Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
124 - 190
مسئلہ۲۰۷ :  کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ :

(۱) ڈاک کی نوکری جائزہے یانہیں؟

(۲) انگریزی پڑھنا جائزہے یانہیں؟
الجواب

(۱) ڈپٹی پوسٹ ماسٹری تک جائزہے، واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) ذی علم مسلمان اگر بہ نیت رَدِّ نصارٰی انگریزی پڑھے اجرپائے گا اور دنیا کے لئے صرف زبان سیکھنے یاحساب اقلیدس جغرافیہ جائزعلم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اُس میں مصروف ہوکر اپنے دین وعلم سے غافل نہ ہوجائے ورنہ جو چیز اپنا دین وعلم بقدر فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے اس طرح وہ کتابیں جن میں نصارٰی کے عقائد باطلہ مثل انکار وجود آسمان وغیرہ درج ہیں ان کا پڑھنا بھی روانہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے بحالتِ صحت نفس وثباتِ عقل اپنے ایک وارث کے ہاتھ ایک مکان بیع کیا اور کچھ زرِ نقد بطور ہبہ اس کو دیا کہ اس نے اس سے ایک حقیت خریدی، بعد ایک عرصہ کے مورث فوت ہوا، اب اُس کے اور وارثوں کا بھی اس مکان یا زرِ نقدمیں کچھ حق ہے یانہیں اور وہ بیع وہبہ جائز ٹھہر سکتے ہیں یانہیں؟ بیّنواتوجروا
الجواب : صورتِ مسئول میں جبکہ وہ بیع وہبہ بحالت ثبات عقل وعدم مرض موت تھی تو ان کے جواز ونفاذ وصحت تمام میں کوئی شبہہ نہیں اب ہرگز ہرگز کسی وارث کا اس مکان یا زرِ نقد میں کوئی حق نہیں،
درمختارمیں ہے :
لووھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم۱؎۔
اگر کوئی شخص اپنی صحت وتندرستی میں اپنا سارا مال اپنے بیٹے کو ہبہ کردے تو جائز ہے مگر وہ گناہگار ہوگا۔(ت)
 (۱؎ درمختار   کتاب الھبۃ  مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰)
اور سائل کہ ان بیع وہبہ کے جواز وعدم جواز سے پوچھتاہے اگر اس کا مقصود صحت وعدم صحت عقد ہے جب تو معلوم ہوگیا کہ قطعاً دونوں عقد صحیح ہیں، اور اگر حلت وحرمت سے سوال کرتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بحالتِ صحت وارث کے ہاتھ قیمت مناسب کو بیع کرنے میں تو ہرگز کوئی کراہت نہیں ہاں تنہا ایک وارث کو کوئی چیز بخش دینا کہ اوروں کے ساتھ اس قسم کی رعایت نہ کرے مکروہ ہے حدیث میں اس کو ظلم فرمایا،
حیث قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتشھدنی علٰی جور۲؎۔
چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ظلم وزیادتی پرگواہ نہ بناؤ۔(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم   کتاب الھبات     باب کراھۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۷)
لیکن اس کراہت وممانعت سے اُس بیع یاہبہ میں کوئی حرج نہیں آتا کالبیع عند اذان الجمعۃ (جیسے اذانِ جمعہ کے وقت خریدوفروخت کرنا۔ت) اور یہ کراہت بھی اس وقت ہے جب سب اولاد برابرہوں اور بجہت دین آپس میں تفاوت نہ رکھتے ہوں ورنہ اگر مثلاً ایک بیٹا یا بیٹی علم یاتقوٰی میں اوروں سے زائد یا یہ موہوب لہ تحصیل علم میں مشغول ہے کہ کسب مال کی فرصت نہیں رکھتا تو ایسے شخص کو سب سے زیادہ دینا کوئی حرج نہیں۔
فتاوٰی قاضی خاں میں ہے :
روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ لاباس بہ اذاکان التفضیل لزیادۃ فضل فی الدین فان کانا سواء یکرہ ۱؎۔
حضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے (کہ اولاد میں سےکسی ایک کو ہبہ کرنے میں) کچھ حرج نہیں جبکہ اس دوسری اولاد میں ترجیح وتفضیل دینا دینی فضل وشرف کی وجہ سے ہو لیکن اگر سب برابر ہوں تو پھر ترجیح مکروہ ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخاں  کتاب الھبۃ    فصل فی ہبۃ الوالد    نولکشور لکھنؤ        ۴ /۷۰۵)
عالمگیری میں ہے :
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلاباس بان یفضلہ علٰی غیرہ کذا فی الملتقط۔۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر بیٹا حصول علم میں مشغول ہو نہ کہ دنیوی کمائی میں تو ایسے بیٹے کو دوسری اولاد پر ترجیح وتفضیل دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الھبۃ       الباب السادس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۹۱)
مسئلہ ۲۱۰ :  از ملک بنگالہ شہر نصیرآباد قصبہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ باپ نے سُود وغیرہ حرام مال چھوڑ کر انتقال کیا اب وہ مال لڑکے کے واسطے حلال ہوگا یانہیں، لڑکا حرام خوری میں ناراض تھا۔
الجواب

جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یاغصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیاتھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اُتنا اُتنا مال اُن لوگوں یا اُن کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہٖ جدا نہ معلوم ہو جو ان ناجائز طریقوں سے لیا، اور جس مال کی نسبت بعینہٖ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے تو فرض ہے کہ اُسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیاتھا پھر بحالتِ علم اُن مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرے، اور اگر اجمالاً صرف اتنا معلوم ہو کہ ترکہ میں مال حرام بھی ملاہے مگر نہ مال متمیز نہ مستحق معلوم تو دیانۃً افضل احتراز اور حکم جواز۔
فی ردالمحتار، اذا علم ان کسب مورثہ حرام یحل لہ لکن اذا علم المالک بعینہ فلاشک فی حرمتہ ووجوب ردّہ علیہ وکذا لایحل اذا علم عین الغصب مثلا وان لم یعلم مالکہ والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ و ان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ ۱؎ اھ ملخصا، قلت وھذا اعنی الحکم باولویۃ التنزہ دیانۃ ھوالمطابق لما فی عامۃ المعتمدات  کالخانیۃ والتبیین والھندیۃ وغیرھا وھھنا ابحاث نفیسۃ ذکرناھا فیما علقنا علی ردالمحتار، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے جب اسے معلوم ہو کہ مُوْرِث کی کمائی حرام ہے تو عدمِ تعیّن کی وجہ سے اس کے لئے حلال ہے لیکن جب مالک معین معلوم ہو تو پھر مال کی حرمت میں کوئی شک نہیں لہٰذا مال اس کے مالک کو واپس کردینا ضروری ہے۔ اسی طرح جب عین غصب یعنی بعینہٖ کوئی شے مغصوب ہو تو اس کا استعمال حلال نہیں اگرچہ مال کا مالک معلوم نہ ہو۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مالکانِ مال معلوم ہوں تو انہیں مال واپس کرنا ضروری ہے لیکن اگر اربابِ مال کو نہیں جانتا اور معیّن شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو اس صورت میں بھی وہ معین حرام مال اس کے لئے جائزنہیں لہٰذا اس کے مالک کی طرف سے صدقہ کردے، اور اگر مال مخلوط حرام طریقے سے جمع کیاگیا اور یہ اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ کسی معین شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو ایسی صورت میں یہ، مال قضاکے طور پر اس کے لئے حلال ہے لیکن دیانت وتقوٰی کے لحاظ سے زیادہ بہتری پرہیز میں ہے اھ ملخصا، میں کہتاہوں کہ لفظ ھٰذا سے میری مراد یہ ہے کہ بطور دیانت اس مال سے بچنے کاحکم دینا عام معتبر کتابوں کے مطابق ہے جیسے خانیہ، تبیین اورہندیہ وغیرہ۔ یہاں چند قیمتی ابحاث ہیں۔ چنانچہ فتاوٰی شامی پرجوہماری تعلیقات ہیں ہم نے وہاں انہیں بیان کیاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع    باب البیوع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۱۳۰)
Flag Counter