| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۲۱۵ : ازبیجا پور گجرات ضلع بڑودہ شمالی کڑی پرانت مرسلہ حافظ محمد بن سلیمان میاں محلہ بہورواٹر ۱۵شعبان ۱۳۱۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نام ایک طوائف کو خالد ایک امیر نے سَو روپے ماہواری پر نوکر رکھاتاکہ اس سے وطی کرے اور ہروقت ہم صحبت رہے یکایک ہندہ کو ہدایت ربانی نصیب ہوئی اور اس کام سے تائب ہوئی لیکن اس امیر نے وہی پگار اس کے نام پر برقرار رکھا اور اس کے لڑکے زید نے بعد وفات خالد کے وہی پگار جاری رکھا، وہ ہندہ اس پگار سے کارِ خیر اور مساکین اور یتیم اور رانڈوں کو پرورش کرتی ہے اور خیرات جاری ہے اس سبب سے وہ پگار سے خیرات لینا اور کھانا وغیرہ حلال ہے یانہیں؟ اور ثواب ہوتاہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: جب تک وہ وظیفہ ہندہ کو بمعاوضہ زنا ملتاتھا ضرور حرام قطعی تھا، نہ اس سے خیرات ہوسکتی تھی، مگر جب ہندہ تائبہ ہوگئی اور اس کے بعد بھی امیر نے وظیفہ جاری رکھا اب اس کے بیٹے کی طرف سے جاری ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ کسی گناہ کے معاوضہ میں نہیں یہ ضرور مال حلال ہے، صحیح بخاری وصحیح مسلم میں قصہ اصحاب الرقیم میں جس کا اشارہ قرآن عظیم میں بھی موجود، حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین مسافر رات کو ایک غار میں ٹھہرے پہاڑ سے ایک چٹان گر کر غار کے منہ پر ڈھک گئی یہ بند ہوگئی، آپس میں بولے خدا کی قسم یہاں سے نجات نہ پاؤ گے "الاّ ان تدعوا اﷲ بصالح اعمالکم" مگر یہ کہ نیک اعمال کو وسیلہ کرکے حضرت عزوجل سے دعاکرو، ہرایک نے اپنا اپنا ایک اعلٰی درجے کا نیک عمل بیان کیا اور اس کے توسّل سے دعا کی، چٹان تھوڑی تھوڑی کھلتی گئی، تیسرے کی دعا پر بالکل ہٹ گئی اور انہوں نے نجات پائی۔ ان میں ایک دعا یہ تھی کہ میرے چچا کی بیٹی مجھے سب سے زیادہ پیاری تھی میں نے اس سے بدکاری چاہی وہ باز رہی یہاں تک کہ ایک سال قحط میں مبتلا ہوکر میرے پاس آئی "فاعطیتھا عشرین ومائۃ دینار علی ان تخلی بینی وبین نفسھا ففعلت" میں نے اسے ایک سو بیس اشرفیاں اس شرط پر دیں کہ مجھے اپنے اوپر قدرت دے اس نے قبول کیا جب میں نے اس پردسترس پائی اور قریب ہوا کہ زنا واقع ہو وہ روئی اور کہا میں نے یہ کام کبھی نہ کیا احتیاج نے مجھے مجبور کردیا اللہ سے ڈر اور ناحق طور پر مہر کو نہ توڑ، میں اس سے ڈرا اور اس فعل سے باز رہا اور وہ اشرفیاں بھی اسی کو چھوڑ دیں "اللّھم ان کنت فعلت ذٰلک ابتغاء وجھک ففرّج عنّا مانحن فیہ الٰہی!" اگر میں نے یہ کام تیری رضا چاہنے کے لئے کیا ہو تو ہمیں اس بلاسے نجات دے، اس پر چٹان سِرکی۱؎۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب من استاجراجیراً قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۰۳) (صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب قصۃ اصحاب الغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۳)
اس حدیث جلیل عظیم سے ظاہر ہے کہ وہ اشرفیاں اس عورت کے لئے مال حلال ہوگئیں ورنہ اس کا اسے رکھنا حرام ہوتا اور جب اسے رکھنا حرام ہوتا اسے چھوڑ دینا او رواپس نہ کرنا حرام ہوتا کہ جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۲؎ والمانع منھما من جھۃ الشرع لالمجرد حق الغیر فکان یجب علیھما رفعہ اعدا ما للمعصیۃ۔
جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے، ان دونوں کامانع شریعت کی طرف سے ہے نہ کہ محض حقِ غیر، لہٰذا ان دونوں پر گناہ کو زائل اور ختم کرنے کے لئے اس کادفع واجب تھا (یعنی عورت لینے والی رقم کو اپنے پاس نہ رکھتی اور دینے والا مرد اسے واپس لیتا) جب یہ دونوں کام نہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ رقم حلال ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۶)
حالانکہ وہ اشرفیاں خاص وہی تھیں جو بشرط زنا دی گئی تھیں توبہ نے انہیں بھی حلال کردیاتوبعد توبہ جو وظیفہ جدید دیاگیا اس میں حرمت کیونکر آسکتی ہے وھذا کلہ ظاھر جدا (بلاشبہہ یہ سب کچھ خوب ظاہر ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶ و ۲۱۷ : ازبنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی اکرم یکرم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں : (۱) اگر کسی سود خوار نے سودی روپیہ سے مسجد بنائی یا حج کیا یا حج کروایا یا تالاب کھدوایا یا خیرات کی تو وہ شخص مستحقِ ثواب ہوگا یانہیں؟ (۲) اُس مسجد میں نماز پڑھنا یا حج کرنے والے کو اس سودی روپیہ کا حج کے خرچ میں لانا یا اس تالاب میں وضو وغسل کرنا یا پانی پینا یا اس مال خیرات کو مستحقین خیرات کا لے لینا جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب (۱) سود کے روپیہ سے جو کارِ نیک کیاجائے اس میں استحقاقِ ثواب نہیں، حدیث شریف میں ہے: جو مالِ حرام لے کر حج کوجاتاہے جب لبیک کہتاہے ہاتف غیب سے جواب دیتاہے : لالبیک ولاسعدیک وحجک مردود علیک حتی ترد ما فی یدیک۱؎۔ نہ تیری لبیک قبول، نہ خدمت پذیر، اور تیراحج تیرے منہ پر مردود ہے یہاں تک کہ تو یہ مال حرام کہ تیرے قبضہ میں ہے اس کے مستحقوں کو واپس دے۔
(۱؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرارالحج الباب الثالث دارالفکر بیروت ۴ /۴۳۱)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ طیّب لایقبل الاَّ الطیب۲؎۔
بیشک اﷲ عزوجل پاک ہے پاک ہی چیز کو قبول فرماتاہے۔
(۲؎ السنن الکبرٰی کتاب صلاۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۴۶)
سودخوار پر شرعاً فرض ہے کہ جتناسُود جس جس سے لیاہے اسے واپس دے، وہ نہ رہاہو اس کے وارثوں کو دے،وہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے، وہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالک اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدّق کردے اور تصدّق میں فقیر کو مالک کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار (جیسا کہ فتاوٰی قاضیخان وغیرہ عام بڑی کتب میں اس کی تصریح کردی گئی۔ت) اورمسجد یا تالاب بنانا یا حج کرنا اصلاً ادائے حکم نہ ہوگا اور اس پر سے گناہ نہ جائے گا، ہاں خیرات کردینے کاحکم ہے یوں اس کی توبہ تمام ہوگی اور ان شاء اﷲ تعالٰی گناہ سے بری الذمہ ہوگا اور توبہ کرنے اور حکمِ شرع دربارہ تصدق بجالانے کاثواب بھی پائے گا اگرچہ خیرات کا ثواب نہ ہوگا کما حققناہ فی فتاوٰنا، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم (جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی پوری تحقیق کردی، اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اس کا علم زیادہ مکمل اور پختہ ہے۔ت) (۲) حج کاجواب گزرچکا کہ اس روپے کو اس صَرف میں اُٹھانا جائزنہیں، ہاں فرضِ حج ذمّہ سے ادا ہوجائے گا، فان القبول شیئ اٰخر غیر سقوط الفرض وکان کمن صلی فی ارض مغصوبۃ۔ کیونکہ کسی شے کا قبول ہونا اور فرض ساقط ہوجانا دونوں ایک نہیں بلکہ الگ الگ چیزیں ہیں یعنی قبولیتِ شے اور چیزہے اور سقوط فرض اورچیز، جیسا کہ کوئی شخص ناجائز مقبوضہ زمین پرنماز پڑھے تو اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا مگرنماز مقبول نہ ہوگی۔(ت) اور اگرمسجد یاتالاب بنایا تو اس میں نماز اور اس سے وضو وغیرہ وشرب سب جائزہے والدلائل تعرف فی فتاوٰنا (دلائل کا تعارف ہمارے فتاوٰی میں موجود ہے۔ت)
بلکہ خانیہ وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے :
لواشتری رجل دارا شراء فاسدا وقبضھا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت علیہ وعلیہ قیمتھا ۱؎۱ھ وتحقیق الکلام فیہ فیما علقنا علی ردّالمحتارمن اول الوقف۔
اگر کوئی شخص بیع فاسد سے گھر خریدے پھر اس پر قابض ہوجائے پھر اسے فقیروں اور محتاجوں کیلئے وقف کردے تو جن پر یاجن کے لئے وہ گھر وقف کیاگیا وہ وقف قرار پاجائے گا مگر اس کی قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی ۱ھ اس میں تحقیق کلام وہی ہے جس کو ہم نے فتاوٰی شامی کی بحث وقف کے آغاز میں حاشیہ میں بیان کیا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۴)