| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اگربالفرض ہندہ نے اس زمانے میں معاذاﷲ اپنا دین بدل دیا اور کفر اختیار کیاتھا اور اب اسلام لاتی ہے تو اب بھی اسلام قبول تھا اگرچہ وہ معاذاﷲ اس زنا سے باز بھی نہ آتی کہ زنا کفرنہیں زنا کاوبال رہتا اور اسلام صحیح ہوجاتا، اب کہ وہ بحمداﷲ زنا سے بھی جدا ہوئی، اسلام صحیح نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، نہ اس تنخواہ سے ممانعت کی کوئی ضرورت کہ وہ معاوضہ زنا میں نہیں بلکہ صراحۃً اس انگریز سے صاف کہہ دیا ہے کہ اب وہ زنا سے باز رہے گی اور اپنی قوم میں اپنے دین پر رہے گی تویہ تنخواہ محض بلاعوض اور ہندہ کے لئے حلال ہے۔
فتاوٰی قاضی خاں میں ہے :
الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح۱؎ ۱ھ ومثلہ فی رد المحتار۲؎ عن الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اگر اسے بغیر کسی تقاضے اور شرط کے کچھ دیاجائے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لئے مباح ہے چنانچہ فتاوٰی شامی میں فتاوٰی عالمگیری سے اس نے المنتقی سے اس نے ابراہیم سے اس نے صاحب امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۹) (۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷)
مسئلہ ۲۲۲ : از شہرکہنہ ۲۰/صفر۱۳۲۲ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردار گھوڑے اور گدھے کی گیلی خریدنا جائزہے یانہیں اور اس گیلی کھال کو سڑاکر ہاتھ سے ملنا اور بنانا یعنی نجاست صاف کرنا اس غلیط کام کرنے والے کے کھانا کھاناجائزہے یانہیں؟
الجواب گھوڑا گدھا کہ بے ذبح مرجائے اس کی کھال کہ پکائی نہ گئی ہو بیچنا خریدنا حرام ہے اور دباغت کرناجائزہے اور اس کا پیشہ مکروہ، اور اس کے کھانے سے احتراز اولٰی ہے۔
عالمگیری میں ہے :
اما جلودالسباع والحمر والبغال فما کانت مذبوحۃ اومدبوغۃ جازبیعہا وما لا فلا۳؎ الخ وفی الحدیث کسب الحجام خبیث ۱؎ وعللوہ بالتلبس بالنجاسات وقد ثبت ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احتجم واعطی الحجام ۲؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
لیکن درندوں، گدھوں اور خچروں کی کھالیں اگرذبح کئے ہوئے جانوروں سے اتاری جائیں یاخود کھالیں پکالی جائیں تو ان سے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے لیکن بصورت دیگرجائز نہیں الخ اور حدیث مبارکہ ہے کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔ ائمہ کرام نے اس کی یہ علت بیان فرمائی کہ اس کا نجاستوں سے تلبس ہواکرتاہے اور بلاشبہہ یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۵) (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۶۴) (۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الاجارہ باب فی کسب الحجام آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۲۹)
مسئلہ ۲۲۳ : ازمقام کول مانک چوگ مسئولہ زوجہ عبدالرشید خان مرحوم ۲۲/شعبان المعظم ۱۳۲۲ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کسبی نے جو کچھ مال حرام پیداکیاتھا چہ نقدی وچہ زیور وچہ جائداد خریدی ہوئی اسی مال سے پیدا کی تھی، جب وہ کسبی تائب ہوئی تو اس نے اس قسم مال حرام کو پیدا کردہ اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں اور بہنوئی سے کہا کہ یہ مجھے درکار نہیں ہے میں نے تم کو چھوڑا، یہ کہہ کر الگ ہوگئی، انہوں نے اس مال اور جائداد کو صرف کرڈالا، اب یہ استفسار ہے کہ یہ دے دینا اس کا اُن کو صحیح ہوگیا یاکیا اور جو صحیح نہ ہوا ہو تو اس کو یہ واپس کرسکتی ہے یانہیں اور اس غرض سے واپسی چاہتی ہے کہ اگر مل جائے تو اس وقت کی نقدی سے جائداد خرید کرکے اُسے مصرف خیر میں صَرف کرے اس کی کیا صورت ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: رنڈی جومال اُس حرام وناپاک ذریعے سے حاصل کرتی ہے اس کی مِلک نہیں ہوتا حکمِ غصب رکھتاہے اس پرفرض ہوتاہے کہ جن سے لیا واپس دے، وہ نہ رہے ہوں تو اُن کے ورثہ کو دے، وہ نہ ملیں تو فقرأ پر تصدق کرے، اور ظاہر ہے کہ بعد ایک مدّت مدیدہ کے جو عورت تائب ہو وہ ہرگز حساب نہ لگاسکے گی کہ کب کتنا کس سے لیا، تو جومال اس کے ہاتھ میں ہے اموال ضائعہ کے قبیل سے ہواکہ اس کے مصرف فقراء ہیں، اور اس کی ماں بہنیں کہ وہ بھی رنڈیاں اور اُس وقت تک اُسی پیشہ ملعونہ میں آلودہ ہیں اگرچہ اُس ناپاک ذریعہ سے لاکھوں روپے اُن کے پاس ہوں شرعاً محض محتاج ونادار ہیں لما عرفت من ان ما بایدیھن غصب لایملکنہ (اس لئے کہ تمہیں معلوم ہوگیا کہ جو کچھ عورتوں کے ہاتھوں میں ہے وہ غصب شدہ ہے جس کی وہ مالک نہیں ہیں۔ت) تو وہ بھی اُسی تصدق کی محل ہیں اور ماں ہونا اس صدقہ واجبہ کے منافی نہیں کہ یہ صدقہ خود اُس کے اپنے مال کانہیں،
کما علم بل اموال ضوائع لایعرف اربابھا فیحل لھا التصدق بھا علی ابیھا وابنھا وامھا وبنتھا وفی الھندیۃ عن القنیۃ لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلک ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ۱؎ ۱ھ اقول : فاذا کان ھذا فیما قدملکہ ملکا ففیما لم یملکہ اظھرواولٰی۔
جیسا کہ معلوم ہوگیا بلکہ یہ اموال ضائعہ کی قسم سے ہے کہ جن کے مالک نامعلوم ہیں لہٰذا ان مالوں کا اپنے ماں باپ اور بیٹے بیٹی پر خیرات کردیناحلال ہے، فتاوٰی عالمگیری میں قنیہ کے حوالے سے مذکور ہے کہ اگر کسی کے پاس مشکوک ومشتبہ مال ہو تو وہ اپنے والد کو بطور صدقہ، خیرات دے دے تو یہ اس کے لئے کافی ہے لہٰذا کسی اجنبی پر صدقہ کرنا شرط نہیں۔ اسی طرح جب اس کا بیٹا کاروبارِ خریدوفروخت میں اُس کے ساتھ ہو اور اس کاروباری سلسلے میں فاسد سودے بھی ہوں پھر وہ شخص اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ شخص اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا ۱ھ میں کہتاہوں جب یہ حکم اس میں ہے کہ جس کا یہ مالک ہے اور جس کا یہ مالک نہیں تو اس میں اجرائے حکم زیادہ واضح اور زیادہ بہترہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشرفی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹)
پس اگر اس عورت نے وہ مال اُنہیں دے ڈالا تھا اور اُنہوں نے قبضہ کرلیا جب توظاہر ہے کہ صدقہ اپنے محل کو پہنچ گیا اُس کی ماں بہنیں اُس کی مالک ہوگئیں اور وہ مال اُن کے لئے طیب ہوگیا ولایضر الشیوع الصدقۃ وان ضرالھبۃ (صدقہ کو غیرمنقسم ہونا کوئی نقصان نہیں پہنچاتا اگرچہ ہبہ کو نقصان دیتاہے۔ت) اب عورت کو اُن سے واپسی کااختیار نہیں لان الصدقۃ لاتسترد وکان القرابۃ المحرمۃ مانعۃ لرجوع (اس لئے کہ صدقہ واپس نہیں کیاجاسکتا کیونکہ محرم رشتہ واپس کرنے سے مانع ہے۔ت) اور اگردے ڈالنانہ تھا بلکہ صرف آپ اُس ناپاک مال سے بے علاقہ ہونا منظور تھا اور ''تم کو چھوڑا''کے یہ معنی تھے کہ تم ہنوز اسی ناپاک پیشے مں ہو تم جانو اوریہ ناپاک مال مجھے اس سے تعلق نہیں اس صورت میں بھی جبکہ انہوں نے قبضہ کرلیا تو ایک مال ضائعہ حق فقراء تھا جس پر فقراء کاقبضہ ہوگیا، یہ عورت اُس کی مالک نہ تھی کہ فقرا سے مطالبہ واپسی کرسکے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔