| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ۲۰۳ : ازپیلی بھیت مرسلہ مولوی محمد وصی احمدصاحب سورتی مدرس اول مدرسہ عربیہ حافظ العلوم ۴صفر۱۳۰۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہنود کے میلوں میں بقصد فروخت اسباب تجارت کے نہ بقصد موافقت کفار اور تکثیر جماعت اُن کی کے بلکہ صرف بلحا ظ تحصیل نفقہ اہل وعیال جاناجائزہے یانہیں؟ برتقدیر اول جواز مع کراہت ہے یابلاکراہت، اور کراہت تحریمی ہے یاتنزیہی، برتقدیر عدم جواز یہ معصیت منجملہ کبائر ہے یاصغائر کے قبیل سے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : اگر وہ میلہ اُن کا مذہبی ہے جس میں جمع ہوکر اعلان کفر وادائے رسومِ شرک کریں گے تو بقصدِ تجارت بھی جاناناجائزومکروہِ تحریمی ہے، اور ہرمکروہِ تحریمی صغیرہ، اور ہرصغیرہ اصرار سے کبیرہ۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ معابدِ کفّار میں جانا مسلمان کو جائزنہیں، اور اس کی علت یہی فرماتے ہیں کہ وہ مجمع شیاطین ہیں، یہ قطعاً یہاں بھی متحقق، بلکہ جب وہ مجمع بغرض عبادت غیرخدا ہے تو حقیقۃً معابدِ کفّار میں داخل کہ معبد بوجہ اُن افعال کے معبد ہیں،نہ بسبب سقف ودیوار،
وھذا ظاھر جدّا، فی الھندیۃ عن التاتار خانیۃ عن الیتیمۃ، یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکیسۃ وانما یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین۱؎۔
یہ بلاشبہ ظاہر ہے، فتاوٰی عالمگیری میں تاتارخانیہ میں الیتیمہ کے حوالے سے منقول ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہودیوں اور عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اور کراہیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیاطین کی جائے اجتماع ہیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶)
بحرالرائق میں اسے نقل کرکے فرمایا :
والظاھر انھا تحریمۃ لانھا المرادۃ عند اطلاقھم۲؎۔
اور ظاہر یہ ہےکہ کراہت تحریمی ہے، اس لئے کہ ائمہ کرام کے علی الاطلاق فرمانے سے یہی مراد ہواکرتی ہے۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق کتاب الدعوٰی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۱۴)
ردالمحتار میں اس پر ان لفظوں سے تفریع کی :
فاذا حرم الدخول فالصلٰوۃ اولٰی۳؎۔
جب وہاں جانا حرام ہے تو وہاں نماز پڑھنا بطریق اولٰی حرام ہوگا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۵۴)
اور اگر وہ مجمع مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کا میلاہے تو محض بغرض تجارت جانا فی نفسہٖ ناجائز وممنوع نہیں جبکہ کسی گناہ کی طرف مودی نہ ہو، علماء فرماتے ہیں مسلمان تاجر کو جائزکہ کنیز وغلام وآلات حرب مثلِ اسپ وسلاح وآہن وغیرہ کے سوا اور مال کفّار کے ہاتھ بیچنے کے لئے دارالحرب میں لے جائے اگرچہ احتراز افضل، توہندوستان میں کہ عندالتحقیق دارالحرب نہیں، مجمع غیرمذہبی کفرہ میں تجارت کےلئے مال لے جانا بدرجہ اولٰی جواز رکھتاہے۔
فی الھندیۃ عن المبسوط قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لاباس بان یحمل المسلم الٰی اھل الحرب ماشاء الاالکراع والسلاح والسبی وان لایحمل الیھم شیئا، احب الی۔۱؎
فتاوٰی عالمگیری میں بحوالہ مبسوط درج ہے کہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا مسلمان دارالکفر میں سوائے گھوڑے، ہتھیار اور غلام کے جو چاہے لیجاسکتاہے اس میں کوئی حرج نہیں البتہ کوئی ایسی چیزلے کر دارِ کفر میں نہ جائے تو پسندیدہ امرہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳)
اُسی میں ہے :
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ و معہ فرسہ و سلاحہ وھو لایرید بیعہ منھم لم یمنع ذٰلک منہ۲؎۔
جب کوئی مسلمان تجارت اور کاروبار کیلئے دارِ حرب میں داخل ہوناچاہے اور اس کے پاس گھوڑے اور ہتھیار ہوں اور وہ انہیں حربیوں پرفروخت کرنے کاارادہ نہ رکھتاہو تو مذکورہ اشیاء کے لے جانے سے اسے نہ روکاجائے گا۔(ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳)
پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ ہروقت معاذاﷲ محلِ نزولِ لعنت ہیں تو اُن سے دوری بہتر، یہاں تک کہ علماء فرماتے ہیں اُن کے محلہ میں ہو کر گزرہو تو شتابی کرتاہوا نکل جائے وہاں آہستہ چلناناپسند رکھتے ہیں تو رکنا ٹھہرنا بدرجہ اولٰی مکروہ۔
فی الطحطاویۃ عن ابی السعود عن الشرنبلالیۃ دارھم محل تنزل اللعنۃ فی کل وقت ولاشک انہ یکرہ الکون فی جمع یکون کذٰلک بل وان یمر فی امکنتھم الا ان یھرول ویسرع وقدوردت بذٰلک اٰثار۳؎ الخ قلت والمراد ھٰھنا کراھۃ التنزیہ بدلیل مامر فی جواز دخول دارھم للتجارۃ وبدلیل ماثبت حدیثا وفقھا من جواز الذھاب الی ضیافتھم کما فی الھندیۃ وغیرھا ونقلوہ عن محرر المذھب محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۔
طحطاوی میں ابوالسعود کے حوالہ سے شرنبلالیہ سے نقل کیاگیاہے، وہ ایسی جگہیں ہیں جہاں ہروقت لعنت برستی رہتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں ایسی مجلس اور اجتماع ہو وہاں ٹھہرنا مکروہ ہے بلکہ ان مقامات کے پاس سے گزرنا بھی مکروہ ہے الاّ یہ کہ دوڑتے ہوئے جلدی سے گزرجائے (اور وہاں سے نکل جائے) آثار میں یہی وارد ہے الخ قلت (میں کہتاہوں کہ) یہاں مکروہ سے مکروہ تنزیہی مراد ہے اس دلیل سے جو پہلے گزرچکی ہے کہ ان کے گھروں یابستیوں میں بغرضِ تجارت جاناجائزہے اور اس دلیل سے بھی کہ حدیث اور فقہ سے ثابت ہے کہ ان کی دعوتوں میں جاناجائزہے جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں مندرج ہے اور اس کو ائمہ فقہ نے راقم المذہب حضرت امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے نقل کیاہے۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار)
پھر ہم صدرکلام میں ایما کرچکے کہ یہ جواز بھی اُسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرناپڑے مثلاً جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس سے دور وبیگانہ موضع میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا مستلزمِ معصیت ہوگا اور ہرملزوم معصیت معصیت اور جانا محض بغرضِ تجارت ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت کہ اس نیت سے مطلقاً ممنوع اگرچہ مجمع غیرمذہبی ہو۔