Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
141 - 190
مسئلہ ۲۸۷ :  ازدہلی مدرسہ نعمانیہ فراشخانہ مسئولہ محمدحبیب اﷲ صاحب ۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافروں کی خصوصاً انگریزوں کی فوج میں نوکری کرنا جس کی وجہ سے مسلمانوں خصوصاً ترکوں اور عربوں اور افغانوں کے مقابلہ میں ان سپاہیوں کو جانا پڑتاہے اور مسلمانوں کو قتل کرناپڑتاہے، آیا یہ نوکری جائزہے یاحرام یاکفر ہے۔بیّنواتوجروا
الجواب

مسلمان تو مسلمان، بلاوجہ شرعی کسی کافر، ذمّی یامستامن کے قتل کی نوکری، کافر توکافر، کسی مسلمان بادشاہ کے یہاں کی شرعاً حلال نہیں ہوسکتی بلکہ ذمّی پر ظلم مسلمان پہ ظلم سے اشد ہے کما فی الخانیۃ والدروالھندیۃ وغیرھا (جیسا کہ خانیہ، در اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)
حدیث میں ہے :
من اٰذی ذمیا فانا خصمہ ومن کنت خصمہ خصمتہ یوم القٰیمۃ۱؎رواہ الخطیب عن عبداﷲ بن مسعود  رضی اﷲ عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ سلم۔
جس نے کسی ذمی کافر کو ستایا تو میں اس سے جھگڑا کروں گا اور جس سے میں جھگڑا کروں تو قیامت کے دن جھگڑا کرنے میں غالب آؤں گا۔ خطیب بغدادی نے  حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اس کو حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎تاریخ بغداد    ترجمہ داؤد بن علی ۴۴۷۳    دارالکتاب العربی بیروت    ۸ /۳۷۰)
مگرکفر نہیں جب تک استحلال نہ ہو یا خود بوجہ اسلام قتل کماھو مذھب اھل السنۃ والتاویل المعروف فی الکریمۃ (جیسا کہ اہلسنّت کا مذہب ہے، اور آیہ کریمہ میں تاویل مشہور ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۸ : ازبریلی محلہ گھیر جعفر خاں مسئولہ قدرت حسین صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ

قادیانیوں کے ہاتھ مال فروخت کرناکیساہے؟ بیّنواتوجرا۔
الجواب

قادیانی مرتد ہیں، اُن کے ہاتھ نہ کچھ بیچاجائے نہ اُن سے خریداجائے، اُن سے بات ہی کرنے کی اجازت نہیں۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ایّاکم وایّاھم ۱؎ اُن سے دُوربھاگو انہیں اپنے سے دور رکھو۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎مسندامام احمدبن حنبل     عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ        المکتب الاسلامی بیروت    ۸ /۳۷۰)
مسئلہ ۲۸۹ :  ازبنبئی پوسٹ ۹۰ معرفت احمدعلی صاحب مسئولہ شیخ فتح محمدصاحب ۵/رمضان ۱۳۳۹ھ

(۱) علمائے دین سے دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ جو حاجی ادائے فریضہ حج اور زیارت پاک نبی کریم کے بنبئ اور کرانچی سے روانہ ہوتے ہیں ان سے دوہراکرایہ جہاز پر جانے آنے کا لیاجاتاہے، اس سال جانے آنے کا کرایہ ایک سو پچھتر روپیہ مقررہوا ہے اس میں جانے آنے کاایک سو دس روپیہ لگایاجاتاہے اور آنے کے واسطے کمپنی کے پاس پینسٹھ روپیہ جمع رہتاہے اس وقت تک کہ حاجی اپنے فرض سے فارغ ہوکر واپس نہ آئیں وہ باقی روپیہ بینک گھر میں جمع رہتاہے کمپنی کی طرف سے اب سوال یہ ہے کہ کمپنی کو اس روپیہ کا سود ملے گا قریب چار ماہ تک کیونکہ اس سے پہلے حاجی واپس نہیں آسکتے اس سود کے بارے میں حاجی گنہگار ہوگا یانہیں؟

(۲) اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو کمپنی حاجیوں کو دوہراٹکٹ دیتی ہے اس کا منیجر انگریز ہے اور وہی مالک ہے اور انگریز کے مذہب میں سود جائزہے اور جانے والے حاجی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارا روپیہ ایک انگریز کے پاس جمع ہے اور وہ اس روپیہ سے تاواپسی بلاواسطے فائدہ اٹھائے گا یا سُود میں چلائے گا اتنا سمجھ کر بھی حاجی اس کمپنی میں سفر کرے تو گنہگار ہوگا یانہیں؟

(۳) مخفی نہ رہے کہ بنبئ اور کرانچی دونوں جگہ سے حاجی روانہ ہوتے ہیں اور ان دونوں مقاموں میں ایک اسلامی کمپنی موجود ہے اور یہ کمپنی ایک طرف کا ٹکٹ حاجیوں کو دیتی ہے انگریزی کمپنی سے بہت کم بھاؤ میں۔ ایسا ہوتے ہوئے بھی حاجی آنے جانے کا ٹکٹ لے تو تعاون ہے یانہیں، حاجی کچھ مواخذہ دار ہوگا یانہیں؟

(۴) یہ بھی ہوسکتاہے کہ جب حاجی چاہیں کہ ہم دوہرا کرایہ دے کر اپنے روپیہ سے غیرمذہب کو مدد نہیں دیں گے اور ایک طرف کا ٹکٹ لیں گے تو گورنمنٹ کمپنی پرضرور ہے کہ حکم کرے گی کہ ایک طرف کا ٹکٹ دو۔ اس صورت میں اُوپر کے سوال میں حاجی بری ہوسکتے ہیں یانہیں، اور ایسا کرنا ثواب ہے یاگناہ؟

(۵) دیگر یہ کہ اکثر حاجی اثنائے سفر میں فوت ہوجاتے ہیں اور اُن کا کوئی وارث ہمراہ نہ ہو تو ضرور ان کے واپسی کے ٹکٹ ضائع ہوجاتے ہیں اور اس ٹکٹ کا روپیہ بے سبب ایک کمپنی کھاجاتی ہے اگر وہی روپیہ حاجی کے ساتھ حاجی کی کمر میں ہو اور وہ فوت ہوجائے تو ضرور اس کا روپیہ اس کے ہمراہیوں کو ملے گا یا مکہ معظمہ میں فوت ہوجائے تو کسی معلم کو ملے گا یاراستے میں فوت ہوجائے تو کسی بدوی کو ملے گا جوتینوں بھائی مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں حاجی کو ثواب ہوگا یا اوپر کی صورت میں؟

(۶) اور ظلم یہ ہے کہ کمپنی نے ٹکٹ پر چھاپ دیا ہے کہ حاجی کو اگر واپس کرنا ہو تو دس سیکڑہ کاٹ کر حاجی کو روپیہ ملے گا، یہ قانون ہے کہ امانت رکھنے والا اپنی امانت واپس مانگے تو کمیشن میں سُود دے یہ دوہرا سُود ہوا یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب

(۱)حاجی نہ اپنی خوشی سے جمع کرتاہے نہ اس کی یہ نیت ہے کہ کمپنی سُود لے، اگر لے گی تو اس کا وبال اس پر ہے حاجی پرالزام نہیں،
لاتزروازرۃ وزراخرٰی۱؎o وتحلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ فاعل مختار کافعل درمیان میں آڑے آگیاجو نسبت کو قطع کردیتاہے، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں مذکورہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۶ /۱۶۴)
 (۲) اس کاجواب اوپرگزرچکاکہ گناہ نہیں، ہاں اگر کوئی اسلامی کمپنی ایسی موجود ہو جو اسے سود پر نہ چلائے گی اور جو باتیں سفرمیں اپنے آرام کی ہیں اُن میں کوئی کمی نہ ہو تو بلاوجہ اسلامی کمپنی پر اُسے ترجیح دینا سخت معیوب ہے، واﷲ تعالٰی اعلم

(۳) جب اسلامی کمپنی موجود ہے اور وہ کرایہ بھی کم لیتی ہے اور ایک ہی طرف کا لیتی ہے تو ان ترجیحوں کے ہوتے ہوئے سخت احمق ہوگا جو اس کے غیر کو اختیار کرے مگر اس حالت میں کہ اپنے آرام وغیرہ کی صحیح مصلحت اور ارزاں بعلت وگراں بحکمت نہ ہو بلاوجہ زیادہ کرایہ دینا کوئی نہ چاہے گا اور بالفرض اگر ایساکوئی نکلے کہ بغیر کسی صحیح مصلحت کے اپنا نقصان گوارا کرے اور اسلامی کمپنی پر غیراسلامی کو ترجیح دے تو وہ بیشک مواخذہ دارہے اور اُس پر متعدد مواخذے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۴) دوطرف کا کرایہ دینے میں بلاوجہ کی پابندیاں اپنے ذمّے ہوجاتی ہیں ممکن ہے کہ یہ وقت موعود تک واپس نہ آسکے یا سرکاروں میں زیادہ حاضررہناچاہے جب اس طریقے سے یہ آزادی مل سکتی ہو تو بغیر کسی اہم مصلحت کے پابندی کو اس پرترجیح نہ دے گا مگر سخت احمق یا وہ جس کے دل میں مرض ہے، والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم

(۵) یہ نیت بھی محمود ہے اور آزادی خود عظیم مقصود ہے اسے ملتے ہوئے بے کسی اہم مصلحت کے پابندی کوترجیح دینامردود ہے، واﷲ تعالٰی اعلم

(۶) یہ صورت اور زیادہ شناعت کی ہے، اور حتی الامکان اس سے بچنا لازم کہ اگرچہ سود نہیں مگر اضاعتِ مال ہے اور وہ بھی شرعاً حرام ہے،
حدیث میں ارشاد فرمایا صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے : ان اﷲ حرم علیکم عقوق الامھات ومنعًا وھاۃِ و وأدَالبنات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السوال واضاعۃ المال۱؎۔
بے شک اﷲ تعالٰی نے تم پر حرام فرمادیا ہے ماؤں کو ایذا دینا اور یہ کہ آپ نہ دو اور اوروں سے مانگو اور بیٹیوں کو زندہ درگورکرنا اور ناپسند فرماتاہے تمہارے لئے فضول حکایات اور کثرت سوالات اور مال کا ضائع کرنا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الادب    باب عقوق الوالدین من الکبائر    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۸۴)

(صحیح مسلم        کتاب الاقضیۃ     باب النہی عن کثرۃ المسائل الخ   قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۷۵)
مسئلہ ۲۹۵: ازدارجلنگ انجمن اسلامیہ مسئولہ ولی الحسن مدرس مدرسہ ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ

علمائے اسلام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ افیون کی تجارت اور اس کی دکان کرناشرعاً جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

افیون کی تجارت دواکے لئے جائز اور افیونی کے ہاتھ بیچنا ناجائزہے، 

لان المعصیۃ تقوم بعینہ وکل ماکان کذٰلک کرہ بیعہ کما فی تنویرالابصار۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔

اس لئے کہ گناہ ذات شیئ کے ساتھ قائم ہے اور جس میں اس طرح ہو تو اس کا بیچنا مکروہ ہے جیسا کہ تنویرالابصار میں مذکورہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۶ :  ازپیلی بھیت کچہری کلکٹری مسئولہ عرفان علی صاحب رضوی شب ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

قبلہ جانم وکعبہ ایمانم ظلہم الاقدس، بعد سلام مسنون عرض ہے کہ زندگی کا بیمہ کرنا شرعاً جائزہے یاحرام؟

صورت اس کی یہ ہے جو شخص زندگی کابیمہ کراناچاہتاہے اس سے یہ قرار پاجاتاہے کہ ۵۵سال یا ۶۰ سال یا۵۰سال کی عمر تک مبلغ دوہزار روپے (للعہ یاے/) ماہوار کے حساب سے تنخواہ سے وضع ہوتے رہیں گے اگر وہ شخص ۵۵سال تک زندہ رہا تو خود اس کو اور اگر مقررمیعاد کے اندرمرگیا توا س کے ورثاء کو دوہزار یکمشت ملے گا خواہ وہ بیمہ کرانے کے بعد اوراس کی منظوری آنے کے فوراً ہی مرجائے اور اگرمیعاد مقرر تک زندہ رہا تو بھی وہی دوہزار ملے گا یہ بیمہ گورنمنٹ کی جانب سے ہورہاہے کسی کمپنی وغیرہ کو اس سے تعلق نہیں۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب

جبکہ یہ بیمہ گورنمنٹ کرتی ہے اوران میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں توجائزہے کوئی حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلافِ شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو جیسے روزوں یاحج کی ممانعت۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter