احمد وابویعلی والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال بعثت بین یدی الساعۃ بالسیف حتی یعبدوا اﷲ تعالٰی وحدہ لاشریک لہ وجعل رزقی تحت ظل رمحی ۲؎ الحدیث،
احمد، ابویعلی اور طبرانی کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مجھے قیامت سے آگے تلوار دے کر بھیجاگیا تاکہ لوگ اﷲ کی عبادت کریں، اور میرارزق نیزوں کے سائے میں ہے الحدیث۔
(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/۹۲)
واخرج ابن عدی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الزموا الجہاد وتصحوا وتستغنوا۳؎۔
ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے تخریج کی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جہاد لازماً کرو تاکہ تم صحت مند اور غنی ہوجاؤ۔
الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الطیب کسب المسلم سھمہ فی سبیل ۴؎ اﷲ قال المناوی فی التیسیر لان ماحصل بسبب الحرص علی نصرۃ دین اﷲ تعالٰی لاشیئ اطیب منہ فھو افضل من البیع وغیرہ مما مر لانہ کسب المصطفٰی وحرفتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۵؎۔
شیرازی نے القاب میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے تخریج کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مسلمان کا پاک کسب اس کا فی سبیل اﷲ تیر بنانا ہے۔ امام مناوی نے تیسیر میں فرمایا: یہ اس لئے کہ جو چیز اﷲ تعالٰی کے دین میں حرص کے طور ہو اس سے بڑھ کر کوئی چیز اطیب نہیں ہے لہٰذا یہ عمل تجارت وغیرہ سے افضل ہے کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کسب وعمل ہےاھ۔
(۴؎ الجامع الصغیر بحوالہ الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس حدیث ۱۱۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۷۳)
(۵؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اطیب کسب المسلم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۱۶۶)
وفی صید ردالمحتار عن الملتقی ومواھب الرحمٰن فی تفاضل انواع الکسب ''افضلہ الجھاد ثم التجارۃ ثم الحراثۃ ثم الصناعۃ'' ۱؎۔
ردالمحتار کے باب الصید میں ملتقی اور مواہب الرحمن سے منقول ہے کہ کسب کے اقسام میں فضیلت والا عمل جہاد ہے، پھر تجارت ، پھر کاشتکاری، پھر صنعت کاری۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۹۷)
واجب: جیسے قبول عطیہ والدین جبکہ نہ لینے میں اُن کی ایذا مظنون ہو اور اگر تیقن ہو تو فرض ہوگا کہ ایذائے والدین حرام قطعی ہے اور حرام سے بچنا فرض قطعی، اسی طرح عہدہ قضاء کا قبول فرض ہے جبکہ اس کے سوا اور کوئی اہل نہ ہو،
فی الدرالمختار کرہ تحریما التقلد ای اخذ القضاء لمن خاف الحیف ای الظلم او العجز وان تعین لہ او امنہ لایکرہ، فتح، ثم ان انحصر فرض عینا والاکفایۃ، بحر والتقلد رخصۃ ای مباح والترک عزیمۃ عندالعامۃ، بزازیۃ فالاولٰی عدمہ و یحرم علی غیرالاھل الدخول فیہ قطعا من غیرتردد فی الحرمۃ ففیہ الاحکام الخمسۃ۲؎۔
درمختار میں ہے کہ جوشخص قضاء میں ظلم یاعجز کا خطرہ رکھتا ہو اس کو قضاء کا عہدہ قبول کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر وہی متعین ہو یاکمزوری کا خطرہ و خوف نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہ ہوگا، فتح۔ پھر اگر یہ عہدہ اسی پرموقوف ہے توقبول کرنا فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ ہے، بحر۔ اور قضاء کو قبول کرنا رخصت ہے یعنی مباح ہے اور ترک عزیمت ہے عام فقہاء کے نزدیک، بزازیہ، تواولٰی یہ ہے کہ نہ قبول کرے اور غیراہل کے لئے حرام ہے قطعاً بلاتردّد، تو اس میں پانچ حکم ہیں۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳)
غایات میں فرض: جیسے خوردونوش وپوشش بقدر سد رمق وسترِ عورت بلکہ اتنا کھانا جس سے نمازِ فرض کھڑے ہوکر ہوسکے اور رمضان میں روزے پرقدرت ملے۔
فی الدر الاکل فرض مقدار مایدفع الھلاک ویتمکن بہ من الصّلٰوۃ قائما و صومہ ۳؎ اھ ملخصًا۔
درمختار میں ہے ہلاکت سے بچنے کی مقدار کھانافرض ہے اتنا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکے اور روزہ رکھ سکے، اھ، ملخصاً(ت)
(۳؎ ـ الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶)
یوہیں کفایت اہل وعیال وادائے دیون ونفقات مفروضہ۔
فی خزانۃ المفتین الکسب فرض وھو بقدر الکفایۃ لنفسہ وعیالہ وقضاء دیونہ ونفقۃ من یجب علیہ نفقتہ۱؎۔
خزانۃ المفتین میں ہے اپنے لئے بطور کفایت، اپنی عیال، قرض کی ادائیگی اور جن کا نفقہ ذمہ میں ہے اس مقدار کے لئے کسب فرض ہے(ت)
(۱؎ خزانۃ المفتین کتاب الکراہیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۰)
یوہیں حج فرض جبکہ بعد فرضیت مال نہ رہا،
لان الذمۃ قد شغلت وابراؤھا عن الفرض فرض ومقدمۃ الفرض فرض۔
کیونکہ ذمہ میں بوجھ ہے اور فریضہ سے عہدہ برآہونا فرض ہے جبکہ فرض کا مقدمہ بھی فرض ہوتا ہے۔(ت)
زوجہ اگرچہ غنیّہ ہو اس کا کفن دفن شوہر پرہے، یوہی اقارب کاجبکہ مال نہ چھوڑیں بلکہ ہرمسلمان کا کفن دفن مسلمانوں پرفرض کفایہ ہے جب ایک شخص میں منحصرہوجائے فرض عین ہوجائے گا۔
فی التنویر کفن من لامال لہ علی من تجب علیہ نفقتہ واختلف فی الزوج والفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا۲؎ الخ وفی ردالمحتار الواجب علیہ تکفینھا وتجھیزھا الشرعیان من کفن السنۃ والکفایۃ وحنوط واجرۃ غسل وحمل ودفن۳؎۔
تنویر میں ہے جس کا کفن نہ ہو مال نہ ہونے کی وجہ سے، تو جس پر اس کا نفقہ واجب ہے کفن بھی اس کے ذمہ ہے اور خاوند کے متعلق اختلاف ہے فتوٰی اس پرہے کہ بیوی کاکفن واجب ہے اگرچہ بیوی نے اپنا مال چھوڑا ہو، الخ۔ اور ردالمحتار میں ہے کہ خاوند پر بیوی کی تکفین وتجہیز شرعی شوہر پرواجب ہے جو کفنِ سنّت یاکفنِ کفایہ ہو اور حنوط ، غسل کی مزدوری، جنازہ لے جانے اور دفن کا خرچہ شوہر پرواجب ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۸۱)
واجب: جیسے اتنا کھانا کہ ادائے واجبات پرقادر ہو زوجہ کاحقِ جماع اداکرسکے۔
وھذا یعد مرۃ من واجبات الدیانۃ و ان لم یجبر علیہ قضاء کما فصلناہ فی الطلاق من فتاوٰنا۔
یہ واجبات دیانت میں شمارہے اگرچہ قضاءً اس پر جبر نہ ہوگا جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کی طلاق کی بحث میں تفصیل ذکر کی ہے۔(ت)