مسئلہ ۲۳۹ : حکیم محمد حسن ازبہیڑی ضلع بریلی ۶/رمضان المبارک ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محکمہ آبکاری میں جوکہ گورنمنٹ کی طرف سے ملازمت کرتے ہیں مثلاً جیسے کہ انسپکٹر آبکاری، یہ ملازمت جائز ہے یاناجائز؟ اگرجائزہے تو کس وجہ سے اورناجائز ہے تو کس وجہ سے؟ دلائل بیان فرمائیے فقط۔
الجواب: شراب کابنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا، رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلوانا سب حرام حرام حرام ہے۔ اور جس نوکری میں یہ کام یاشراب کی نگاہداشت اُس کے داموں کاحساب کتاب کرنا ہو سب شرعاً ناجائزہیں۔
قال اﷲ تعالٰی : ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۱؎۔
(لوگو)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرےکی مدد نہ کیاکرو ۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۲)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لعن اﷲ الخمر وشاربھا وساقیھا و بائعھا ومبتاعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ واٰکل ثمنھا۔ رواہ ابواؤد ۲؎ والحاکم وصححہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
شراب، اسے پینے والا، پلانے والا، فروخت کرنے والا، خریدنے والا، کشید کرنے والا، کشید کروانے والا، اسے اٹھانے والا، جس تک اٹھاکر لے گیا، اور اس کی قیمت استعمال کرنے والا، اﷲ تعالٰی نے ان سب پر لعنت فرمائی۔ امام ابوداؤد اور امام حاکم نے اسے روایت کیاہے اور اس نے (یعنی حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی سند سے اس کی تصحیح فرمائی، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب العصیر للخمر آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۱)
(المستدرک للحاکم کتاب الاشربہ دارالفکر بیروت ۴ /۱۴۵)
مسئلہ ۲۴۰: مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس مدرسہ نورالہدی پانکی پور ڈاک خانہ سندرو چہارشنبہ ۱۵/شوال ۱۳۳۴ھ
حضور کاکیاحکم ہے کہ ایک عورت کے اوپر جِن آتاہے اور وہ علانیہ اُس کو دیکھتی ہے اور وہ اُس کے پاس آکر روپے وغیرہ نوٹ دے کر جاتاہے تو آیا اُس نوٹ اور روپے کو صرف کرناچاہئے یا نہیں؟ اور استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے یانہیں؟
الجواب
وہ جِن جو کچھ اُس عورت کو دیتاہے اس کالینا حرام ہے کہ وہ زنا کی رشوت ہے۔
درمختار میں ہے :
مایدفعہ متعاشقان رشوۃ ۱؎۔
آپس میں معاشقہ کرنے والے جو کچھ دیںوہ رشوت میں شمار ہے۔(ت)
اگر وہ لینے پرمجبور کرے لے کرفقراء پرتصدّق کردیاجائے اپنے صَرف میں لاناحرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۱: ازفرخ آباد شمس الدین احمد ۱۸/شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
درخت تاڑ کی فصل فروخت کرنا یعنی تاڑی نکال کر بیچنے کی اجازت دینا اور اس کی قیمت لینا درست ہے یانہیں؟ فقط۔
الجواب : ممنوع ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: مسئولہ ولی محمد کلاہ فروش بازار چوک بہرائچ چہارشنبہ ۱۹/ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
خیّاط لوگ اُن کپڑوں میں سے جو اُن کے پاس بغرض سلائی لیے جاتے ہیں کچھ تھوڑا کپڑا بمقدار ایک کُلاہ کے بچالیتے ہیں اور اُس کپڑے کی کُلاہ وغیرہ بناکر بدست کُلاہ فروش بہ نسبت شرح قیمت دوسرے ٹوپیوں کے کم قیمت پرفروخت کرلیتے ہیں کوئی شخص بازار کے تمام کُلاہ فروشاں میں سے سوائے ایک شخص کے انکار اُن خیاطوں کی ٹوپیاں وغیرہ خریدنے اور اُن کے منافع سے مستفیض ہونے سے نہیں کرتاہے، اور محترز کی سعی سے اصلاحِ حال خیاط لوگوں کی اور خرید کرنے والے کلاہ فروشاں کی غیرممکن ہے۔ کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین کہ محترز اگر ایسے پارچہ کی ٹوپیاں وغیرہ خیاط لوگوں سے خرید کرلے تو محترز باعثِ معصیّت ہوگا یانہیں؟
الجواب
ضرور معصیت وحرام ہے، اور یہ خیال کہ ان کے پاس چھوڑے تو یہ بند نہیں ہوتا محض بے معنی ہے، اس کا حساب اس پر اور اُن کا حساب اُن پر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ : مرسلہ مرزاعبدالرحیم بیگ مدرس جماعت نارواڑی محلہ رنچھوڑلین کراچی بندر
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان دین متین :
میں نے سناہے کہ بیاج کے جائزہونے کابھی آپ نے کوئی حیلہ کیاہے آیا یہ صحیح ہے یانہیں، اگرصحیح ہے تو کس طرح؟ تحریر فرمائیں۔ بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب
بیاج کے جائز کرلینے کا حیلہ کرلینا مسلمان کی شان نہیں یہ بھی مجھ پرمحض افتراہے میرے فتاوٰی میں جابجا اس کا رَد موجود ہے۔ اور اگر اس کانام حیلہ ہےکہ کوئی شرعی جائز صورت کی جائے جس میں نفع حاصل ہو اور بیاج حرام مردودونجس سے نجات ہو تو اسے خود صاحب شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا کما فی صحیح البخاری (جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے۔ت) ائمہ دین نے اس کی متعدد صورتیں ارشاد فرمائیں۔ فتاوٰی امام قاضی خاں میں اُس کے لئے خاص ایک فصل تحریر فرمائی اسے بیاج جائز کرلینانہ کہے گا مگرگمراہ، اس کی تفصیل میرے رسالہ کفل الفقیہ(عہ)میں ہے جو مطبع اہلسنّت سے مل سکتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۴ : ازسہادر ضلع ایٹہ مرسلہ جناب مولوی چودھری عبدالحمید خان صاحب زید مکارمہم رئیس ۱۳/رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ
جناب اعلٰی حضرت عظیم البرکت مجددمائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ ادام اﷲ ظلالہ علی رؤس الطالبین حاکم اگر اپنے کسی کام کےلئےقرض مانگے اور اس پر سود دے اور جو سود نہ لے اُس سے جو رقم ناجائزلی جاتی ہے اُس میں اسی حساب سے تخفیف کردے اس کی بابت کوئی مطالبہ نہیں، نہ شرط ہے ، لہٰذا وہ کمی اُن کے واسطے جائز ہوگی یانہیں، اگرچہ اس قرض میں حاکم کاحکم اتناہے کہ خوشی سے ضرور دینا چاہئے جبر نہیں باینہمہ اُس کے ملازمین اپنے اثر سے ہرایک کو اس کے دینے پرمجبور کرتے ہیں، ان سب باتوں پر غورفرماکر ارشاد فرمایاجائے کہ بموجب اس کے عمل کیاجائے۔ والسلام مع الاکرام۔
الجواب : کوئی زمیندار مثلاً کاشتکاروں سے جبراً کوئی ناجائز رقم وصول کرتا ہو کاشتکار بمجبوری دیتے ہوں پھر اس کا کوئی کام آکر پڑے اور وہ کہے کہ اس کام میں میری مدد کر تو یہ رقم چھوڑ دوں گا یا اتنی تخفیف کردوں گا، تو اس ترک یاتخفیف کا قبول نہ کرنا اس پرواجب ہے کہ جب وہ رقم ناجائز ہے تو جس طرح اُس کالیناگناہ ہے دینا بھی حرام ہے ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ۱؎ (جس کالیناحرام اس کادینا بھی حرام۔ت) ۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۶)
حرام سے جتنا بچ سکے لازم ہے مگر وہ کام جس کے صلہ میں یہ ناجائز رقم زمیندار چھوڑے اس کا دیکھنا لازم ہے اگر وہ خود ناجائز ہے تو اس میں اسے مدددینی حرام ہے اور اس رقم کی بچت اس کا عذر نہیں ہوسکتی کہ قم ناجائز کا جبراً لینا اس کاجُرم ہے اور دوسرے کے ناجائز کام میں شریک ہونا اس کا جرم ہے ہاں اگر وہ اس ناجائز کام پرمجبور کرے اور مجبوری واقعی ہو جس پر وہ زمیندار قدرت رکھتاہے تو بحالت اکراہ شرعی جس فعل ناجائز کی رخصت دی جاتی ہے رخصت دیں گے اور اس حالت میں اس رقم ناجائز کی کمی قبول کرنا اس پرواجب ہوگا لیکن اگر زمیندار مجبور نہیں کرتا اُس کے نوکر چاکر دباتے ہیں اور وہ اسے مجبور شرعی نہیں کرسکتے تو صرف اُن کی خاطر یادھمکی سے ناجائز کام جائز نہ ہوجائے گا، اور اگر وہ کام جائز ہے تو اس میں بقدرضرورت مدد دے کر وہ صلہ قبول کرناشرعاً واجب ہے کما مر (جیسا کہ گزرا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم