Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
133 - 190
مسئلہ ۲۴۵ :  ازمقام مذکور مرسلہ چودھری صاحب مذکور  ۱۹/رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ

آخر فقرہ جو اس مکتوب میں درج ہے کہ لیکن اگرزمیندار خود مجبور نہیں کرتا اس کے نوکر چاکر دباتے ہیں اور وہ اسے مجبور شرعی نہیں کرسکتے تو صرف اُن کی خاطر یادھمکی سے ناجائز کام جائز نہ ہوجائے گا، یہ بالکل سچ ہے مگر غور طلب یہ امر ہے کہ وہ نوکر جو ذی اختیار ہوں اور جن کو سزا وجزا کاپُورا اختیار ہو اور جن کی رپورٹ پر اُن کے آقا ضبطی جائداد وغیرہ سب کچھ کرتے ہوں تو اُن کادبانا یا اظہارِ ناخوشی کرنا اور وعید سے کام لینا ایسا نہ ہوگا جیسا معمولی نوکروں کاکہنا سننا یادبانا بلکہ اُن کا کہنا سننا دبانا یاوعید سے کام لینا یہ سمجھنا چاہئے کہ ہُوبہو اُس کے آقاؤں کا وہ فعل ہے اگرچہ بظاہراُن کے آقا اس امر کا اعتراف کرتے ہوں کہ یہ ہمارے حکم کی تعمیل ہماری رعایا کی خوشی پرمنحصرہے۔
الجواب : ایک تخویف واقع ہوتی ہے معلوم ہے کہ ایسا نہ ہوا تو معاذاﷲ ضبطی جائداد وغیرہ ناقابل مضرتوں کا سامنا ہے اور ایک نری دھمکی، ثانی کااعتبارنہیں۔
قال اﷲ تعالٰی وذلکم الشیطان یخوّف اولیاء ہ فلاتخافوھم وخافونِ ان کنتم مؤمنین ۱؎۔
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) یہ شیطان ہے کہ تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اُن سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۳ /۱۷۵)
اور اول ضرورمعتبر ہے اور الامن اکرہ کی حد میں داخل۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۶ :کوہ رانی کھیت صدربازار مرسلہ منشی عنایت خاں صاحب مورخہ ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہی علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس باب میں کہ پیش امام صاحب رانی کھیت نے ایک رنڈی کی نمازجنازہ پڑھائی کہ جس کا کوئی عمل اور بظاہر وضع نہ لباس مسلمانوں کا تھا اس واقعہ کے چند یوم کے بعد پیش امام صاحب نے نمازجمعہ سے قبل اپنے اس فعل کی تائید میں بطور وعظ کے فرمایا کہ مجھ کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ عورت کون ہے اور جو شخص مجھ کو بلاکر واسطے نمازجنازہ کے لے گیاہے یہ کون ہے میں نے نہ سمجھا کہ یہ مرد بھڑوا اور یہ عورت رنڈی ہے اور اس نماز جنازہ میں کچھ معاوضہ بھی مولانا صاحب کے نذر کیا جس کو مولاناصاحب نے دورانِ وعظ فرمایا کہ ہم تیراک ہیں ہم تیرنے کے ذریعہ سے غرقاب ہونے سے بچ سکتے ہیں جاہل نہی بچ سکتاہے اور بازار والوں نے جو مجھ پر نکتہ چینی کی ہے وہ بھی رنڈیوں کےہاتھ اپنا مال فروخت کرنابند کردیں کیونکہ رنڈیوں سے مال کے بالعوض بھی پیسہ ناجائز ہی حاصل ہوتاہے اور جب بازار والے اس میں اتفاق کرلیں تو مجھ کو بھی اُن سے اتفاق ہوگا، اور مولانا صاحب نے یہ فرمایا کہ جو پیسہ اس جنازہ کی نماز میں مجھ کو ملاہے اس پیسہ کو جیسی اس کی اصلیت ہے ایسی ہی جگہ صَرف کردوں گا مثلاً پائخانہ اٹھانیوالی بھنگن کودے دُوں گا، اور ایک قصّہ اس ناجائز پیسہ کی صَرف کرنے کی بابت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا ذکر فرمایا کہ ایک بادشاہ کے یہاں خزانہ میں روپیہ کی کمی ہوئی تو انہوں نے وزیرصاحب سے روپیہ حاصل کرنے کی بابت مشورہ کیا تو وزیر صاحب نے ان کو رائے دی کہ فلاں فقیر کے پاس بہت سا روپیہ ہے اس سے روپیہ طلب کیاجائے، غرض کہ فقیر بلایاگیا فقیر سے روپیہ طلب کیاگیا فقیر نے بادشاہ سے عرض کی کہ حضورچونکہ آپ بادشاہِ اسلام ہیں اور جو پیسہ میرے پاس ہے وہ ناجائز طریقہ سے میں نے حاصل کیاہے لہٰذا وہ پیسہ اچھانہیں ہے، آپ کے صَرف کے قابل نہیں ہے بادشاہ نے فرمایا کہ رعایا کے مکانات مسمار ہوگئے ہیں ہم بھی تیرے پیسہ کو رعایا کے پاخانوں میں صَرف کردیں گے، اور مولوی عبدالحی صاحب کے فتوٰی کے حوالہ سے مولانا صاحب نے فرمایا کہ اگر کسی بزرگ یاعلمائے دین کی دعوت وغیرہ کرنی ہو اور اس کے پاس پیسہ اچھا نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے اپنے پیسہ کے بالعوض اچھا پیسہ حاصل کرے اور آپ کی دعوت وغیرہ میں صرف اسی دوران وعظ میں مولانا صاحب یعنی پیش امام صاحب نے متقی شخص کی بزرگی آیاتِ قرآنی سے بڑے شدّومد کے ساتھ ثابت کی ہے چند مسلمانوں کے خیالات میں لفظ تیراک اور جیسا پیسہ ہے جنازہ کی نماز پڑھانے کے عوض میں مولانا صاحب کو حاصل ہوا اور اس کا صَرف ویسی جگہ کردیں گے اور علمائے دین اور بزرگوں کی دعوت وغیرہ دینے خراب پیسہ کے بجائے دوسرے آدمی سے اچھا پیسہ حاصل کرکے صرف کرنا یہ امور قابلِ اعتراض ہیں۔ امید ہے کہ جاب باصواب مرحمت ہو، تاکہ جو شکوک دلوں میں پیدا ہوگئے ہیں وہ رفع ہوں۔
الجواب : نمازجنازہ پڑھادینے میں حرج نہ تھا جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی یہ حالت ہے مگر نمازجنازہ پڑھانے پراُجرت لینی جائز نہیں اگرچہ پاک مال سے نہ کہ ناپاک مال سے کہ دوہرا حرام ہے، اور یہ عذر کہ وہ اپنے یہاں کے پاخانہ میں صَرف کردے گا محض مردود ہے یوں بھی اپنے ہی صرف میں لانا ہوا اور وہ حرام ہے، یہیں سے ثابت ہوا کہ وہ تیراک نہیں اس نے دو غوطے کھائے اوراپنے غرقاب ہونے پرمتنبہ بھی نہ ہوا، اور یہ بھی غلط ہے کہ جس کے پاس ناپاک پیسہ ہو وہ اپنے پیسے کے عوض دوسرے پیسہ پاک حاصل کرے اور وہ مطلقاً پاک ہوجائے، بلکہ مسئلہ یوں ہے کہ جس کامال حرام ہے اس نے اگر اپنا پیسہ کسی کام میں نہ لگایا بلکہ قرض لےکر کوئی کام کیا تو وہ کام جائزہے اور اگر ایسا شخص کسی کو کچھ دام دے یا دعوت کرے اور کہے کہ یہ میں نے قرض لےکر کی ہے اس کا قول ماناجائے گا جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہے، ہاں اس نے سچ کہا کہ دکانداروں کو بھی حرام ہے کہ کوئی چیز حرام مال والوں کے ہاتھ بیچ کر وہ زرِ حرام قیمت میں لے مگر اُس کا یہ کہنا خطا ہے کہ دکاندار اس سے باز آئیں گے تو وہ بھی باز آئے گا اَوروں کاگناہ کرنا اس کے لئے سند نہیں ہوسکتا ہرشخص اپنی اپنی قبرسنبھالے گا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷: ازسوائی مادھپور قصبہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ    مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ   ۱۲/ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ

فریق مغلوب سے خرچہ کچہری ڈگری یامقدمہ میں جبکہ کچہری دلادے تو اس کا لینا شرعاً درست ہے یانہیں؟
الجواب

جتنا واجبی خرچی ہے مدعا علیہ جھوٹے مدعی سے لے سکتاہے اور سچے مدعی سے لیناحرام، اور مدعی سچاہو خواہ جھوٹا مدعا علیہ سے شرعاً نہیں لے سکتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter