Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
134 - 190
مسئلہ ۲۴۸ : ازبلرام پور محلہ پورنیا تالاب ضلع گونڈا مرسلہ محمد تیغ بہادر خاں صاحب ۳/جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

ایک مہترحال مسلمان ہوا ترک پیشہ خود نہ کرکے مثل قدیم، اہل اسلام ونیز دیگراقوام کے جائے ضرور کو صاف کرتاہے اس نے مسلمانوں کی دعوت کی اپنے کسب سے، چند اشخاص نے اُس کے گھرکا  پکاہواکھانا کھایا باقی لوگ جو مدعو تھے نیز سکنائے قصبہ نے بدیں وجہ انکار کیا کہ وہ اب تک مثل سابقہ مہتر ہے علاوہ مسلمانوں کی جائے ضرور کے دیگراقوام کی بھی صاف کرتاہے دشمنانِ دین سے دلی میل وملاپ کے شارع علیہ السلام مانع ہیں چہ جائیکہ ایسی ذلیل خدمت کابرتاؤ اُن کے ساتھ عمل میں لاکر کیسے کوئی کامل الایمان رہ سکتاہے لکھنؤ یا اور شہر جہاں بڑے بڑے فضلا موجود ہین کیوں مہتروں کے ساتھ خوردونوش جاری نہیں ہے پہلے علماوفضلا نوش فرمائیں اور رواج دیں تب ہم لوگ کھاسکتے ہیں تمام اہل ہنود اس پرمعترض ہیں کہ جن جن مسلمانوں نے بھنگی کے یہاں کھایا ہے اُن لوگوں کے ساتھ ایساہی برتاؤ کیاجائے اور انہیں میں یہ قوم بھی متصور ہو یہاں کے مالک ریاست اہلِ ہنود ہیں اور یہی قوم زیادہ تر با اختیار ہے سب مسلمانوں کی ذریعہ معاش وغیرہ اسی سے ہے اگرعمائدین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہو تو کس قدرذلت اہل اسلام کی ہوگی جن صاحبوں نے کھایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارا دینی بھائی ہے ہم برابر خوردونوش رکھیں گے اور ازدواج کی بابت نہیں معلوم کیا خیال ہو وہ اپنے بھائی کو ایسی ذلیل حالت میں زندگی بسرکرتے نہیں معلوم کیسے ملاحظہ فرمانا پسند کر رہے ہیں جبکہ ہزاروں اورذرائع معاش جو اس حالت سے طیب وپاک ہیں بآسانی ہوسکتے ہیں کیوں دریغ فرمارہے ہیں اور باعثِ ننگ وعار اسلام ہیں۔
الجواب

نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کسب الحجام خبیث ۱؎
بھری سنگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔
 (۱؎سنن ابی داؤد    کتاب البیوع    باب فی کسب الحجام    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۳۰)
علماء فرماتے ہیں: "لتلوثہ بالنجاسات" اس لئے کہ اُسے نجاست سے کام پڑتاہے۔ تو بھنگی کاپیشہ کس درجہ خبیث ترہوگا۔ علمافرماتے ہیں: لایجوز خدمۃ الکافر باجر کافر کی خدمت گاری کی نوکری جائزنہیں) کہ اس میں معاذاﷲ مسلمان کی تذلیل ہے تو ایسی سب سے ذلیل تر خدمت کیونکر حلال ہوسکتی ہے، اور جب وہ مسلمان ہے تو دینی بھائی ضرور ہے مگر دینی بھائی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ باوصف اس کی ایسی شنیع حرکت کے وہ مسلمان ہوکر کافروں کے آگے اپنے آپ کو اس درجہ ذلیل کرتا ہے اور حرام اُجرت کھاتاہے، اُس سے میل جول ایسا ہی رکھیں جیسا صالحین سے، اور جبکہ اس کی کمائی خبیث ہے تو اُسے بھی یوہیں کھائیں جیسے پاک مال کو، اُس پر لازم ہے کہ جب وہ مسلمان ہُوا اس ناپاک پیشہ کو ترک کرے اور کافروں کے سامنے اسلام کانام ذلیل نہ کرے اُس سے میل جول نہ کیاجائے اور اُس کی ناپاک کمائی کاکھانا نہ کھایاجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۴۹ :  ازشہر محل باقرگنج    مرسلہ عنایت خاں     ۱۳/جمادی الاُخرٰی ۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب کافروں کامیلہ دریاپرہوتاہے تو یہ پنڈتوں کو اپنے گھر سے دال چاول لے جاکر دیتے ہیں یعنی پُن کرتے ہیں، وہ لوگ اس کو جمع کرکے فروخت کرڈالتے ہیں دکانداروں کے ہاتھ، اور اُن دکانداروں سے ہم لوگ خریدتے ہیں اگر ہم خود اس پنڈت سے خرید لیں بازار سے کچھ زیادہ دی جائیں تو جائزہے یانہیں، اور اُن کو خرید کر اگرنیاز دلوائی جائے مثلاً حضرت پیرانِ پیر کی، جائزہے یانہیں؟
الجواب

اُس اناج کابازار سے بھی خریدنا حلال، پنڈت سے بھی خریداری جائز، اس پرنیاز شریف بھی مباح۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰ : ازجھالراپائن راجپوتانہ     مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم

یہاں ایک روپے کا نوٹ چلاہے اور ریاست سے تنخواہ داروں کو روپیہ کے عوض نوٹ ملتاہے، بازارمیں خریدار صراف وغیرہ پندرہ آنے اور ساڑھے پندرہ آنے کو خریدتے ہیں، یہ آنہ اور آدھ آنہ مسلمانوں کو لینا دیناجائزہے یانہیں؟  اس قسم کا لین دین سُود میں داخل ہوگا یامنافع میں؟ بینواتوجروا۔
الجواب

روپےکا نوٹ پندرہ آنے کو بیچنا خریدنا مطلقاً جائزہے جبکہ باہم رضامندی اور کوئی مانع شرعی عارض نہ ہو اسے سُود سےکوئی علاقہ نہیں،
حدیث صحیح میں ارشادفرمایا :
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم ۔ جب دو نوع مختلف ہوں تو پھر جس طرح چاہو خریدوفروخت کرو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ نصب الرایۃ   کتاب البیوع  المکتبۃ الاسلامیہ  ۴ /۴)
مسئلہ ۲۵۱ :ازجھالراپائن راجپوتانہ    مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم

افیون کی خریدوفروخت جائزہے یانہیں؟ چونکہ غیرقوم اس سے فائدہ حاصل کررہی ہے اور اہل اسلام محروم ہیں، شرع شریف نے اس قسم کا بٹہ لینادینا اور تجارت کسی طریقہ سے جائز رکھی ہوتو جواب تشریح کے ساتھ مرحمت فرمایاجائے۔
الجواب

افیون نشہ کی حدتک کھانا حرام ہے اور اسے بیرونی علاج مثلاً ضمادوطلاء میں استعمال کرنا یاخوردنی معجونوں میں اتنا قلیل حصہ داخل کرنا کہ روز کی قدر شربت نشے کی حدتک نہ پہنچے توجائزہے اور جب وہ معصیت کے لئے متعین نہیں تو اس کے بیچنے میں حرج نہیں مگر اس کے ہاتھ جس کی نسبت معلوم ہوکہ نشہ کی غرض سے کھانے یاپینے کولیتاہے،
لان المعصیۃ تقوم بعینھا فکان کبیع السلاح من اھل الفتنۃ۔
اس لئے کہ گناہ عین شے کے ساتھ قائم ہوتاہے پھر اس کی مثال اس طرح ہوتی جیسے ''اہل فتنہ'' پرہتھیار فروخت کرنا۔(ت)
اور جب اس کی تجارت مطلقاً حرام نہ ہوئی بلکہ جائز صورتوں پر بھی مشتمل ہوئی تو زیادہ مقدار تاجروں کے ہاتھ بیچنا اور ہلکا ہوگیا کہ یہاں تعین معصیت اصلاً نہیں اور ان کا نشہ داروں کے ہاتھ بیچنا ان کا فعل ہے،

وتخلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔ کسی فاعل، مختار کادرمیان میں گھُسنا نسبت کو منقطع کردیتاہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔(ت)

یہ صورتیں اس کے جواز کی نکلتی ہیں، اور اہل تقوٰی کو اس سے احتراز زیادہ مناسب۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۵۲: ازکلکۃ زکریااسٹریٹ ۲۲ مولوی عبدالحلیم میرٹھی    ۷/رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ

کچہری کاملازم چپراسی جوروپیہ مقدمہ بازوں سے انعام کی صورت میں وصول کرتاہے اور بعض صورمیں بجبردرصورتیکہ رشوت کے حکم میں داخل ہو، اب توبہ کرنے کے بعد درآنحالیکہ اُن اشخاص کو واپس کرنا اُن سے اجازت لین اور قصور معاف کرانا ازقبیل محالات ہوگیا ہو کس مصرف میں لایاجائے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب

انعام اگر واقعی بطورِ انعام بلاجبرظاہر وبے اندیشہ اضرار آئندہ بطیب خاطر ہو، حلال ہے اور جوبجبریارشوۃ ہو حرام قطعی وغصب وغیرمملوک ہے جبکہ واپس دینے کی راہ نہ رہی ہولازم کہ تمام عمر میں جتنے اموال ایسے لئے ہوں سب کی قدر فقرائے مسلمین پرتصدق کرے اگرچہ یہ تصدّق اس کے مال کا استیعاب کرے بے اُس کے اُس سے برأت وتوبہ نہیں،اگر یہ بھی پتانہ چلے تو برأت مطلقہ کاطریقہ یہ ہے کہ اپنا کل مال قلیل وکثیر، نفیر وقطمیر سب کسی مسلمان غیرصاحبِ نصاب پرتصدّق کردے اور اس کے قبضہ میں دے دے اگر چہ وہ فقیر جس پر تصدّق کیا اس شخص کاجوان بیٹا یاباپ یابھائی یابہن یازوجہ یا اور کوئی قریب یابعید ہو بعد قبضہ وہ متصدق علیہ اپنی خوشی سے بعض یا کُل مال اسے واپس کردے یعنی اپنی طرف سے اسے ہبہ کرے یا اس پر تصدّق، تو وہ مال اب اس کے لئے طیب ہوجائے گا مطالبہ سے بھی اداہوا اورمال بھی پاک وحلال ملا۔
ہندیہ میں ہے :
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدّق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلک ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا، خرج من العھدۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کسی کے پاس مشتبہ مال ہے، جب اسے اپنے والد پرخیرات کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔ کسی اجنبی شخص پرصدقہ کرنا شرط نہیں۔ اور اسی طرح جب اس کا بیٹا اس کے ساتھ ہو، جبکہ یہ شخص خریدوفروخت کرتاہو، اور اس کے کاروبار میں کچھ فاسد سودے ہوں تو یہ اپنا سارا مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردے تو اس صورت میں یہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الکراھیۃ    الباب الخامس عشر فی الکسب    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۹)
مسئلہ ۲۵۳ :ازرنگون     مرسلہ عبدالستار بن اسمٰعیل ۹/شعبان ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنّت اس مسئلہ میں کہ اس شہر میں چندسال سے ایک قسم کی سواری جاری ہوئی ہے یعنی انگریزی ساکت کی ٹم ٹم شکل کا دو چکے والا ہلکا گاڑی ہوتاہے جسے انسان لے کر دوڑتے ہیں لوگ اُس گاڑی پرسوار ہوتے ہیں اور مناسب معاوضہ گاڑی لے کر دوڑنے والے کو دیتے ہیں غرض گاڑی میں جو کام جانور آتے وہی کام قریب قریب آدمی کرتے ہیں تو کیا اہلِ اسلام کو اس سواری پر سوار ہونا جائزہے یانہیں؟
الجواب

وہ لوگ اپنی خوشی سے ایسا کرتے ہیں اوراس پر اُجرت لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں جیسے پالکی کے کہار،
وقد مرت محفۃ سیدنا شیخ الشیوخ السھروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ من العراق الی مکۃ المکرمۃ علی اعناق الرجال۔ واﷲ سبحٰنہ اعلم۔
بے شک ہمارے سردار شیخ الشیوخ سہروردی رضی اﷲ تعالٰی عنہ عراق سے لے کر مکہ مکرمہ تک لوگوں کی گردنوں پرسوار ہوکرگئے واﷲ سبحٰنہ، اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۴ :  ازبریلی گورنمنٹ بوچڑخانہ مرسلہ نعمت اﷲ صاحب ٹھیکہ دار گوشت ۱۵/رجب المرجب ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کٹھلہ گوشت بکری کا اس قسم کاہے کہ ذبحہ و جھٹکہ گردن مارا ہوا دونوں قسم کاشامل ہے اگرخریدنے سے قبل ہم دوشخص اس کو اس ارادے سے خرید کر کہ ذبحہ ایک آدمی اور جھٹکہ ایک آدمی مگرنام میں وہ کام میرے رہے گا اب وہ جائز ہے یاناجائز؟ اور میرے ذمہ کوئی نقصان شرعی رہا یاکہ نہیں؟
الجواب : جبکہ حلال گوشت میں حرام ملاہواہے اس کا خریدنا مطلقاً حرام ہے اور اگرمتمیّز ہوکہ یہ ٹکڑا حلال کا ہے یہ مردار کا، توصرف حلال کاخریدنا جائز اور مردار کا خریدنا سخت حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ :  از شہر جالندھر چوک حضرت امام ناصرالدین صاحب مرسلہ محمد امین صاحب ۲۷/رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بازاری عورت کے ہاتھ قیمتاً چیزیں فروخت کرنا جائزہے یاناجائز؟
الجواب

اُس کے ہاتھ کچھ بیچ کر اس کے زرِ حرام سے قیمت لینا حرام، اُس کے یہاں کوئی اجرت کاکام کرکے اس کے زرِ حرام سے اجرت لینا حرام "لان الذی عندھن کالمغصوب کما فی الھندیۃ وغیرھا" (اس لئے کہ جوکچھ اُن بازاری عورتوں کے پاس ہے وہ غصب کردہ (یعنی چھینی ہوئی) چیز کا طرح ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت) ہاں اگر اس کے سوا کوئی اور ذریعہ حلال بھی اس کے پاس ہو اور لینے والے کو معلوم نہ ہو کہ یہ قیمت یا اجرت کون سے مال سے ہے تو لیناجائز ہے جبکہ وہ چیز کہ بیچی بعینہٖ اس سے اقامت معصیت نہ ہو جیسے مزامیر، ورنہ بیچنا خود ہی جائزنہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۶ : از سیملیہ علاقہ سیلانہ اسٹیشن ناملی ضلع رتلام مالوہ ریلوے مرسلہ نورمحمد ولدصدیق کھتری ۳۰/رمضان ۱۳۳۷ھ 

مسلمانوں میں ایک قوم کھتری ہے جو رنگائی وغیرہ کاپیشہ کرتی ہے، ان کی قوم میں بائیس گوٹ ہیں یعنی فرقہ، اور اُن میں باہم اتفاق تھا، لین دین، کھانا پینا وغیرہ ہوتا تھا۔ اب عرصہ پانچ چھ برس سے آپس میں تکرار فساد ہو کر باہم تنازع پیدا ہوا اور علیحدہ ہوگئے۔ ایک فریق سترہ گوٹ والا اور دوسرا پانچ گوٹ والا، اور اسی نام سے یہ مشہور ہیں، ایک فریق سترا والے اور فریق ثانی دھڑے والے، بناءِ فساد یہ ہے کہ جب اُن میں اتفاق تھا اُس وقت میں شادی غمی کاکھانا وہ اس طرق سے  پکتاتھا جس کے گھر خوشی ہوتی تو جملہ پنچ اس کے مکان پرجمع ہوتے ہیں اور دیگچی میں پانی بھر کر پنچوں کے بیچ میں رکھتے ہیں اور ایک برتن علیحدہ گرہ رکھتے ہیں پھر ایک آدمی انہیں سے اٹھ کر پنچوں سے اجازت کھانا پکانے کے واسطے گُڑ گلانے کی طلب کرتا اُن کی زبان میں کہتا(پنچاموکل) یعنی پنچ اجازت گُڑ گلانے کی دو، تو اس وقت پنچ جواب دیتے ہیں (بسم اﷲ) یعنی اجازت دی گئی۔ اس وقت پانچ گوٹ والے جن کانام دھڑے والے ہے پانچ آدمی اُٹھ کر ایک ایک ڈلی گُڑ کی لے کر بسم اﷲ کہہ کر اس دیگچی میں ڈال دیتے ہیں، تب کام شروع ہوکر اختتام کو پہنچ جایاکرتاتھا۔ یہ رسم قدامت سے باپ دادا کی قائم تھی، ستراوالوں کو حسد پیدا ہوا کہ دھڑے والے گڑگلائیں جب کھاناپکے اور یہ اپنا حق جتاتے ہیں کہ گڑ گلانا ہماراکام ہے تو ہم کو ایسا کھانا منظور نہیں ہے ہم دھڑے والوں سے علیحدہ ہی اچھے ہیں، اس سبب سے آپس میں دوفریق ایک ستراوالے اور دوسرے دھڑے والے ہوگئے۔ دھڑے والوں نے تو اپنی رسمِ قدیم قائم رکھی کہ ہم بسم اﷲ کے ساتھ اس کام کو کرتے ہیں کوئی شرک کفر نہیں کرتے۔ اور ستراوالوں نے رسمِ قدیم چھوڑکرنیا طریقہ اختیار کیا کہ جس کے یہاں کھانا وغیرہ پکے تو مالک کھڑا ہوکر اجازت کھانا پکانے کی مانگ لیتاہے اور وہ کھانا پکاکر کھالیتے ہیں، ستراوالے کے کھانے کو دھڑے والے نہیں کھاتے  اور دھڑے والوں کا سترا والے ،اور یہی باعث نفاق ہے ،سترا والے کہتے ہیں کہ ہم رسمی کھانا نہیں کھاتے ،شریعت سے منع ہے، اُس رسم کو چھوڑ کر اتنا ضرور ہوتاہے کہ جس کے یہاں کام ہوتاہے وہ پنچوں سے اجازت ضرور لیتاہے۔ اگر اور طریقہ سے کھانا پکایاجائے گاتوستراوالے بھی نہیں کھائیں گے، ان دونوں فریق میں سے ایک شخص تنہا اپنے مکان سے نکلا اس کا یہ کہنا کہ میں دونوں فریق کی رسم سے علیحدہ ہوں میں تو سنت رسول اﷲ کے موافق سب کو دلواکر پکواکر جو صاحب کھائیں میں کھلاؤں اور اسی طریق پر میں بھی کھاؤں اور بموجب شریعت عورت کو پردے میں رکھتاہوں اور بیوپار بھی اس طور پرکرتاہوں کہ سُود نہ لوں نہ دُوں بموجب شریعت کے کرتاہوں ستراوالوں اور دھڑے والوں کی عورتیں باہر پھرتی ہیں پردہ نہیں ہے میرے اس سنتِ رسول اﷲ پرچلنے سے فریقین بیزار ہیں اس واسطے دریافت کیاجاتاہے کہ جوابات علیحدہ علیحدہ مرحمت فرمایاجائے کہ ستراوالوں کے لئے ازروئے شرع شریف کیاحکم ہے اور دھڑے والوں کے واسطے کیاحکم ہے اور بےچارے تنہا کاجوشریعت پرچل رہاہے کیا حکم ہوتاہے؟
الجواب

(۱) حدیث میں ہے : جو ایک درہم سُود کادانستہ کھائے گویا اس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زناکیا ۱؎۔ ایک درہم تقریباً یہاں کے اٹھارہ پیسے کاہوتاہے تو فی دھیلا ایک بار ماں سے زناہوا۔
 (۱؎ اللآلی المصنوعۃ    کتاب المعاملات    دارالکتاب العلمیۃ بیروت    ۲ /۱۲۷ و۱۲۸)

(اتحاف السادۃ المتقین    کتاب آفات اللسان الآفۃ الخامسۃ عشر     دارالفکر بیروت    ۷ /۳۵۳)

(الترغیب ولترھیب    الترہیب من الربا حدیث ۱۲،۱۵        مصطفی البابی مصر    ۳ /۶،۷)

(الموضوعات لابن جوزی  باب تعظم امرالربا علی الزنا     دارالفکر بیروت    ۲ /۲۴۵)

(الکامل لابن عدی    ترجمہ عبداﷲ بن کیسان    دارالفکر بیروت    ۴ /۱۵۴۳)

(الدرالمنثور     بحوالہ ابن ابی الدنیا والبیہقی تحت آیۃ   ۲ /۲۷۵    مکتبۃ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران    ۱ /۳۶۴)
Flag Counter