| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۷۸ : ازشہر محلہ اعظم نگر مسئولہ حشمت اﷲ ۵صفر۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے قریب رنڈیاں رہتی ہیں اور ان کے آشناؤں سے پیسہ لے کر خرچ کرتی ہیں اور ان کا کوئی پیسہ نہیں ہے اور اگر ہے تو اسی پیسہ کاہے اور اسی پیسہ سے وہ شیرینی ہمارے سامنے لائی اور کہافاتحہ دے دو۔ ہم نے جو عذر کیا تو انہوں نے کہا ہم نے اسے بدل لیاہے اب ہم نے انکار کیا تو وہ کہتی ہیں کہ تم وہابی ہو، اور اسی میں سے طالب علموں کو اور مدرسہ میں اور مساجد وغیرہ میں خرچ کرتی ہیں، یہ جائزہے یانہیں؟
الجواب جبکہ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے دام بدل لئے ہیں اور اُن سے خریدی ہے تو اُن کا یہ کہنا قبول کیاجائے گا اور اس کھانے پرفاتحہ وغیرہ سب جائزہے، نص علیہ فی عالمگیریۃ (فتاوٰی عالمگیری میں اس کی صراحت کردی گئی ہے)۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹ : ازشہر محلہ سوداگران مسئولہ سیّد عزیز احمدصاحب ۱۴صفر ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عشرہ محرم میں تخت بنانے کی غرض سے محلہ سے چندہ وصول کرتاہے لہٰذا اس میں چندہ دیناجائزہے یاناجائز؟ پیش امام مسجد نے نمازیوں سے کہا کہ تخت میں چندہ دیناداخل حسنات ہے۔ چنانچہ جملہ نمازیوں میں سے ایک نمازی نے کہا کہ اس میں چندہ وغیرہ دینا میرے نزدیک ناجائزہے اُس پرپیش امام صاحب نے کہا کہ اگر تم شرکت نہیں کروگے تو تم کو وہابی کہاجائے گا، ایسی صورت میں یہ شخص قابلِ امامت ہے یانہیں؟
الجواب تخت ایک بے معنی وفضول بات ہے اس میں مال صرف کرناضائع کرناہے اور مال ضائع کرناجائز نہیں لہٰذا اس میں چندہ دینا ناجائزہے، امام نے جہالت کی بات کہی اسے سمجھادیاجائے مگراتنی بات پر اس کے پیچھے نمازناجائزنہیں ہوسکتی جبکہ اور کوئی وجہ عدم جواز کی نہ ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۰ : آفتاب الدین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۲۲صفر۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی مسلمان سنّی نے کسی وہابی یا یہودی یانصرانی یاکافر ان میں سے کسی کے ساتھ گفتگو کرے یا ان میں سے کسی کے پاس بیٹھے یا ان میں سے کسی کی نوکری کرے تو آیا وہ مسلمان بھی کافر ہے اگر کافر نہ ہو اور اس مسلمان کو کسی دوسرے شخص نے کافر کہا تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب کافر اصلی غیرمرتد کی وہ نوکری جس میں کوئی امرناجائزشرعی کرنانہ پڑے جائز ہے اور کسی دنیوی معاملہ کی بات چیت اس سے کرنا اور اس کے لئے کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنا بھی منع نہیں اتنی بات پرکافر بلکہ فاسق بھی نہیں کہاجاسکتا، ہاں مرتد کے ساتھ یہ سب باتیں مطلقاً منع ہیں اور کافر اُس وقت بھی نہ ہوگا مگریہ کہ اُس کے مذہب وعقیدہ کفر پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شک کرے تو البتہ کافر ہوجائے گا، بغیر ثبوت وجہ کفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے بلکہ حدیث میں فرمایا کہ وہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آتاہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم