Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
125 - 190
مسئلہ ۲۱۱ : ازملک بنگالہ ضلع ڈاک خانہ نمازی پور کوچیاموڑا     مرسلہ عبدالرحمن صاحب

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے آپ کا کیاارشادمبارک ہے) اس مسئلہ میں کہ دربعض دیاربنگال رمضان المبارک میں میانجی ومنشیوں کو دعوت کرکے مجتمع کرتے ہیں اور مردگان پرایصالِ ثواب کے واسطے ختم قرآن وختمِ تہلیل وغیرہ پڑھا کے اور زیارتِ قبور کراکے اُجرت دیتے ہیں یعنی اگرچہ پیسہ وغیرہ کا کچھ تعین نہیں کرتے ہیں مگر ہمیشہ دیناواجب جانتے ہیں اور منشی اور میانجی بھی پیسے کے لالچ سے جاتے ہیں، قرینہ اس کا یہ ہےکہ اگر کوئی مکان میں پیسہ نہ دیا تو بارِدیگر اُس مکان میں نہیں جاتے ہیں، اس قسم کا پیسہ دینا اور لینا شرعاً جائزہے یانہیں؟ اور مُردوں پرایصال ثواب ہوگا یانہیں؟ بیّنوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب

جبکہ اُن میں معہود ومعروف یہی لینا دیناہے تویہ اُجرت پرپڑھنا پڑھوانا ہوا فان المعروف عرفا کالمشروط لفظاً (کیونکہ عُرف ورواج میں جو کچھ مشہور ہے وہ اس طرح ہے کہ جس طرح الفاظ سے شرط طے کی جائے۔ت) اور تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی پر اُجرت لینادینا دونوں حرام ہے، لینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں کما حققہ فی ردالمحتار وشفاء العلیل وغیرھا (جیسا کہ فتاوٰی شامی، شفاء العلیل او ردیگر کتب میں اس کی تحقق فرمائی گئی۔ت) اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اموات کو بھیجے گا، گناہ پرثواب کی امید اور زیادہ سخت واشد ہے
کما فی الھندیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقد شدد العلماء فی ھذا ابلغ تشدید
(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہے، علماء کرام نے اس مسئلہ میں بہت شدّت برتی ہے۔ت) ہاں اگر لوگ چاہیں کہ ایصال ثواب بھی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دوگھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اتنی دیر کی ہرشخص کی معین کردیں مثلاً پڑھوانے والا کہے میں نے تجھے آج فلاں وقت سے فلاں وقت تک کے لئے اس قدر اجرت پرنوکر رکھا جو کام چاہوں گا لُوں گا وہ کہے میں قبول کیا، اب اتنی دیر کے واسطے اس کا اجیرہوگیا جو کام چاہے لے سکتاہے اس کے بعد اس سے کہے فلاں میّت کے لئے اتنا قرآن عظیم یا اس قدر کلمہ طیبہ یا درود شریف پڑھ دو، یہ صورت جواز کی ہے۔ اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو توفیق عطافرمائے، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (اﷲ تعالٰی پاک برتراور سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم کامل اور پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۲۱۲ :  ۱۱جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں بھٹیارن کا دستور ہے جب ان میں کوئی عورت بدکاری کرتی ہے خاوند اسے طلاق دے کر چودھری کے سپرد کردیتاہے پھر جو شخص اس سے نکاح کرنا چاہتاہے سرا کے بھٹیارے اس شخص سے جب تک بیس روپے نہ لے لیں نکاح نہیں کرنے دیتے۔ اس عورت کو سرا کی گٹھڑی کہتے ہیں اب گٹھری ہے ہمیں بیس روپے دے دو تو نکاح کرنے دیں گے پھر وہ روپیہ کبھی آپس میں بانٹ لیتے ہیں کبھی اس کا کھانا پکاکر کھالیتے ہیں، اس دفعہ بھی ایک شخص کے ایسے ہی بیس روپے جمع ہیں بھٹیارے چاہتے ہیں ہم انہیں مسجد میں لگادیں، یہ جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : یہ روپے جو باندھے گئے ہیں محض رشوت وحرام ہیں، نہ ان کاکھانا جائز، نہ بانٹ لیناجائز، نہ مسجد میں لگانا جائز، بلکہ لازم ہے کہ جس شخص سے لئے ہیں اسے واپس دیں، وہ اگر بخوشی اجازت دے دیں کہ میری طرف سے مسجد میں صَرف کردو تو جائزہوگا۔
فی البزازیۃ الاخ ابی ان یزوج الاخت الا ان یدفع الیہ کذا فدفع، لہ ان یأخذ منہ قائما اوھالکالانہ رشوۃ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی بھائی نے اپنی بہن کی شادی کسی چیز کے حصول کے لئے مشروط کردی اور پھر وہ چیز اس کے حوالے کردی گئی تو اس باقی رہنے والی یا ختم ہوجانے والی چیز کالینا مالک کو واپس لیناجائز ہے کیونکہ وہ رشوت ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح    الفصل الثانی عشرالمہر نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۱۳۶)
مسئلہ ۲۱۳ : ۷ رجب ۱۳۱۷ھ    عاصی محمدیعقوب

مخدومناومکرمنا جناب مولوی صاحب قبلہ دامت برکاتہم، آداب! جلسہ سالانہ آریہ سماج کے واسطے کرسیاں کرایہ پر آریہ مانگتے ہیں شرعاً ایسے جلسے کے واسطے کرایہ پردیناجائزہے یانہیں؟ احقر نے ابھی اقرار نہیں کیا آنجناب کا جواب آنے پر ان کو جواب دوں گا۔
الجواب

مکرم سلمکم اﷲ تعالٰی! آپ اپنے کرائے سے غرض رکھیں، کرسی پر بیٹھنا حرام نہیں، اس کا کرایہ حرام نہیں، اقوال نامشروع جو بیٹھنے والے کفّار بکیں گے کرسی پرموقوف نہیں کرسی ان میں معین و موید نہیں کوئی وجہ حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : از بسولی ضلع بدایوں     مرسلہ خلیل احمد صاحب    ۹ شوال ۱۳۱۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ میں کہ پیشہ وران ذیل کی بابت شرع کیاحکم دیتی ہے۔

(۱) قاطع الشجر	 (۲) ذابح البقر 	(۳) دائم الخمر 	(۴) بائع البشر
الجواب

حُر آدمی کی بیع اور شراب پینا دونوں حرام قطعی ہیں خصوصاً شرب خمر کی مداومت کہ وہ تو گناہ کبیرہ پر اصرار ہوا جو سخت ترکبیرہ عظیمہ ہوگیا اور ذبح بقروقطع شجر کے پیشے میں مضائقہ نہیں، یہ جو عوام میں بنام حدیث مشہور ہے کہ ''ذابح البقر وقاطع الشجر جنت میں نہ جائے گا'' محض غلط ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter