| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۶۵ : ازکانپور محلہ ٹپکاپور متصل اسٹار پریس مرسلہ برکات احمدصاحب ۱۶۰ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ پیشہ کسب اور ناچ گانے کاکرتی تھی اس کوقدرتی طور پر میلان ہوا کہ پیشہ کسب یعنی زنا چھوڑدے چنانچہ اس نے اس سے توبہ کی پھر وہ ایک بزرگ طریقت زید سے مرید ہوگئی تاہم پیشہ ناچ گانے کا اب تک کرتی ہے پیرصاحب نے اس کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اس پیشہ کو اس وقت تک جب تک اس کے پاس ایک معقول سرمایہ جمع ہوجائے کرتی رہے ایسی حالت میں ہندہ اور اس کامرشد زیدکسی گناہ کے مرتکب ہیں اگر ہیں تو بروئے احکام شریعت اُن کی کیاسزاہے؟
مسئلہ ۲۶۵ : ازکانپور محلہ ٹپکاپور متصل اسٹار پریس مرسلہ برکات احمدصاحب ۱۶۰ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ پیشہ کسب اور ناچ گانے کاکرتی تھی اس کوقدرتی طور پر میلان ہوا کہ پیشہ کسب یعنی زنا چھوڑدے چنانچہ اس نے اس سے توبہ کی پھر وہ ایک بزرگ طریقت زید سے مرید ہوگئی تاہم پیشہ ناچ گانے کا اب تک کرتی ہے پیرصاحب نے اس کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اس پیشہ کو اس وقت تک جب تک اس کے پاس ایک معقول سرمایہ جمع ہوجائے کرتی رہے ایسی حالت میں ہندہ اور اس کامرشد زیدکسی گناہ کے مرتکب ہیں اگر ہیں تو بروئے احکام شریعت اُن کی کیاسزاہے؟
الجواب یہ ملعون پیشہ حرام قطعی ہے اگر اسے حلال جانے کافرہے کہ نصوص قرآنیہ کامنکرہے وقد ذکرناھا فی فتاوٰنا (اس کا ذکر ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردیاہے۔ت) جومال اس سے جمع ہوگا حرام حرام حرام مثل مال غصب ہوگا کہ ہندہ نہ اسے اپنے صرف میں لاسکے گی نہ اپنے پیرکے۔ ہندہ صورتِ مذکورہ میں فاسقہ فاحشہ ہے اور جس نے اس کی اجازت دی اور اس ملعون کام سے سرمایہ جمع کرنے کوکہا وہ حرام کادلال فاسق فاجرضال ہے، عجب کہ سائل بزرگِ طریقت لکھتاہے، بزرگان طریقت شیطان خصلت نہیں ہوتے۔ رہی سزاوتعزیر، وہ یہاں کون دے سکتاہے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۶ : ازموضع بہار ضلع بریلی مرسلہ محمداسمٰعیل خاں صاحب ۲۲رجب المرجب ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح عدت سے دومال پیشترہوا اس میں جو شاہد گواہ بنے ان کوجوکچھ ملاوہ کچھ تو اسی حصہ اس رقم کامسجد شریف میں دیناچاہتے ہیں تو صرفہ مسجد میں لگایاجائے کہ نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جو ہم کو نکاح میں ملاہے وہ مسجد کے خرچ کے واسطے لے لو۔ بیّنواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب اگر اُن کو معلوم تھا کہ یہ نکاح عدّت کے اندرہواہے اور پھر شاھد بنے اور اس پرکچھ لیا تو وہ حرام ہے مسجد میں ہرگز نہ لیاجائے، اور اگرمعلوم نہ تھا اور شاہد بننے پراجرت لی جب بھی باطل ومردود ہے نہ لی جائے، اور اگرمعلوم نہ تھا نہ اجرت لی مگردینے والے نے بطورشاہد دیا کہ یہ وقت پر ہماری سی کہیں جب بھی وہ واقع میں ناجائزہے، شاہد ان کو چاہئے اُسے واپس دیں اور مسجد میں نہ لیاجائے، ہاں اگر یہ صورت ہوتی کہ شاہدوں کو لوگ کبھی کبھی بطور صلہ کچھ دیتے ہیں جس کی عادت نہیں اور اُسی صلے کے طورپر اُن کو دیاجائے اور انہیں نکاح عدّت میں نہ ہونے کی خبرہوتی توجائزہوتا اور مسجد میں لینا بھی جائزہوتا لیکن ظاہر ایسا ہوتا نہیں لہٰذا نہ لیاجائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷ : ازدیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود لینا باری تعالٰی نے حرام فرمایا جسے موافق فرمان خداوندی ہرشخص براجانتاہے اس طرح سود دینا بھی براجانتے ہیں لیکن ایساشخص جسے روپے کی سخت ضرورت ہے اور قرض حسنہ بھی آج کل کسی کو نہیں دیتا اور میواڑ کے مسلمانوں کی حالت تو بہت کمزور ہے ایسی حالت میں کسی غیرمذہب سے سودی روپیہ لے آئے اور اپنی ضرورت رفع کرے توکیساہے ایسے شخص کے پیچھے نماز میں تو کوئی قباحت نہیں؟
الجواب لوگ بے ضرورت باتوں کو ضرورت ٹھہرالیتے ہیں مثلاً شادی میں کثیر خرچ درکارہے کچے مکان میں رہتے ہیں پختہ مکان بنانا منظورہے گزرکے لائق تجارت کررہے ہیں اور بڑاسوداگربننامقصود ہے ان اغراض کے لئے سودی قرض لیتے ہیں یہ حرام ہے، اس کا اور سود دینے کاایک حکم ہے۔
صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔۱؎
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے سود کھانے والے،کھلانے والے،اُسےلکھنے والے اور اس کےگواہ ان سب پرلعنت فرمائی۔ اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابرہیں۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)
وہاں اگرواقعی ضرورت ہے کہ بے اس کے گزرنہیں مثلاً کھانے پینے کو درکارہے اور کسب پرقادرنہیں، نہ حاجاتِ ضروریہ سے زائد کوئی چیز قابل بیع پاس ہے یاقرضخواہ کی ڈگری ہوگئی پاس کچھ نہیں، ادانہ کرے تو رہنے کامکان یاجائداد کاٹکڑا کہ ہی ذریعہ معاش ہے نیلام ہوجائے تو ایسی مجبوریوں میں قرض لے سکتاہے۔
درمختارمیں ہے :
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا۲؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ ضرورت مند اور مجبور کوسودی قرض لینا جائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۶) (بحرالرائق باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۲۶)
مسئلہ ۲۶۸ : ازمفتی محمداحمدبنگالی کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص عالم صاحب کو دعوت دے کے مکان میں لائیں اور بنظر عزت اچھاکھانا پکاکے کھلائیں اور مربیوں کی ثواب رسانی کے لئے کچھ دعاکرائیں اور آتےوقت اُن کو بطورہدیہ کچھ ﷲ دیں تو یہ لیناجائزہے یانہیں، اور اجرت علی الطاعۃ اس پرصادق ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب اگر یہ معہود اصراف ہے بلانے والاجانتاہے کہ دیناپڑے گا آنے والاجانتاہے کہ کچھ ملے گا تو یہ مثل اجرت ہے فان المعروف کالمشروط (جوبات لوگوں میں مشہور ہو وہ شرط کردہ باب کی طرح ہے۔ت) اور اگر یہ نہیں تو عالم کی خدمت عالم کااعزاز سب باعث اجرعظیم ہے اور بلاشرط اصراف جوروزانہ ملے جائزہے اور طریقہ نجات یہ ہے کہ عالم پہلے کہہ دے کہ میں دعاکروں گا پڑھ کر ثواب بخشوں گا مگرہرگز اس پرعوض نہ لوں گا اس کے بعد کچھ ملے خالص نذرہے،
فان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الغنیۃ وغیرھا ۱؎۔
اس لئے کہ صریح قول، دلالت (یعنی اشارہ کنایہ سے) فوقیت یعنی اوپر ہوتاہے، جسے غنیہ وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب دعوی الرجلین داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۳۷)
اور یہ دعوت بھی ایام موت میں نہ ہو،
فانھا شرعت فی السرور لافی الشرور کما فی فتح القدیر وغیرھا۲؎۔
کیونکہ دعوت خوشی میں جائزہے نہ کہ صدمے اور تکلیف میں، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر باب الشہید مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲)
ایام موت کی دعوت قبول نہ کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم