Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
130 - 190
مسئلہ ۲۲۷ : ازسرماگنج ضلع مظفرپور     مرسلہ مولوی ظہیرالدین یکم ذیقعد ۱۳۲۴ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے یہاں پشتہا پشت سے شراب کی بکری کاروزگار ہوتاتھا اب اس نے ایک لائق وشریف آدمی کی ہدایت وفہمائش پرشراب کی بکری کے روزگار سے تائب ہوکر اس امر کا منجر ہواکہ جس قدرمال و زر میرے پاس ہے اس کے پاک ہونے کی کیا صورت ہے، جس پر ایک عالم صاحب نے فرمایا کہ بعض علماء کے نزدیک حیلہ شرعی یہ ہے کہ تبادلہ جنس کرڈالنے سے ان شاء اﷲ تعالٰی وہ مال پاک ہوجائے گا، واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔ اُسی جلسہ میں دوسرے عالم صاحب نے یہ فرمایا کہ نہیں نہیں ہرگز نہیں وہ مال کسی صورت سے پاک نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس مال کو دریا بُرد کردیناچاہیے بجزدریا بُرد کردینے کے اس مال کے استعمال کی کوئی صورت نہیں، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ سائل اس مال کو کیاکرے، آیا دریا بُرد کرکے محتاج رہ جائے یا اس کے جواز کی کوئی صورت بھی ہے جیسا کہ عالم صاحب نمبرایک نے فرمایا ہے۔ بیّنواتوجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجروثواب پاؤ۔ت) فقط۔
الجواب

دریا بُرد کردینے کاحکم محض باطل ہے اور دوسری جنس سے بدلنے میں عہدبرآری نہ ہوگی حکم شرع جواس کے ذمّہ ہے ادا نہ ہوگا اس پر شرع مطہریہ فرض کرتی ہے کہ اس مال کو تصدق کردے، مساکین کو دے ڈالے، بغیر اس کے اس کی توبہ صحیح نہیں، اور اس میں اس کے لئے حیلہ شرعی بھی نکل آئے گا، یہ تصدّق کچھ اجنبی مساکین ہی پرضرور نہیں بلکہ اپنے محتاج بیٹے یا باپ یابھائی یابی بی پربھی کرسکتاہے انہیں دے کر ان کاقبضہ کرادے پھر وہ کل یابعض جتناچاہیں اسے ہبہ کردیں پاک ہوجائے گا۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلک ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا، خرج من العھدۃ کذا فی القنیۃ۱؎۔
کسی شخص کے پاس مشتبہ اور مشکوک مال ہو تو اسے کسی اجنبی پر ہی خیرات کردیناضروری نہیں بلکہ وہ اپنے والد پر، بھی خیرات کرکے بری الذمہ ہوسکتاہے۔ اسی طرح اگر اس کا بیٹا اس کے ساتھ شریکِ کاروبار ہو اور خریدوفروخت کرتاہو اور فاسد سودے بھی ہوتے ہوں اور وہ اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجائے گا۔ قنیہ میں اسی طرح مذکورہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ    الباب الخامس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۹)
اور یہاں تحقیقات عظیمہ فقہیہ ہیں جن کے بیان میں طول ہے اور حاصل حکم اسی قدر ہے، وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۸ : غرہ ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ حبیب اﷲ شاہ محلہ بادبریلی 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگ باجا بجانے کاپیشہ کرتے ہیں، ہولی کے دن ہندؤوں کے یہاں بھی جاکر بجایاکرتے تھے مگر اب کی مرتبہ سب برادری نے یہ بات کہی کہ یہ بات ذلت کی ہے ہندؤوں کے یہاں نہیں جاناچاہئے سبھوں نے جاناچھوڑا ایک شخص نہیں مانا، اُس سے یہاں تک کہاگیا کہ اگرتم ایسے نہیں مانتے ہو دوتین روپیہ لے لو، خدا کاواسطہ بھی دیا، اس نے اس پربھی نہ مانا، آخرگیا، ہم لوگوں نے اس کی پنچایت کی، دو آدمی اسے پنچایت میں لانے کے لئے گئے، اس نے کہا تم نے مجھے چھوڑا میں نے تمہیں چھوڑا، تم میرے نزدیک مثل بھنگی کے چمار کے ہو۔ اب ازروئے شرع ایسے شخص کے حکم میں حضور کیافرماتے ہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

باجا بجانا خود ہی ناجائزتھا اور ہندؤوں کے یہاں بجانا اور سخت ناجائز، اور ان کے شیطانی تہوار میں بجانا اور بھی سخت حرام درحرام درحرام، اب کے ان مسلمانوں کو ان کے رب عزوجل نے یہ توفیق دی کہ ہندؤوں کے یہاں نہ بجانے پر اتفاق کرلیا اور خدا نے آنکھیں کھولیں کہ مسلمان ہو کر خدا کے دشمنوں کے سامنے ذلت اٹھانے کو بُراجانا تو اس پر تمام برادری کو اس ترک میں ان کی پیروی خداورسول کے حکم سے لازم تھی جس شخص نے نہ مانا وہ صرف گنہگارہی نہیں بلکہ سرکش شریربدکار ہے اس پرتوبہ فرض ہے اگر وہ نہ مانے توبرادری والوں پر لازم کہ اُسے مثل بھنگی چمار کے چھوڑیں اس کی کسی بات میں شریک نہ ہوں نہ اپنی کسی بات میں اسے شریک کریں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ازضلع متھرا محلہ بلوچپاڑہ قصبہ نائت مرسلہ غلام محمد امیرخاں صاحب حنفی ۲۰/نومبر۱۹۰۹ء 

جناب مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ،۔ کمترین کاسن اکیاون سال کاہے اور گیارہ لڑکیاں ہیں۔ پیشہ وثائق نویس کرتاہوں اور دوسراکوئی کام نہیں جانتاہون۔ مسلمانوں کی سُودی دستاویز لکھنے سے اجتناب کرتاہوں حتی کہ اس وقت تک میرے قلم سے کسی مسلمان کی کوئی دستاویز نہیں لکھی گئی۔ آج ایک مولوی صاحب کی زبانی یہ مسئلہ سنا کہ کفار کے سودی دستاویزات کہ جس میں فریقین کافرہوں ہندوستان میں یہ بھی جائزنہیں ہیں اور جیسا گناہ سودکھانے والے کو ہے ویسا ہی کاتب کواور گواہوں کو ہے۔ پس یہ سن کر مجھ کو خوفِ الٰہی نے اس بات پر مجبور کیا کہ جناب سے اس مسئلہ کودریافت کروں، اور اگر فی الحقیقت جیسا کہ مولوی صاحب موصوف نے فرمایا ہے حضور بھی فتوٰی دیں تو اﷲ تعالٰی پرتوکل کرکے اس پیشہ کوچھوڑدوں اور اﷲ تعالٰی کے حضور میں توبہ واستغفار کروں تاکہ اﷲ تعالٰی گزشتہ کو معاف کردے۔ حضور بھی میرے حق میں دعائے خیر فرمادیں اور فتوٰی عطافرمائیں، جمیع حاضرین کی خدمت میں سلام علیک عرض کرتاہوں۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لایحتسب ومن یتوکل علی اﷲ فھو حسبہ۱؎۔
جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ تعالٰی اس کے لئے ہے ہرتنگی سے نجات کی راہ رکھے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ پہنچے اور جو اﷲ پربھروسا کرے تو اﷲ اسے کافی ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶۵ /۷۲)
اے اپنے رب سے ڈرنے والے بندے! بیشک سُود لینا اور دینا اور اس کاکاغذ لکھنا اور پرگواہی کرنادینا سب کا ایک حکم ہے اور سب پررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الرباوموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۲؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسے دیکھنے والے، اسے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی، اور ارشاد فرمایا: یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم  کتاب البیوع    باب الربٰو        قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۷)
فوراً اس کا چھوڑدینا اور اس سے توبہ کرنا فرض ہے، اور بشارت ہوکہ یہ نیک پاکیزہ کہ اﷲ عزوجل کے خوف سے پیدا ہوا بحکم آیت مذکورہ وجہ حلال سے رزق طیب ملنے اور اﷲ عزوجل کی رضا کی خوشخبری دیتاہے اور بیشک جو اﷲ تعالٰی پرتوکل کرتاہے اﷲ اُسے بس ہے۔
فقیر اسلامی محبت سے چند اعمال مجربہ جو بارہا بفضلہ تعالٰی تیربہدف ثابت ہوئے ہیں آپ کو بتاتا ہے :

(۱) بعد نماز عشا سربرہنہ ایسی جگہ کہ سرو آسمان میں چھت یادرخت وغیرہ کچھ حاجب نہ ہو  ۵۰ بار روزانہ پڑھئے یا مُسَبِّبَ الْاَسْبَابْ (اے اسباب کا سبب بنانے والے۔ت) اول آخر ۱۱،۱۱ بار درود شریف۔ جتنے دنوں زیادہ پڑھے زیادہ نفع ہوگا اِن شاء اﷲ تعالٰی، اور ہمیشہ پڑھے تو بہتر۔
 (۲) بعد نمازِ مغرب ستارہ قطب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوکر آیہ قطب کہ پارئہ چہارم کے نصف پر ہے ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ سے علیم بذات الصدور۲؎ تک ۴۱ بار روز پڑھے ۴۱ روز تک، اول آخر۱۰، ۱۰ بار درودشریف۔
 (۳؎ القرآن الکریم     ۳ /۱۵۴)
 (۳) خاص طلوع صبح صادق کے وقت، اور نہ ہوسکے تو حتی الامکان سنتِ صبح سے پہلے سو بار  روزانہ پڑھیں سبحان اﷲ وبحمدہٖ سبحان اﷲ العظیم، اول آخردرودشریف ۱۰،۱۰ بار۔ اس کا ورد ہمیشہ رہے۔ اول وقت پڑھنے کی کوشش ہو مگر اس کے سبب جماعت میں خلل نہ پڑے۔

اگر آنکھ دیر میں کھُلے سنتیں پڑھ کر اسے شروع کریں، اگر بیچ میں جماعت قائم ہو شریک ہوجائیں، باقی عدد بعد میں پُورا کریں۔ وظائف واعمال کے اثر کرنے میں تین شرائط ضروری ہیں :

(۱) حُسنِ اعتقاد، دل میں دغدغہ نہ ہو کہ دیکھئے اثرہوتاہے یانہیں،بلکہ اﷲ عزّوجل کے کرم پر پورا بھروسا ہو کہ ضرور اجابت فرمائے گا۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اُدع اﷲ وانتم موقنون بالاجابۃ۱؎۔
اﷲ تعالٰی سے اس حال پر دعا کرو کہ تمہیں اجابت کا یقین ہو۔
 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الدعوات      امین کمپنی دہلی     ۲ /۱۸۶)

(مشکوٰۃ المصابیح    کتاب الدعوات     الفصل الثانی      مجتبائی دہلی    ص۱۹۵)
 (۲) صبروتحمل، دن گزریں تو گھبرائیں نہیں کہ اتنے دن پڑھتے گزرے ابھی کچھ اثرظاہر نہ ہوا یوں اجابت بند کردی جاتی ہے بلکہ لپٹارہے اور لو لگائے رہے کہ اب اﷲ ورسول اپنا فضل کرتے ہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے :
ولوانھم رضوا مااتاھم اﷲ ورسولہ وقالوا حسبنا اﷲ سیؤتینا اﷲ من فضلہ ورسولہ انا الی اﷲ راغبون۲؎۔
کیا خوب ہوتا اگر وہ اﷲ ورسول کے دینے پر راضی ہوجاتے اور کہتے ہمیں اﷲ کافی ہے اب ہمیں عطافرماتے ہیں اﷲ ورسول اپنے فضل سے، بیشک ہم اﷲ کی طرف لَو لگائے ہیں۔
 (۲؎ القرآن الکریم    ۹ /۵۹)
حدیث میں ہے :
یستجاب لاحدکم مالم یعجل فیقول قد دعوت فلم یستجب لی ۳؎۔
تمہاری دعائیں قبول ہوتی ہیں جب تک جلدی نہ کرو کہ میں نے دعا کی اور اب تک قبول نہ ہوئی۔
 (۳؎ صحیح مسلم    کتاب کتاب الذکروالدعاء  باب انہ لیستجاب للداعی مالم یعجل الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲ /۳۵۲)
 (۳) میرے یہاں کی جملہ اجازات و وظائف واعمال وتعویذات میں شرط ہے کہ نمازپنجگانہ باجماعت مسجد میں ادا کرنے کی کامل پابندی رہے وباﷲ التوفیق۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰ :  ازروئے شرع شریف کے تاوان کا روپیہ جمع کرنا جائزہے یاناجائز؟
الجواب :  حرام تاوان کا حرام اور جائز کا جائز۔ سائل نے متعدد سوال گول اور مجمل لکھے جو کسی صورت خاصہ میں حکم معلوم کرناچاہے اسے مفصل وہ خاص صورت بیان کرناچاہئے کہ اس کا حکم بتایاجائے۔
مسئلہ ۲۳۱ : ازسرونج   مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب    ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ

ایک عزیز زید کا زید کو ازراہِ صلہ رحمی ماہوار وظیفہ دیتاہے مگر مہاجن سے سودی روپیہ قرض لے کر دیتاہے کسی اپنی دنیوی وجہ سے، تو ایسے روپے سے خیرات جائز یاناجائز؟
الجواب  :  بلاضرورت شرعیہ ومجبوری صادق سودی روپیہ قرض لینا حرام اور شدید گناہ کبیرہ ہے۔ صحیح حدیث میں سود لینے والے اور سود کھانے والے کو برابر بتایا اور دونوں پر سخت وعید فرمائی تو یہ روپیہ کہ ایک عقد فاسد سے اس نے حاصل کیا خود خبیث ہے اور اسے واپس دینا اور اس عقد کو فسخ کرنا واجب ہے امور خیر یا اپنے کسی مصرف میں نہیں لاسکتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲:  ازسرونج   مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب    ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ

زید نے عمر کو روپیہ قرض دیا، عمر نے ادائیگی روپیہ زید کی ناپاک روپے سے کی، تو ایسی حالت میں روپیہ زید کا پاک رہا یاناپاک؟
الجواب : ناپاک روپیہ دو قسم ہے، ایک وہ جو اس شخص کی مِلک ہی نہیں جیسے غصب یا رشوت یا چوری کا روپیہ، یہ روپیہ اس سے نہ کوئی اپنے قرض میں لے سکتاہے نہ اپنی کسی بیچی ہوئی چیز کی قیمت میں، اور اگر لے گا تو وہ اس کے لئے حرام وناپاک ہوگا جبکہ اسے معلوم ہو کہ دینے والے کے پاس بعینہ یہ روپیہ اس وجہ حرام سے ہے۔ اور اگر دینے والے کے پاس علاوہ حرام ہر قسم کا روپیہ ہے اور لینے والے کو معلوم نہیں کہ یہ روپیہ جو کچھ دے رہاہے خاص وجہ حرام کاہے تو لینے میں حرج نہیں۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام لعینہ۱؎۔
فتاوٰی ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد کے حوالے سے یہ روایت نقل فرمائی کہ ہم اسی مسئلہ کو اختیار کرتے ہیں جب تک کسی شیئ کے عین حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراھیۃ    الباب الثانی عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
دوسری قسم وہ کہ اس کی ملک بروجہ خبیث ہے جیسے وہ روپیہ کہ کسی عقد فاسد سے حاصل کیاجائے یہ بعد قبضہ ملک ہوجاتاہے۔ اور دوسرے کو اپنے کسی جائز ذریعہ میں لینا رواہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳ : مرسلہ کفایت اﷲ خاں صاحب از موضع ابہئی پور ضلع بریلی     ۱۰/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ پیشتر ایک چندہ کیاگیا واسطے مجلس میلاد شریف وقوالی کے، چندہ جمع ہونے کے بعد چند اشخاص نے یہ کہا کہ ہم نے اب کی مرتبہ دیاہے لیکن آئندہ نہ دیں گے اور اب مسجد کی مرمّت کے واسطے دیں گے، تو اس میں اُن کا مبلغ(عہ ۸/) جمع تھا ان کو بجائے (لہ ۸/) کے مبلغ (عہ۸/) اُن کو دیاگیا کہ یہ لو مسجد کی مرمّت میں لگانا، وہ روپیہ وہ لوگ جنہوں نے چندہ دیاتھا آپس میں تقسیم کر کے کھاگئے، اب اُن کے حق میں کیاحکم ہوتاہے ؟
الجواب :مجلس میلاد مبارک اعظم مندوبات سے ہے جبکہ بروجہ صحیح ہو جس طرح حرمین طیّبین میں ہوتی ہے اور قوالی کہ یہاں رائج ہے ناجائزہے اور اس کے لئے چندہ دینا بھی جائزنہیں یہ چندہ کہ اُن کو واپس دیاگیا اگر (لہ ۸/عہ) ہی دئے جاتے جتنا انہوں نے دیاتھا تو انہیں اس کا کھالینا حرم نہ ہوتا وہ ان کی مِلک تھا اور جو وعدہ مسجد میں صَرف کرنے کاکیاتھا اگر اس پرقائم تھے اور بوجہ حاجت اس وقت صرف کرلیا اور دل میں یہ نیت تھی کہ اس کے عوض مسجد میں اتنا لگادیں گے تو اﷲ عزّوجل سے وعدہ خلافی بھی نہ ہو اور اگر یہ نیت نہ تھی تو خلاف وعدہ کا وبال ہوا اور معاذاﷲ اس کی نحوست شدید ہے۔
قال اﷲ تعالٰی فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم الٰی یوم یلقونہ بما اخلفواﷲ ماوعدوہ وبما کانوا یکذبون۱؎۔
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے اُن کے دلوں میں نفاق جمادیا اُس دن تک کہ اس سے وہ ملیں گے اس لئے کہ انہوں نے اپنے کئے ہوئے وعدہ کی اﷲ تعالٰی سے خلاف ورزی کی اور اس لئے کہ وہ جھوٹ کہاکرتے تھے۔(ت)
 (۱؎القرآن الکریم     ۹ /۷۷)
مگر وہ ایک روپیہ زائد جو اُن کو دیاگےا اُس کا کھالینا ہرطرح انہیں حرام تھا بہرحال وہ مرتکب غصب وحرام ہوئے اُن پر توبہ فرض ہے اور اس ایک روپیہ کا تاوان دینا لازم۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter