| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۷۵ : ازشہر باغ احمدعلی خاں مسئولہ حاجی خدابخش صاحب ۱۲محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی طوائف اگراپنا ناجائز حاصل کردہ کو کسی مدرسہ یامسجد کے نام وقف کردے تو یہ جائزہے یانہیں؟ اور اگرجائز ہے تو جواز کی کیاصورت ہے؟ بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب اُجرت زنا وغیرہ میں روپیہ ملتاہے اور وہ وقف نہیں ہوتا، جائداد وقف ہوتی ہے اگر اُس کی خریداری زرِ حرام سے نہ ہوئی یا زرِ حرام اس کے عقد ونقد میں جمع نہ ہو ایعنی یہ نہ ہوا کہ زرِ حرام دکھاکر کہا ہو کہ اس کے عوض یہ جائداد دے دے اور پھر وہی روپیہ ثمن میں دے دیا ہو جب ایسا نہ ہو تو وہ خرید کردہ جائداد حرام نہیں اگرچہ قیمت میں وہ زرِ حرام ہی دیاہو۔ اس صورت میں تو خود اُسے وقف کرسکتی ہے۔
تنویرالابصار میں ہے :
وان اشار الیھا ونقد ماغیرھا اوالٰی غیرھا او اطلق نقدھا لا وبہ یفتی۔۲؎
اگر کسی شخص نے زرحرام کی طرف اشارہ کیا لیکن معاوضہ اداکرتے وقت کوئی اور ثمن اداکئے (جومال حرام نہ تھا) یا جو زرحرام نہ تھا اس کی طرف اشارہ کیا، یا ثمن ذکر کرنے میں اطلاق سے کام لیا (یعنی بغیر قید حلال وحرام ثمن کا ذکر کیا مثلاًیوں کہہ دیا ثمن کے عوض چیز دے دو) لیکن ادائیگی کے لئے وہی حرام نقدی دے دی، تو ان سب صورتوں میں خرید کردہ چیز حرام نہ ہوگی، اور اسی قول پر فتوٰی دیاجاتاہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶)
ہاں اگر خودجائداد اجرت حرام میں ملی یاخریداری میں زرحرام پرعقدونقد جمع ہوں یا خود زرحرام مسجدیامدرسہ پرصرف کرناچاہیں تو ناجائز وحرام ہے لیکن اگر وہ تائب ہو اور اپنا مال حرام اگرچہ خود بعینہ وہی زرحرام ہو مسلمان فقیر پرتصدق کردے اور وہ فقیر اس میں سے بعض یا کل روپیہ یاجائداد بعد قبضہ اپنی طرف سے اسے ہبہ کردے اور قبضہ تامہ دے دے تو وہ زر وجائداد اب اس کے حق میں حلال وطیب ہے اسے وقف وغیرہ جمیع امورِخیر میں صرف کرسکتی ہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلک ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کسی کے پاس مشتبہ اور مشکوک مال ہو اور وہ اسے اپنے والد پر خیرات کردے تو اس کے لئے یہی کافی ہے، اور یہ شرط نہیں کہ کسی بیگانے پر خرچ کرے اور اسی طرح جب بیٹا والد کےساتھ اس کے کاروبار میں شریک ہو جبکہ اس کے کاروبار میں کئی فاسد سودے ہوں، پھر اس نے اپنا تمام مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹)
مسئلہ ۲۷۶ : ازشہر محلہ قاضی ٹولہ بلند بیگ ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنی کوئی چیز طوائف کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے یانہیں اور اجرت اس کے کپڑے سینا اور کوئی کام اس کا اجرت پر کرنا اور اس کے گانے وغیرہ کی چیزیں بنانا جائز ہے یا نہیں ،یا اس کی آمدنی مسجد یا مدردسے میں لگانا جائز ہے یا نہیں جبکہ وہ جائداد کسب سے خرید کی گئی ہو۔ بینوا توجروا ۔
الجواب طوائف کے ہاتھ کسی چیز کا بیچنا یا جائز شے کا کرایہ پر دینا جائز ہے مگر اس کے زرحرام سے قیمت یا اجرت لینا حرام ہے، اور گانے کی چیز بنانے کاسائل مطلب بیان کرے اس کا جواب دیاجائے گا۔ خریداری جائداد میں اگر زرحرام پرعقد ونقد جمع ہوئے یعنی زرحرام دکھاکرکہا کہ اس کے عوض دے دے، اور پھر وہی زرحرام ثمن میں دیاگیا تو وہ جائداد بھی خبیث اور اس کی آمدنی بھی خبیث، اور اس کا مسجد یامدرسہ میں لیناجائزنہیں، اگرعقد ونقد جمع نہ ہوئے جس طرح عام خریداریاں آجکل ہوتی ہیں کہ یہ چیز ہزار روپے کو بیچی کسی خاص روپیہ کانام نہیں رکھا تو اس صورت میں وہ جائداد اس کے حق میں حرام نہیں اگرچہ ثمن میں زرحرام ادا کیاہو اس کی آمدنی مسجد وغیرہ میں صرف ہوسکتی ہے مگرمہتمم کومعلوم ہو تو اس سے احتراز کرے، اگر وہ تائب ہوچکی اور توبہ کے بعد اسے اپنی جائداد باوجود وہ روپیہ جو بطور حرام حاصل کیاتھا کسی مسلمان فقیر کو ہبہ کرکے قبضہ دے دیا اس کے بعد اس فقیر نے وہ روپیہ یاجائداد کل یابعض اسے اپنی طرف سے ہبہ کیا تو وہ اس عورت کے حق میں حلال طیب ہے اور وہ کل کارخیرمدرسہ مسجد وغیرہ میں بلادغدغہ صرف ہوسکتاہے اور توبہ کے بعد جو اس پرالزام رکھے سخت گناہ کامرتکب اور سخت سزا کامستوجب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۷ : ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ مسئولہ انعام اﷲ صاحب ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگوں کی قوم پنچایتی ہے اس میں چودھری اور پنچوں نے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا ہے کہ فی راس مسجد کو ایک پیسہ ملناچاہئے لہذا ہرایک محلہ کاچندہ وہاں کی مسجدوں میں تقسیم ہوجاتاہے اعظم نگر میں پانچ مسجدیں ہیں وہاں کا چندہ پانچ مسجدوں میں برابر تقسیم ہوجاتاہے جس میں چار مسجدیں سابقہ ہیں اور ایک جدید ہے لیکن سب کا حصہ برابر ہے، شہرکہنہ پرایک مسجد تھی تمام چندہ اسی کو م لاکرتاتھا لیکن اب ایک جدید مسجد تعمیر ہورہی ہے، چودھری اور پنچوں نے فیصلہ کیا کہ جدید مسجد کو تہائی حصہ ملنا چاہئے، چارپانچ شخص بنام مسیت ولد منگل، چھدن ولد سالاربخش، چھوٹے ولد نتھو، کلن ولد گھسو، نظیر ولد سکن حارج ہوتے ہیں کہ مسجد جدید کوکچھ نہ دیاجائے۔ اس پرشرع کیاحکم دیتی ہے کیونکہ جدید مسجد کے بھی منتظم قصاب ہی ہیں۔
الجواب چندہ کا اختیار چندہ دہندوں کو ہوتاہے، جو یہ کہیں کہ ہمارا چندہ مساوی طور پر تمام مساجد کو تقسیم ہو وہ مساوی تقسیم کیاجائے اور جو یہ کہیں کہ بعض مساجد کودیاجائے ان کا اس بعض کو دیاجائے اور اُن کا چندہ اُس چندہ میں نہ ملایاجائے۔واﷲ تعالٰی اعلم