Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
135 - 190
 (۲) یوں ہی نری سخت مجبوری وناچاری شرعی کے سوا سود دینا بھی ویساہی حرام ہے، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے سُود کھانے والے اور سُود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں سب پرلعنت فرمائی، اور فرمایا : وہ سب برابرہیں۲؎۔
 (۲؎ صحیح مسلم     کتاب المساقات     باب الرباء        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷)
 (۳) عورتوں کاراستوں میں یوں بے پردہ پھرناکہ سرکاکوئی بال یاگلے کاکچھ حصہ یاکلائی یا پنڈلی کاکھلا ہو یا کپڑے باریک ہوں کہ بال وغیرہ اعضاء مذکورہ میں سے کچھ چمکے (سینے یاپیٹ یا پیٹھ میں سے کچھ کھلا ہونا یاچمکنا تو اور بھی سخت ہے) یہ صورتیں حرام ہیں اور اُن عورتوں کے شوہر اگر اس پرراضی یاساکت ہیں یابقدرِ ضرورت بندوبست نہیں کرتے توسب دیّوث ہیں، اور حدیث میں ہے : دیّوث پرجنت حرام ہے۳؎۔
 (۳؎ مسند امام احمد بن حنبل    عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما        المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۹۔۱۲۸)
یہ تینوں باتیں یا ان میں سے کوئی جس میں پائی جائے فاسق فاجر مستحق عذاب النارہے، دھڑے والا ہو یا سترا والا یاکوئی اور، اگر ان باتوں کی ممانعت کے باعث اس شخص تنہا سے بیزار ہیں تو اور اشد سے اشد گناہگار وسزاوارِ غضب جبّار ہیں، ان تین باتوں کا تو یہ جواب ہے، رہا کھانے کاجھگڑا، اُس میں ستراوالوں پرچار الزام ہیں:

(i) ایک یہ کہ دھڑے والوں کا ایک قومی امتیاز جو قدیم سے چلاآتاتھا اس پر حسد کیا اور حسد کار شیطان ہے۔

( ii) دوسرے یہ کہ اس کے سبب جماعت میں تفریق کردی، بندھی گرہ کے دوگروہ مختلف کردئیے کہ یہ اُن کے یہاں نہ کھائیں وہ اُن کے یہاں نہ کھائیں۔

(iii) تیسرے یہ کہ وہ کھانا جسے قدیم سے ان کے باپ دادا اور یہ خود کھاتے آئے اسے اب نفسانیت کے سبب شریعت سے حرام بتایا یہ سخت جرم ہے وہ کھانا نہ اُس رسم کے باعث شرعاً جب حرام تھا نہ اب ہے۔

(iv) چوتھے یہ کہ خود ایک رسم نکالی اور اُس طرح کھانا نہ پکے تو نہ کھائیں گے، تو ان کے منہ خود ان کا کھاناشریعت سے حرام ہوا، رسم کی پابندی اگرچہ عوام حد سے زیادہ کرتے ہیں مگر اس کو شرعاً واجب نہیں جانتےرسم ہی سمجھتےہیں، تو جس رسم میں خود کوئی شرعی برائی نہ ہو اس میں قوم کی موافقت ہی کا حکم ہے اور اس میں اختلاف ڈال کر نکّوبننا شرعاً معیوب ہے، یہ ایک الزام اس تنہا شخص پر بھی خاص اس بارے میں ہے۔

حدیث میں ہے : خالقواالناس باخلاقھم۔۱؎ لوگوں سے ان کے اخلاق کے مطابق اخلاق کابرتاؤ اور سلوک کرو۔(ت)
 (۱؎اتحاف السادۃ المتقین     کتاب آداب العزلۃ    الباب الثانی     الفائدۃ الثالثہ     دارالفکر بیروت     ۶ /۳۵۴)
دھڑے والوں پراس بارے میں کوئی الزام نہیں، ہاں اگر کوئی شخص اُس گُڑ کی رسم کو ضروری وحکم شرعی جانے تو وہ ضرور جھوٹا اورسخت اشدالزام کامورد ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷ :  ازشہربریلی مسئولہ شوکت علی صاحب        ۸/شوال ۱۳۳۷ھ

کیاقول ہے علمائے حقانی کامسئلہ ذیل میں کہ ناجائز روپیہ یعنی سود وشراب ورشوت وغیرہ اگرنیک کام مسجد، مدرسہ، چاہ، نیاز، فاتحہ، عرس وغیرہ میں لگایا جائے تو جائزہے یانہیں؟ اور جوشخص اس مسجد میں نماز، مدرسہ میں علم اور چاہ کاپانی اور فاتحہ عرس کا کھانا کھائے تو جائزہے یانہیں؟ اور اگر اسی روپیہ کو خیرات کیاجائے اور امیدِ ثواب رکھی جائے توکیاحکم ہے؟ ایسے روپیہ کو کسی شرعی حیلہ سے جائز کرسکتے ہیں یانہیں؟ اور وہ حیلہ کیاہے؟
الجواب

حرام روپیہ کسی کام میں لگانا اصلاً جائزنہیں، نیک کام ہو یا اور، سوا اس کے کہ جس سے لیا اُسے واپس دے یافقیروں پرتصدّق کرے۔ بغیر اس کے کوئی حیلہ اُس کے پاک کرنے کانہیں، اُسے خیرات کرکے جیساپاک مال پر ثواب ملتاہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہے، بلکہ فقہاء نے کفرلکھاہے۔ ہاں وہ جو شرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پرتصدّق کردے اس حکم کومانا تو اس پر ثواب کی امید کرسکتاہے مسجد مدرسہ وغیرہ میں بعینہ روپیہ نہیں لگایاجاتا بلکہ اس سے اشیاء خریدتے ہیں خریداری میں اگر یہ نہ ہوا کہ زرحرام دکھاکرکہا اس کے بدلے فلاں چیزدے اُس نے دی اُس نے قیمت میں زرِ حرام دیا تو جو چیز خریدیں وہ خبیث نہیں ہوتی، اس صورت میں فاتحہ وعرس کا کھانا جائزہے اور اکثریہی صورت ہے، مسجد میں نماز مدرسہ میں تحصیل علم جائزہے اور کنویں کاپانی تو ہرطرح جائزہے اگرچہ اس میں وہ نادر صورت پائی گئی ہو کہ خباثت آئی تواینٹوں مسالے میں نہ ہ زمین کے پانی میں۔ وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۱ :  ازبھیرہ ضلع شاہ پور محلہ پراچگان مسئولہ محمدرحیم پراچہ بابلی ۷/رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ :

(۱) کسی امر کے ثبوت یاعدمِ ثبوت پر مسلمین عاقلین کا طرفین سے شرط مالی لگانا حلال ہے یاحرام؟

(۲) طرفین سے ایک کا دعوٰی ثابت ہوجانے پرمطابق شرط دوسرے کی طرف آیاہوا مال کھانا حلال ہے یاحرام؟

(۳) ایک متقی عالمِ دین کا شرط کو حرام کہہ کر پھر اسی شرط کے مال سے کھالینا کیاحکم رکھتاہے؟

(۴) جس مال پرشرط لگائی گئی ہو اس کے استعمال کرنے والے کے پیچھے نماز جائزہے یانہیں؟بینوا جزاکم اللہ (بیان فرمائے اللہ آپ کو جزا دے ۔ت)۔
الجواب

(۱) طرفین سے شرط بَدنا حرام ہے،   تنویرالابصار میں ہے :
حل الجعل ان شرط المال من جانب واحد وحرم لوشرط من الجانبین۱؎۔
انعام یافتہ مال حلال ہے اگرشرط ایک طرف سے ہو، اور حرام ہے اگرشرط دونوں طرف سے ہو۔(ت)
(۱؎درمختار شرح تنویرالابصار    کتاب الحظروالاباحۃ    فصل فی البیع   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴۹)
 (۲) جب طرفین سے شرط بَدی گئی تو جو جیتے اُسے مال لینا اور کھانا اور ہارنے والے کو اُسے مال دینا سب حرام لانہ خبیث حصل بسبب خبیث (اس لئے کہ وہ ناپاک ہے کیونکہ ناپاک سبب سے حاصل ہواہے۔ت)

(۳) اگر وہ عالم خود ایک فریق تھا تو متقی کب ہوا، حرام کارہے، اور اسے کھائے تو حرام خور ہے۔ اور اگر یہ کسی فریق میں نہ تھا اور جیتنے والے نے مال لے کر اسے دیا جب بھی حرام ہے کہ وہ مال مغصوب ہے جن سے لیاتھا فرض ہے کہ انہیں پھیرکردے نہ کہ دوسرے کو، اور اگر جیتنے والے نے مال لیا اور ہارنے والے کی اجازت سے عالم کو دیا تو عالم کے لئے حلال ہے کہ باجازت مالک ہے۔

(۴) اس کا حکم بیان سابق سے واضح ہے جیتنے والے کو حرام اور ثالث کو بھی بلااجازت مالک حرام، ان دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ اور باجازت مالک حلال ہے اور امامت میں مخل نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: ازشہر بریلی   مسئولہ شوکت علی صاحب    ۱۲/شوال ۱۳۳۷ھ

کیاحکم ہے اہلِ شریعت کا کہ ملازمت چونگی کی جائزہے یانہیں؟ اور حاکمِ وقت کو اس کا روپیہ تحصیلنا جائز ہے یانہیں، یہ روپیہ رعایا سے تحصیل کرکے رعایا ہی کی آسائش کے واسطے روشنی سڑک وغیرہ کے کام میں لگادیتے ہیں، اور چونگی کا محصول چرانا جائزہے یانہیں؟
الجواب

نیک نیت سے چونگی کی نوکری تحصیل وصول کی جائزہے ہے نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الخ (درمختار وغیرہ بڑی کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی الخ۔ت) چوری یعنی دوسرے کامال معصوم بے اُس کے اذن کے اُس سے چھپا کرناحق لینا کسی کو بھی جائزنہیں اور نوکر کاخلاف قرارداد کرناعذرہے اورغدرمطلقاً حرام ہے نیز کسی قانونی جُرم کاارتکاب کرکے اپنے آپ کو بلاوجہ ذلت و بلاکے لئے پیش کرنا شرعاً بھی جرم ہے کما استفید من القراٰن المجید والحدیث (جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث پاک سے معلوم ہوا۔ت) رہا یہ کہ حکام وقت کو اس کا تحصیلنا شرعاً کیساہے نہ حکام کو اس سے بحث ہے نہ سائل کو حاکم سے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳ : ازایگت پوری ضلع ناسک مرسلہ سعیدالدین صاحب ۱۱صفر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک طوائف نے اپنی ناپاک کمائی حرام کاری کے روپیہ سے ایک مکان خریدکیا اور اس کو بنام چنداشخاص سپرد کرکے لکھ دیا کہ اس مکان کی آمدنی مسجد کے اصراف میں خرچ کی جائے اور ان کو اس کا اختیار بیع ورہن حاصل نہیں کیا ایسے مکان کی آمدنی اصراف اخراجاتِ مسجدمیں صرف کرنادرست وجائزہے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب

ایسی اشیاء اکثر قرض سے خریدتے ہیں جب تو ظاہر کہ وہ مال حلال ہے ورنہ عام خریداریوں میں عقد ونقد مال حرام پرجمع نہیں ہوتا یعنی یہ نہیں ہوتا کہ حرام روپیہ دکھاکر کہیں اس کے عوض دے دو پھر وہی روپیہ قیمت میں دے دیں، ایسی صورت میں بھی روپے کی خباثت اس شے میں سرایت نہیں کرتی کماھو مذھب الامام الکرخی المفتی بہ (جیسا کہ امام کرخی کامذہب ہے کہ جس پر فتوٰی دیاگیا۔ت)ان صورتوں میں اُس مکان کی آمدنی مسجد میں صرف ہوسکتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴ : ازبریلی بازار شہامت گنج مسئولہ عاشق علی دکاندار ۲۶مؤجمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

علمائے دین کیافرماتے ہیں ایک شخص کی زمین ہے اُس میں ایک اور شخص رہتاہے عملہ اس کا خام ہے زمیندار زمین فروخت کرناچاہتاہے اور اہل محلہ چندہ کرکے خریدنا چاہتے ہیں اس لئے کہ اس مکان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتارہے جو شخص اس میں رہتاہے وہ مسجد کے لئے خریدنے سے ناراض ہے وہ چاہتاہے کہ میں خریدوں، وہ شخص مسلمان ہے، اس زمین کا خریدنا ہم اہل خیر کو جائزہے یااس شخص کو جائزہے؟
الجواب

ظاہر ہے کہ اس شخص کومکان کی حاجت ہے کہ کرایہ کے مکان میں رہ رہاہے لہٰذا اس کا اپنے لئے چاہنا مذموم نہیں، اور اختیار مالک مکان کو ہے جس کے ہاتھ چاہے بیع کرے، اس میں کسی فریق پر کوئی الزام شرعی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter