Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
137 - 190
مسئلہ ۲۶۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص دوسرے شخص کو کچھ مال بطور قرض حسنہ دے تو یہ قرض دینے والا قرض لینے والے سے اپنا مال طلب کرسکتاہے یاکہ نہیں؟ اور اگرقرض لینے والا مالدارہے اور قرض ادانہ کرے تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب

قرض حسنہ دے کرمانگنے کی ممانعت نہیں، ہاں مانگنے میں بے جا سختی نہ ہو،
وان کان ذوعسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ۱؎۔
اگرمقروض تنگدست (اور نادار) ہوتو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم   ۲ /۲۸۰)
اور اگر مدیون نادارہے جب تو اسے مہلت دینا فرض ہے یہاں تک کہ اس کا ہاتھ پہنچے اور جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطل الغنی ظلم، ولیّ الواجد یحل مالہ وعرضہ۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا (ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرناظلم ہے، اور پانے والے کاکترانا اورپہلوبچانا اس کے مال اور عزت کومباح کردیتاہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الاستقراض     باب مطل الغنی ظلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۲۳)
مسئلہ ۲۷۰ :  ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ یہاں دستور ہمیشہ سے ہے کہ کسی کی تقریب شادی یاختنہ یا اور کوئی تقریب ہوئی تواعزا واقربا، دوست وآشنا کچھ نقد کچھ روٹی، دال، چاول، تیل، دہی، کپڑا وغیرہ لاتے ہیں جس کو نوید یانوتاکہتے ہیں جو پہلے بطور مددومعونت سمجھاجاتاتھا نہ ادا کرنے پر کوئی گرفت یا تقاضانہیں تھا لیکن اب ان تقریبوں میں میرے یہاں کوئی سامان نوید لائے اور میں کسی وجہ یابلاوجہ سامان نہ لے گیا اس پر بعد کو تقاضا ہوتا ہے شکایت ہوتی ہے کہ ہم اُن کے یہاں لے گئے وہ میرے یہاں نہ لائے ایسی حالت میں مجھ سے اگر ادانہ ہوسکے تو اس کے لئے قیامت میں پرسش ہوگی یانہیں؟ اس کا حق باقی رہا یانہیں؟ اور بغیرمعاف کئے ہوئے اُس کے معاف ہوسکتاہے یانہیں؟
الجواب

اب جونیوتاجاتاہے وہ قرض ہے اس کا اداکرنالازم ہے اگررہ گیا تومطالبہ رہے گا اور بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگا والمسئلۃ فی الفتاوی الخیریۃ (اور یہ مسئلہ فتاوٰی خیریہ میں موجود ہے۔ت) چارہ کاریہ ہے کہ لانے والوں سے پہلے صاف کہہ دے کہ جو صاحب بطور امداد عنایت فرمائیں مضائقہ نہیں مجھ سے ممکن ہوا تواُن کی تقریب میں امداد کروں گا لیکن میں قرض لینانہیں چاہتا، اس کے بعد جو شخص دے گا وہ اس کے ذمّہ قرض نہ ہوگا ہدیہ ہے جس کا بدلہ ہوگیا فبہا، نہ ہوا تومطالبہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۱ :  از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ

دستور ہے کہ درختوں سے مسواک وپتّہ بلااجازت مالکِ درخت کے توڑتے ہیں یامٹّی کسی کے مکان کی کلوخ استنجا کے لئے بلااجازت لیتے ہیں، یاتنکا برائے خلالِ دندان کسی کے چھپّر سے کھینچ لیتے ہیں اور اس پر کوئی گرفت وتلاش مالکِ شے کی طرف سے نہیں ہوتی ہے آیا یہ جائزہے کہ بلااجازت لیں وتصرف میں لائیں یانہیں؟
الجواب

ایسی شے جس کی عادۃً اجازت ہے اور اس پر مالک مطلع ہوگا تو اصلاً ناگوار نہ ہوگا اس کے لینے میں حرج نہیں ورنہ حرام ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۲ : ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بواڑاہ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل کے بارے میں کہ :

(۱) کسی شخص کے پاس چوتھائی حصہ کسی کے پاس نصف کسی کے پاس کل مال سود کاہے اس کا کھانا کیساہے؟ (۲) کوئی شخص چوری میں مشہورہے لیکن لوگوں کو کھلاتاہے یہ کھانا کیساہے؟
الجواب

(۱) نہ چاہئے احتراز اولٰی ہے اور اگرمعلوم ہو کہ یہ گیہوں یاچاول جو ہمارے سامنے کھانے کو آئے عین سود کا ہے توحرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) چوری کامال خود کھانا بھی حرام اور دوسروں کو کھلانابھی حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۴ :  سلطان الاسلام احمدصاحب اجمیرشریف

مہاجن سے (اک ) روپیہ ماہوار (عہ) روپیہ سود کے حساب سے قرض لے کر تجارت کرناجائزہے یانہیں اور اس کا نفع حلال ہے یاحرام؟ تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
الجواب

جب تک صحیح ضرورت ومجبوری محض نہ ہو سود لینااور دینا  اور  دونوں برابر  ہیں، 

صحیح مسلم شریف میں ہے : لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۱؎۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سُود کھانے والے اور سود دینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر۔ اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب المساقاۃ     باب الربا    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۷)
بے مجبوری محض ایسی تجارت حرام ہے مگر اس کا نفع حرام نہیں جبکہ عقد صحیح سے ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter