وذٰلک لان اعیادھم ومجامعھم لاتنفک عن القبائح الشنیعۃ والمنکرات القطعیۃ والتفرح علی الحرام حرام کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ۱؎، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ ان کی عیدیں اور مجلسیں بدترین قباحتوں اور رسواکن منکرات پرمشتمل ہوتی ہیں اور حرام سے خوش ہونا بھی حرام ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ اﷲ تعالٰی پاک برتراور خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۰۴ : از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عمرجلیل ۱۶شوال ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درزی اگر رنڈی کاکپڑا سِئے تودرزی کو اس کپڑے کی مزدوری لیناچاہیے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اور اجرپائیے۔ت)
الجواب
وہ روپیہ جورنڈی کوزنا یا اُجرت یا میل کی رشوت میں ملاہے اس سے اُجرت لیناحلال نہیں ہاں اور قسم کا روپیہ ہو تو جائز جو شرعاً رنڈی کی مِلک ہو، اور اگر اس کےپاس دونوں قسم کے مال ہیں تو جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ اُجرت جو اُسے دے رہی ہے اسی مال غیرمملوک سے ہے لیناجائزہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۵ : از ویلور ضلع مدراس مرسلہ محلی الدین بادشاہ ۲۲محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص انگریز کی نوکری علی الخصوص بجانے کی مثلاً کسی نقارخانہ پرمامورہے یاانگریزی باجابجانا اس کے متعلق ہے، شخص مذکور خُوب جانتاہے کہ یہ فعل بُراہے لیکن چونکہ یہ نوکری آباؤاجداد کی کی ہوئی ہے، علاوہ ازیں اس نوکری پرانگریز نے مجبورکیاہے، طرفہ بریں دوسری نوکری نہیں مل سکتی، نہ اتنی استطاعت کہ تجارت کرسکے اور نہ اتنی وسعت کہ چھوڑ سکے، اور وہ باجا کسی دیو کے رُوبرو نہیں بجایاجاتا، لیکن چونکہ منجملہ لوازمِ سلطنت سے ہے لہٰذا نہیں چھوڑسکتا، آیا اس مجبوری کابجاناجائزہے یانہیں؟برتقدیر اوّل مرتکب اس فعلِ شنیع کاکیاہوگا؟ بحوالہ کتبِ متداولہ بیان فرمائیں عنداﷲ ماجوروعندالناس مشکور ہوں، فقط
الجواب : ایسا باجابجانے کی نوکری ناجائز اور اس سے جو کچھ حاصل کیاجائے نہ صرف خبیث وناپاک بلکہ مثل مالِ مغصوب ہے یہاں تک کہ اس کامالک نہ ہوگا، نہ اسے کوئی تصرف اس میں حلال،
عالمگیری میں ہے :
لاتجوز الاجارۃ علٰی شیئ من الغناء والنوح والمزامیر والطبل (الی قولہ) ولا اجرفی ذٰلک وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالٰی کذا فی غایۃ البیان۱؎۔
گانے بجانے رونے پیٹنے، آلاتِ لہو اور طبل وغیرہ بجانےکی نوکری کرناجائزنہیں (صاحب فتاوٰی کے اس قول تک) اور نہ ان کاموں کی کوئی اُجرت ہے۔ ہمارے تینوں ائمہ یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، قاضی ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالٰی کا اس باب میں یہی قول ہے، اور اسی طرح غایۃ البیان میں مذکورہے۔ت)
(؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاجارۃ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۹)
اُسی میں ہے :
نقلا عن المحیط عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل اومزمار اکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردّہ علٰی اصحابہ ان عرفھم یرید بقولہ علٰی شرط ان شرطوا لہا فی اولہ مالا بازاء النیاحۃ اوبازاء الغناء وھذا لانہ اا کان الاخذ علی الشرط کان المال بمقابلۃ المعصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھا وذٰلک ھٰھنا برد الماخوذ ان تمکن من ردّہ بان عرف صاحبہ وبالتصدق منہ ان لم یعرفہ لیصل الیہ نفع مالہ ان کان لایصل الیہ عین مالہ ۱؎ الخ۔
محیط سے منقول ہے اس نے المنتقٰی سے اس نے ابراہیم سے، اس نے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے نقل کیاہے ایسی رونے پیٹنے والی عورت یا طبل بجانے والے یا آلاتِ لہو استعمال کرنے والے کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہوں نے جومال کمایا امام محمد کے فرمان کے مطابق وہ مال اگرصاحبِ مال سے علٰی شرط لیاگیا یعنی انہوں نے نوحہ گری یاگانے بجانے کے مال میں مال لینے کی شرط رکھی۔ جب تو مال بطور شرط ہے تو گویا مال گناہ کی شرط پرلیاگیا اور گناہ کے ذریعے حاصل کردہ مال قابلِ واپسی ہوتاہے یعنی اس کو صاحبِ مال کی طرف لوٹادیاجائے۔ یہاں یہی صورت ہے اگر لیاہوا مال واپس کیاجاسکتاہے تو واپس کردیاجائے۔ اگرصاحب مال سے تعارف نہیں اور اس کاکوئی پتہ نہیں چل سکتا تو وہ مال خیرات کردیاجائے تاکہ اس مال کافائدہ مالک تک پہنچ جائے اگرچہ عین مال بظاہر اس تک نہیں پہنچتا الخ(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹)
اورباجے کی ممانعت اسی صورت میں منحصر نہیں کہ دیو کے سامنے بجایاجائے تاکہ اس کے انتفا سے انتفائے معصیّت لازم آئے بلکہ یہ باجا اور دیو کے سامنے باجا جب کہ بجانے والا قصدِ عبادت دیو نہ کرے اصل حرمت میں برابر ہیں، اور معاصی میں باپ دادا کی تقلید ذریعہ نجات نہیں ہوسکتی، اور دوسراطریقہ رزق کا نہ مل سکنا محض جھوٹ ہے رزق اﷲ عزّوجل کے ذمہ ہے جس نے ہوائے نفس کی پیروی کرکے طریقہ حرام اختیار کیا اسے ویسے ہی پہنچتاہے اور جس نے حرام سے اجتناب اور حلال کی طلب کی اسے رزقِ حلال پہنچاتے ہیں، امام سفیان ثوری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو نوکری حکّام سے منع فرمایا، کہا بال بچّوں کو کیاکروں، فرمایا ذراسنیو یہ شخص کہتاہے کہ میں خدا کی نافرمانی کروں جب تو میرے اہل وعیال کو رزق پہنچائے گا اور اطاعت کروں تو بے روزی چھوڑدے گا۔
امام عبدالوہاب شعرانی طبقاتِ کبرٰی میں زیرِ ترجمہ امام ممدوح فرماتے ہیں : نصح یوما انسانا راٰہ فی خدمۃ الولاۃ فقال فما اصنع بعیالی فقال الا تسمعون لھذا یقول انہ اذا عصی اﷲ رزق عیالہ واذا اطاعہ ضیعھم۲؎۔
امام سفیان ثوری نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی جو والیوں کی خدمت میں رہتاتھا، اس نے کہاپھر میں بال بچّوں کاکیاکروں، آپ نے فرمایا کیا تم لوگ اس شخص کی بات نہیں سنتے جو یہ کہہ رہاہے کہ جب وہ اﷲ تعالٰی کی نافرمانی کرے تو اﷲ تعالٰی اس کے بال بچّوں کو روزی دے گا اور اگر وہ اس کی اطاعت کرے تو وہ اس کے بال بچّوں کو ضائع کردے گا۔(ت)
بلکہ اس بارے میں ایک حدیث بھی مروی کہ عمروبن قرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی یارسول اﷲ! میں بہت تنگ حال رہتاہوں اس حیلہ کے سوا دوسری صورت سے مجھے رزق ملتامعلوم نہیں ہوتا مجھے ایسے گانے کی اجازت فرمادیجئے جس میں کوئی امر خلافِ حیانہیں، فرمایا اصلاً کسی طرح اجازت نہیں اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے حلال روزی تلاش کر کہ یہ بھی راہِ خدا میں جہاد ہے اور جان لے کہ اﷲ تعالٰی کی مدد نیک تاجروں کے ساتھ ہے۔
اخرج عبدالرزاق فی مصنفہ عن یحیٰی بن العلاء عن بشیر بن نمیر عن مکحول ثنا یزید بن عبد ربہ عن صفوان بن امیۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجاء ہ عمر وبن قرۃ فقال یارسول اﷲ ان اﷲ قد کتب علیّ الشقوۃ وما ارا فی ارزق الا من دفی بکفی فاذن لی بالغناء من غیرفاحشۃ فقال لا اذن لک ولاکرامۃ ولانعمۃ ابتغ علٰی نفسلک وعیالک حلالا فان ذٰلک جہاد فی سبیل اﷲ واعلم ان عون اﷲ تعالٰی مع صالحی التجار ھکذا اخرجہ فی معرفۃ الصحابۃ من طریق الحسن بن الربیع عن عبدالرزاق ذکرہ الحافظ فی الاصابۃ۱؎۔
محدّث عبدالرزاق نے اپنے مصنّف میں تخریج فرمائی یحیٰی بن علا کے حوالے سے اس نے بشربن نمیر اس نے مکحول سے اس نے فرمایا ہم سے فرمایا یزید بن عبدربہ نے اس نے صفوان بن امیہ کے حوالے سے (اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو) اس نے کہا ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضرتھے کہ عمروبن قُرہ آئے اور عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! بیشک اﷲ تعالٰی نے مجھ پر تنگ دستی لکھ دی اور میں نہیں سمجھتا کہ مجھے رزق دیاجائے گا مگرمیرے دف بجانے سے جو میری ہتھیلی میں ہے لہٰذا مجھے ایسے گانے کی اجازت دیں جو فحش نہ ہو۔آپ نے فرمایا تمہیں قطعاً اجازت نہیں اس عمل میں کوئی شرافت اور فائدہ نہیں لہٰذا اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے حلال روزی تلاش کرو کیونکہ حلال روزی کی تلاش بھی اﷲ تعالٰی کی راہ میں (ایک گونہ) جہاد ہے، اور جان لو کہ اﷲ تعالٰی کی مدد نیک تاجروں کے ساتھ ہے۔ یونہی اس کی تخریج فرمائی معرفۃ الصحابۃ میں حسن بن ابی الربیع کے طریقہ سے بحوالہ عبدالرزاق۔ حافظ نے اس کو الاصابہ میں ذکرکیا ہے۔(ت)