Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
142 - 190
رسالہ

خیرالاٰمال فی حکم الکسب والسوال(۱۳۱۸ھ)

(کمانے اور مانگنے کے حکم میں بہترین امید)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ ۲۹۷: ازملک بنگالہ ضلع پاپنا ڈاکخانہ سوبگاچہ موضع چر قاضی پور مرسلہ مولوی امید علی صاحب ۲۷/جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کمانا کس وقت فرض ہے، کس وقت مستحب، کس وقت مکروہ، کس وقت حرام، اور سوال کرناکب جائزہے کب ناجائز؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : یہ مسئلہ بہت طویل الذیل ہے جس کی تفصیل کو دفتر درکار، یہاں اس کے بعض صور وضوابط، پراقتصار۔

فاقول: وباﷲ التوفیق (میں اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں۔ت) کسب کے لئے ایک مبدء ہے یعنی وہ ذریعہ جس سے مال حاصل کیاجائے، اور ایک غایت یعنی وہ غرض کہ تحصیل مال سے مقصود ہو، ان دونوں میں ذاتاً خواہ عارضاً احکامِ نہ گانہ، فرض، واجب، سنت، مستحب، مباح، مکروہ، مکروہ تنزیہی، اساءت، مکروہ تحریمی،حرام سب جاری ہیں، اور دونوں کے اعتبار سے کسب پر احکام مختلفہ طاری ہیں، نفس کسب بے لحاظ مبادی وغایات کوئی حکم خاص نہیں رکھتا۔

ذرائع میں حرام: جیسے غصب ورشوت وسرقہ وربا، یوہیں زنا وغنا وحکم خلاف ماانزل اﷲ وغیرہ امورِ محرمہ کی اجرت، تلاوتِ قرآن ووعظ وتذکیر ومیلاد خوانی وغیرہا عبادات بیچ کر اسی طرح جملہ عقود باطلہ وفاسدہ قطعیہ۔

مکروہِ تحریمی: جیسے اذانِ جمعہ کے وقت تجارت۔
فی الدر المختار کرہ تحریما مع صحۃ البیع عند الاذان الاول۱؎۔ قلت وعبر فی الھدایۃ بالحرمۃ واعترضہ الاتقانی بان البیع جائزلکنہ یکرہ کما صرح بہ فی شرح الطحطاوی لان المنع لغیرہ لایعدم المشروعیۃ واشار فی الدر الٰی جوابہ بقولہ افاد فی البحر صحۃ اطلاق الحرمۃ علی المکروہ تحریما۲؎ اھ وانا اقول: الصحۃ اذا لم تناف المنع لغیرہ لم تناف الحرمۃ ایضا کذٰلک فان المنع ولو لغیرہ لیشمل المنع ظنا فیکرہ وقطعا فیحرم ولاشک ان النھی ھٰھنا قطعی فلاادری ما  احوجھم الی تأویل الحرمۃ بالکراھۃ۔
درمختار میں ہے جمعہ کی پہلی اذان کے وقت بیع اگرچہ صحیح ہے لیکن مکروہِ تحریمہ ہے، میں کہتاہوں اس کراہت کو ہدایہ میں حرمت سے تعبیر کیا ہے اور اس پر اتقانی نے اعتراض کیاکہ بیع صحیح لیکن مکروہ ہے جیسا کہ شرح طحطاوی میں یہ تصریح ہے، اس لئے کہ منع لغیرہٖ مشروعیت کو ختم نہیں کرتی اور درمختار میں اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیاہے کہ بحرالرائق نے افادہ کیا ہے کہ مکروہ تحریمہ پرحرمت کا اطلاق صحیح ہےاھ، اقول: (میں کہتاہوں کہ) جس طرح صحت منع لـغیرہ کے منافی نہیں اسی طرح وہ حرمت کے منافی بھی نہیں ہے کیونکہ منع اگرچہ لغیرہ ہو وہ منع ظنی اور قطعی دونوں کو شامل ہے منع ظنی ہو تو مکروہ ہے اگر قطعی ہو تو حرام ہے اور بیشک یہاں نہی قطعی ہے تو مجھے معلوم نہیں کہ حرمت کو کراہت سے ان کو تاویل کی کیاحاجت ہوئی۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب البیوع    باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۰)

(۲؎الدرالمختار      کتاب الصلوٰۃ    باب الجمعہ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۳)
اسی طرح دوسرامسلمان جب ایک چیز خریدرہا ہو اور قیمت فیصل ہوگئی ہو اور گفتگو ہنوزقطع نہ ہوئی ایسی حالت میں قیمت بڑھا کر خواہ کسی طور پر خود خرید لینا،
فی الدرکرہ تحریما السوم علی سوم غیرہ ولو ذمیا اومستامنا بعد الاتفاق علی مبلغ الثمن والا لا لانہ بیع من یزید۱؎ اھ
مختصرا۔ درمختار میں ہے کہ کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگانا مکروہِ تحریمی ہے، اگرچہ پہلے بھاؤ والا ذمی ہو یامستامن ہو جبکہ مبلغ ثمن پر اتفاق ہوچکاہو ورنہ ثمن پر اتفاق کے بغیر دوسرے کا بھاؤ لگانا مکروہ نہیں کیونکہ اس صورت میں نیلامی والی بیع ہوجائے گی اھ مختصراً (ت)
 (۱؎ الدرالمختار کتاب البیوع  باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۰)
یونہی تلقی جلب وبیع الحاضر للبادی وتفریق الصغیر من محرمہ وغیرہا کہ مع قیود وشروط کتب فقہ میں مفصل ہیں اسی قسم میں ہے یانیچری وضع کے کپڑے یاجوتے سینا یا ان اشیاء خواہ تانبے پیتل کے زیوروں وغیرہا کا بیچنا اور جملہ عقود ومکاسب ممنوعہ فضیہ۔
فی ردالمحتار من الحظر عن المحیط بیع المکعب المفضض للرجل ان یلبسہ یکرہ لانہ اعانۃ علی لبس الحرام وان کان اسکافا امرہ انسان ان یتخذ لہ خفا علی زی المجوس او الفسقۃ او خیاطا امرہ ان یتخذ لہ ثوبا علی زی الفساق یکرہ لہ ان یفعل لانہ سبب التشبہ بالمجوس و الفسقۃ۲؎۔
ردالمحتار میں محیط کی کتاب الحظر سے منقول ہے کہ چاندی کے جڑاؤ والا جوتا مرد کو پہننے کے لئے فروخت کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حرام لباس میں اعانت ہے، اور موچی کو اگر کوئی کہے میرے لئے مجوس یافسّاق کی وضع والا جوتابنادے، یا درزی سے کہے کہ فساق والا لباس بنادے تو ان کو ایساکرنامکروہ ہے کیونکہ یہ مجوس اور فسّاق کی مشابہت کاسبب ہوگا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ    فصل فی البیع      داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۱)
اِساءَ ت: یعنی وہ کام جسے نہ مکروہِ تنزیہی کی طرح صرف خلافِ اولٰی کہاجائے جس پر ملامت بھی نہیں، نہ تحریمی کی طرح گناہ وناجائز جس پر استحقاقِ عذاب ہے، بلکہ یوں کہاجائے کہ بُرا کیا قابلِ ملامت ہوا جس کا حاصل مکروہِ تنزیہی سے بڑھ کر ہے اور تحریمی سے کمتر۔
Flag Counter