Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
140 - 190
مسئلہ ۲۸۱ :ازضلع رنگپور ڈاک خانہ چلیماری مکتب اسلامیہ بنگالہ مسئولہ جناب عبدالصمد صاحب	۲۵جمادی  الاولٰی ۱۳۳۹ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ مال مکسوب اززنا (زانیہ خواہ ازقوم ہنود آیند یا رباباشد یا ازاہل اسلام) بعد از اسلام وتوبہ حلال ست یاحرام؟ بیّنوابابراھین الجیاد، توجروا من اﷲ الکریم الجوا۔

اے علمائے کرام، اﷲ تعالٰی تم پر رحم فرمائے، تمہارا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ جو مال بدکاری کی وجہ سے حاصل ہو۔ زانیہ خواہ ہندو قوم سے ہو یا سود خواہ مسلمانوں سے حاصل ہو اسلام لانے اور توبہ کرنے کے بعد کیا وہ مال حلال ہے یا حرام؟ عمدہ دلائل سے بیان فرماؤ اور اﷲ کریم وسخی سے اجروثواب پاؤ۔(ت)
الجواب

حرام ست ومثل مغصوب، فرض است کہ آنہمہ برفقراء تصدق کند تمامی توبہ اش ہمیں ست فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دینا لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ ۱؎ اھ وکتبت علیہ فعدم جواز الاخذ من کسب المومسات اللاتی یبغین بفروجھن ۔
مال مذکورحرام ہے، اور اس کی مثال چھِنے ہوئے مال ی طرح ہے، لہٰذا اس پرفرض ہے کہ اس سب مال کو محتاجوں پر خیرات کردے، لہٰذا اس کی توبہ کے مکمل ہونے کی یہی صورت ہے۔ چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے روایت ہے کہ گویا عورت کی کمائی سے اگرقرض اداکیاجائے تو قرضخواہ کو اس کا لینا جائزنہیں اھ، میں نے اس پر یہ نوٹ لکھا( صاحب فتاوٰی مراد ہے) کیونکہ زانیہ عورتیں اپنی شرمگاہوں کے بدلے میں مال وصول کرتی ہیں  اس لئے ان کی کمائی لینا نہ چاہئے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الکراھیۃ    الباب الخامس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۹)
وفیھا عن المحیط عن المفتقی عن ابراھیم عن محمد فی امرأۃ نائحۃ او صاحب طبل اومزمار اکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی اصحابہ ان عرفھم لانہ کان المال بمقابلۃ المعصیۃ فکان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھا وذٰلک ھٰھنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہ بان عرف صاحبہ وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ لیصل الیہ نفع مالہ۱؎اھ وکتبت علیہ ا قول : ویجب ان ینظر ان المعروف کالمشروط وکتبت علی قولہ بالتصدق منہ اقول : ھذا اذا کان الماخوذ منہ مسلما اما ان کان کافرا فلایحل التصدق منہ ویستحیل ان یصل الیہ نفعہ ولاشک فی وجوب التصدق لالھذا بل لمحو آثار المعصیۃ واخلاء الید من المال الخبیث والتحرز عن معصیۃ التصرف فیہ لنفسہ وقد عرف فی مسائل لا تحصٰی ان ھذا ھو سبیل المال الخبیث وبہ یبرؤعن عھدتہ آری اگر بزرمکسوب بزنا منقولے خواہ عقارے خرید وشرائی او نقد وعقد بزر حرام جمع نشد چنانکہ ہمیں اکثرست آنگاہ آں چیز مشری بر وحرام نبود کماھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی وقد فصلناہ غیر مرۃ فی فتاوٰنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی ہندیہ میں محیط کے حوالے سے، المنتقٰی سے بحوالہ ابراہیم عن محمد منقول ہے کہ ناچنے والی عورت یا طبلہ بجانے والا یاگانے بجانے والے آلات استعمال کرنے والے، فرمایا اگر اس شرط پر لینا ہے کہ اس کے ساتھیوں کو واپس کردے گا کیونکہ یہاں مال گناہ کے برابر ہے اور مال مذکور بھی، اور اس طرح کے گناہوں میں مال کو واپس کردینا ہے اور یہاں حاصل کردہ مال لوٹادینا ہے، اگر لوٹانے پر طاقت پائے، اگرمالک کو پہچانتاہو، اگر پہچانتانہیں تو خیرات کردے تاکہ مالک تک اس کے مال کا نفع پہنچے اھ میں نے اس پر نوٹ لکھا اقول: (میں کہتاہوں کہ) یہاں ضروری ہے کہ غور کرے کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہے۔ اور میں نے مصنف کے قول ''بالتصدق منہ'' پر نوٹ لکھا اقول (میں کہتاہوں کہ) یہ تب ہوسکتاہے جبکہ جس سے مال لیاگیاہو وہ مسلمان ہو، لیکن وہ اگر کافر ہو تو پھر اس کے مال کو خیرات کرناجائز نہیں، اور یہ محال ہےکہ کافر کو اپنے مال کا نفع پہنچے، اور اس میں شک نہیں کہ اس صورت میں وجوبِ صدقہ ہے، لیکن مذکورہ وجہ کی بنا پر نہیں، بلکہ نافرمانی کے آثار مٹادینے اور مال خبیث سے اپنے ہاتھ کو خالی کرنے کی وجہ سے ہے، اور اس وجہ سے ہے کہ اپنی ذات کے لئے اس میں تصرف کرنے کے گناہ سے بچے، اور بے شمار مسائل میں معلوم ہوا کہ مال خبیث سے نجات کا یہی طریقہ ہے۔ لہٰذا اسی طریقے کی بنا پر وہ اس کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتاہے، ہاں اگر وہ بکاری میں حاصل کردہ رقم سے کوئی منقول چیز خواہ زمین ہی ہو خریدے اور اس ی خرید میں عقد ونقد میں زر حرام جمع نہ ہوئی جیسا کہ اکثر یہی طریقہ ہواکرتاہے، تو پھر وہ خرید کردہ چیز حرام نہ ہوگی۔ چنانچہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا یہی ارشاد ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں کئی مرتبہ اس کی تفصیل بیان کردی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراھیۃ    الباب الخامس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۹)
مسئلہ ۲۸۲ : ازمین پوری مسئولہ محمد مجیب اﷲ صاحب ومولوی حکیم محمد احمد صاحب علوی ۲۸جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج کل ایک عرصہ سے یہ بات رائج ہے کہ لوگ اپنی جان کابیمہ کراتے ہیں لہٰذا دریافت طلب یہ بات ہے کہ آیا جان کا بیمہ کرانا شرعاً جائزہے یانہیں؟ اس کی مثال مثلاً ایک شخص جس کی عمر تیس سال کی ہے تاریخ اجرأ پالیسی (سند) سے بیس سال تک مبلغ دوسوچھیالیس روپیہ چار آنہ سالانہ ادا کرنے کے بعد مبلغ پانچ ہزار روپیہ خود لے سکتاہے یا اس کے ورثا قبل از وقت موت واقع ہوجانے پر حاصل کرسکتے ہیں (عا للعہ ۴/) ×۲۰ = (للعہمہ ۲۵ مما ۴۹ صہ عہ)  = اصل رقم = ۰۰۔ ۴۹۲۵ روپیہ رقم جو ملے گی ۰۰ —— ۵۰۰۰ روپہ زائد = ۷۵ روپیہ۔ اس کے علاوہ اس اصل روپیہ پر منافع بعوض استعمال روپیہ دیاجاتاہے۔ یہ منافع اول بیمہ کنندگان یا بیمہ شدگان کو دیاجاتاہے جن کی مدت بیمہ اختتام کو پہنچتی ہے جس وقت کہ ان کا چندہ بحساب (للعہ /) فیصدی سوددرسود اس اصل رقم بیمہ کے برابر ہوجاتاہے اس منافع میں سے ۱۰ فی صدی کمپنی لیتی ہے اور ۹۰ فیصدی بیمہ کرنے والے کوملتاہے بہت توضیح وتشریح کے ساتھ تحریر فرمایاجائے کہ اس طرح روپیہ حاصل کرنا یا اپنا روپیہ اس کمپنی کو دینا شرعاً کیاحکم رکھتاہے؟ اﷲ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطافرمائے۔
الجواب

جس کمپنی سے یہ معاملہ کیاجائے اگر اس میں کوئی مسلمان بھی شریک ہے تو مطلقاً حرام قطعی ہے کہ قمار ہے اور اس پر جو زیادت ہے ربا، اور دونوں حرام وسخت کبیرہ ہیں۔ اور اگر اس میں کوئی مسلمان اصلاً نہیں تو یہاں جائزہے جبکہ اس کے سبب حفظ صحت وغیرہ میں کسی معصیت پرمجبورنہ کیاجاتاہوجواز اس لئے کہ اس میں نقصان کی شکل نہیں، اگر بیس برس تک زندہ رہا پورا روپیہ بلکہ مع زیادت ملے گا، اور پہلے مرگیا تو ورثہ کو اور زیادہ ملے گا مثلاً سال بھی بعد ہی مرگیا تو دئیے ۲۴۶ روپے چار آنے اور ملے ۵۰۰۰ روپے، ہاں یہ ضرور ہے کہ جوزائد ملے ربا سمجھ کر نہ لے بلکہ یہ سمجھے کہ غیر مسلم کا مال اس کی خوشی سے بلا عذر ملا، یہ حلال ہے۔
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : ان ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قبل الھجرۃ حین انزل اﷲ تعالٰی الم غلبت الروم قالت لہ قریش ترون ان الروم تغلب قال نعم فقال ھل لک ان نخاطرنا فخاطرھم فاخبرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذھب الیھم فزد فی الخطر ففعل و غلبت الروم فارسا فاخذ ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ خطرہ فاجازہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو القمار بعینہٖ بین ابی بکر و مشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک ولان مالہم مباح انما یحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر فاذا لم یاخذ غدراً فبای طریق یاخذہ حل بعد کونہ برضا بخلاف المستأمن منھم عندنا لان مالہ صار محظورا بالامان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا  الا انہ لایخفی انہ انما یقتضی حل مباشرۃ العقد اذا کانت الزیادۃ ینالھا المسلم و قدالتزم الا صحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا والقمار اذا حصلت الزیادۃ للمسلم نظرا الی العلۃ وان کان الاطلاق الجواب خلافہ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۱؎۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ہجرت سے پہلے جبکہ اﷲ تعالٰی نے الم غلبت الروم کے کلمات نازل فرمائے تو قریش نے اُن سے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رومی غالب آئیں گے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر کہا: کیا آپ ہم سے شرط لگاتے ہیں۔ تو حضرت ابوبکر نے اُن سے شرط لگادی۔ پھر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اطلاع دی تو حضوراقدس نے ارشاد فرمایا : تم اُن کے پاس جاؤ اور شرط میں اضافہ کردو۔ تو ابوبکرصدیق نے ایساہی کیا۔ تو رومی ایرانیوں پرغالب آگئے۔ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان سے شرط وصول کرلی۔ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے انہیں اس کی اجازت دے دی، صدیق اکبر اور مشرکین کے درمیان بعینہٖ رضامندی جُواتھا بخلاف اُس آدمی کے جو ہمارے پاس دارالسلام میں امن کے لئے سکونت اختیار کرے،لہٰذا اس کا مال امن کی وجہ سے دوسروں کے لئے ممنوع ہے۔ اگر شرعی طریقے کے بغیر لیا تو فریب کاری ہوگی، مگر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ یہ کام مباشرتِ عقد کو حلال ہونے کو چاہتاہے جبکہ اضافہ کسی مسلمان کو حاصل ہو، چنانچہ اصحاب نے درس میں یہ انتظام کیا ہے کہ ان کی مراد سود اور فتوے کے جواز سے یہ ہے کہ جب زیادت مسلمان کو حاصل ہوجائے علّت پر نظرکرتے ہوئے اگرچہ مطلق جواب اس کے خلاف ہے، اور اﷲ تعالٰی پاک و برتر سب سے زیادہ جانتاہے۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب البیوع    باب الربا    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۱۷۸)
مسئلہ ۲۸۳ : ازجے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی حاجی محمد عبدالواجد علی خاں مسئولہ محمد حامد حسن قادری     ۱۴/رمضان

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس زمانہ میں عام طور پر جو جیل خانہائے انگریزی یاجیل خانہائے ریاست ہائے ما تحت  انگریزی میں جو طرح طرح کی اشیاء تیار ہوتی ہیں ان کاخرید کر استعمال کرناکیساہےخصوصاًجائےنمازیعنی مصلی  وغیرہ خرید کر خود نماز پڑھنا یا ان کو مساجد میں بغرضِ نماز بھجوانا۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے ۔ت)
الجواب

احتراز چاہئے کہ اُن سے کام جبراً لیاجاتاہے پھر بھی اگر اصل مال بائعوں کی ملک ہو تو حکم حرمت نہیں کہ ان کے منافع کا اتلاف اس شے کی ذات سے جُداہے ھذا ماظھر ولیراجع ولیحرر (یہی بات ظاہر ہوئی اور چاہئے کہ مراجعت کی جائے اور لکھاجائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۴ تا ۲۸۶ : ازپیلی بھیت محلہ شیر محمد مکان نمبری ۲۹۴ مسئولہ لطافت حسین خان صاحب ۳رجب ۱۳۳۹ھ

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رشوت کس کو کہتے ہیں؟ اور اس کا لینا کیسا ہے؟ اور کس صورت میں لیناجائزہے اور کس میں ناجائز؟

(۲) تسبیح کس چیز کی ہونی چاہئے؟ آیا لکڑی کی یا پتھر وغیرہ کی؟

(۳) مسجد میں جمعہ کے وقت خطبہ کے وقت سلام وکلام کیساہے؟
الجواب

(۱) رشوت لینا مطلقاً حرام ہے کسی حالت میں جائزنہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیاجائے رشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیاجائے رشوت ہے لیکن اپنے اُوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔

(۲) تسبیح لکڑی کی ہو یا پتھر کی مگر بیش قیمت ہونامکروہ ہے اور سونے چاندی کی حرام۔

(۳) خطبہ کے وقت سلام وکلام مطلقاً حرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter