قال ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ اذا غصب ارضا فبنی فیھا مسجدا او حماما او حانوتا فلاباس بالصلٰوۃ فی المسجد والدخول فی الحمام للاغتسال وفی الحانوت للشراء ولیس لہ ان یستأجرھا وان غصب دارًا فجعلھا مسجدا لایسع لاحدان یصلی فیہ ولا ان یدخلہ ۱؎ الخ قلت وذکرنا ثمہ ان التفرقۃ فی الدار والارض کانھا مبنیۃ علی غیر الارجح فی مسألۃ غصب الساحۃ بالحاء المھملۃ وایاما کان فدلالتھا علی ماھنا تام کمالا یخفی وبالجملۃ فخبث الملک لایمنع صحۃ الوقف وصحتہ تعتمد آثارہٖ فافھم۔
امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا جب کوئی آدمی زمین غصب کرے یعنی زبردستی چھین لے پھر وہاں مسجد، حمام اور دکان تعمیر کردے تو مسجد میں نماز پڑھنے، حمام میں غسل کرنے اور دکان سے اشیاء خریدلینے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں، البتہ غاصب کیلئے جائزنہیں کہ اسے کرایہ پر دے، اور اگر اس نے کوئی حویلی چھین لی پھر اسے مسجد بنادیا تو کسی کے لئے وہاں داخل ہونے اور نماز پڑھنے کی گنجائش نہیں۱ھ میں کہتاہوں کہ ہم نے پہلے بھی یہ بیان کردیا کہ گھر اور زمین کے حکم میں فرق کرنا گویا غیرراجح قول پرمبنی ہے جو غصبِ صحن کے مسئلہ میں ہے ''الساحۃ'' حاء بغیر نقطہ ہی درج ہے پس جو بھی ہو اس کی دلالت یہاں تام ہے جو ظاہر ہے (الحاصل) مِلک کی خباثت وقف کی صحت سے مانع نہیں، اس کی صحت کا دارومدار اس کے آثار پرہے، یہاں اس کو سمجھ لیا جائے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۰)
اور فقیر کو اس کا خیرات میں لینا تو بدرجہ اولی جائز ہے کہ یہ تو عین حکم شرع ہے جبکہ مالک کا پتانہ رہاہو اور ویسے بھی مال ربا میں بعد قبضہ عدم ملک نہیں صرف خبث ملک،
فی الرد المحتار عن البحر الرائق عن القنیۃ عن الامام البزدوی ان من جملۃ صورالبیع الفاسد جملۃ العقود الربویۃ یملک العوض فیھا بالقبض۲؎ انتہی، قلت فماوقع فی مدانیات العقود الدریۃ سھو کما نبھت علیہ فیما علقت علی ردالمحتار۔
ردالمحتار نے بحرالرائق سے بحرالرائق نے غنیہ سے اور فنیہ نے امام بزدوی سے نقل کیاہے۔ بیع فاسد کی تمام صورتوں میں سُودی معاملات ہیں ان میں قبضہ کرنے کے عوض مالک ہوجاتاہے انتہی۔میں کہتاہوں جو کچھ عقود الدریہ کی بحث مدانیات میں واقع ہوا وہ سہواً ہے اور بھول ہے جیسا کہ میں نے فتاوٰی شامی کی تعلیق(حاشیہ) میں اس پر متنبہ اور آگاہ کیاہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۶)
اور خبث ملک فقیر کو تصدق میں لینے سے مانع نہیں،
فی الھندیۃ عن الحاوی عن الامام ابی بکر قیل لہ ان فقیرا یأخذ جائزۃ السلطان مع علمہ ان السلطان یأخذھا غصبا ایحل لہ قال ان خلط ذٰلک بدراھم اخری فانہ لاباس بہ۱؎ الی اٰخرہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
چنانچہ عالمگیری میں الحاوی اس نے امام ابوبکر سے نقل کیاہے کہ ان سے کہاگیا کہ فقیر بادشاہ سے انعام لیتاہے جبکہ وہ جانتاہےکہ بادشاہ نے وہ انعام یامال بطورِ غصب لے رکھاہے تو کیا یہ اس کے لئے حلال ہوگا؟ ارشاد فرمایا کہ اگر وہ دراہم، انعام دوسرے دراہم میں ملاڈالے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں(عبارت مکمل)۔ اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اور اس کا علم نہایت درجہ مکمل اور پختہ ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲)
مسئلہ ۲۱۸ ازجائس رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی ا ﷲ۱۳۴۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، سُود اور رشوت کامال توبہ سے پاک ہوجاتاہے اور اس کے یہاں نوکری کرنا اور کھانا جائزہے یانہیں؟ فقط۔
الجواب
زبانی توبہ سے حرام مال پاک نہیں ہوسکتا بلکہ توبہ کے لئے شرط ہے کہ جس جس سے لیاہے واپس دے، وہ نہ رہے ہوں ان کے وارثوں کو دے، پتانہ چلے تو اُتنا مال تصدّق کردے، بے اس کے گناہ سے برأت نہیں، اس کے یہاں نوکری کرنا، تنخواہ لینا، کھانا کھانا جائز ہے جبکہ وہ چیز جو اسے دے اس کا بعینہٖ مال حرام ہونا نہ معلوم ہو۔
کما فی الھندیۃ ۲؎ عن الذخیرۃ عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں ذخیرہ کے حوالہ سے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے۔ اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم والاہے اور اس کا علم بہت تام اور زیادہ پختہ ہے۔(ت)
(۲؎الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲)
مسئلہ ۲۱۹ ازبنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبداللطیف صاحب ۱۹/رجب ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیاارشاد ہے۔ت) کہ ایک لڑکی کو اُستاد نے اس کے باپ کے یہاں قرآن شریف وغیرہ پڑھایا اور اس مدتِ تعلیم میں والدِ لڑکی نے استاد کو کچھ اُجرت ومشاہیر وغیرہ نہیں دیا پھر بروقت شادی اس لڑکی کے استاد کو دولھا کی طرف والوں سے یعنی دولھا یاوالد وغیرہ سے روپیہ دلوایا، گویا نوشاہ والوں نے بغرض مجبوری یاخوشی سے دیا لہٰذا اس صورت میں اس اُستاد کو وہ روپیہ لیناجائز ہوا یا ازروئے شرع شریف کے ناجائز؟
الجواب : اگربخوشی دینالیناجائزہے، اور مجبوری سے دیاتوحرام۔
قال اﷲ تعالٰی یاایھا الذین اٰمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) آپس میں اپنے مال ناجائزطریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ تمہاری رضامندی سے تجارت اور کاروبار ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۲۹)
مسئلہ ۲۲۰ ازشہرکہنہ ۲۹ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاوالد ایک عرصہ سے اعمٰی ہوگیاہے دونوں خیاطی کرتے ہیں اور عددفروخت کے واسطے تیار کرتے ہیں، والدِ زید فروخت مال کے لئے بازار کودوچار گھنٹے کوجایاکرتاہے کہ قدیم سے اس کی عادت ہے شرعاً اس میں زید پر توکوئی الزام نہیں۔ باپ کا مال بیٹے کو کھاناحرام ہے یاحلال؟ دونوں کی خورش یک جائی ہے، باپ کا حق بیٹے پرکب رہتاہے اور بیٹے کاباپ پرکب تک؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب
اگر زید کاباپ اپنی خوشی سے حسبِ عادت جاتاہے تو زید پر الزام نہیں اگرچہ مقتضائے سعادتمندی یہ ہے کہ اسے آرام دے اور خود کام کرے، ہاں اگرزید اسے مجبور کرتاہے تو ضرور گنہگار ونالائق ہے، باپ کا مال بیٹے کو اس کی رضا سے قدر رضا تک حلال ہے ورنہ حرام، شریک ہوں خواہ جدا، باپ کا حق بیٹے پر ہمیشہ رہتاہے، یونہی بیٹے کاباپ پر، ہاں بعض حقوق وقت تک محدود ہیں جیسے لڑکا جب جوان ہوجائے باپ پر اس کا نفقہ واجب نہیں رہتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۲۱ : از ضلع شیب ساگر ڈاکخانہ انگوری مقام شام گوری ملک آسام مرسلہ عبدالمجید صاحب ۱۱/شعبان ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدانگریز نے ہندہ مسلمہ کو قریب بیس برس کے عورت بناکر رکھا اُن کی طرف سے کئی ہولے موجود ہیں، اب ہندہ ضعیفہ ہوئی، ہندہ نے انگریز سے کہا کہ کچھ روزینہ بندوبست کرکے مجھ کو چھوڑدو ہم آپس میں بھائی بند کے پاس مسلمان ہوکر رہے تاکہ اﷲ تعالٰی خاتمہ بالخیر کرے۔ اب ہندہ نے کسی عالم کے پاس چند مسلمان کے مقابل توبہ کیا اور ضامن بھی دیا آمدورفت نہ ہونے کے لئے، فاصلہ درمیان دونوں کے ۳روزہ کی راہ ہے اسباب حاصلہ اور تنخواہ کے سوا اور کوئی صورت اوقات بسری کے واسطے نہیں اور اگراسباب حاصلہ اور چارروپیہ روزینہ جاریہ سے منع کیاجائے توپھر انکار اسلام کا خوف ہے، اب آیا ان صورتوں میں ان کا مسلمان ہوناصحیح ہوگا یانہ ہوگا؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب
ہندہ کا اسلام صحیح ہے بلکہ اگر اس مدت بست ۲۰ سال میں کہ وہ انگریز کے پاس رہی کوئی قول و فعل کفرنہ کیا تھا تو وہ جب بھی مسلمان تھی اگرچہ اشد سخت ملعون کبیرہ کی مرتکب تھی کہ ایک توزنا، دوسرے وہ بھی کافر سے۔ اہلسنّت کے مذہب میں آدمی کسی گناہ کے باعث اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم : وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر۱؎۔
حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے ''اگرچہ زنا کرے اگرچہ چوری کرے، ابوذر کی ناک خاک آلود ہونے کے باوجود (یعنی بالفرض وہ تنگی اورکوفت محسوس کریں تب بھی)۔(ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۶)