Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
129 - 190
مسئلہ ۲۲۴ ازشہر چاٹگام موضع نیاگاؤں ازجانب محمدقدرت اﷲ عفی عنہ 

چہ میفرمایند علمائے دین اندریں صورت کہ اگرشخصے معاملہ سودنمودہ اموال کثیرہ فراہم نمایند پس رحلت ازدارِ دنیا بدار آخرت اموالیکہ ازمعاملہ جمع شدہ برائے وارثان وغیرہ جائزوحلال باشد یانہ؟
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورتِ مسئلہ میں کہ ایک شخص نے سُودی کاروبار اورلین دین کرکے بہت سامال اکٹھا کیا پھر دارِ دنیا سے دارِ آخرت کی طرف کوچ کرگیا لہٰذا جومال سودی کاروبار سے جمع کیاگیا وہ اس کے وارثوں وغیرہ کے لئے جائز اور حلال ہے یانہیں؟
الجواب

اگروارثان دانند کہ ازفلاں فلاں کس ایں قدر رباگرفتہ است واجب ست کہ بآنہا واپس دہند اگرایشاں نماندہ باشند بوارثان ایشاں رسانند اگروارثان ہم نیابندیا ازسرفلاں فلاں راندانستہ باشند مگرعین اموال ربا معلوم ومعین است آں اموال رابر فقراء تصدّق کنند واگرہیچ درعلم ایشاں نیست جزاینکہ ربامی گرفت ترکہ مراینہا را حلال است فی ردالمحتار الحاصل، انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ وان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما و الاحسن دیانۃ التنزہ عنہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اگرورثاء جانتے ہیں کہ اس قدرمال فلاں فلاں سے بطور سود لیاگیا تو ضروری ہےکہ ان کے مالکوں کو واپس کردیں لیکن اگر وہ مالکان وفات پاچکے ہوں تو ان کے ورثاء کو لوٹادیں، اگرورثاء موجود ہی نہ ہوں یا ان کی تفصیل معلوم نہ ہو سکے اور سودی رقم کی مقرر مقدار معلوم ہو تو اس مال معینہ کو فقراء ومساکین میں تقسیم کردیں۔ اگرمذکورہ امور میں سے کوئی بات ان کے علم میں نہ ہو تو ایسی صورتحال میں ورثاء کے لئے اس میت کاترکہ حلا ل ہے۔ چنانچہ فتاوٰی شامی میں ہے خلاصہ یہ ہے کہ اگر اربابِ مال کوجانتا ہے تومال انہیں لوٹادینا ضروری ہے لیکن اگریہ نہیں جانتا اور مال حرام معین کا علم رکھتاہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالکِ مال کی نیت سے اسے خیرات کردے اور اگرمال مخلوط (ملاجلا) ہو جو حرام طریقہ سے جمع کیاگیا اور اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ اس میں سے کسی حرام شَے کو بعینہٖ جانتاہے تو اس صورت میں اس کے لئے بطور حکم حلال ہے ہاں تقوٰی اور دیانت کاتقاضا یہ ہے کہ اس سے پرہیز کرے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم والاہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع    باب البیع الفاسد    دراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۳۰)
مسئلہ ۲۲۵ ازبجنور مرسلہ محمد حسن نائب محافظ دفتر کلکٹری ۲۰/ربیع الاول ۱۳۲۳ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس باب میں کہ کسی شخص نے کچھ مال بذریعہ سُود یارشوت یاتغنی یاچوری وغیرہ کسی ذریعہ حرام سے حاصل کیا اور اس مال کے ذریعہ سے کوئی جائداد خرید کی یاکامِ تجارت جاری کیا تو اب اس جائداد یاتجارت کی آمدنی اس شخص کے اور اس کے توابعین و لواحقین کے حق میں مباح ہے یا نہیں؟ اگرمباح ہے تو کس صورت اور کس دلیل سے؟ اور اس وبال دارین سے سبکدوش ہونےکا عندالشرع کیاطریقہ ہے؟ فقہ حنفی کی رُو سے مع حوالہ کتب جواب بواپسی ڈاک ارشاد فرمایاجائے۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب

جومال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پرفرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پرتصدق کرے، خریدوفروخت کسی کام میں اُس مال کالگانا حرام قطعی ہے، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کانہیں۔ یہی حکم سُود وغیرہ عقودِفاسدہ کاہے  فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیںواپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے،
وذٰلک لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثتہ ما امکن اما فی الربٰو اواشباھہ فلفساد الملک وخبثہ و اذا قدملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوک الماخوذ منہ لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شیئ واحد فلم یجب الرد وانما وجب الانخلاع عنہ اما بالرد واما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاک الخبیثۃ۔
یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہٰذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹادیاجائے پس ایساکرنا واجب ہے، سُود یا اس جیسی اشیاء میں فسادِ مِلک اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اس کا مالک بن گیا تو جس سےمال لیاگیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی (بلکہ ختم ہوگئی) اس لئے کہ ایک چیز پر بیک وقت دو مِلک جمع ہونے محال ہیں (کہ اصل شخص بھی مالک ہو اور سودخور بھی۔ مترجم) لہٰذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورتِ رد (یعنی لوٹانے کے) ہو یا بصورتِ خیرات، جیسا کہ تمام املاکِ خبیثہ میں یہی طریقہ ہے۔(ت)
ہاں جس سے لیا انہیں یا ان کے ورثہ کو دینا یہاں بھی اولٰی ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ والخیریۃ والھندیۃ وغیرھا (جیسا کہ غنیہ، خیریہ اور ہندیہ وغیرہ میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت) رہا استبدال یعنی اس مال کے عوض دوسری چیز خریدنا، اس کی دوصورتیں ہیں اگر وہ مال کہ ناجائز ذرائع سے حاصل کیا زروسیم کے سوا اشیاء متعینہ سے تھا جیسے زمین یاکپڑا یا برتن وغیرہا اس کے عوض کوئی جائداد خریدی یا اس سے تجارت کی تو وہ جائداد تجارت سب خبیث وحرام ہے، اور اگر وہ مال سوناچاندی روپیہ اشرفی تھا اور اس سے کوئی جائداد مول لی یاتجارت کی تومذہب مفتٰی بہ میں اگر عقد ونقد دونوں اس زرِ حرام پرجمع ہوئے یعنی وہی حرام روپیہ بائع کو دکھاکر کہا کہ اس کے عوض فلاں شَے دے دے پھر وہی روپیہ اس کے ثمن میں دے دیا یاپہلے سے وہ حرام روپیہ بائع کو دے دیا اور اس کے بدلے کوئی چیز مول لی تو وہ چیز مطلقاً حرام و خبیث ہے جبکہ یہ روپیہ غصب یاسرقہ یارشوت واجرتِ زنا یاغنا وامثال ذلک کا ہے جن میں اس کی مِلک اصلاً نہیں ہوتی، اور اگرعقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے مثلاً مطلقاً خریدی کہ فلاں چیز دے دے پھر ثمن میں وہ زرحرام دیا یازرحرام دکھاکر خریدی مگردیتے وقت دوسرا روپیہ دیا تو وہ خرید کردہ شے پاک ہے۔ یوہیں اگرروپیہ ربا وغیرہ عقود فاسدہ سے حاصل کیاتھا اور اس کے عوض کوئی شے خریدی تو اس خریدی ہوئی شے میں خباثت نہ آئے گی۔
تنویرالابصار میں ہے :
تصدق لوتصرف فی المغصوب والودیعۃ وربح اذا کان متعینا بالاشارۃ او بالشراء بدراھم الودیعۃ اوالغصب ونقدھا وان اشار الیھا ونقد غیرھا او الی غیرھا او اطلق ونقدھا  لا  وبہ یفتی۔۱؎
اگرغصب کردہ چیز اور امانت میں اس نے تصرف کیا اور نفع کمایا ہو تو اسے خیرات کردے جبکہ وہ اشارہ سے متعین ہو اور اگرامانت اور غصب شدہ دراہم سے کوئی چیز خریدی اور وہی دراہم تبادلہ میں دئیے تو وہ چیز حرام ہے اور اگر ان کی طرف اشارہ کیا لیکن دیتے وقت دوسرے دراہم بصورت نقدی  دئیے یا دوسرے دراہم کی طرف اشارہ کیا یاچیز خریدتے وقت ثمن سے اطلاق کیا(کہ فلاں چیز دے دے) ، پھر قیمت دیتے وقت وہی حرام درھم دئیے تو اسے خیرات نہ کرے (اس لئے کہ وہ پاک ہے) اور اسی پرفتوٰی دیاجاتاہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار  کتاب الغصب   مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۰۶  ۔ ۲۰۵)
درمختار میں ہے :
الخبث لفساد الملک انما یعمل فیما یتعین لافیما لایتعین واما الخبث لعدم الملک کالغصب فیعمل فیھما کما بسطہ خسرووابن الکمال۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مِلک فاسد ہونے کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہوتی ہے وہ متعین شے پر اثرکرتی ہے۔ جبکہ غیرمتعین میں مؤثر نہیں ہوتی لیکن عدمِ ملک کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہو جیسے غصب وغیرہ تو وہ متعین، غیرمتعین دونوں میں اثرکرتی ہے جیسا کہ خسرواور ابن کمال نے تفصیل سے اس کو بیان فرمایا۔ اور اﷲ تعالٰی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار   کتاب البیوع    باب البیع الفاسد   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۹)
مسئلہ ۲۲۶ :  ازبریلی حاضرکردہ محمد صدیق عفی عنہ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدقاسم صاحب نے آٹھ سوروپیہ کے نوٹ واشرفیاں سکترصاحب کو برائے عمارت جامع مسجد دئیے تھے سکتر صاحب نے چھ سوکا سامان منگوایا دوسوباقی رہے اور کام مسجدکا شروع کروادیا اہل محلہ نے کسی وجہ سے اس کام کو روکا سکترصاحب کو اس سے ملال ہوا اور کار سے دست بردار ہوئے اور قصدعمارت کاتَرک کردیا، سکترصاحب سے دریافت کیاگیا کہ حاجی صاحب نے جو روپیہ دیاتھا وہ آپ کے پاس بجنسہٖ یا اس میں کچھ تصرف ہواہے، اس کے جواب میں انہوں نے فرمایاکہ حاجی صاحب نے اشرفیاں ونوٹ دئیے تھے میں نے اشرفیاں اپنی اشرفیوں میں ڈال دیں اور نوٹ خزانچی کو دے دئیے تھے چونکہ اشرفیاں خلط ملط ہوگئیں اب مجھ کو ان کی تمیز بھی باقی نہیں رہی کہ وہ کون سی ہیں اور حاجی صاحب خواہ مجھ سے بالکل روپیہ لے لیں خواہ اشرفیاں خواہ نوٹ، لہٰذا اس صورت مذکورہ میں حاجی محمد قاسم صاحب اس روپیہ میں سے کسی شخص کو سوا سو روپیہ حج کے واسطے دلاسکتے ہیں یانہیں؟ ازروئے شرع مطہر کے اس کی ممانعت تونہیں ہے؟ اور حاجی صاحب اس کا ثواب عنداﷲ تعالٰی پائیں گے؟ بیّنوا و عنداﷲ تعالٰی توجروا(بیان فرمائیے تاکہ اﷲ تعالٰی کے ہاں سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب

جبکہ وہ اشرفیاں وکیل نے اپنے مال میں خلط کرلیں کہ اب تمیز نہیں ہوسکتی تو وہ مال ہلاک ہوگیا اور وکیل پر اس کی ضمان لازم ہوئی فان الخلط استھلاک والمستھلک کغاصب مضمون والضمان مغیر (اس لئے کہ کسی کے مال کو اپنے مال میں ملادینا اسے ہلاک کرتاہے اور ہلاک کرنے والا غاصب کی طرح ہے اور غصب میں ضمان ہے اور ضمان میں تبدیلی پیدا کرنے والا ہے۔ت) تو دینے والے کو اس روپے میں تصرف مذکور جائزہے خصوصاً اب کہ وہ کام ہی ملتوی ہوگیا اور دینے والا اُسے اب بھی کارقربت میں صرف کرناچاہتاہے تو یہ صورت ثواب کی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter