Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
123 - 190
حدیث حسن میں ہے حضورپرنورصلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ فرماتے ہیں :
طلب الحلال واجب علٰی کل مسلم، اخرجہ الطبرانی فی الاوسط۱؎ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
رزقِ حلال کی طلب ہرمسلمان پرواجب ہے، (امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی سند سے روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ المعجم الاوسط   حدیث ۸۶۰۵    مکتبۃالمعارف ریاض    ۹ /۲۷۸)
یونہی جبرا انگریزی کاعذر بھی اظہار غلط ہے انگریز کسی کی نوکری پراکراہ نہیں کرتے، غرض یہ جھوٹے حیلے حوالے اﷲ عزوجل کے حضور کام نہ دیں گے، ملک جبّار قہار سے ڈرے اور حرام سے تائب ہوکر ذریعہ حلال سے حاصل کرے، رزق الٰہی کے ہزاروں دروازے کھلے ہیں آخر باجا بجانا بھی سیکھنے ہی سے آیا ماں کے پیٹ سے لے کر تونکلا ہی نہ تھا، اور کچھ نہ ہو تو بیس قسم کی مزدوریاں کرسکتاہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: خدا کی قسم آدمی رسّی لے کر پہاڑ کوجائے لکڑیاں چُنے اُن کا گٹھا اپنی پیٹھ پرلاد کرلائے اُسے بیچ کر کھائے تو یہ اس سے بہترہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور منہ میں خاک بھرلینا حرام نوالہ سے بہترہے۔
الامام احمد بسند جیّد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والّذی نفسی بیدہ لأن یاخذ احدکم حبلہ فیذھب بہ الی الجبل فیحتطب ثمّ یاتی بہ فیحملہ علٰی ظھرہ فیبیعہ فیاکل خیر لہ من ان یسأل الناس ولأن یاخذ ترابا فیجعلہ فی فیہ خیر لہ من ان یجعل فی فیہ ماحرم اﷲ علیہ ۱؎۔
امام احمد نے اپنی مسند میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی رسّی لے کر پہاڑ کی طرف جائے پھر لکڑیاں اکٹھی کرے اور ان کا گٹھا بناکر اپنی پیٹھ پر لاد کر بازار میں لے جائے اور انہیں فروخت کرکے قیمت وصول کردہ سے اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرے تو یہ اس کے لئے بھیک مانگنے سے بدرجہا بہترہے، اور یہ کہ مٹّی لے کر اپنا منہ بھرلے تو اس کے لئے اس سے بہترہے کہ جس چیز کو اﷲ تعالٰی نے حرام کیاہے اسے اپنے منہ میں ڈالے۔(ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل  عن ابی ہریرہ    المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۵۷)
احادیث اس باب میں بکثرت ہیں، اﷲ عزّوجل مسلمانوں کو نیک توفیق وہدایت بخشے،آمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: ۲۰ربیع الآخر ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص نے اپنی معاش علانیہ قماربازی اورزناکاری کے ذریعہ سے کررکھی ہے اور کوئی ذریعہ اس کے یہاں آمدنی کا مطلق نہیں ہے اس کے مال میں سے نذرونیاز کے کھانے کاکھانا جس کو اس کی آمدنی کا حال معلوم ، کیساہے؟ فاتحہ دینے والے کو اس کے مال کی کیفیت معلوم ہے اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا
الجواب  :  اگرجوچیز اس نے حرام کاری یا قمار بازی سے حاصل کی بعینہٖ اسی شے پر نیاز دلائی مثلاً جوئے میں چاول جیتے تھے انہیں کا پلاؤ پکایا، زانیہ کو اس کے آشنا نے گوشت بھیجا اسی پر فاتحہ دلائی جب تو وہ نیاز وفاتحہ یقینی مردود اور اس کھانا قطعی حرام، اور فاتحہ دینے والے کو اگر معلوم تھا کہ بعینہٖ یہ وہی شَے ہے تو وہ بھی سخت عظیم شدید گناہ میں گرفتار، یہاں تک کہ فاتحہ دینے دلانے والے دونوں پر معاذاﷲ خوفِ کفر ہے دونوں پرلازم کہ کلمہ اسلام نئے سرے سے  پڑھیں اور نکاح کی تجدید کریں۔
فی الھندیۃ عن المحیط ولوتصدق علٰی فقیر بشیئ من مال الحرام ویرجوا الثواب یکفر ولو علم الفقیر بذلک فدعا لہ وامن المعطی فقد کفرا ۱؎۔
فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے مذکور ہے اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کی جائے اور ثواب کی امید رکھے تو کافرہوجائے گا۔ اگر فقیرومحتاج کو یہ بات معلوم ہو کہ وہ مالِ حرام دے رہاہے اور اس کے باوجود وہ اسے دعادے اور وہ آمین کہے تو دونوں کافر ہوجائیں گے۔(ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ  الباب التاسع   نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۲۷۲)
اور اگر وہ چیز بعینہٖ بذریعہ حرام حاصل نہ ہوئی تھی بلکہ ثمن حرام سے خریدی تو دوصورتیں ہیں، اگر حرام روپیہ دکھاکر کہا اس کے بدلے یہ شے دے دے، بائع نے دے دی، اس نے وہی زرِ حرام ثمن دے دیا تو اس صورت میں بھی جو کچھ خریدا مال حرام وخبیث ہی ہے اس پر نہ نیاز ہوسکے نہ فاتحہ، اس وقت میں اس پر فاتحہ دینا دلانا بُرا تو ہے مگراندیشہ کفر سے دوری ہے لاختلاف العلماء فمنھم من قال یحل الابدال مطلقا کما فی الدرر وغیرہ من الاسفار الغر۔

علماء کا اس سلسلے میں اختلاف ہے، ان میں سے بعض فرماتے ہین کہ ''بدل'' مطلقاً حلال ہے جیسا کہ الدرر وغیرہ بڑیف واضح کتب میں مذکور ہے۔(ت)
اور اگر یہ صورت بھی نہ تھی بلکہ بغیرزرحرام دکھائے یونہی کہا کہ یہ شَے مثلاً ایک روپیہ کی دے دے اس نے دے دی اس نے حرام روپیہ ثمن میں دے دیا یا دکھایاتو زرحرام کہ اس کے عوض دے دے جب اس نے دی اس نے وہ روپیہ رکھ لیا اور کوئی حلال ذریعہ کاروپیہ ثمن میں دیا تو اب جو کچھ خریدا مذہب مفتٰی بہ پر حرام نہیں اس پر نیاز وفاتحہ جائزہے اور اس کاکھانا بھی حرام نہیں۔
فی التنویر تصدق لوتصرف بالشراء بدراھم الودیعۃ والغصب ونقدھا وان اشار الیھا ونقد غیرھا اواطلق ونقدھا لاوبہ یفتی۲؎ اھ ملخصاً۔
تنویر میں ہے صدقہ کردے، اگرامانت یا غصب شدہ دراہم میں خریداری کے وقت تصرف کیا کہ دراہم کی طرف اشارہ کرتے وقت وہی نقدی دکھائی مگر دیتے وقت ان کی بجائے حلال دراہم دیے یا اطلاق کیا(یعنی حرام درہم دکھائے بغیر کہہ دی اکہ یہ چیز ایک درہم وغیرہ میں دے دے، اس نے دے دی) پھر اس کے عوض وہی حرام نقدی دے ڈالی تو ان دونوں صورتوں میں حرمت نہیں اور اسی قول پر فتوٰی دیاجاتاہے تلخیص پوری ہوگئی۔(ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویرالابصار  کتاب الغصب   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۰۶، ۲۰۵)
پھر بھی اس سے احتراز بہتر
، لمحل خلاف العلماء فقد قال فی الدر المختارانہ لایحل مطلقا کذا فی الملتقی۱؎ وللمتوقی عن التھم والزجر علی المرتکب واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کیونکہ یہ صورت علماء کے اختلاف کامحل ہے، چنانچہ درمختار میں فرمایا گیا کہ پسندیدہ قول یہ ہے کہ مطلقاً حلال نہیں یونہی ''الملتقٰی'' میں ہے، اور اس لئے یہ بات ہے تاکہ آدمی تہمت اور ارتکابِ جرم کی سرزنش سے بچ جائے۔ اوراﷲ تعالٰی سب سے زیادہ علم والا ہے اور اس کا علم جس کی عزت وعظمت بڑی ہے سب سے زیادہ اور نہایت  درجہ پختہ ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار   کتاب الغصب     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۰۶)
Flag Counter