومشغولی طلب علم دین، فرصت کسب نہ پانے کو بھی وجوہ معذوری سے شمارفرمایا اور ایسے کے لئے سوال حلال بتایا جب مدار ضرورت غرض وتعین ذریعہ پرٹھہرا تو کچھ اکل وشرب ہی کی تخصیص نہیں کہ جس کے پاس ایک دن کا قوت ہے اسے سوال مطلقاً منع ہو بلکہ اگر دس دن کا کھانا موجود ہے اور کپڑا نہیں یا کپڑا بھی ہے مگر ہلکا کہ جاڑے کی آفت روک سکتا نہیں اور طریقہ تحصیل کوئی دوسرا نہیں کپڑے کے لئے سوال ناروانہیں، یوہیں اگر کھانے پہننے سب کو موجود ہے مگر مدیون ہے تو اگر کچھ مال فاضل رکھا ہے جسے بیچ کر ادا کرے یا کماکر دے سکتاہے تو سوال حرام، اور اگر کمائی سے بعد نفقہ ضروری کے کچھ نہیں بچا سکتا اور قرض خواہ گردن پر چھری رکھے ہوئے ہے تو ادا کے لئے سوال حلال۔
فی الدرالمختار لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کالتصحیح المکتسب و یأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ولوسأل للکسوۃ او لاشغالہ عن الکسب بالجہاد اوطلب العلم جاز لو محتاجا۱؎ اھ وفیہ من النفقات تحب ایضا لکل ذی رحم محرم صغیرا او انثٰی ولو بالغۃ صحیحۃ او الذکر بالغا عاجزا عن الکسب بنحو زمانۃ کعمی وعتہ وفلج زاد فی الملتقی والمختار اولایحسن الکسب لحرفۃ او لکونہ من ذوی البیوتات۱؎ اھ قال الشامی ای من اھل الشرف۲؎ الخ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے جائزنہیں اسے سوال جس کے پاس ایک دن کا گزارہ بالفعل یا بالقوۃ ہے جیسا کہ تندرست شخص کمائی کے قابل ہو اور اس کے حال سے آگاہی کے باوجود اس کو دینے والا گنہگار ہوگا حرام پراعانت کی وجہ سے، اگر جسم ڈھانپنے کے لئے یاجہاد میں مصروف ہونے کی وجہ سے کسب نہ کرسکنے یاطلب علم کی مصروفیت میں کسب نہ کرسکنے کی وجہ سے سوال کرے توضرورت یاحاجت مند ہو تو سوال کرنا جائزہے اھ، اسی کے باب النفقہ میں ہے نفقہ واجب ہے ہرنابالغ ذی محرم یاعورت اگرچہ بالغہ صحیحہ یامرد بالغ ہو لیکن جسمانی معذور ہونے کی وجہ سے کسب سے عاجز ہے جیسے نابینا، ہاتھ پاؤں مفلوج وغیرہ، ملتقی اور مختار میں زائد کیا جو کوئی اچھا کسب نہیں رکھتا یاگھریلو عورتیں اھ۔ شامی نے فرمایا یعنی اہل شرف لوگ الخ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الزکوٰۃ     باب المصرف     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۴۲)

 (۱؎ الدرالمختار         کتاب الطلاق    باب النفقۃ         مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۲۷۶)

(۲؎ ردالمحتار        کتاب الطلاق    باب النفقۃ         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲/ ۶۸۱)
رسالہ

خیرالأمال فی حکم الکسب والسوال

ختم ہوا۔
Flag Counter