Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
131 - 190
مسئلہ ۲۳۴ :مسئولہ محمد سید علی صاحب طالب علم از کانپور مسجد حاجی بدلوصاحب سطرنجی محل ۱۳/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی ایک بازاری عورت یعنی رنڈی نے مدتوں سے زناکاری اور رقاصی کرکے بہت مال جمع کیا اور اپنے حالات فسق وفجور ہی میں اس مال سے ایک مکان بنایااور کئی بیگھہ زمین خریدی اُس عورت کے پاس اور کوئی مال بھی نہ تھا اور ہونے کی صورت متصور نہ تھی جس سے زمین اور مکان کی قیمت دے سکے اب دو تین برس سے اُس عورت نے توبہ کرکے اور بازار چھوڑ کر اُس مکان میں سکونت پذیر ہوئی اور چاہتی ہے کہ اپنی ملک سے عوام وخواص کی دعوت کرے اور کھلائے پلائے اور لوگوں کو اُس کے مکان میں جانا اور کھانا پینا اور خود عورت مذکورہ کو اس مکان وزمین ودیگر اشیاء کہ جو اس مال سے خرید کی ہیں استعمال کرناجائزہے یانہیں؟ بیّنوابالکتاب (کتاب کے حوالہ سے بیان فرماؤ۔ت)
الجواب

اگر اس نے زمین اور مکان کی اینٹ، کڑی وغیرہ اپنے روپے دکھاکر نہ خریدی بلکہ مطلق روپےکو خریدی اور پھر وہ مال حرام زرثمن میں دیا اور بیشک آجکل عام خریداریاں اسی طرح پر ہوتی ہیں تو وہ زمین و مکان اس کے لئے حرام نہیں،
لان الدراھم لاتتعین فی العقود فاذا لم یجتمع علیھا العقد والنقد لم یسر الخبث الی البدل کما ھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی۔
اس لئے کہ عقد کے معاملات میں دراہم متعین نہیں ہوتے، پھر جب اُن پر عقد اور نقد جمع نہ ہوں تو خباثت بدل کی طرف سرایت نہیں کرتی، جیسا کہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا ارشاد ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)
مگر وہ مال حرام جو اُس کے پاس ہے اُس پر لازم ہے کہ سب تصدق کردے اُس میں سے کوئی پیسہ اپنے کھانے پہننے یا کسی اور مصرف میں اُسے اٹھانا حرام ہے وہ اگر اُسے پاک کرناچاہے تو اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ کسی محتاج کو اگرچہ اس کا کیسا ہی عزیز وقریب ہو اپنا وہ کل مال ایک ایک پیسہ ایک ایک تاربہ نیت تصدق دے دے اس میں سے کچھ اپنے پاس نہ رکھے، اور زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ چند محتاجوں پر اس حساب سے تصدق کرے کہ ہر ایک کو چھپن روپے سے کم کا مال پہنچے پھر جن کو اس نے بطور تصدق دیا ہے وہ اپنی خوشی سے اپنی طرف سے تھوڑا یا بہت جتنا اسے ہبہ کردیں وہ اس کے لئے حلال طیب ہوجائے گا اگرچہ کل دے دیں اُس کے بعد اُس کے یہاں کی دعوت وغیرہ کسی امر میں حرج نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ۲۳۵ : ازشہر کمرلہ ڈاکخانہ گھٹیا   مرسلہ وصی علی صاحب معرفت مولوی قاسم علی صاحب طالبعلم مدرسہ منظراسلام ۲۸/شوال ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی آسامی نے اپنا حق موروثی اگر کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کیا تواس میں زمیندار کو آسامی مشتری سے کچھ روپیہ لیناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا بحوالہ کتاب (کتاب کے حوالے سے بیان کرکے اجرپاؤ۔ت)
الجواب : حق موروثی قابل بیع نہیں، نہ اس پر زمیندار کچھ لے سکتاہے نہ یہ حق جسے قانون نے حق موروثی ٹھہرایا ہے شرعاً کوئی حق ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: ازضلع گوڑگاؤں مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴/صفرالمضفر ۱۳۳۴ھ

نحمدہ ونصلّی علی رسولہ الکریم، کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ کوئی جانور یا شیرینی مندر میں بُت پر یا دیبی بھیروں وغیرہ کی تھان پر یا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری وغیرہ کی قبر پر چڑھائی جائے اور اس بت کا پجاری یا تھان کا پجاری یا قبر کا مجاور اُس چڑھاوے کو لے لے اور اس کو بیچے تو مول لینا درست ہے یانہیں؟ اور مجاور یا پجاری مفت دے تو لینا درست ہے یانہیں، اور مجاور اور پجاری کے گھر کا کھانادرست ہے یانہیں؟ اور اولیاءِ کرام کی قبر کے چڑھاوے اور بُت یاتھان پرچڑھاوے ایک ہے یا علیحدہ علیحدہ حکم ہے؟ فقط۔
الجواب : عجب وہ مسلمان کہ اسلام اور کفر میں فرق نہ کرے۔ عجب وہ مسلمان کہ بتوں کے تھان اور اولیائے کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے مزارات طیبہ کو ایک ساتھ گِنے، بُت پر چڑھاوا چڑھانا کفرہے، اور اولیاء کو ایصال ثواب طریق اسلام، تو مالک پجاری بھی ہوجاتاہے بیچے تو مول لینے میں حرج نہیں کہ بُت کے چھڑاوے کی خباثت اُس تک منتہی ہوگئی اور مفت دینا اگر اس طرح ہو جیسے اُن کے یہاں پرشاد بٹتاہے، تو لینا ہرگز جائزنہیں،کہ اُس میں ذلت مسلم ہے اور اگر اس طریقہ پر نہ ہو بلکہ وہ اپنی مِلک میں لے کر اُسے بطور ہدیہ دے تو اُس کا حکم ہدیہ مشرکین کاحکم ہے کہ صورواحکام واقوال مختلف ہیں جن کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے، اور اس خاص صورت سے بچنا ہی بہترہے۔
حدیث میں فرمایا :
انّی نھیت عن زبدالمشرکین ۱؎۔
مجھے منع کردیاگیا ہے کہ میں شرک کرنے والوں کا مکھن (ہدیہ) لُوں۔(ت)
 (۱؎ المعجم للطبرانی    حدیث۹۹۹    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۷ /۳۶۴)

(جامع الترمذی    ابواب السیر     باب ماجاء فی قبول ہدایا المشرکین    امین کمپنی دہلی         ۱/ ۱۹۱)
مزارات طیّبہ پر جو کچھ بغرض ایصال ثواب حاضرکیاجائے اور عادۃً خدام اُسے تقسیم کرلیتے اور دینے والے جانتے ہیں اور اس پر راضی ہوتے ہیں وہ ان کی مِلک ہے اُن سے ہدیۃً وشراءً دونوں طرح لیناجائز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۷: ازضلع شاہجہانپور مقام میران پور کڑہ محلہ نادر سانباں ڈاکخانہ خاص روز یکشنبہ بتاریخ ۱۸/صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

جنگِ بلقان کے وقت چند اشخاص نے مل کر چندہ مجروحین وبیوگان ترکوں کے واسطے قصبہ اور دیہات سے جمع کیا اس اثناء میں چندہ فراہم کرنے والوں میں سے ایک شخص نے کچھ روپیہ اپنے صرف میں کرلیا اور آج تک نہیں دیا برابر جھُوٹے وعدے کرتارہا اور بقیہ روپیہ تھے اس روپیہ کے نہ ملنے کی وجہ سے اب تک نہیں روانہ کیاگیا اب اس روپیہ کو کسی صرف میں لاناچاہئے یا اُن اشخاص کو واپس کردیناچاہئے، یاصرف مسجد یامدرسہ میں یا مطبع علماء میں صرف کرناچاہئے اور جس شخص نے وہ روپیہ نہیں دیا ہے اس کی بابت کیاحکم ہے، ایسے شخص اس بار امانت سے سبکدوش ہوجائے جن کے پاس جمع ہے، زیادہ حدِ ادب!
الجواب

چندہ کاروپیہ چندہ دینے والوں کا مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اُس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں اُن میں جو نہ رہا ہو ان کے وارثوں کو دیاجائے یا ان کے عاقل بالغ جس کام میں اجازت دیں، ہاں جو اُن میں نہ رہا اور اُن کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھا، کیا کیا تھا، وہ مثل مالِ لقطہ ہے، مصارفِ خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صَرف ہوسکتاہے، وھوتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۳۸ :

چہ میفرماید علمائے دین متین اندریں مسئلہ کہ وقتیکہ قضاۃ راوظیفہ مقررہ از بیت المال باشد ومع ہذا اینا دہ بدہ بگردند وبرائے خودہابلااجازۃ سلطانی خلد اﷲ تعالٰی سلطنۃ آمین ثم وثم مال ازخاص رعایا بعضے جبراً وقہراً وبعضے سوالاً وتضرعاًجمع میکند وخلاف اوجائز می شمارند میخورند نہ آنکہ درمعظمات امورمملکت وسطنت صرف میکند پس ایں فعل وقول قضاۃ مذکور موافق شرع قویم وصراط مستقیم ہست ویانہ۔ بیّنواتوجروا۔
علمائے دین اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ جو شرعی جج(قضاۃ) ہیں،بیت المال سے اتنا وظیفہ مقرر ہے مگر اس کے باوجود وہ بستی بستی میں چکرلگاتے ہیں، اور خود اپنے لئے بغیراجازت شاہی، اﷲ تعالٰی اس کی بادشاہی کو ہمیشہ برقرار رکھے، آمین پھرآمین، پھرآمین، خاص رعایا سے مانگتے ہیں، کچھ ان میں جبراور زبردستی اور کچھ منت وسماجت سے گڑگڑاکر مال جمع کرتے ہیں اور خلاف کو جائزسمجھتے ہوئے جمع شدہ مال کھاجاتے ہیں۔ ایسانہیں کہ بادشاہی اور مملکت کے بڑے بڑے کاموں میں اس کو خرچ کریں، پس جج صاحب ان کا یہ رویہ اور قول شرع مقدس اور صراط مستقیم (سیدھا راستہ) کے مطابق ہے یانہیں؟ اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان فرماکر اﷲ تعالٰی سے اجروثواب پاؤ۔(ت)
الجواب : اگربجبرمیگیرند ظالم وغاصب اندقال اﷲ تعالٰی ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل۱؎ و قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ۲؎ واگر بسوال وتضرع میگیرند نیز حام ست قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتحل الصدقۃ لغنی ولالذی مرۃ سری۳؎ ۔
اگر وہ لوگوں سے زبردستی لیتے ہیں تو اس صورت میں ظالم اور غاصب ہیں، چنانچہ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: لوگو! ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ۔ اور حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی ہرچیز دوسرے مسلمان پرحرام ہے۔ اس کا خُون، مال اور آبرو۔ اور اگرعاجزانہ طور پر گڑاگڑا کر سوال کرتے اور لیتے ہیں تو پھر بھی حرام ہے، چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ وخیرات کسی مالدار اور طاقتور اور تندرست آدمی کے لئے حلال نہیں،
 (۱؎ القرآن الکریم   ۲ /۱۸۸)

(۲؎ صحیح مسلم     کتاب البر        باب تحریم ظلم المسلم الخ    قدیم کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۱۷)

(۳؎ مسند امام احمدبن حنبل     حدیث عبداﷲ بن عمرو    دارالفکر بیروت     ۲ /۱۹۲)

(سنن ابی داؤد   کتاب الزکوٰۃ    باب من یعطی من الصدق الخ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۳۱)
درہندیہ وغیرہاست ماجمع السائل بالتکدی فھو خبیث۱؎ برسلطانِ اسلام دولاۃ وحکام ومحتسبان ولاۃ مقام فرض است کہ آنہارا ازیں کردار باز دارند قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من راٰی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذٰلک اضعف الایمان۲؎ قال اﷲ تعالٰی لولاینھٰھم الربانیون و الاحبارعن قولھم الاثم واکلھم السحت لبئس ماکانوا یصنعون۔۳؎ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
چنانچہ فتاوٰی ہندیہ وغیرہ میں ہے کاوش اور چھینا جھپٹی سے جو کچھ سائل نے جمع کیا ہے وہ خبیث (ناپاک) مال ہے۔ لہٰذا شاہِ اسلام، مقرر کردہ والی، حکّام اور احتساب کرنے والے، بلند عہدہ رکھنے والے، اُن پر فرض ہے کہ ایسے ذلیل سائلوں کو اس کاروائی سے روک دیں۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جوکوئی تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے زوربازو سے بدل دے (یعنی اسے بند کردے) اگر یہ طاقت نہ ہو تو پھر زبان سے اصلاح کرے، اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر اسے دل سے بُراسمجھے لیکن یہ سب سے ضعیف ترایمان ہے۔ اور اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے اﷲ والے اور پادری انہیں کیوں نہیں روکتے بلاشبہہ بہت بری کاروائی ہے جو وہ سرانجام دے رہے ہوں۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورعافیت کاسوال کرتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الکراھیۃ    الباب الخامس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۹)

(۲؎ مسند امام احمدبن حنبل    حدیث ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ        دارالفکر بیروت    ۳ /۴۹)

(۳؎ القرآن الکریم    ۵ /۶۳)
Flag Counter