کما جنح الیہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار اقول: ولابد منہ فان کل مرتبۃ للطلب فی جانب الفعل فان بازائھا مرتبۃ فی جانب الترک فالتحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجب، والتنزیہ فی رتبۃ المندوب، کما فی ردالمحتار من بحث اوقات الصّلٰوۃ وقد بقیت السنۃ، وھی فوق المندوب ودون الواجب فوجب ان یقابلھا ماھو فوق کراھۃ التنزیہ دون التحریم وھو الاسائۃ وقد نصوا علیھا فی غیر مافرع وان اغفلھا کثیرون فی ذکرالاقسام فلیحفظ قال فی الدر ترک السنۃ لایوجب فسادا ولاسھوا بل اساءۃ لوعامدا غیرمستحب۱؎ الخ وفی ردالمحتار عن التحریر تارکھا ای السنۃ لیستوجبہ اساءۃ ای التضلیل واللوم۲؎۔
جیسا کہ علامہ شامی کا اس طرف میلان ہے ردالمحتار میں، اقول: (میں کہتا ہوں ) یہ ضروری ہے کیونکہ فعل میں طلب کا جو مرتبہ ہے اس کے مقابلہ میں ترک کا مرتبہ ہے، تحریم کا رتبہ بمقابلہ فرض اور مکروہ تحریمی کا بمقابلہ واجب اور مکروہ تنزیہہ بمقابلہ مندوب ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے اوقات کی بحث میں ہے جبکہ سنت کا رتبہ باقی ہے اور وہ مندوب سے فائق اور واجب سے پست ہے توضروری ہے کہ اس کے مقابلہ میں حکم مکروہ تنزیہہ سے فائق اور مکروہ تحریمہ سے کم ہو اور یہ مرتبہ اساءت ہے، فقہاء نے اس بحث پر کئی فروعات میں نص فرمائی ہے اگرچہ حکم کے اقسام سے بہت سے لوگوں سے غفلت ہوئی ہے، اس کو محفوظ کرو، درمختار میں فرمایا سنت کے ترک سے فساد کا حکم نہ ہوگا اور نہ ہی سہو کا ، بلکہ اساءت کاحکم ہوگا جب غیرمستحب کو قصداً کرے الخ۔ردالمحتار میں تحریر کے حوالہ سے ہے کہ سنت کا تارک اساءت یعنی ملامت وتضلیل کامستحق ہوگا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۷۳)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۱۹)
مثلاً اپنے سے اعلم کے ہوتے ہوئے عہدہ قضاء کی نوکری جبکہ وہ اس پرراضی ہو،
درمختار میں ہے اگرلوگ غیراولٰی شخص کو امام بنائیں تو اساءت کے مستحق ہوں گے گنہگار نہ ہوں گے۔ ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے منقول ہے اساءت والے ہوں گے جب وہ سنت کو ترک کریں گنہگار نہ ہوں گے کیونکہ انہوں نے صالح شخص کو امام بنایا ہے اگرچہ غیراولٰی ہے، اور یہی حکم امارت اور حکومت کا ہے لیکن خلافت میں جوامامت کبرٰی ہے یہ جائز نہیں کہ وہ افضل کوترک کریں اور اس پر اجماع امّت ہے(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۷۵)
اقول: یوہیں ظہرومغرب وعشاء کے فرض پڑھ کر سنتوں سے پہلے بیع وشراء اور ظاہراً طلوعِ فجر کے بعد نمازصبح سے پہلے خریدوفروخت بھی اسی قبیل سے ہے جبکہ ضرورت داعی نہ ہو یوہیں ہر وہ کسب کہ خلافِ سنت یا اس کا شغل ترک سنت کی طرف مؤدی ہو۔
مکروہ تنزیہی: جیسے بیع عینیہ جبکہ مبیع بائع کے پاس عود نہ کرے، مثلاً جو قرض مانگنے آیا اسے روپیہ نہ دیابلکہ دس کی چیز پندرہ کو اس کے ہاتھ بیچی کہ اس نے دس کو بازار میں بیچ لی،
فی الدر المختار شراء الشیئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ویکرہ واقرہ المصنف۲؎ فی اٰخر الکفالۃ، بیع العینۃ ای بیع العین بالربح نسئۃ لیبیعھا المستقرض باقل لیقضی دینہ، اخترعہ اٰکلۃ الربا وھو مکروہ مذموم شرعالمافیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض۳؎، وفی ردالمحتار عن الفتح ان فعلت صورۃ یعود الی البائع جمیع مااخرجہ اوبعضہ یکرہ تحریما فان لم یعد کما اذا باعہ المدیون فی السوق فلاکراھۃ بل خلاف الاولٰی ۴؎ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے سستی چیز کو قرض کی ضرورت پر مہنگے داموں خریدنا جائزہے اور مکروہ ہے اس کو مصنّف نے ثابت رکھاہے، اور انہوں نے باب الکفالہ کے آخر میں بیع عینہ کے متعلق فرمایا یعنی عین چیز کو نفع کے ساتھ ادھار فروخت کرنا تاکہ قرض لینے والا اس کو کم قیمت پرفروخت کرکے حاجت پوری کرے، یہ طریقہ سودخوروں نے ایجاد کیاہے اور یہ مکروہ اور شرعاً مذموم ہے کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی سے اعراض ہے، اور ردالمحتار میں فتح القدیر سے منقول ہے کہ یہ ایسی صورت ہوکہ اس میں بائع کی طرف سے دی ہوئی چیز اس کو کل یا بعض واپس لوٹ آتی ہو اس لئے یہ مکروہ تحریمی ہے اور ایسا نہ ہو مثلاً مقروض اس چیز کو بازار میں فروخت کرے تومکروہ نہیں بلکہ خلافِ اولٰی ہےاھ ملخصاً۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۰)
(۳؎الدرالمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الکفالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۷۹)
مباح: جیسے بن کی لکڑی، جنگل کے شکار، دریا کی مچھلیاں۔
مستحب: جیسے خدمت، اولیاء وعلماء کی نوکری۔
وقدکان انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ یخدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی شبع بطنہ۱؎۔
حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ صرف شکم سیری کے عوض حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت کرتے تھے۔(ت)
یونہی ہروقت کسب جس میں امورِخیر پراعانت ہو اگرچہ خیر صرف تقلیل شروخیر ہو مثلاً گھات یاچنگی یابندوبست کی نوکری اس نیت سے کہ بندگانِ خدا کارکنوں کے جبروتعدی وظلم وزیادہ ستائی سے بچیں:
فی کفالۃ الدر، النوائب ولوبغیرحق کجبایات زماننا قالوا من قام بتوزیعھا بالعدل اجر۲؎ اھ ملخصا، وفی شہادات ردالمحتار قدمنا عن البزدوی ان القائم بتوزیع ھذہ النوائب السلطانیۃ والجبایات بالعدل بین المسلمین ماجور وان کان اصلہ ظلما۳؎ الخ قلت وکذٰلک نص علیہ فی کفایۃ الھدایۃ وغیرھا۔
درمختار کے باب کفالہ میں ہے کہ ٹیکس اگرچہ ناحق ہوں ان کو فروخت کرنا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں ہوتا ہے فقہأ کہتے ہیں جو شخص مزدوری پر یہ سرکاری وصولیاں کرے گا اس کو اتنا عوض دیاجائے گااھ ملخصاً، ردالمحتار کے باب الشہادات میں ہے کہ بزدوی سے منقول گزرا ہے سرکاری وصولیاں عدل کے ساتھ اجرت پروصول کرنے پر ثواب ہوگا اگرچہ یہ اصل میں ظلم ہوں الخ۔ میں کہتاہوں اسی طرح کفایۃ الہدایہ میں ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۷۸)
سنّت: جیسے احباب کاہدیہ قبول کرنا اور عوض دینا،
احمد والبخاری وابوداؤد والترمذی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقبل الہدیۃ ویثیب علیھا۱؎۔
احمد، بخاری، ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہدیہ وصول کرتے اور اس پر بدل عطافرماتے۔(ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی قبول الہدایا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۴۲)
اور افضل واعلٰی کسب مسنون سلطان اسلام کے زیرنشان جہاد شرعی ہے،