مگرجبکہ روزے کی قوّت مقصود ہو یا مہمان کا ساتھ دینا۔
فی التنویر مباح الی الشبع لتزید قوتہ وحرام وھو مافوقہ الا ان یقصد قوۃ صوم الغداولئلا یستحیی ضیفہ۲؎اھ اقول: والاستثناء اذا حمل علی ماذکرت صح قطعا ویکون قولہ حرام یشمل المکروہ فلایکون منقطعا فافھم۔
تنویر میں ہے سیر ہونے تک کھانا مباح ہے جبکہ حصول قوت مقصد ہو اور اس سے زائد حرام ہے، لیکن اگر صبح روزہ رکھنے یا مہمان کے حیاء کے احساس کی وجہ سے زائد کھائے تو حرام نہ ہوگااھ اقول: (میں کہتاہوں) آپ کے ذکر کردہ پر محمول کیاجائے تو استثناء قطعاً صحیح ہے اور حرام سے مراد مکروہ تحریمہ ہو تو یہ استثناء منقطع نہ ہوگا، غورکرو۔(ت)
یوہیں لباس شہرت پہننا یعنی اس قدر چمکیلا نادر ہو جس پر انگلیاں اُٹھیں اور بالقصد اتنا ناقص و خسیس کرنا بھی ممنوع ہے جس پر نگاہیں پڑیں یونہی ہرانوکھی اچنبھے کی ہیأت وضع تراش خراش کہ وجہ انگشت نمائی ہو۔
سنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے بسندِ حسن مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من لبس ثوب شھرۃ البسہ اﷲ یوم القٰیمۃ ثوبا مثلہ۳؎ وعند ابن ماجۃ ثوب مذلۃ۴؎ زاد ابوداؤد فی روایۃ ثم یلھب فیہ النار۱؎۔
جس نے شہرت کا لباس پہنا اس کو اﷲ تعالٰی بھی ایسا ہی لباس پہنائے گا، اور ابن ماجہ میں ''ذلّت کا لباس'' اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ''پھرجہنم کی آگ میں جلایاجائے گا'' کے الفاظ ہیں۔(ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۲)
(۴؎ سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب من لبس شہرۃ من الثیاب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۶)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۲)
جو شہرت کے کپڑے پہنے گا اﷲ تعالٰی اسے روزِقیامت ویساہی لباسِ شہرت پہنائے گا جس سے عرصات محشرمیں معاذاﷲ ذلّت وتفضیح ہو پھر اُس میں آگ لگاکر بھڑکادی جائے گی والعیاذباﷲ تعالٰی۔
فی ردالمحتار عن الدر المنتقی نھی عن الشھر تین وھو ماکان فی نھایۃ النفاسۃ اوالخساسۃ۲؎اھ اقول: ولایختص بھما بل لوکان بینھما و کان علی ھیأۃ عجیبۃ غریبۃ توجب الشھرۃ وشخوص الابصار کان لباس شھرۃ قطعا۔
ردالمحتار میں الدرالمنتقٰی سے منقول ہے کہ دو شہرتوں سے منع فرمایا، ایک حد سے زیادہ نفاست اور دوسری حد سے زیادہ رسوائی سے، اھ، اقول: (میں کہتاہوں) ان دونوں سے خاص نہیں بلکہ عجیب وغریب حالت بنانا جو شہرت کا باعث ہو اور لوگوں کے لئے نظارہ بنے وہ قطعاً سب شہرت کا لباس ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۳)
حرام: جیسے ریشمی کپڑے، مغرق ٹوپیاں، یوہیں پیٹ سے اوپر اتناکھانا جس کے بگڑجانے کا ظن ہو۔
فی الدر حرام فوق الشبع وھو اکل طعام غلب علی ظنہ انہ افسد معدتہ وکذا فی الشرب قھستانی۳؎۔
درمختار میں ہے سیرابی سے زیادہ وہ کھانا حرام ہے جس کے متعلق ظن غالب ہو کہ وہ معدہ کو خراب کرے گا، اور یونہی پینے کا معاملہ ہے، قہستانی۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶)
جب یہ صورتیں معلوم ہولیں اب احکام کسب کی طرف چلئے، فاقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے۔ت) ظاہر ہے کہ کسب یعنی تحصیل مال کو خواہ روپیہ ہو یا طعام یالباس یا کوئی شے سبب وغرض دونوں سے ناگزیر ہے، اور احکامِ نہ گانہ ۹ میں پہلے چار جانبِ طلب ہیں جن میں فرض وواجب کی طلبِ جازم ہے اور سنت ومستحب کی غیرجازم اور پچھلے چارجانب نہی ہیں جن میں مکروہ تنزیہی واساءت سے نہی ارشادی اور تحریمی وحرام سے حتمی اور مباح طلب ونہی دونوں سے خالی، اب اگر سبب وغرض دونوں اقسام تسعہ سے ایک ہی قسم کے ہیں جب توظاہر کہ وہی حکم کسب پر ہوگا مثلاً ذریعہ بھی فرض اور غرض بھی فرض، تو ایسا کسب دوہرافرض ہوگا اور دونوں حرام تو دوناحرام وعلٰی ہذا القیاس اور اگر مختلف اقسام سے ہیں تو تین حال سے خالی نہیں:
اولاً اختلاف جانب واحد مثلاً طلب یانہی کے اقسام میں ہو جیسے سبب فرض ہو غرض واجب یاسبب مکروہ تنزیہی غرض حرام۔
ثانیاً اختلاف، اختلاف جانب وسط ہو مثلاً سبب واجب یاحرام اور غرض مباح یا بالعکس، ان دونوں صورتوں میں کسب اشد واقوی کا تابع ہوگا مثلاً فرض ووجوب کا اختلاف ہے تو فرض اور وجوب وسنیت کا تو واجب، اور ایک مباح اور دوسرا اور کسی قسم کا ہے تو کسب اسی قسم کا ہوگا۔
لما مر من ان المباح ساذج عار یکتسی بکل رداء ویتلون بلون کل مایمارج والضعیف من جانب یندرج فی القوی منہ۔
جیسے گزرا کہ مباح، احکام سے خالی ہوتااور ہرپہلو اختیار کرلیتاہے، اور ایک طرف سے ضعیف ہو تو اپنے سے قوی میں درج ہوتاہے۔(ت)
ثالثاً اختلاف، اختلاف جانبین ہو یعنی سبب جانب طلب میں ہے اور غرض جانب نہی یابالعکس، صورتِ اولٰی میں کسب مطلقاً حکم غرض کا مورد رہے گا، مثلاً غرض حرام ہے تو حرمت وگناہ نقد وقت ہے گو سبب فرض واجب ہو حتی کہ اگر سبب اعلٰی درجہ طلب میں ہو یعنی فرض اور غرض ادنٰی درجہ نہی میں یعنی مکروہ تنزیہی جب بھی کسب مکروہ تنزیہی سے خالی نہیں ہوسکتا اگرچہ سبب فی نفسہٖ فرض ہے وجہ یہ کہ کوئی غرض معین، کسب کے لئے لازم نہیں وہ اختلاف نیت سے مختلف ہوسکتی ہے اور ہروقت اپنے اختیار سے امکانِ تبدل رکھتی ہے، مانا کہ سبب فرض تھا مگر جب اس نے اسے کسی امرِ حرام یا ناپسندیدہ کی نیت سے کیا ضرور حرمت وناپسندی میں گرفتار ہوا کہ ایسی نیت کیوں کی، اگر کوئی نیت فرض یاواجب حاضر نہ تھی تو اقل درجہ نیت مباح پر قادر تھا اس کی نظیر نماز ہے کہ دکھاوے کو پڑھی جائے، اگرچہ نماز فی نفسہٖ فرض ہے مگرنیت خبیثہ موجبِ تحریم ہوگی، اور صورت عکس میں یعنی جب سبب جانب نہی ہوا اور غرض جانبِ طلب۔ اگر وہ سبب متعین نہ تھا بلکہ اس کا غیر کہ نہی سے خالی ہو ممکن تھا تو اس صورت میں بھی کسب مطلقاً مورد نہی ہوگا کہ غرض اگرچہ فرض ہے جب ذریعہ مباح سے مل سکتی تھی تو حرام یا مکروہ کی طرف جانا اپنے اختیار سے ہوا اور اس کا الزام لازم آیا اور اگر سبب متعین تھا کہ دوسرا طریقہ قدرت ہی میں نہیں تو اب دو صورتیں ہوں گی:
اول غرض وسبب کی نہی وطلب دونوں ایک ہی مرتبہ میں ہوں مثلاً سبب حرام، غرض فرض سبب مکروہ تحریمی، غرض واجب، سبب میں اساءت، غرض سنت، سبب مکروہ تحریمی غرض واجب سبب میں اساءت، غرض سنت، سبب مکروہ تنزیہی، غرض مستحب اور صرف اسی قدر کافی نہیں بلکہ نوع واحد میں تفاوت وقوت پر بھی نظرلازم کہ حرام کا ترک فرض ہے اور فرض کا ترک حرام، اور بعض فرض، بعض دیگر سے اعظم وآکد ہوتے ہیں، اور بعض حرام بعض دیگر سے اشنع واشد، تو یہ دیکھاجائے گا کہ مثلاً فرض غرض کے ترک سے جو حرمت لازم آئے گی وہ اس حرمت سے کیا نسبت رکھتی ہے جو اس سبب حرام کے ارتکاب میں ہے جب سب وجوہ سے طرفین میں تساوی قوت ثابت ہو تو حکم کسب میں اتباع سبب یعنی جانبِ نہی کو ترجیح رہے گی،