Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
145 - 190
کپڑے میں اتنی زیادت کہ انتقالات نماز وغیرہ میں زانو نہ کھلیں، یوہیں صدقہ فطر واضحیہ جبکہ بعد وجوب مال نہ رہا، غرض ہرواجب جس کی تحصیل کومال درکار۔

سنت: جیسے نماز کے لئے عمامہ وجُبّہ و ردا وغیرہا لباس مسنون وتجمل عیدین وجمعہ وبنا وتوسیع و تطیب مساجد وصلہ رحم وہدیہ احباب ومواساءت مساکین وخبرگیری یتامٰی وبیوگان وخدمت مہمانان و امثال ذلک سنن مالیہ یوہیں عطرومشک وسرمہ وشانہ وآئینہ بصداتباع اور کھانے میں تہائی پیٹ کی مقدار تک پہنچنا۔

مستحب: جیسے بنائے سقایہ وسبیل وسراومدارس وپُل وغیرہا۔
فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن بعض العلماء فی ذکرمراتب الاکل ''مندوب وھو مایعینہ علی تحصیل النوافل وتعلیم العلم وتعلمہ'' ۱؎۔
ردالمحتار میں تبیین المحارم کی نقل میں بعض علماء سے منقول ہے کہ کھانا کھانے کے مراتب کئی ہیں جن میں مندوب ومستحب وہ ہے جو نوافل اور تعلیم وتعلم کے لئے معاون بنے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الحظروالاباحۃ            داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۱۵)
بلکہ مہمان کے ساتھ پورا پیٹ بھر کرکھانابھی کہ وہ ہاتھ اٹھالینے سے شرماکر بھوکانہ رہے، یوہیں عورت کی سیر خوری اس نیت سے کہ شوہرکے لئے حفظِ جمال کرے، کم خوری لاغری وشکست رنگ وحسن کی موجب نہ ہو۔
فی الدر عن الوھبانیۃ وللزوجۃ التسمین لافوق شبعھا اھ قال الشامی قال الطرسوسی فی الزوجۃ ینبغی ان یندب لھا ذٰلک وتکون ماجورۃ، قال الشارح ولایعجبنی اطلاق اباحۃ ذٰلک فضلا عن ندبہ ولعل ذٰلک محمول علی مااذاکان الزوج یحب السمن والاینبغی ان تکون موزورہ۱؎ اھ اقول: فی ھذا الکلام فان الاکل الی الشبع حلال ونیۃ السمن غایتھا کراھۃ التنزیہ نعم عدم الاجر ظاھر ثم ھذا کلہ فی التسمین اما ماذکرت فواضح لاغبارعلیہ۔
درمختار میں وہبانیہ سے منقول ہے کہ بیوی کو فربہ بننا مندوب ہے جوکہ سیر ہوکر کھانے سے زائد نہ ہواھ علامہ شامی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ طرسوسی نے فرمایا ہے کہ بیوی میں یہ بات مستحب ہے اور وہ اجر پائے گی۔ شارح نے فرمایا مجھے اس بات میں اباحت پسند نہیں چہ جائیکہ مستحب ہو، ہوسکتاہے کہ استحباب کامعاملہ اس صورت میں ہو جب خاوند فربہ پن کو پسند کرتاہو، ورنہ مناسب یہ ہے کہ بیوی معتدل ہو اھ، اقول: (میں کہتاہوں کہ) اس میں کلام ہے کیونکہ سیرہونے تک کھانا حلال ہے اور اس میں فربہ ہونے کی نیت زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہہ ہے، ہاں اجرنہ ہونا ظاہر ہے، پھر یہ بحث فربہ ہونے میں ہے لیکن میں نے جو ذکر کیا وہ واضح اور بے غبار ہے۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار     کتاب الحظروالاباحۃ      فصل فی البیع         مطبع مجتبائی دہلی         ۲/ ۲۵۴)

(۱؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۲۷۵)
مباح: جیسے زینت وآرائش، لباس ومکان وزیورِ زناں۔
فی خزانۃ المفتین بعد مامرومباح و ھوالزیادۃ للزیادۃ والتجمل۲؎۔
خزانۃ المفتین میں گزشتہ مضمون کے بعد ہے احکام انواع میں ایک نوع مباح ہے جیسے خوبصورتی اور جسم کو بڑھانے کے لئے عمدہ کھانا کھانا۔(ت)
 (۲؎ خزانۃ المفتین     کتاب الکراہیۃ        قلمی نسخہ             ۲/ ۲۱۰)
جبکہ یہ سب امو رمنکرات ومقاصد مذمومہ سے خالی ہوں ورنہ مذموم ہیں اور مقاصد محمودہ کے ساتھ بھی خالی مباح نہ رہیں گے مستحب ہوجائیں گے۔
فان المباح اتبع شیئ للنیات کما ذکرہ فی البحر الرائق وردّ المحتار وغیرھما، وذٰلک لخلوہ فی نفسہ عن کل حکم فلایزاحم شیئا یطرأ علیہ من صواحبہ کنیۃ او تأدیۃ الٰی خیر اوشرکمالایخفی۔
مباح چیز نیّت کے تابع ہوتی ہے جیسا کہ بحرالرائق اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے کیونکہ مباح ہرحکم سے خالی ہوتا ہے لہٰذا کسی بھی طاری ہونے والے حکم سے متعارض نہ ہوگا، مثلاً نیت سے خیر یاشر کسی کی نیت مراد ہوسکتاہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت)

مکروہ تنزیہی: جیسے اپنے لئے انواعِ فواکہ سے تفکّہ،
فی الدّر لابأس بانواع الفواکہ وترکہ افضل۔۳؎
درمختار میں ہے مختلف انواع کے پھلوں میں کوئی حرج نہیں جبکہ ترک افضل ہے۔(ت)
 (۳؎ الدرالمختار        کتاب الحظر والاباحۃ        مطبع مجتبائی دہلی         ۲/ ۲۳۶)
اساءت: جیسے اتباع شہوت نفس ولذّت طبع کے لئے ترفّہ وتنعّم بالحلال میں انہماک اسی نیت سے عمدہ کھانے، دونوں وقت سیر ہوکر کھانا، باریک نفیس بیش بہا جامے پہنا کرنا، شبانہ روز عورتوں کی طرح کنگھی چوٹی میں گرفتار رہنا کہ یہ امور اگرچہ حدِّحریم وگناہ تک نہ پہنچیں خلافِ سنّت ضرور ہیں،
ولاشک فی توجہ اللوم علیہ وان لم یستحق العقاب والاحادیث فی ذٰلک کثیرۃ شھیرۃ لانسردھا مخافۃ الاطناب اقول: وبہ علم ان ما جنحت الیہ اولٰی مما فی ردالمحتار عن شرح الملتقی فی انواع الکسوۃ، مباح وھوالثوب الجمیل للتزین فی الاعیاد والجمع مجامع الناس لا فی جمیع الاوقات لانہ صلف وخیلأ وربما یغیظ المحتاجین فالتحرز عنہ اولٰی، ومکروہ وھو اللبس للتکبر۱؎ اھ وکذا ماذکر من محض الاباحۃ فی تجمل الجمع والاعیاد والمجامع محملہ ما اذا لم ینوالا التجمل اما اذا نوی الاتباع فسنۃ لاشک کما ذکرت وکذا الکراھۃ فی التکبر تحمل علی الحرمۃ فانہ حرام وکبیرۃ عظیمۃ قطعا۔
اس پر ملامت میں شک نہیں اگرچہ مستحقِ عقاب نہیں ہے، اور اس میں کثیراحادیثِ مشہورہ وارد ہیں، ہم طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کرتے، اقول: (میں کہتاہوں کہ) اس سے معلوم ہوا کہ میرا موقف بہتر ہے اس سے جس کو ردالمحتار نے شرح ملتقی سے نقل کیاہے کہ لباس کے اقسام مباح ہیں، تو وہ عیدوں ،جمعہ، اور مجمع کے لیے مباح ہیں ، نہ کہ تمام اوقات میں ہروقت ایسا کرنا بے مقصد، تکبروغرور، اور کبھی محتاج لوگوں کو چڑانا ہے، لہٰذا اس سے بچنا بہترہے، اور تکبر کے طور پر لباس پہننا مکروہ ہےاھ اور یوں جو انہوں نے عید، جمعہ وغیرہ میں اباحت کا ذکرکیاہے اس کا محمل بھی وہ ہے کہ تکبر کی بجائے صرف اپناجمال بنانا مقصود ہو مگر اس نے شریعت کی پیروی میں ایسا لباس پہنا تو سنت ہے تو مذکور میں شک نہیں اور یونہی تکبر کی صورت میں کراہت سے مراد تحریمی ہے کیونکہ تکبر حرام ہے اور عظیم کبیرہ گناہ ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ    فصل فی اللبس    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۲۲۳)
مکروہ تحریمی:  جسے محض تکاثر وتفاخر کے لئے جمع اموال۔
Flag Counter